بیکنگ سوڈا سے منہ کے چھالوں کا علاج

منہ کے چھالے یا زخم ایک عام مرض ہے اور کوئی بھی شخص اس میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ اگر  کسی شخص کے منہ میں چھوٹے سفید نشان گلابی سطح پر ابھر آئیں تو یہ چھالے یا زخم ہیں۔ یہ چھالے یا زخم عام طور پر چھوٹے یا بڑے دونوں نوعیت کے ہوسکتے ہیں اور منہ کے نرم ٹیشوز یا پھر زبان اور منہ کے اندر گال میں کسی بھی مقام پر ہوسکتے ہیں۔

یہ چھالے انتہائی تکلیف دہ ہوتے ہیں اور عام طور پر جب مصالے دار کھانا یا چیز کھائی جائے تو انتہائی تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ اور ان چھالوں کے باعث عام طور پر متاثرہ شخص پانی پینے میں بھی اذیت محسوس کرتا ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

اگرچہ کہ بنیادی نوعیت سے متعلق تو ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا تاہم منہ میں چھالوں   کی عام وجوہات  بیان کیجاتی ہیں۔ان وجوہات میں تیزابی غذائیں، ہارمونزمیں تبدیلی ، سختی سے برش کرنا، سمیت دیگر وجوہات شامل ہیں۔ ماہرین ان چھالوں کو آٹوامیون سرگرمیوں کا نتیجہ بھی قرار دیتے ہیں۔ عام طور پر یہ چھالے صحت افزاء غذا کے استعمال سے ختم ہوجاتے ہیں ، تاہم اس دوران مصالحے دار کھانے سمیت دیگر ایسی اشیاء جس سے یہ چھالے مزید تقویت پکڑیں ان سے پرہیز کرنا چاہیئے۔

Advertisements
julia rana solicitors

اگرچہ کہ منہ کے چھالے ختم کرنے کیلئے کئی نوعیت کے ٹوٹکے استعمال کیے جاتے ہیں جن میں ملیٹھی کی جڑ، کوکونٹ ملک، سمندری نمک سمیت دیگرٹوٹکے شامل ہیں۔تاہم منہ کے چھالوں یا زخموں کو با آسانی بیکنگ پاوڈر کے استعمال سے بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔ بیکنگ سوڈا ان چھالوں سے متاثرہ افراد کیلئے ایک نعمت سے کم نہیں ، اور اگر خاص طور پر یہ چھالے تیزابی نوعیت کے ہوں۔ کیونکہ اس کو لگانے سے بیکٹیریا یا جراثیم کا خاتمہ ہوتا ہے اسکے لگانے سے جلن کے خاتمے میں بھی مدد ملتی ہے۔بیکنگ سوڈے سے چھالوں کو ختم کرنے کیلئے اسکا چائے کا چمچ لے لیں اور اسکا تھوڑے سے پانی کے ساتھ پیسٹ بنالیں ،اور اس پیسٹ کو چھالوں پر لگائیں ۔تھوڑے وقت بات ہی آپ ان چھالوں میں کچھ مرجھاوٹ محسوس کریں گے۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply