لیہ ۔۔۔۔فخر اقبال خان

سوچتا ہوں یہ تحریر میرے من میں تھی گویا  ایک قرض تھا جان پر، ایک پیار تھا جس کا اظہار جیتے جی ضروری تھا، سوچا زندگی کا کیا بھروسہ ؟۔۔۔۔

یہ تحریر شاید بہت سارے لوگوں کے لیے اہم نہ ہو مگر مجھے امید ہے آپ کی معلومات میں اضافہ ہوگا اور آپ ایک ایسے شہر کی سیر کر سکیں گے جو صدیوں کی ثقافت اپنے سینے میں چھپائے ہوۓ ہے –

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی سے تقریباً ١٢٠٠ کلومیٹر شمال کی جانب اور لاہور سے ٣٩٥ کلومیٹر مغرب کی جانب گرم تپتے ریت کے ٹیلے، جو تیز آندھی سے ایک دوسرے کے پیچھے اڑتے اٹھکیلیاں کرتے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے ہیں ان ٹیلوں کے بیچوں بیچ اور مغربی جانب دنیا کے چند مشہور دریاؤں میں سے ایک دریا انڈس (سندھ ) کے مشرقی کنارے پر آباد ایک ایسا شہر جو اپنی ایک تاریخ رکھتا ہے اور قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے – لاہور میوزیم میں لیہ کی ہسٹری دیکھی جا سکتی ہے –

میں یہاں اس کے تاریخی حوالوں سے نہیں بلکہ اپنی یادوں کے حوالے سے اس شہر کے بارے میں لکھوں گا۔۔۔

 لیہ سرائیکی وسیب کا حصہ ہے  اور یہاں آباد لوگوں کی اسی فیصد آبادی سرائیکی اور باقی پنجابی آباد کار اور تقسیم کے بعد آنے والے مہاجر اور کے پی کے صوبہ ساتھ جڑے ہونے کی وجہ سے پٹھان بھی آباد ہیں ، اور سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ سرائیکیوں کے ساتھ یہ سب زبانیں انتہائی محبت پیار اور بغیر کسی امتیاز کے رہتی ہیں، میرے اپنے قریبی  دوستوں میں پنجابی، پٹھان، جھنگوچی پنجابی اور اردو بولنے والے لوگ شامل ہیں –  ہم دوستوں کی محفلیں سجتی ہیں تو سب سرائیکی بول رہے ہوتے ہیں اور انتہائی مزے کی زندگی گزراتے ہیں، گھر میں اپنی ماں بولی ہی بولی جاتی ہے ۔

 لیہ کو اگر پاکستان کے نقشے میں دیکھیں تو بالکل درمیان میں نظر آئے گا مطلب پاکستان کا سینٹر ہے – حکومتوں کی بے اعتنائی اور منتخب عوامی نمائندوں کی بے حسی کی وجہ سے یہ شہر ابھی تک   پسماندہ ہی ہے لیکن اپنے ارد گرد کے تمام شہروں سے خوبصورت صاف ستھرا اور اچھا ہے، اسکے ہمسایہ شہروں میں بھکر، ڈیرہ اسماعیل خان، میانوالی، کوٹ ادو، تونسہ  ڈیرہ غازی خان اور قریب ترین بڑا شہر ملتان ہے جو تقریباً آج سے پندرہ سال پہلے چار گھنٹوں کی مسافت پر پڑتا تھا اب درمیان میں دریائے چناب کا پل بننے سے یہ فاصلہ صرف ڈیڑھ گھنٹے کا ہوگیا ہے –

 لیہ میں بجلی تب آئی جب میں بچہ تھا، یہی کوئی ستر کے عشرے میں اس لحاظ سے تقریباً پچھتر  ستتر کی بات ہوگی جب کچہری کے قریب بجلی کے کھمبے ٹرالیوں سے اتار کر ہمارے گھر کے سامنے ڈالے گئے تو ہم بچے ان پر بیٹھ کر بس بس کھلتے تھے، سب سے آگے والا ڈرائیور اور پچھلے سارے بچے مسافر ایک بچہ اس کھمبے کے پاس آگے پیچھے گھومتا رہتا یعنی کنڈکٹر صاحب   کا دل بھر جاتا تو وہی کھمبا کشتی بن جاتا اور چار لوگ ملاح اور ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے پتوار بن جاتے ، بچپن بھی عجیب ہوتا ہے، لیکن بچپن جیسی خوبصورت عمر کوئی اور نہیں ہے۔۔

اس وقت لیہ تحصیل تھی اور ہمارے  گھر کے دائیں ہاتھ گلی تھی اور جنوب کی طرف اسسٹنٹ کمشنر اور سول مجسٹریٹ صاحبان کی کچہری ہوتی تھی، اور ایک گھنا پیپل کا درخت مشترکہ طور پر ہمارے گھر کے صحن اور کچہری کے ایک حصے کو سایہ بانٹتا تھا لیکن یہی سایہ سردیوں میں ہمارے گھر دھوپ پر پہرے دار بن جاتا –

 میرے گھر سے چند فرلانگ کے فاصلے پر گورنمنٹ ہائی  سکول ہوتا تھا جہاں میں پڑھتا تھا، اس وقت کے اساتذہ کرام الله ان کو سلامت رکھے جو گزر گئے انکے درجات بلند فرمائے ، کیا کمال لوگ تھے ؟ ہمارے کلاس ٹیچر جناب محمد شریف قریشی صاحب، انگریزی کے استاد جناب عطا محمد شہانی صاحب ، عبد الرحیم درانی صاحب بیالوجی ، جناب قاضی عالم ہمیں کیمسٹری پڑھاتے تھے، اس کے علاوہ ہمارے پی ٹی آئی جناب پی ٹی سجاد صاحب، جن کے نام کے ساتھ پی ٹی نہ لکھا یا بولا جائے تو ادھورے پن کا احساس ہوتا ہے ، جناب راجہ مجید صاحب الله ان کی مغفرت کرے، ہمارے ہیڈ ماسٹر صاحب جناب منظور الہی درانی صاحب مرحوم کمال کے ہیڈ ماسٹر تھے، دبنگ، بارعب و با وقار مکمل شخصیت، کسی دن کسی مضمون کے کوئی ٹیچر چھٹی پر ہوتے تو ہیڈ ماسٹر صاحب خود اس ٹائم ٹیبل میں اپنا نام اس پیریڈ کے لیے لکھوا دیتے اور وہ پیریڈ خالی نہ جانے دیتے،

عجیب لگ رہا ہوگا آج کل کے نوجوانوں کو یہ سب نا ؟ انگریزی کے استاد شہانی صاحب اسمبلی سے پہلے زیرو پیریڈ لیتے تھے اور روز ایک سمری یاد کرنے کو دیتے اور جو سمری غلط لکھتا یا یاد نہ کر کے آتا اسے مرغا بننا پڑتا، یہ تھی تڑپ ان لوگوں کی ورنہ کیا ضرورت تھی زیرو پیریڈ کی ؟

 ہمارا محلہ بزداروں کا محلہ کہلاتا تھا جو کہ بلوچوں کا ایک قبیلہ ہے اور بزدار برادی کی ایک بڑی تعداد لیہ میں آباد ہے ، اس کے ساتھ ہی صدر بازار شروع ہو جاتا ہے جو ٹھنڈی کھوئی مسجد سے ہوتا ہوا، سبزی و گوشت منڈی والی گلی کراس کرتے ہوۓ جیلانی کلاتھ ہاؤس اور جاوید جنرل سٹور کے قریب چوبارہ روڈ پر اختتام پذیر ہوتا ہے اور تھوڑا سا آگے بائیں سائیڈ پر للی لعل روڈ سے راستہ عید گاہ محلہ کی طرف جاتا ہے ۔

صدر بازار کے جنوبی حصہ پر پپو پہلوان کا سوہن حلوہ، برفی اور چائے جیسی لذت میں پھر کبھی کسی اور شہر کی کسی مٹھائی میں نہیں ڈھونڈھ سکا، بے شک اس سے بھی زیادہ مزیدار چیزیں ہوں گی لیکن وہ ایک منفرد چیز ہے –

ہمارے بچپن میں صدر بازار کی جنوبی طرف ملک میڈیکل ہال ہوتا تھا جہاں میں نے ٹیلی فون پہلی مرتبہ دیکھا تھا کالے  رنگ کا بڑے ڈائل والا جس پر چونگا رکھنے کے لیے ایک ہولڈر ہوتا تھا اور ٹررن ٹرن ٹررن والی گھنٹی اور چھلے دار تار ہوتی تھی ، اس کے قریب کسی دکان کے تھڑے پر ایک آدمی چاول ایک دیگچے میں بنا کر بیٹھا ہوتا تھا، وہ سادہ تڑکے والے چاول جس میں لال مرچیں چاولوں پر نظر آتی تھیں ویسے سادہ بنے ہوۓ مزیدار چاول ہم باوجود کوشش کے آج تک گھر نہیں بنا پائے-

 بالی کی کڑھائی ، شفیق کے چاول چھولے اور لب شیریں کے گرم گرم سموسے، اور چوبارہ روڈ پر ایم سی ہائی اسکول کے قریب ریلوے پھاٹک کے نزدیک  سرکنڈوں کے سٹینڈ پر ایک چمچماتے تھال میں رکھ کر صاف کپڑے سے ڈھکے ہوئی ایک شاندار مٹھائی جسے ” پراک” کہا جاتا تھا، بیچتا ایک آدمی، پراک،  ایک سموسے کی شکل کی مٹھائی ہوتی تھی جس کے اندر کھویا ہوتا تھا، اور خالی میٹھی پرت والے اندر سے خالی  پراک بھی ہوتے تھے – وہ مٹھائی مجھے دوبارہ کہیں نظر نہیں آئی –  چرمر نام کا ایک سنیک جو ریڑھیوں پر انبار کی شکل میں ملتا تھا جوکہ ماش کی دال سے بنتا تھا وہ بھی مجھے پورے پاکستان میں کہیں نظر نہیں آیا،پھلوں میں لیہ کا تربوز پورے پاکستان میں مشھور ہے، اسے” لیہ دے لعل” کہہ کر پورے علاقے میں بیچا جاتا ہے –

 پھاٹک سے شمال کی طرف جائیں تو شہر کے بیچوں بیچ سے گزرتی نہر”  لیہ مائنر” سے گزر کر ہمارے بائیں ہاتھ پر ٹیلیفون ایکسچینج ہوتی تھی اور سیدھے ہاتھ پر ٹی ڈی اے کالونی کے آخر میں ایس پی ہاؤس ڈی سی ہاؤس کے بعد لیہ ختم ہوجاتا تھا، اور اس کی  الٹی سائیڈ یعنی جنوب مغربی سائیڈ پر ہمارا مشہور اسٹیڈیم،  ویرا اسٹیڈیم لیہ کا آخری کونا ہوتا تھا، اب تو لیہ بہت پھیل گیا ہے۔۔

ویرا اسٹیڈیم کی تعمیر اس وقت کے اسسٹنٹ کمشنر مشہور شخصیت جناب مصطفیٰ زیدی نے کروائی تھی اور اس کا نام  اپنی آسٹرین بیوی ” ویرا” کے نام پر رکھا تھا- مصطفیٰ زیدی پاکستان کے مشھور شاعر، مصنف  اور بہترین سول سروسز آفیسر تھے. شہناز گل جو کہ یحییٰ خان کی دوست تھی کے حوالے سے ان کا سکینڈل بھی مشھور ہوا تھا، اور انہیں یحییٰ خان کے مارشل لاء میں نوکری سے بھی برخاست کر دیا گیا تھا –

 لیہ میں ایم آرڈی کی تحریک کے دوران گولی چلنے سے ایک آدمی موت ہوگئی تھی اور شاید یہ موت دراصل اس شہر کی رواداری، برداشت، محبت، اور بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب، اتفاق و یگانگت پر ایک تازیانہ تھی، ہر انسان اداس تھا اس شہر کا ، اس وقت کوئی غیر طبعی موت ہوتی تھی تو سراسیمگی پھیل جاتی تھی ۔

 ہمارے علاقے میں اپریل کے آخر سے جون کے اختتام تک گرمیوں میں روزانہ آندھی آنا ایک معمول تھا، اور کبھی کبھار تو آندھی ایسی ہوتی کہ گھپ اندھیرہ چھا جاتا، کبھی کبھار لال گرد و غبار والی اندھی آتی تو لوگ گھبرا جاتے اور آپس میں گفتگو کے دوران خاص طور پر اس بات کا تذکرہ کیا جاتا کہ یقیناً آج کہیں کوئی بے گناہ قتل ہوا ہے، آج کل ایک بے گناہ کا قتل تو کوئی بات ہی نہیں بے گناہ لاشوں کے انبار پڑے ہیں ہر جگہ، جسمانی روحانی اور رشتوں کی موت کی شکل میں، اور سنا ہے آجکل وہاں آندھیاں بھی بہت کم ہوگئی ہیں اور لال آندھی بھی اب نہیں آتی – لگتا ہے مر جانے والے احساس کے ساتھ ہی مر گئے  تھے –

 مجھے اچھی طرح یاد ہے رکشہ میں سفر ملتان یا لاہور میں کیا تھا، ہمارے شہر میں ٹانگے چلتے تھے جس دن لیہ میں پہلا رکشہ آیا تھا تو میں نے خوشی سے سوچا تھا کہ ہمارا شہر بھی ترقی کر رہا ہے ،کاریں خال خال ہوتی تھیں، اور کن کن کے پاس ہیں پورے شہر کو پتہ  ہوتا تھا، ڈگری کالج، اور پولی ٹیکنیک کالج اور انکے سامنے والے علاقے میں خواتین کا کالج ہوتا تھا ، اب اس کے ساتھ ہاؤسنگ کالونی نمبر ١ ہے ۔

 لیہ آس پڑوس کے چھوٹے علاقوں کا کاروباری مرکز ہے  جہاں پر کسان اور زمیندار کھاد بیج تھریشر وغیرہ لینے آتے ہیں ، ریلوے پھاٹک کے قریب لیہ کا واحد رہائیشی ہوٹل جو ریسٹورینٹ بھی تھا، گلبرگ ہوٹل کے نام سے مشہور تھا، اس کا کھانا بھی بھی عمدہ ہوتا تھا اور رہائش اس کے علاوہ صرف کینال ریسٹ ہاؤس میں رکھی جا سکتی تھی جہاں عام طور پر بڑے آفیسر مسافران کے طور پر رہتے تھے – اب بہت سے ہوٹل اور ریسٹورینٹ شادی ہال وغیرہ نظر آتے ہیں –

 لیہ کے ریلوے سٹیشن کے مین گیٹ کے سامنے صوفی صابر کا ہوٹل ہوتا تھا جہاں مختلف دانشواران مختلف ٹکڑیوں میں آدھی رات تک مختلف موضوعات پر بال کی کھال اتارتے تھے ، صوفی صابر کا ہوٹل لیہ کا” پاک ٹی ہاؤس” کہا جاسکتا ہے – ہم دوستوں کا جتھا بھی صوفی صابر کے ہوٹل پر ہماچوں    ( ہماچے بہت بڑی چارپائی، جو ہوٹلوں پر رکھے ہوتے تھے)پر براجمان ہوتا تھا، گرمیوں میں کبھی کبھار دودھ سوڈا چلتا تھا، چائے کے تو ہم دیوانے تھے، سردیوں میں ابلے ہوۓ انڈے اور نیو ائیر نائٹ ہم مونگ پھلیوں، چلغوزوں اور نمکین پستہ کھا کر مناتے تھے ،اس وقت چلغوزہ اپنی اوقات میں ہوتا تھا ، دنیا جہان کے پاگل جنہیں سرائیکی میں”  کملا”  کہا جاتا ہے ہمارے پاس آ کر بیٹھتے تھے- ہم ان کو چائے پلاتے اور ان سے معصومانہ حرکات کروا کر قہقہے لگاتے تھے –

 ثقافتی طور پر ہمارے علاقے میں خواتین باقاعدہ کالا برقع یا شٹل کاک لیتی تھیں اور گھر کی خواتین کے علاوہ اپنی سگی کزن سے بات کرتے ہوۓ مرد حضرات بھی شرماتے تھے اور خواتین تو الله میاں کی گائے کی زندہ تفسیر ہوتی تھیں۔۔ لیکن خواتین کو  سکول جانے اور زیادہ تر خواتین کو  سکول میں نوکری کرنے کی آزادی تھی، ماحول تنگ نظر نہیں تھا لوگ سلجھے ہوۓ ہیں –

 ریلوے سٹیشن کے پیچھے والے علاقے میں، لیہ کا واحد چھت والا سنیما گلستان سنیما کے نام سے مشھور تھا اور مہر برادری کی ملکیت تھا، دوسرے دو سنیما، ناز اور چندا سنیما تھے جن کی چھت نہیں تھی اور چھت ترپال سے بنائی جاتی تھی ۔

ناز سنیما کے ذکر سے ایک واقعہ یاد آیا، اس سینما کی بائیں گلی میں  لیہ کا بازار حسن ہوتا تھا، اور اسے  چکلہ  کہا جاتا تھا – میٹرک میں ہم  چند دوستوں نے فیصلہ کیا کہ زندگی میں اس گلی کو کبھی نہیں دیکھا ہے اسے ایک بار دیکھنا  ضرور ہے کیوں کہ اس گلی میں جانا ایسے تھا جیسے آپ کوئی جرم کرنے جا رہے ہیں اور ہم یہ سمجھتے تھے کہ اس گلی میں سے کسی نے نکلتے دیکھ لیا تو بس خیر نہیں لیکن جوانی کی عمر اور تجسسس نے ہمیں مجبور کیا کہ یہ ہوتا کیا ہے۔۔اور سنا سنائی کی باتیں کہ عورتیں دروازوں پر بیٹھی ہوتی ہیں تو وہ کیسی عورتیں ہوں گی جو اس گلی میں بیٹھتی ہیں؟

ظاہر ہے وہ ایک ایسا کام کرتی تھیں جو عام معاشرہ چھپ چھپا کر بھی کرنا اور اس پر بات کرنا گناہ تصور ہوتا ہے تو وہ تو سر عام دعوت گناہ دیتی ہیں – ہم چند دوستوں نے پلان بنایا کہ شام مغرب سے پہلے وہ عورتیں دروازوں کے پاس بیٹھنا شروع کر دیتی ہیں اور دن بھر سوتی ہیں ظاہر ہے یہ وہ معلومات تھیں جو سنی سنائی تھیں اور سرگوشیوں کی شکل میں سینہ با سینہ چلتی ہیں – ہم نے فیصلہ کیا کہ اپنی اپنی سائیکل پر تین چار لوگ اکٹھے اس گلی میں داخل ہوں گے اور دوسری طرف سے نکل جائیں گے اور وہ واحد گلی جو ہم اپنے شہر میں پچھلے سولہ سال سے  نہیں دیکھ سکے آج ضرور دیکھیں گے –

لہٰذا ناز سنیما کے پاس سے تین چار سائیکلوں پر سوار ہم چند دوست اس مشن پر روانہ ہوۓ ، ہمارے دل زور زور سے دھڑ دھڑا رہے تھے ، مجھے ایسے لگتا تھا جیسے دل سینے سے باہر نکل آئے گا، ہمارے کان لال سرخ ہوچکے تھے اور ٹانگیں کانپ رہی تھیں، ہم گلی میں داخل ہوۓ تو دائیں بائیں چھوٹے چھوٹے  کمرے یا گھر تھے جن کے دروازوں پر پاؤڈر سرخی غازہ لگائے ادھیڑ عمر عورتیں ، اور کچھ دروازوں پر جوان لڑکیاں بھی بیٹھی تھیں، مجھے پہلی نظر میں اتنے تھوپے ہوۓ میک اپ سے بھرے چہرے اچھے نہ لگے-

ہم بظاہر بے نیاز سے سائیکل سوار بنے  گلی میں سے گزرنے والوں جیسی شکل بنائے  انھیں نہ دیکھنے کی اداکاری کرتے، کن اکھیوں سے ان کو دیکھتے جا رہے تھے کہ اچانک ایک شوخ سی لڑکی نے ہمیں ہاتھ سے اشارہ کیا  اور کہا ۔۔۔۔ ادھر آؤ ۔۔

بس پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔۔۔۔

ہم سب کچھ بھول بھال کر زور زور سے پیڈل چلاتے ہوۓ اتنی تیزی سے وہاں سے فرار ہوۓ جیسے ہمارے پیچھے کوئی پاگل کتا لگ گیا ہو، یا جنگل میں بھیڑیا پیچھے بھاگ رہا ہو، سائکلیں دوڑاتے دوڑاتے ہم پتا نہیں کون کون سی گلیوں سڑکوں سے  سے ہوتے ہوۓ ریلوے سٹیشن کے پاس پہنچ کر سائکلیں ایک طرف پھینک کر ایک ہماچے پر آ کر گر گئے اور اپنے حواس کو ٹھکانے لگانے لگے ۔۔

ہوش آیا تو ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر وہ ہنسے کہ پیٹ میں بل پڑ گئے اور آنکھیں پانی پانی ہوگئیں، جب ہنس ہنس کر بے حال ہوگئے تو اچانک ایک دوست نے پوچھا جب گلی سے نکلے تھے تو کوئی دیکھ تو نہیں رہا تھا ؟ ہم سب کی سٹی گم ہوگئی بدحواسی میں ہم نے یہ تو غور ہی نہیں کیا تھا – اب کیا ہوگا ؟ ہم پریشانی سے سوچ رہے تھے کہ اچانک ایک دوست بولا یار ہم لوگ تو ایسے ڈر گئے ہیں جیسے ہم وہاں کچھ غلط کرنے گئے تھے، وہ ایک گلی ہے جس سے اس علاقے کے عام لوگ بھی گزرتے ہوں گے سارے برے لوگ تو وہاں نہیں رہتے، تب جا کر ہمیں کچھ تسلی ہوئی لیکن اسکے بعد ہم نے زندگی بھر اس گلی سے گزرنے کا حوصلہ نہ کیا – 

 لیہ ایک ایسا شہر ہے  جو اس وقت تھا تو بہت چھوٹا لیکن جو بھی آتا اس شہر کا گرویدہ ہو جاتا، صاف پانی ، صاف آب و ہوا ، ملنسار اور ہنس مکھ سادہ طبیعت لوگ، محبت شفقت احترام اور ثقافت کے لازوال رنگوں میں رنگے ہوۓ ، کسی ایک دوست کا چاچا سب کا چاچا اور سب کے لیے یکساں قابل احترام، بزرگوں دانشوروں کی محفلیں، پٹھانے خان کے پروگرام ، محفل مشاعرہ، ویرا اسٹیڈیم میں ہاکی اور فٹبال کے سالانہ علاقائی اور بین الاضلاعی ٹورنامنٹ، ساتھ والے قصبے کوٹلہ حاجی شاہ میں بیساکھی کا میلہ، اور کروڑ لعل عیسن کے دربار کا سالانہ میلہ-

چھک چھک کرتے ہوۓ ملتان سے آتے ہوۓ ڈبے (ایک ریل ماڑی انڈس جسے ڈبے کہا جاتا) ملتان سے براستہ، مظفر گڑھ ، کوٹ ادو لیہ سے ہوتی کندیاں تک جاتی اور پھر واپس آتی تھی، ایکسپریس ٹرین  جس کا نام مہر ایکسپریس تھا مگر اسے پنڈی ایکسپریس کہا جاتا تھا، جو ملتان سے پنڈی تک چلتی تھی، اسکے علاوہ ایک اور ٹرین خوشحال خان خٹک ایکسپریس تھی جو کراچی سے پشاور تک لیہ سے گزر کر جاتی تھی اور ٣٦ گھنٹے یا اڑتالیس گھنٹے میں یہ سفر طے کرتی تھی –

 ہمارے شہر   نے بلند پایہ شخصیات کو جنم دیا ہے،دانشوروں میں ڈاکٹر خیال امروہی، جو محترم جون ایلیا کے رشتہ دار تھے اور شاہ ایران سے اصفہان شہر کی اعزازی چابی بھی بطور اعزاز وصول کیا تھا جب انہوں نے ایران کی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ٹاپ کیا تھا – ان کا ایک شعر زبان زد عام ہے۔

 انساں سے محبت کی سزا کتنی کڑی تھی

نفرت کے طمانچے میرے رخسار تک آئے!

ان کا بہت بڑا کردار تھا لیہ کے نوجوانوں کی تربیت میں وہ نئی نسل کو روشن خیال بنانے کے لیے کوشش کرتے تھے اور  ہمیشہ غم زدہ رہتے تھے، کہ روشن خیالی ہماری ثقافت تھی، اور ضیاء کی آمد کے بعد ملا ازم پر دکھ کا اظہار کرتے – کہتے اب یہ قوم نہیں رہی ہجوم ہوگیا ہے اور وہ بھی وحشی ، اور ساتھ ہی فرماتے کہ ۔۔۔ وہ ( مغربی اقوام) خلاء میں ہیں اور ہم فکر کے  بیت الخلاء میں ہیں ۔۔ ایک قہقہہ لگاتے تھے اور چائے پی کر رخصت ہوجاتے۔

نسیم لیہ بھی بہت بلند پایہ شاعر تھے، شعیب جاذب ، شفقت بزدار، شوق صاحب وغیرہ بھی کمال شعراء تھے اور ہیں ۔سرائی صاحب جن کا نام ذہن میں نہیں آ رہا جو سرائیکی ادب اور ثقافت کی چلتی پھرتی لائبریری تھے۔پروفیسر  نواز صدیقی، جناب مہر اختر وہاب، پروفیسر  مزمل صاحب ، منور بلوچ، لالہ امیر محمد وغیرہ لیہ کے وہ کردار ہیں جن سے لیہ کی نوجوان نسل نے بہت سیکھا۔ محبت رواداری انسان دوستی کا فروغ ان صاحبان کا خاصہ رہا ہے ۔۔

رؤف کلاسرہ، مشہور صحافی کا تعلق بھی لیہ سے ہے یہ اور بات ہے کہ اب وہ واقعی بڑے ہو گئے ہیں اور وہ گرم جوشی ان میں رہی ہی نہیں۔ ایک دفعہ موٹر وے ریسٹ ایریا پر ہم دو دوست اسلام آباد سے واپسی پر مکڈونلڈ  پر لنچ کے لیے رکے تو وہ باہر آ رہے تھے، پہچان تو انہوں نے لیا، بات بھی کی لیکن  اس ملاقات میں اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ہمارے شہر کے لوگ مدت بعد ملیں تو نہال ہو جاتے ہیں لیکن ان کا رویہ گرم جوشی سے خالی تھا اور وہ جلدی میں لگتے تھے شاید، بقول شاعر ، کل کا اخبار تھا بس دیکھ لیا، رکھ بھی دیا۔۔۔۔ 

لیہ میں تعلیم کی ریشو پاکستان کے ستر فیصد اضلاع سے اوپر ہے ۔۔ لیہ میں گرمی خوب پڑتی ہے اور لوڈ شیڈنگ بھی ، لہٰذا گرمیوں میں نہر پر نہانے کے پروگرام بھی بنتے ہیں اور یار بیلی لوگوں کی پارٹیاں ٹیل انڈس اور عنایت ریسٹ ہاؤس کے قریب نہر پر — دھانوانڑی   ( دھانوانڑ  نہر پر نہانا ساتھ میں چونسا اور انور رٹول چوسنا )مناتی ہیں ۔

 لیہ دریا سندھ کے کنارے آباد ایک ریگستان ہے، ستر اور اسی کی دہائی میں سیلاب تقریباً ہر سال آتا تھا اور کچے کے لوگوں کو رلاتا تھا ، کچے کا علاقہ دریا سندھ کی مغربی پٹی سے لے کر تونسہ شریف تک کا علاقہ کہلاتا ہے ۔

 آپ جھنگ سے براستہ گڑھ موڑ لیہ جانے والی سڑک پر جائیں تو فروری کے موسم میں ٹیلوں پر اگی چنے کی فصل اس زگ زیگ اور اونچی نیچی سڑک کا سفر ایک حسین ترین ریگستانی سفر بن جاتا ہے ، جس میں ہر طرف نرم نرم سبز رنگت کی چنے کی فصل اس راستے کو ایک حسین یاد میں تبدیل کر دیتی ہے –

 مضمون طویل تر ہوگیا ہے مگر تشنہ ہے ، لیکن ایک مختصر سا خاکہ آپکے ذہن میں آ گیا ہوگا – لیہ ابھی بھی پاکستان کے تمام علاقوں سے زیادہ پرامن روادار خوش خلق اور محبت و سادگی سے لبریز لوگوں کی سر زمین ہے اور میرا عشق ہے ۔

 خود سے بڑے بھائی کزن یا شہری کو لالہ، بزرگوں کو سئیں، اور خواتین کو اماں، دھی مائی یا میڈی بھینڑ کہا جاتا ہے ۔ یہ مٹی وہ مٹی ہے جس نے میرے خدوخال سنوارے ہیں، اور میری تعمیر کی ہے، یہاں ہمارے پرکھوں کی قبریں ہیں، اور یادوں کے نہ بجھنے والے چراغ روشن ہیں ،یہ مجھے بہت پیارا ہے، یہاں کے لوگ مجھے پیارے ہیں، دوست تو پھر ہوتے ہی انمول ہیں ۔

 خواہش ہے مرنے کے بعد جی اٹھنے والی زندگی میں یہی شہر میرا ٹھکانہ ہو ۔۔۔

تجھ سے بچھڑا ہوں، تجھے بھولا تو نہیں

اے میرے شہر تو شاد و آباد رہے (فخر بلوچ)

مشکل الفاظ کے معنی –

فخر اقبال خان بلوچ
فخر اقبال خان بلوچ
بی کام- ایل ایل بی لہو رستے قلم کا ہاتھ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *