بدلتا منشور اور جماعتِ اسلامی۔۔عمار یاسر

عافیہ صدیقی کی رہائی جماعتِ اسلامی کا بڑا مطالبہ رہا ہے.الیکشن 2013 میں جماعتِ اسلامی , اسلامی نظام کے نفاذ,کرپٹ ٹولے سے نجات اور عام آدمی کی حکمرانی جیسے سنہرے موٹیوز کے سنگ آگے بڑھی!! جماعتِ اسلامی کے سپوٹرز ان نظریات پر متحد ہوئے.سماجی میڈیا پر اکثر ان موٹیوز کا پرچار کرتے دکھائی دیے. 2015ء میں درویش صفت سراج الحق اور ان کی جماعت نے بلدیاتی انتخابات میں بہالپور سے کی 4 یوسز میں اسی ن لیگ ( اشرافیہ ) سے اتحاد کیا جس کے خلاف موٹیوز بنائے گئے اور الیکشن کمپین کی گئی.اس معمولی اتحاد کو جماعتی حضرات ( معمولیات) کہہ کر ڈیفینڈ کرتے رہے۔۔

خیر اس سے ان کے سابقہ نظریات کو زیادہ ٹھیس نہیں پہنچی۔ جولائی 2016 ء میں آزاد کشمیر جنرل الیکشن کا انعقاد ہوا، جس میں جماعتِ اسلامی نے ن لیگ کے ساتھ اتحاد کیا۔ یاد رہے اس وقت تک نواز شریف پر عدالتی کاذب اور خائن ہونے کی مہر ثبت نہیں ہوئی تھی لیکن ن لیگ اور نواز شریف وہی اشرافیہ تھے  جس سے اقتدار چھین کر عوام میں بانٹ دینے کا منشور لے کر جماعتِ اسلامی نے 2013 ء کا الیکشن لڑا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب جماعت کا صاحبِ فہم ووٹر جماعت سے بدظن ہوا لیکن جیسے تیسے اکثر جماعتی ورکز اس بلنڈر کا دفاع کرتے بھی نظر آتے رہے۔

وقت گزرتا گیا , پانامہ سکینڈل پھوٹا.مردِ حق نے نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کر دی.یہ وہ وقت تھا جب سراج الحق نے الٹی قلابازی کھائی، اپنے اتحادی کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا.جس نے جماعتِ اسلامی کے 2013ء کے الیکشن میں اپنائے جانے والے منشور کو مزید تقویت بخشی.جماعت کے پیروکار ایک بار پھر پرانے منشور کے ساتھ کچھوے کی چال آگے بڑھنے لگے۔

اس موقع پر جماعتِ اسلامی کا منشور ” Reset ” ہو چکا تھا.”By Default”   دو ہزار تیرہ کے الیکشنز کا منشور پھر زندہ ہوگیا۔ جہانگیر ترین کی نااہلی کے بعد لودھراں کا الیکشن جماعتِ اسلامی کے لیے ٹیسٹ الیکشن ثابت ہوا جس میں جماعتِ اسلامی نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے ن لیگ کو سپورٹ کیا.pp20 چکوال کے الیکشن میں جماعتِ اسلامی نے ن لیگ کی حمایت کی۔ ایک بار پھر وقت وہیں  لے آیا.جماعتِ اسلامی کا سپوٹر سمجھ گیا ” یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے “

جماعت کے اتحاد اور جماعت کے منشور کا تضاد اہلِ فراست کے لیے آج بھی ایک بڑا غور طلب معمہ ہے۔ جماعت کے بعض , سپوٹرز اس سب کے بعد بھی سراج الحق کو مردِ حق اور جماعتِ اسلامی کو اسلامی روایات کی آمین سمجھتے ہیں  جبکہ اسلام کے نزدیک اوپر بیان کردہ  تضاد منافقت کے زمرے میں آتا ہے ۔ سراج الحق کو ایک نظریے پر چلنے کی ضرورت ہے.قلابازیاں دے دے کر عوام کو اتنا بدظن  کیا جا چکا ہے کہ ملک گیر جمہوری جماعتِ اسلامی این اے 120 سے محض 592 اور این اے 4 سے محض , 6337 ووٹس لے سکی ہے جبکہ نومولود تحریک لبیک اس تقابل میں دس ہزار سے اوپر ووٹس لیتی رہی ہے.

اس فرق کی وجہ واضح ہے.ایک طرف بدلتا منشور جبکہ دوسری طرف واحد منشور( صحیح غلط ایک الگ موضوع ہے) 2013ء کے الیکشن میں 4 ارکان قومی اسمبلی بنانے والی جماعتِ اسلامی 2018 ء کے الیکشن میں کیا چاند چڑھائے گی.گزشتہ  الیکشنز کے نتائج سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے لیکن ایم ایم کی بحالی سے فائدہ بھی ہو سکتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *