دا وَن اینڈ اونلی۔۔معین اختر/شکور پٹھان

برصغیر ہندوپاک اس لحاظ سے انتہائی خوش قسمت خطہ ہے کہ یہاں ہر دور میں عظیم اہل ھنر اور فنکار میسر آئے. ہمارے اپنے دور میں دلیپ کمار، نصیرالدین شاہ، امیتابھ بچن،مینا کماری، نرگس،جیا بھادری،شبانہ اعظمی، قوی خان،علاؤالدین،محمد علی،روحی بانو، عظمیٰ گیلانی،خالدہ ریاست، عابد علی،طلعت حسین اور ان گنت عظیم فنکار اپنے فن کے جلوے دکھاتے رہے.
ان فنکاروں کی عظمت کی اعتراف کیلئے عام طور پر جملہ استعمال کیا جاتا ہے کہ ایسے فنکار برسوں بلکہ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں. لیکن آج میں جس فنکار کی یاد آپ کے ساتھ بانٹ رہا ہوں اس جیسا فنکار دوبارہ پیدا نہیں ہوتا. قدرت ایسا صرف ایک ہی شاہکار تخلیق کرتی ہے.

مذاق کرنا اور مذاق اڑانا

سن 1967 کی بات ہے. ہمارے ایک دوست جو فلم اسٹوڈیوز اور فلمی تقاریب میں عمل دخل رکھتے تھے ، نگار ایوارڈز کی تقسیم کی تقریب کے اگلے دن ہمیں بتایا کہ ایک نوجوان آرٹسٹ نے اس فنکشن میں اداکار محمد علی اور لہری وغیره کی ایسی زبردست نقلیں اتاریں کے ہال کی چھتیں اڑادیں.

اس نوجوان نے اگلے پینتالیس سال ہمارے حس مزاح کی آبیاری کی. اس نے ہمیں بتایا کہ مذاق کرنے اور مذاق اڑانے میں کیا فرق ہے. شستہ مزاح کیا ہوتاہے اور جگت بازی اور پھکڑ پن اور ہنسی مذاق میں کیسے تفریق کی جاتی ہے.

یہ نوجوان کوئی بہت اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں تھا لیکن بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی اسکے رکھ رکھاؤ جامہ زیبی اور شائستگی کے سامنے جاھل معلوم ہوتے تھے.

معین اختر ہمارے کالج کے ہر سالانہ فنکشن کیلئے لازم و ملزوم تھے. اس دور میں جب standup comedy صرف نقلیں اتارنا،جانورں کی بولیاں سنانا اور رٹے رٹائے لطیفے سنانے کو سمجھا جاتا تھا،معین نے سکھا یا کہ ایک عام سی بات کو اپنی ادائیگی سے کیسے دلچسپ بنایا جا سکتا ہے. ایسی باتیں اور لطیفے جنھیں ہم دوسروں کو سنائیں تو شاید ہمیں خود بھی ہنسی نہ آئے،معین اس میں کسی ایک لفظ،جملے یا punchline کو اس طریقے سے ادا کرتےتھے کہ قہقہوں کے فوارے چھوٹ پڑتے تھے. ان کے سنائے ہوئے لطیفے ضرب‌المثل کی حیثيت اختیار کر گئے تھے.

شو بز کی ایسی کون سی جہت تھی کہ جس پر انھیں عبور نہیں تھا بلکہ ان سے بہتر کوئی کر ہی نہیں سکتا تھا.سیاستدانوں، گلوکاروں، اداکاروں اور کھلاڑیوں کی نقلیں اتارنا،mimicry اور مختلف آوازیں نکالنا تو ان کی ابتدائی دنوں کے کمالات ہیں. کمپئرنگ ایسی کہ چاہے ہزاروں کا مجمع ہو،لوگ صرف اور صرف معین کو سنتے تھے.گلوکار ایسے کہ احمد رشدی، ہیمنت کمار، مہدی حسن اور حبیب ولی محمد کے گانے ان سے سنکر اور زیادہ لطف آتا تھا.وہ غالباً  ہمارے ملک کے واحد فنکار تھے جو انگریزی میں لطیفے بھی سناتے تھے اور باتیں بھی کرتے تھے.کون سی ایسی علاقائی زبان اور لہجہ ایسا تھا جس پر انہیں کمال حاصل نہیں تھا.الفاظ کا انتہائی  شاندار اور شستہ استعمال اور ادائیگی ان کا خاصہ تھی.ان کے ٹی وی اور اسٹیج ڈراموں پر گفتگو کیلئے تو ایک کتاب چاہیے. روزی، راجہ پہلوان،سیٹھ منظور دانا والا اور نجانے ایسے کتنے ہی کردار.

انور مقصود کے ساتھ ان کی خاص chemistry تھی. جس طرح وہ انور کے الفاظ اور کردار کو اپنی اداکاری کا جامہ پہناتے تھے وہ صرف ان جیسے کثیرالمطالعہ فنکا ر کے ہی بس کی بات تھی. اسٹوڈیو ڈھائی، اسٹوڈیو پونے تین اور لوزٹاک جیسے پروگراموں میں جس قدر کردار انھوں نے ادا کئے شاید وہ گینیز بک کا ریکارڈ ہیں.

دردمند انسان

معین کے فن پر بات کرنے کیلئے تو کتابیں بھی کم ہیں. لیکن اگر ان کی بحیثیت انسان بات کی جائے تو اس پر بھی کتاب لکھی جاسکتی ہے.اپنے سے جونئیر فنکاروں کی جس طرح وہ حوصلہ افزائی کیا کرتےتھے وہ انہی کا حصہ ہے. اس قدر فراغ دلی سے نئے فنکاروں کو متعارف کراتے تھے جیسے کسی بہت بڑے فنکار کا ذکر کر رہے ہیں.ایسے فنکار جنھیں زمانہ بھول چکا ھوتا تھا انہیں معین اپنے ساتھ لئے پھرتے تھے. مجھے یاد ہے وہ جب بھی دوبئی کسی پروگرام کے لئے آئے اکثر اپنے ساتھ نرالا،مجیب عالم اور ایسے ہی کسی فنکار جسے بھلادیا گیا  تھا ، کو اپنے ساتھ لاتے تھے کہ ان کی کچھ دادرسی ہوجائے.
اداکار لہری پر جب ایک غیرملکی دورے میں فالج کا حملہ ہوا تو یہ معین اختر ہی تھے جنھوں نے ان کی وطن واپسی کا بندوبست کیا. اس کے بعد بھی لہری اور ان کے اہل خانہ کی اعانت کرتے رہے.نجانے کتنے فنکار اور ضرورت مند تھے جن کی وہ چوری چھپے مدد کیا کرتے تھے.وہ نہ صرف خود لباس پوشی کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے بلکہ ساتھی فنکاروں کے بھی لباس پر نظر رکھتے تھے اور انہیں مناسب مشورے دیتےتھے.معین پر بات شروع تو کیجاسکتی ہے لیکن ان کا ذکر ختم کرنا آسان نہیں.

کل من علیہا فان و یبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال والاکرام

جو بھی دنیا میں آیا ہے اسے واپس ضرور جانا ہے. مشیت ایزدی اسے ہی کہتےہیں اور الله اپنے پیاروں کو جلد اپنے پاس بلا لیتا ہے اور ہمیں رب کی رضا پر راضی رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں.لیکن ہم اپنے معین سے تو شکایت کرسکتے ہیں کہ  “کیا ترا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور”۔۔

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *