جنسی ہراسانی یا دعوت عام ۔۔۔۔فخر اقبال خان بلوچ

میری عرضداشت کا مقصد کسی کی اٹھائی گئی آواز کو جھوٹا سچا ثابت کرنا نہیں بلکہ معاملے کو مزید واضح کرنا ہے ۔ پچھلے کچھ ماہ سے جنسی ہراسانی کے حوالے سے بہت سارے واویلے اچانک شروع ہوۓ اور ایک خاص ذہن سے خاص قسم کا مواد رسنا شروع ہوا، اس پر میں نے ایک کالم ایک سائٹ کو بھیجا لیکن وہ شائع نہیں ہوا، وجہ مجھے بتائی نہیں گئی میں نے پوچھا بھی مگر خاموشی رہی-

اب اپنے یار من انعام رانا کے مکالمہ پر جو بھیجتا ہوں وہ بندہ خدا میری الٹی سیدھی تحریر کو فوراً  فریم کروا کر نمائش میں لٹکا دیتا ہے ، وہ تحریر اس مضمون کے بعد بھیجوں گا تاکہ وضاحت کے بعد پرانی تحریر پرانی نہ لگے – جنسی ہراسانی پر بحث پچھلے چند ماہ سے چل رہی تھی اور اچانک اس میں ایک موضوع، حرم پاک میں جنسی ہراسانی  کا بھی  سامنے آیا تھا جس پر بہت کچھ لکھا گیا، لیکن کبھی کوئی ایسی تحریر ان دنوں میری نظر سے نہیں گزری جو  کسی چرچ ،مندر یا گردوارہ یا کسی اور عبادت گاہ میں پیش آئے  ایسے واقعہ پر تحریر کیا گیا ہو ۔ لہٰذا اس پر میں نے طبع آزمائی کی تھی جو اس تحریر کے بعد  آپ کو پڑھنے کو ملے گی –

دیکھیں میری اس تحریر سے کسی کو اس تاثر کو لینے کی اجازت نہیں کہ میں جنسی ہراسانی کو ہراسمنٹ کی نظر سے نہیں دیکھتا یا ایسے  کسی حرکت کو برا خیال نہیں کرتا یا اس کے وجود سے انکاری ہوں لیکن ہر واقعے  کا ایک پس منظر ہوتا ہے جس کی بنیاد پر وہ واقعہ پیش آتا ہے – دنیا کا کوئی ایسا واقعہ بتائیے جس کا کوئی پس منظر نہ ہو اور وہ ہو جائے اسے واقعہ نہیں حادثہ کہا جاتا ہے۔

جنسی ہراسانی کے حوالے سے اٹھائی جانے والی آوازیں بھی ایسے ہی واقعات و حادثات کی گڈمڈ صورتحال کا شکار ہیں اور تمام واقعات کی کاک ٹیل بنا کر چڑھا کر اس کے نشے میں مدہوش ہوکر ہر کوئی مرد حضرات پر انگلی اٹھا رہا ہے، بلکہ کرا رہا ہے۔

جنس کیا ہے ؟   صنف اور صنف مخالف کے ساتھ جنسی میل جول کو جنسی تعلقات کہا جاتا ہے – اور جنسی ہرسمنٹ کا لفظ بھی اسی معنی میں لیا جاتا ہے کہ اپنے جنسی تعلقات کو تسکین دینے کے لیے صنف مخالف یا ہم صنف یا جنس کو مختلف طریقوں سے آمادہ کرنا بلکہ سمجھانے کے لیے موضوع لفظ ورغلانا ہے۔

جنس کی طلب انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے، جیسے زندہ رہنے کے لیے آپ کو آکسیجن، پانی اور خوراک کے علاوہ آرام اور اپنی نسل کو پروان چڑھانے کی فطری طلب یعنی جنسی خواہش کا ابھرنا، یہ سب فطری عمل ہیں اور کسی ایک سے بھی انسان اور دیگر جاندار علیحدہ نہیں ہوسکتے۔ ہم باقی چاروں فطری مطلوبات کو تو فطری مانتے ہیں اور سر عام اس کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔

ہر انسان بغیر دیکھے بھالے کھانا کھانے کی خواہش ابھرنے پر اس کا اظہار کردیتا ہے، پیاس کا اظہار ببانگ دہل کرتا ہے  اور اخراج و ضروریات کے لیے سب کے سامنے باتھ روم جاتے ہوۓ بھی نہیں گھبراتا۔ کیا وجہ ہے کہ ایسی ہی ایک طلب یعنی جنسی خواہش کو بیان کرنا تو دور ہمارے معاشرے میں اس پر بات کرنا حتی کہ اس حوالے سے بیماری کی صورت میں بھی اپنے ڈاکٹر کو بھی (اگر دکھانے چلے جائیں ) شرما شرما کرآدھی ادھوری بات بتائی جاتی ہے   اور اس وقت کیفیت ایسی ہوتی ہے کہ آپ کا سر جھکا ہوتا ہے، آپ اپنی مٹھیاں مسل رہے ہوتے  ہیں یا نظریں نیچی کیے اپنے معالج کے سوالوں کے شرما لجا کر جواب دیتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ یہ ایک لمبی بحث ہے،

دیکھیں پہلے تو فطرت اور فطری تقاضوں کو سمجھیں، عورت اور مرد کی فطری جنسی خواہش کے فرق کو سمجھیں، جنسی طلب دونوں میں ہے مگر مختلف انداز میں۔۔ سوال پیدا ہوتا ہے ،کیسے ؟

جنسی تعلق کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کیفیت کی حقیقت اپنی جگہ لیکن اس کی وجہ خالصتاً  ایک ہی ہے اور وہ ہے بنی نو ع انسان یا روئے زمین پر پائے جانے والے تمام جانداروں کی نسل کا فروغ و بقا، یہ قوانین فطرت میں سے ہے لہٰذا اس کا ضابطہ بھی بھوک کی صورت میں کھانے کی طلب، اور پیاس کے وقت پانی کے گلاس کا حصول ایک فطری تقاضا ہے جس کا توڑ کھانا اور پانی ہیں ، شدید پیاس میں آپ جب ٹھنڈا پانی پیتے ہیں تو بعد میں ملنے والی تسکین کی مثال سے فروغ نسل کی فطری طلب کے بعد کسی صنف مخالف کی طلب اور اس سے جنسی تعلق کے نتیجے میں ملنے والی راحت یا تسکین سے دی جاسکتی ہے – جو پیاس کی شدت کے بعد پانی پینے کے بعد ملنے والی تسکین کی شکل میں ملتا ہے۔ تسکین اور مزے کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے، شدید بھوک کے بعد بہترین گرم گرم کھانا کھانے کے بعد آپ کے منہ سے بے اختیار نکلتا ہے ،مزہ آ گیا  یعنی مزہ لینے اور محسوس کرنے کی کیفیت مختلف ہوتی ہے ، ہر طلب کے بعد اس کی تکمیل پر ملنے والی تسکین مختلف ہوتی ہے۔

مرد کی فطرت    ہے کہ وہ اپنی صنف مخالف کو آمادہ کرے کہ انسانی نسل کی بقا میں وہ میرا ساتھ دے اور اس فطری طلب جو اس کے لاشعور میں ہوتی ہے لیکن اس کا وقتی ریوارڈ اس قربت کے بعد حاصل ہونے والی وہ کیفیت و تسکین ہوتی ہے جو اس عمل کے مکمل ہونے پر    آپ کو ملتی ہے ،آپ کو بھوک  لگتی ہے  کیوں کہ زندہ رہنا ہے لیکن آپ کچھ کھانے کی طلب اتنی شدت سے نہیں  کرتے اگر زبان ذائقہ محسوس نہ کرسکتی، بس ایسے انجام دیتے جیسے ریاضی کا سوال حل کرنے کی کوشش کہ بس پاس ہو جائیں، کہاں بنتی وہ مٹن کڑاہیاں، چانپیں، پلاؤ اور شیر خرما ؟

عورت کی فطرت مرد سے مختلف ہے عورت بردبار ہے اور مرد سے زیادہ سنجیدہ اور قوت فیصلہ کی حامل ہے، اس کی فطری طلب اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی تسکین ایک خاص وقت اور حالات کے تقاضوں کے حساب سے ہوتی ہے، اسکی فطرت میں ودیعت ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں میرے وجود میں ہی نسل انسانی نے نشوونما  پانی ہے اور جب وہ اس دنیا میں آئے گا اس کی پرورش مجھے کرنا ہے، لہٰذا اس کو اس عمل پر اپنے کنٹرول کی زیادہ صلاحیت دی گئی ہے، مرد میں اس کے مقابلے میں ترنگ مزے کا تصور اور چونکہ بہادری کی مقدار زیادہ ودیعت کی گئی ہوتی ہے اور اس کی فطرت میں شامل کیا گیا ہوتا ہے کہ وہ صنف مخالف کو اس عمل پر آمادہ کرتا رہتا ہے۔

آپ کو اگر میری بات پر یقین نہیں ہے تو چند مثالوں سے بتاتا ہوں –
1۔مور کیوں خوبصورت ہوتا ہے ؟ کیوں ناچ ناچ کر مورنی کی زندگی جہنم بنائے رکھتا ہے ؟ اور مورنی کی شکل کیوں عام سی ہوتی ہے ؟
2-کبھی مرغے اور مرغی پر غور کریں مرغے کی کلغی اور کھڑی ہوئی رنگدار پروں سے مزین دم ؟ آخر کس لیے ؟ اور مرغی ؟
3-سانڈ اور بھینس کا موازنہ کریں دیکھنے میں کون خوبصورت ہے اور جنسی تعلق کی طرف کون مائل ہوتا ہے ؟
4-پھول رنگوں میں رنگی تتلیوں کی دعوت اپنے رس سے کیوں کرتے ہیں ؟
5۔چڑیا کے مقابلے میں نر چڑا زیادہ اتھرا اور چلبلا ہوتا ہے گرمیوں   پرانے وقتوں کی دوپہر میں  ہمارے برآمدے میں ایسے چڑوں کا شور ہمیں سونے نہیں دیتا تھا اور ہم ہمدردی میں انھیں اڑاتے بھی نہیں تھے کہ باہر   دھوپ اور گرمی ہے، اس چڑے پر تو میرا کم از کم تین کروڑ روپے کا دعوی تو بنتا ہی ہے جس کی جنسی ہراسانی بھرے دوپہر میں کی جانے والی بے ہودہ کوششوں نے میری لاکھوں کی سینکڑوں نیندیں برباد کی ہیں۔

نر ہمیشہ خوبصورت ہوگا، چاہے کسی بھی جاندار کی شکل میں ہو – لیکن مادہ عام سی شکل صورت کے ساتھ – لیکن نر کو اپنی صنف کی مادہ دنیا کی ہر مادہ سے خوبصورت نظر آئے گی، کیوں کہ فطرت میں شامل ہے ، آپ دنیا میں موجود جانداروں کے جوڑوں پر غور کریں نر ہمیشہ خوبصورت ہوگا کیوں کہ اس نے اپنی صنف مخالف کو فروغ نسل کے لیے آمادہ کرنا ہے، یہ فطرت کا کام ہے جس سے آپ انکار نہیں کر سکتے –

میشا شفیع جب کوک سٹوڈیو میں آئی تھی بہت سے مردوں کو بشمول خادم بذات خود کو رات کو  لال لپ سٹک نظر آتی تھی اور گانا اچھا ہے، گایا اچھا ہے، عارف لوہار کی کیا بات ہے، کہہ کہہ کر مرد حضرات بیویوں کے سامنے بھی یہ گانا سنتے پائے جاتے تھے ،اب پیاس تو سادے ٹھنڈے پانی سے بھی بجھ جاتی ہے لیکن آپ کو شدید پیاس لگی ہو اور آپ کے سامنے دو جگ دھرے ہوں ، ایک میں سادہ ٹھنڈا پانی ہو اور دوسرے میں ٹھنڈا یخ لال شربت تو آپ کون سے جگ  سے اپنے گلاس کو بھریں گے ؟

لہٰذا اس بات کو مختصر کرکے ایسے سمجھاتا ہوں کہ خواتین و حضرات،آپ لال شربت کے جگ بن کر پیاسوں کے سامنے آئیں گے تو پیاسا تو پیاس بجھانے کی سوچے گا، جگ پیاسے کا اپنا ہے تو سبحان الله  اور جگ کہتا ہے کہ بھیا رک جا میں ہوں تو پینے کے لیے لیکن کسی اور کے ، آپ کا جگ یہ سادہ ٹھنڈے پانی سے بھرا ساتھ رکھا ہے اس میں سے اپنے گلاس میں انڈیل لیں یا پھر جگ کو ہی منہ لگا کر غٹا غٹ چڑھا لیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ، لیکن پلیز مجھے مت چھو ئیں، اس جگہ پر رک جانا شعور ہے  لیکن آپ کو جگ قطرہ قطرہ چکھاتا رہے اور جب پیاس کی شدت سوا ہوجائے اور جگ گلاس میں انڈیلنے سے منع کردے تو کیا اس میں قصور پیاسے کا  ہے ؟ کہ جس کے چھلکے قطرے پیاسا چکھ چکا ہے ؟

اول تو لال شربت کے جگ بن کر آپ پیاسوں کے سامنے سے چھلکتے ہوۓ گزریں گے تو پیاسا تو آپ کی خواہش کرے گا ہی ، اور پیاسا بھی وہ پیاسا جس کو بھانت بھانت کے جگوں سے لال شربت، فریش جوس اور کاک ٹیل چھلک چھلک کر ساغر میں خود گر گر کے ملتی ہو، لہٰذا وہ جگ دیکھتے ہی ہاتھ بڑھا ہی لے گا۔

اپنے شعور کا استعمال ایک مہذب معاشرے میں بچپن سے پروان چڑھایا جاتا ہے، بتایا تو ہمیں بھی جاتا تھا اور ایک مہذب معاشرے میں اس کے حوالے سے لوگوں کو شعور و آگہی دی جاتی ہے اور انسان کے نصاب میں یہ رکھا جاتا ہے  لیکن یہ سب مہذب معاشرے میں ہی ممکن ہے، جہاں لوگ آزاد ہیں ، ہم تو لوگوں کے حسب نسب، زبان، رہن سہن اور ذاتی زندگی بلکہ نجی زندگی کے واقعات پر نظر رکھتے ہیں اور انھیں اپنی پسند و نا پسند کے پیمانوں میں ناپتے ہیں  اور کوشش کرتے ہیں کہ لوگ ہماری خواہش کے حساب سے زندگی گزاریں  حتی کہ اس مملکت خداد میں ریاست لوگوں کے ایمان کے فیصلے بھی کرتی ہے ،جہاں رہن سہن ، رنگ و نسل و مذہب کی بنیاد پر دن رات صرف انفردی سطح پر ہی نہیں قومی سطح پر بھی انسان کو ہر لمحہ ہراساں کیا جاتا ہو، وہاں جنسی ہراسانی پر واویلہ سمجھ سے باہر ہے ۔

آپ پہلے مہذب ہونے کی تمام اصطلاحات کو لاگو کر لیں یہ معاملات بھی خود بخود شعور کی طاقت سے حل ہونے لگ جائیں گے،
لیکن تب تک آپ کی بات میں وزن نہیں ہوگا جب تک آپ اس معاشرے کو کلی طور پر با شعور اور مہذب نہیں بنائیں گے،اور اس کا واحد حل سچ بولنا اور کھل کر بولنا ہے، چاہے کسی بھی حوالے سے ہو  اور ہر سوال کا جواب پوری سچائی سے دینا اور سوال کرنے کی اجازت دینے اور دلیل سے اس کا جواب دینے اور دلیل ٹھوس ہے تو اپنے مؤقف پر نظر ثانی کرنے کا حوصلہ پیدا کرنے کی عادت اپنانے سے ممکن ہے ۔

مرد کی جبلت پر بندہ  صرف اس کا اپنا شعور ہی باندھ سکتا ہے، دعوت ہوگی تو مرد تو ہے ہی فطری بھوکا  لیکن چونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے لہٰذا اس کے اندر غلط اور ٹھیک کی کسوٹی بھی الله نے فطری طور پر ودیعت کی ہے ، اس کا فیصلہ اس نے حالات و واقعات اور اپنی تربیت اور ماحول کے زیر اثر ہی کرنا ہے۔

لہٰذا  جگ کسی کی ذاتی ملکیت ہے تو اس کی نمائش بھی ذاتی ہونی چاہیے، شو کیس میں لگے کھلونے کو اگر بچہ ضد کرکے چھونے کی ضد کرتا ہے یا بار بار اٹھاتا ہے تو کیا یہ بچے کی طرف سے کھلونے کے لیے ہراسانی ہوگی ؟
جواب تحریر کو ایک بار دوبارہ پڑھ کر اپنے آپ سے پوچھ لیں –

فخر اقبال خان بلوچ
فخر اقبال خان بلوچ
بی کام- ایل ایل بی لہو رستے قلم کا ہاتھ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *