شاہی قلعہ اور گائیڈ پہ گائیڈ۔۔۔کے ایم خالد

 

قریباً پانچ بجے کا وقت ہوا چاہتا تھا جب ہم قلعے میں داخل ہوئے ۔ٹکٹ لے کر جب اوپر پہنچے تو مزید آدھ گھنٹہ ضائع ہو چکا تھا ۔تباہ حال قلعے کے آثار سے اندازہ ہوا کہ مغل جا چکے ہیں قلعہ سکڑتا ہوا کافی سکڑ چکا ہے فلموں والے تو چٹکی بجاتے میں ویسا بلکہ اس سے  زیادہ’’ رنگین ‘‘دور واپس لے آتے ہیں ۔کہیں سے بھی شعیب منصور کے شہرہ آفاق گیت کو انار کلی گنگنا رہی تھی
شہنشاہ من مہاراج من
نہ ہی تخت نہ ہی تاج
نہ شاہی نہ زر نہ زن
بس عشق محبت اپنا پن
بس عشق محبت اپنا پن
بس عشق محبت اپنا پن

نہ ہی اتنے بڑے قلعے میں غلام ابن غلام تلواریں سونتے دندناتے دکھائی دیئے اور ہاں اگر دندناتے پھر رہے تو کثیر تعداد میں ’’شاہی گائیڈ ‘‘ جن کا دعوی تھا کہ وہ مغلوں اور شاہی قلعے کے بارے میں سب سے زیادہ جانتے ہیں بلکہ ان میں سے بعض تو قلعے کی وراثت کے حصہ دار بھی نکلے وہ اپنے آپ کو مغل ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے قلعے کی وراثت کے دعو ی پر ان کا کہنا تھا اب حکومت سے کون ٹکر لے جناب ۔
ان میں سے بعض مغلوں کی فوجی وردی میں بھی ملبوس تھے اور گائیڈ وں سے زیادہ سیلفیوں سے کما رہے تھے وہ باقاعدہ کسی کی فرمائش پر سیلفیوں کے علاوہ تلواریں سونتے وڈیو شوٹ میں بھی اپنے ’’جوہر ‘‘ دکھا رہے تھے ۔
یہ گائیڈ قلعے کے طول و عرض میں جابجا چھپے ہوئے تھے ان کا من بھاتا کھاجا غیر ملکی ٹورسٹ تھے جن کو وہ خوب لوٹ رہے تھے مجھے بھی کالی عینک پہنے دیکھ کر ایک سویلین گائیڈ میری جانب لپکا
’’مے آئی ہیلپ فار دی ہسٹری آف فورٹ ،کنگز ،کوئین اینڈ پرنسز جسٹ فار ۔۔۔ ‘‘
میں نے اس کی بات مکمل کرنے سے پہلے ہی کہا ’’نو تھینکس ،میں سب ہسٹری پڑھ کر آیا ہوں ‘‘۔
اتنے میں میرے  ساتھ آئے جم غفیر میں سے ایک لاہوری نوجوان نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا  مجھے  ’’پا جی ادھر نوں جانا اے ‘‘
اس گائیڈ نے ناگواری سے ہماری طرف دیکھا اور کہا ’’ صرف دو سو روپے میری فیس ہے پورے قلعے کی سیر کراؤں گا ۔
’’ترے کول کوئی گڈی اے ‘‘ لاہوری نوجوان نے دوبارہ اس سے کہا اور اپنی دال نہ گلتی دیکھ کر اس نے رستہ چھوڑ دیا البتہ میں نے دیکھا اس نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے دور کھڑے ایک شخص کو ’’نو‘‘ کا اشارہ کیا ہے ابھی کچھ آگے گئے تھے کہ ایک اور گائیڈ سے سامنا ہو گیا اس نے بغیر کوئی وقت ضائع کئے ہمیں کہا’’ اس وقت میوزیم کا وقت ختم ہو گیا ہے اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کے لئے سپیشل دو سو روپے کے عوض میں میوزیم کھلوا سکتا ہوں‘‘
خیر میں نے کہا ’’چلو کھلواؤ‘‘۔
ہم سے آگے چلتے ہوئے اس گائیڈنے میوزیم کا دروازہ ایک خاص انداز سے بجایا اندر سے ’’اندر ‘‘ کا آدمی باہر نکلا اس نے اتنا مجمع دیکھ بڑی دیہاڑی سمجھ کر میوزیم کا دروازہ کھول دیا ’’پچیس ‘‘ اس نے آخری ٹورسٹ گنا ۔’’یہ سب آپ کے ساتھ ہیں ‘‘اندر کے آدمی نے پوچھا
تے ہو ر کی توں سمجھیا سی ‘‘
گائیڈ نے ’’اندر ‘‘ کے آدمی سے کہا ’’ چلو چھوڑیں میں ہی دھوکہ کھا گیا ‘‘
گائیڈ نے ہمیں صرف میوزیم کے شروع میں شہزادی کے ایک شیشے کے فریم میں رکھے ہوئے ہاتھوں کے بارے میں بتایا اس کے بعد وہ میں ابھی آیا کہہ کر غائب ہوگیا باقی میوزیم بغیر کسی گائیڈ کے ہم نے سمجھنے کی کوشش کی ’’اندر ‘‘ کے آدمی نے ہمیں کافی مرتبہ یہ باور کروانے کی کوشش کی ٹائم ختم ہو چکا ہے کوئی افسر آ جائے گا مگر مجال ہے جو سیلفی لیتے بچوں نے اس کی ایک بھی سنی ہو۔
وہاں سے باہر نکلے تو ایک اور گائیڈ سے سامنا ہو گیا اس نے بتایا کہ وہ سرنگوں پر اتھارٹی رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ قلعے کی کونسی سرنگ ہندوستان کے لال قلعے تک جاتی تھی جب ہم نے اسے کہا کہ تمہیں فیس پوری دیں گے لیکن ہم نے اس سرنگ میں دور تک جانا ہے اس پر اس نے خالص لاہوری اسٹائل میں کہا ’’باؤ جی سرنگ چہ کہیڑا اورنج ٹریں چلدی اے ‘‘۔
اس کے بعد بڑی تیز رفتاری سے ہم نے بغیر گائیڈ کے شاہی قلعے کی سیر کی لیکن افسوس کا مقام یہ ہے پورے شاہی قلعے میں حکومت کی جانب سے سیاحوں کی رہنمائی کے لئے کسی قسم کے رہنمائی بورڈز نصب نہیں کئے گئے ہیں جن کا فائدہ یہ نام نہاد قسم کے گائیڈز اٹھا رہے ہیں ۔
شام کے دھندلکے گہرے ہوتے جا رہے تھے شاہی قلعے میں ٹمٹماتی ہوئی روشنیاں ایک عجیب سا منظر پیش کر رہی تھیں واپسی کی راہ لی تو جیسے ایک آواز نے قدم روک دیئے ہوں شائد انار کلی اس ویران شاہی قلعے میں اپنے سلیم کو ڈھونڈتی ہوئی گاتی پھر رہی تھی
زندگی ہاتھوں سے جا رہی ہے
شام سے پہلے رات آ رہی ہے
صاحب عالم کہاں رکے ہو
کلی تمہاری مرجھا رہی ہے
جاتے جاتے بھی یہ گا رہی ہے
بس عشق محبت اپنا پن
بس عشق محبت اپنا پن
بس عشق محبت اپنا پن!

Avatar
کے ایم خالد
کے ایم خالد کا شمار ملک کے معروف مزاح نگاروں اور فکاہیہ کالم نویسوں میں ہوتا ہے ،قومی اخبارارات ’’امن‘‘ ،’’جناح‘‘ ’’پاکستان ‘‘،خبریں،الشرق انٹرنیشنل ، ’’نئی بات ‘‘،’’’’ سرکار ‘‘ ’’ اوصاف ‘‘، ’’اساس ‘‘ سمیت روزنامہ ’’جنگ ‘‘ میں بھی ان کے کالم شائع ہو چکے ہیں روزنامہ ’’طاقت ‘‘ میں ہفتہ وار فکاہیہ کالم ’’مزاح مت ‘‘ شائع ہوتا ہے۔ایکسپریس نیوز ،اردو پوائنٹ کی ویب سائٹس سمیت بہت سی دیگر ویب سائٹ پران کے کالم باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں۔پی ٹی وی سمیت نجی چینلز پر ان کے کامیڈی ڈارمے آن ائیر ہو چکے ہیں ۔روزنامہ ’’جہان پاکستان ‘‘ میں ان کی سو لفظی کہانی روزانہ شائع ہو رہی ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *