عفو و درگزر کیا صرف چند بڑوں کے لیے ہے؟۔۔۔۔سید عارف مصطفٰی

خبر ملی ہے کہ سپریم کورٹ میں ایک مقدمے میں بیماری کے سبب حاضر نہ ہوسکنے پہ ایک بڑی میڈیا پرسنالیٹی کے لیے   سٹریچر پہ لانے کے ریمارکس دیئے گئے ہیں ۔۔۔ میں نے کئی بار ذہن پہ زور ڈالا کہ یہ یاد کرسکوں کہ  کیا اس معزز عدالت نے سماعت کے لیے  بار بار بلائے جانے پہ مسلسل غائب رہنے والے پرویز مشرف کے لیے  بھی  کبھی قانونی جذبات کی ایسی ہی شدت کا مظاہرہ کیا ہے ؟۔۔تو جواب ندارد تھا ۔

دو برس سے زائد ہوچلے کہ جب یہ حضرت ‘ غداری کیس’ سمیت اپنے اوپر قائم کئی چلتے مقدمات کو چھوڑ چھاڑ کے درد کمر کے علاج کے لیے  دبئی روانہ ہوگئے تھے اور جہاں سے اب تک ان کی کمر سے متعلق علاج کی تو کوئی رپورٹ نہ ملی البتہ محفل طرب میں اور عالم نشاط میں کمر لچکانے اور ٹھمکے لگانے کی ویڈیوز ضرور نیٹ پہ دیکھنے کو ملیں اور ساتھ ہی وہاں بیٹھ کے جلسوں ۔۔۔ سوری ،جلسیوں سے ولولہ انگیز خطاب کرنے کی سرگرمیاں بھی میڈیا میں جھلکتی رہتی ہیں ۔۔۔ لیکن وہ اپنےخلاف مقدمات کے لیے  آنے سے یکسر گریزاں ہیں جبکہ ‘ملک سے غداری’ سے زیادہ سنگین مقدمہ اور بھلا کیا ہوسکتا ہے اور اس پہ تو عدالت عالیہ کو سخت ترین اقدامات کرنا لازم ٹھہرتا ہے کیونکہ یہ تو ہتھوڑے اور ترازو کا ‘گھور اپمان’ ہے۔۔۔ اور سراسر توہین عدالت کے مترادف ہے ۔۔۔ لیکن عدالت آخر پرویز مشرف کو  سٹریچر پہ لاد لانے کی بات کیوں نہیں کرتی اور اس کے یہاں نہ آنے پہ اس کے خلاف کیوں دوٹوک فیصلہ نہیں سناتی ۔۔۔؟؟

اس کے علاوہ اس معاملے یا قضیے  میں یہ بھی ہوا ہے کہ اس میڈیا پرسنالیٹی کے ان الفاظ پہ بھی سخت برا منایا جارہا ہے کہ اس نے کسی جج کے چند ریمارکس کو بیہودہ کہا ہے ۔ جب میں نے یہ ویڈیو دیکھی تو اس میں میرشکیل یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ اگر اس جج نے یہ بات کہی ہے تو یہ بیہودہ بات ہے ۔گویا ان کا یہ جملہ براہ راست نہیں بلکہ بالواسطہ ہے اور اس حوالے سے یہاں‌میں جیو کے حریف چینل اے آر وائی کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں‌ کہ جس پہ 18 اپریل کو ارشد شریف کے پروگرام ‘ پاور پلے ‘ میں ممتاز قانون دان اعتزاز احسن نے یہ رائے دی ہے کہ اس ویڈیو کلپ کے مطابق تو میر شکیل نے لفظ اگر کا استعمال کیا ہے ۔ یوں یہ صورتحال مشروط ہے ۔ یعنی میرشکیل نے اس اخباری رپورٹر کو یہ صراحتاً کہا ہے کہ جیسا کہ آپ بتارہے ہیں تو اگر ایسا ہے یعنی اگر جج نےایسی بات کی ہے تو یہ بیہودہ ہے ۔۔۔ گویا اگر یہ بات یوں نہیں ہے تو پھر یہ تبصرہ بھی ساقط ہوجاتا ہے ۔

جہاں تک اس لفظ بیہودہ کے معانی کا تعلق ہے تو اس کا مطلب ہے ‘ پست اور نامناسب ‘ جبکہ یہ  لفظ تو لغت کے اعتبار سےنہایت ہی ہلکا پھلکا ہے اس کے برعکس دوسری مثال وہ بھاری بھرکم مغلظات ہیں جو کہ  ہر برس بھٹو کی برسی کے موقع پہ بھٹو کی پھانسی کے عدالتی فیصلے کے بارے میں پی پی پی کے رہنماؤں کی جانب سے کھلم کھلا میڈیا پہ ادا کی جاتی ہیں ۔۔۔ اور توہین عدالت کی انتہاء یہ کہ اس فیصلے کو عدالتی قتل کا نام دے کر اس فیصلے کو دینے والے ججوں کو قاتل تک کے القابات سے نواز جاتا ہے لیکن ان پہ عدلیہ کبھی برا مناتی نہیں دیکھی گئی اور نہ ہی کوئی نوٹس لیتی ہے ۔

کوئی بتائے کہ  39 برس سے جاری ، پی پی پی کی جانب سے عدلیہ کی اس شدید ترین توہین پہ اب تک کتنوں کی عدالتی گوشمالی کی گئی اور کتنوں کو سزا دی گئی ۔۔اس صورتحال کی روشنی میں کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ  عفو و درگزر کا معاملہ بھی بالکل سیلیکٹو ہوچلا ہے اور چند منہ زور گروہوں یا صاحبان ثروت اور حاملان طاقت کو تو ایوان عدل سے کوئی لگام نہیں دی جاتی لیکن قلم قبیلہ و کیمرہ کمانداروں کی ہر بات پہ جھٹ پٹ سارے قائدے قانون یاد آجاتے ہیں اور آن کی آن ان کے گریبان پکڑ لیے  جاتے ہیں ۔۔

یہاں میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ عدلیہ ہو یا انتظامیہ یا مقننہ یا میڈیا سب کے سب اپنی اپنی جگہ پہ ریاستی مشینری کو بحسن و خوبی چلانے والے پرزے ہیں اور سب کو ایک دوسرے کی اہمیت کا ادرک بھی کرنا ہوگا اورانہیں ایک دوسرے سے دست و گریباں ‌ہونے کے بجائے آپسی توقیر و احترام کو بھی ملحوظ رکھنا ہوگا ۔ کوئی فرد ہو یا ادارہ کسی کا بھی محض یکطرفہ طور پہ ایسی طلب رکھنا نہ تو مناسب ہے اور نہ ہی قابل عمل ۔ یہاں یہ عرض کرنا بھی مناسب ہے کہ اس ساری ریاست مشینری کے درست طور پہ چلنے کے لیے  عفو و درگزر دراصل ایک ایسی گریس کی مانند ہے جو کہ کسی بھی مشینری کےمربوط اور منظم طور پہ چلنے کی نہ صرف ضامن ہے بلکہ مددگار بھی ۔۔۔ لیکن یہ مفاہمانہ گریس نایاب بھی ہے اور پایاب بھی ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *