• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • کیا آپ جانتے ہیں ویڈیو گیمز آپ کے بچوں کی ذہنی نشو ونما میں کتنی مدد گار ہیں ؟

کیا آپ جانتے ہیں ویڈیو گیمز آپ کے بچوں کی ذہنی نشو ونما میں کتنی مدد گار ہیں ؟

عام طور پر والدین ویڈیو گیمز کو اپنے بچوں کی ذہنی نشوو نما کا دشمن سمجھتے ہیں، لیکن جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ویڈیو گیمز سے بچوں میں پڑھنے کی صلاحیت بہتر ہونے کے علاوہ ریاضی اور سائنس میں بھی ان کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ آسٹریلیا کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی آف ملبورن کے پروفیسر کی سربراہی میں ماہرین کی ٹیم نے ویڈیو گیمز کے بچوں کی ذہنی نشو ونما پر اثرات کے حوالے سے تحقیق کی، جس کے مطابق بچوں میں روزانہ ویڈیو گیم کھیلنے سے ان کی قوت فیصلہ اور حافظے پر اچھے اثرات پڑتے ہیں جو تعلیم کے میدان میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ اس مطالعے میں پروگرام فار انٹرنیشنل سٹوڈنٹس اسسمنٹ نامی ٹیسٹ کے نتائج استعمال کئے گئے۔ یہ 15 سال عمر کے بچوں کا بین الاقوامی ٹیسٹ ہے ، جس میں ان کی عادات و اطوار کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہوئے ان میں مطالعے ، سائنس اور ریاضی کے حوالے سے قابلیت جانچی جاتی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

پیسا کے نام سے مشہور اس ٹیسٹ سے حاصل ہونے والے نتائج ہر 3 سال بعد شائع کئے جاتے ہیں۔ مطالعے کے مطابق 15 سال کی عمر کے وہ بچے جو روزانہ ایکشن ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں، سائنس میں ان کا اسکور عالمی اوسط سے 17 پوائنٹ زیادہ جب کہ ریاضی میں 15 پوائنٹ زیادہ رہا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ ایکشن گیمز میں بچوں کو  جلدی فیصلے کرکے ان پر عمل بھی کرنا ہوتا ہے، جبکہ گیم کے پچھلے لیولز میں آنے والی رکاوٹوں کو بھی یاد رکھنا پڑتا ہے، کیونکہ اگلے لیولز میں ان کی تکرار جاری رہتی ہے۔ ان باتوں کا اثر بچوں کی یادداشت اور قوت فیصلہ پر پڑتا ہے جو حساب کتاب کرنے اور سبق یاد کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں۔ اسی طرح وہ بچے جو آن لائن معموں پر مشتمل گیمز کھیلتے ہیں، ان میں مسائل حل کرنے کی صلاحیت خوب تر ہوتی ہے۔ غرض کہ یہ تمام پہلو، جو بظاہر تعلیم سے کوئی تعلق نہیں رکھتے، تعلیم کے میدان میں بہتر کارکرگی دکھانے میں بچوں کے مددگار بنتے ہیں۔ البتہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس مطالعے کو پرتشدد ویڈیو گیمز کے حق میں دلیل نہ سمجھا جائے کیونکہ ان کے منفی اثرات انتہائی خطرناک ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اساتذہ کے لئے ان کا مشورہ ہے کہ تدریس میں مدد دینے کے لئے کلاس روم میں ایسے ویڈیو گیمز سے مستفید ہوا جاسکتا ہے۔ جن میں تشدد نہ ہو اور جو کھیل کھیل میں تعلیم کی طرف راغب کرنے والے ہوں۔ اسی مطالعے کے دوسرے حصے میں پروفیسر نے بچوں کی تعلیم میں سوشل میڈیا اور غیرملکی زبان میں تدریس کو اہم رکاوٹیں قرار دیا ۔

Facebook Comments

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply