غمِ حیات ،مکتب سکول۔۔۔۔ ابو عبداللہ

ضیاء الحق کی حکومت تھی، جب سکول جانا شروع کیا. اپنے گاؤں میں کوئی سکول نہیں تھا، اس لئے چار کلومیٹر دور ساتھ والے گاؤں میں ایک مسجد میں پڑھائی شروع کی جو مکتب سکول کے نام سے مشہور تھا. اس مسجد یا مکتب سکول میں دور اور نزدیک سے ستر کے قریب طلبہ آتے تھے اور یہاں تین یا چار سال لگاتے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد چوتھی جماعت کیلئے بڑے گاؤں میں چلے جاتے.

سکول کیلئے بھائی اور چچا زار بھائیوں کے ساتھ منہ اندھیرے سکول کیلئے نکلتے تو یہ نہیں پتہ چلتا کہ سکول یونیفارم اپنا پہنا ہے یا بھائی کا. کبھی کبھار اگر قمیص یا شلوار بھائی کے ساتھ تبدیل ہوتی تو راستے میں آنے والے بڑے اور پرانے قبرستان میں ٹھیک کر لیتے.
چار کلومیٹر سفر کے بعد جب سکول پہنچتے تو سب سے پہلے مسجد میں جھاڑو مارتے، ٹاٹ صاف کرتے، استاد جی جو پیش امام بھی تھے ان کی اکلوتی ٹوٹی ہوئی کرسی تھوک لگا کر چمکاتے. نزدیکی تالاب سے بالٹی بھر کر پانی کا مٹکا بھرتے اور اسمبلی سے پہلے پاکستان کا جھنڈا مٹی کے گارے سے بنے ہوئے سٹینڈ میں لگاتے.

لڑکے جب پورے ہوتے تو مسجد کے کچے ہال میں چار صفیں بنتیں  جن پر بالترتیب تیسری، دوسری، پہلی اور کچی جماعت کے لڑکے بیٹھتے. استاد جی ایک دوسری اونچی جگہ پر کرسی لگا کر ہمیں وہیں  سے مانیٹر کرتے. سب جماعتوں والے باری باری استاد کے پاس جاتے، استاد جی کل والا سبق پوچھتے اور پھر یاد کرنے کے لئے نیا سبق دے دیتے. سب سے دلچسپ مرحلہ حساب کے مضمون کا ہوتا تھا. ہمارا سکول پہاڑی کے اوپر تھا، تو جو لڑکا حساب کا سوال غلط کرتا استاد جی اس کی سلیٹ کو ہوا کے دوش پر چھوڑ دیتا تو وہ سلیٹ پرواز کرتی ہوئی پہاڑی سے نیچے سو دو سو فٹ تک چلی جاتی اور پھر ہر طالب علم اپنی اپنی سلیٹ لینے پہاڑی سے نیچے جاتا. اگر ہفتہ وار میلے کا دن ہوتا تو وہی سے کچھ لڑکے سکول سے کھسک جاتے.

بعض دفعہ سکول جا کر پتہ چلتا کہ استاد جی کسی سرکاری کام سے کرک میں کسی بڑے انسپکٹر سے ملنے جا رہے ہیں تو اس دن جلدی جلدی حاضری لگتی اور سکول سے چھٹی ہو جاتی، وہ دن ہمارے لئے عید کا دن ہوتا. واپسی پر خر مستیاں کرتے ہوئے سکول کا وقت پورا کرکے گھر پہنچتے. بعض دفعہ ہمیں دو دن پہلے بتا دیا جاتا کہ فلاں دن انسپکٹر صاحب مکتب سکول کا دورہ کرینگے اس لئے سب لڑکوں کو تیار ہوکر آنے کا کہا جاتا. دورہ والے دن کو ہم معائنہ کے نام سے یاد کرتے، معائنہ والے دن سب لڑکے صاف ستھری یونیفارم پہنتے، ناک صاف کرنے کیلئے ہر بچہ اپنے ساتھ رنگین رومال لیکر آتا اور ہر رومال پر اپنا اپنا نام لکھا ہوتا. بالوں پر اتنا تیل لگا کر آتے کہ ماتھا تک چمک رہا ہوتا تھا. کچھ لڑکے گھر سے دیسی انڈے لے آتے اور کچھ گھر سے دودھ وغیرہ کا بندوبست کرکے آتے لیکن یہ ذمہ داری نزدیک کے لڑکوں کی ہوتی تھی، ہم دور والے اس سے مبرا ہوتے.

لڑکیاں اس دن اپنی پرانی اور میلی کچیلی چادریں خوب رگڑ کر صاف کرتیں، میل تو نہ جاتی البتہ چادریں خوب رگڑنے سے جگہ جگہ سے پھٹ جاتیں. یہ واحد دن ہوتا تھا جب لڑکیاں آنکھوں میں سرمہ لگا کر آتی اور سرمہ سے ایک لکیر بنا کر ان کے کانوں تک چلی جاتی، ان کی پیروی میں کچھ لڑکے بھی جذباتی ہو جاتے اور بھی کانوں تک سرمہ لگا کر آتے.
انسپکٹر سب بچوں کے یونیفارم کا معائنہ کرتے، بال چیک کرتے، ناخن دیکھ لیتے اور پھر اس کے بعد کورس کا امتحان لیتے. جو لڑکے گھر سے ناخن کٹوا کر نہ آتے تو وہ یہ کام پہلی جماعت میں تین دفعہ فیل ہونے والے شندو نامی لڑکے سے کرواتے لیکن یہاں بھی لیڈیز فرسٹ والا معاملہ ہوتا.

سکول میں نالائق لڑکے تو بہت تھے لیکن استاد جی کے اپنے بیٹے کی تو بات ہی اور ہوتی تھی. کسی بھی مضمون کے ساتھ اس کی دوستی نہیں ہوتی تھی، بعض دفعہ پورا پورا دن مرغا بنا ہوتا تھا اور استاد جی کی بیگم مسجد کے ساتھ بنے ہوئے کچے گھر سے استاد جی کو برا بھلا کہتی. استاد جی کی بیگم کو سب لڑکے چاچی چاچی کہتے تھے. ان کی لڑائی تب زور پکڑتی جب چاچی اپنے بیٹے کو مرغا دیکھ کر استاد جی کو دھمکی دیتی کہ ذرا  سکول کی چھٹی تو ہو لینے دو پھر دیکھنا. اس دھمکی کے بعد استاد جی کے بیٹے کی سزا ختم ہو جاتی لیکن پھر سب کی شامت آ جاتی. استاد جی ہماری سلیٹوں کو زیادہ زور سے پھینکتے اور سلیٹیں سو فٹ کی بجائے سو میٹر دور تک جاتیں.

استاد جی کے ساتھ چاچی کا جھگڑا صرف اس کے لاڈلے کی وجہ سے ہوتا تھا، اس کے علاوہ وہ کبھی استاد جی کے ساتھ بدتمیزی نہیں کرتی تھی. چاچی بہانے بہانے سے انھیں مخاطب کرتی اور استاد جی اس کو پہلے تو ڈانٹ دیتے پھر پیار کے ساتھ سمجھا دیتے. جیسے کہ چاچی نو بجے کہ قریب جب سب بچے اردو کی کوئی نظم ترنم سے پڑھ رہے ہوتے تو اونچی آواز میں استاد جی کو بلاتی. سب بچے ایکدم سے خاموش ہو جاتے تو چاچی کہتی.
“آج کھانے میں کیا بناؤں؟”
تو استاد جی غصہ سے کہتے.
“ارے نیک بختے. صبح بتا کر تو آیا تھا کہ لوکی بنا لینا.” اور پھر پیار سے کہتے. “ساتھ میں لہسن کی چٹنی بھی بنا لینا.”
کھانے کے وقفہ کے بعد کوئی بھی لڑکا استاد جی کے قریب نہیں جاتا کیونکہ پھر استاد جی پورا دن لہسن کی غیر معیاری ڈکاریں مارتے.
تفریح کے وقت واحد روایتی کھیل” گڈگڈی” کھیلا جاتا جس میں سب لڑکے ایک ہاتھ سے ایک پاؤں پکڑتے اور ایک ٹانگ پر بھاگ کر قلعہ فتح کرتے. لڑکیاں دوپٹے کا لتر یا ہنٹر بنا کر گول پٹھو کھیلتی. ہماری طرف سے کچھ زنانہ لڑکے بھی ان کے ساتھ اس کھیل میں شامل ہوتے. جونا واحد لڑکی تھی جو صرف لڑکوں کے ساتھ کھیل میں حصہ لیتی، سب بچوں میں اس کا قد کاٹھ اور جسامت زیادہ تھی تو کبھی کبھار وہ لڑکوں کی بھی پھینٹی لگا لیتی تھی. لڑکیاں تو ڈر کے مارے جونا سے بات ہی نہیں کرتی تھی.

دلشی پہلی کلاس میں ہمارے سکول آئی اور وہ واحد لڑکی تھی جس کو اس کے ابا جی اپنے تانگہ پر سکول چھوڑتے تھے اور شام کو واپسی پر اس کے ابا جی ساتھ واپس لے جاتے. دلشی کے ابا جیسے ہی سکول کے سامنے سے اوجھل ہوتے، دلشی رونا شروع کر دیتی اور اتنی اونچی آواز میں روتی کے چھپ کرانے کے لیے چاچی کو باہر آنا پڑتا. ناک تو ہم سب کی بہتی تھی لیکن جب دلشی کی بہتی تو اس کے دوپٹے کا پلو چھوٹا پڑ جاتا تھا.
پہلے دن جب وہ اپنے ابا کے ساتھ سکول آئی تھی تو بہت ڈری ہوئی اور خوفزدہ لگ رہی تھی. نا جانے کیا بات تھی کہ وہ مجھے اچھی لگنے لگی حالانکہ اس وقت وہ جذبات بھی نہیں تھے. ایک پاکیزہ رشتہ بن گیا تھا اس سے، روتے وقت جب دلشی کی ناک بہتی تو سب لڑکے دوسری طرف منہ کر کے عجیب عجیب سی شکلیں بناتے لیکن مجھے بالکل برا نہیں لگتا تھا. آہستہ آہستہ وہ ہم سب کے ساتھ گھل مل گئی.

مارچ کے آخری عشرے میں امتحانات ہوتے اور پھر سکول کی چھٹیاں ہو جاتی. امتحان لینے کے لئے باہر سے انسپکٹر آتے جو سب لڑکوں کو میرٹ پر پاس فیل کرتے سوائے استاد جی کے بیٹے کے. اس کا امتحان بالکل منفرد لیا جاتا، جب ہم سے جمع، منفی، ضرب اور تقسیم کے سوالات پوچھے جاتے تو استاد جی کے بیٹے کو چار لکھنے کا کہا جاتا یا پھر اردو املاء میں ج یا ن لکھنے کو کہا جاتا. ایک دفعہ امتحان والے دن استاد جی نے صبح ہی سے اپنے بیٹے کو ب لکھنے پر لگا دیا تھا کہ انسپکٹر آپ سے ب پوچھے گا تو ب لکھ دینا. اس نے زمین کے اوپر ب لکھنا شروع کیا اور دو تین گھنٹے اس کے اوپر خوب محنت کی. دوپہر میں انسپکٹر صاب استاد جی کی کرسی پر براجمان ہوئے اور ایک ایک کرکے سب کو بلانے لگے. وہ لڑکے کو کوئی لفظ بولتا اور لڑکا وہ لفظ اس کی کرسی کے ساتھ نیچے بیٹھ کر زمین پر لکھ دیتا. جب استاد جی کے بیٹے کی باری آئی تو استاد جی نے انسپکٹر صاب سے کہا کہ “یہ میرا بیٹا ہے، تھوڑا کمزور ہے اس لئے اس کے ساتھ گزارہ کرو.” اور پھر استاد جی نے خود ہی اس کو ب لکھنے کا کہہ دیا. استاد جی کے بیٹے نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ب کو بغیر نقطہ تک مکمل کیا تو استاد جی نے جذباتی انداز میں کہا. “شاباش میرا پتر” تو اس کے بیٹے نے نقطہ نیچے کی بجائے اوپر کر دیا.
استاد جی نے انسپکٹر کے سامنے اس کی پھینٹی لگانی شروع کی اور تب تک چھترول کرتے رہے جب تک چاچی اندر سے برقعہ پہن کر نہ آئی.

اکتیس مارچ (لتیجہ)
اکتیس مارچ کو ہمارے امتحان کا نتیجہ ہوتا تھا لیکن ہم اس دن کو ناسمجھی کی وجہ سے لتیجہ کہتے تھے. جب چھوٹی کلاس میں تھے تو بڑی کلاس کے لڑکوں سے سنتے کہ اکتیس مارچ کو سکول میں سانپ چھوڑا جائے گا اور بہت سارے لڑکوں کو ڈس لے گا اور ہم اس بات پر اتنا یقین کر لیتے کہ نتیجہ والے دن سچ مچ سانپ کے چھوڑنے کا انتظار کرتے. بعد میں پتہ چلا کہ یہ تو پاس فیل کے لیے ایک ٹرم استعمال ہوتی ہے. نتیجہ کچھ یوں تھا کہ ہم تیسری جماعت کے سارے لڑکے اور لڑکیاں بشمول استاد جی کے بیٹے کے پاس ہو گئے تھے اور قصبہ کے اکلوتے پرائمری اسکول کے خواب دیکھنے شروع کر دیے تھے. سب خوش تھے لیکن دلشی کو کوئی خوشی نہیں تھی، جس کی مجھے کوئی خاص وجہ سمجھ نہیں آ رہی تھی.

استاد جی اس دن ہم تیسری کلاس والوں کو گلے لگا لگا کر رخصت کر رہے تھے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ہمارے آنسو نکل رہے تھے. استاد جی سے رخصت لینے کے بعد سب مسجد سے باہر نکلے تو میں نے دلشی کو کچے راستے کے ایک طرف افسردہ بیٹھے دیکھا. اس کا ابا ابھی تک اس کو لینے نہیں آیا تھا.
میں اس کے قریب گیا اور کہا کہ
“سب پاس ہو گئے ہیں، اب پرائمری اسکول میں اور بھی مزہ آئے گا. ہم بہت محنت کریں گے.”
اتنی بات کی کہ اس کے ابا دور سے آتے ہوئے نظر آئے اور وہ کھڑی ہو گئی. جاتے جاتے اس نے صرف اتنا کہا.
“میری تعلیم مکمل ہو گئی ہے، ابا جی کہتے ہیں کہ پرائمری اسکول بہت دور ہے اور ان کی صحت اجازت نہیں دیتی کہ وہ مجھے اسکول تک چھوڑ سکے اور ابا جی یہ بھی کہتے ہیں کہ بچیوں کا آگے پڑھنا ٹھیک نہیں.”

مجھے ایک لفظ کی بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی، اس کے ابا پہنچ چکے تھے اور دلشی تانگہ پر بیٹھ گئی تھی. اس کے ابا نے مجھے مسکرا کر دیکھا اور گھوڑے کو آگے بڑھا دیا. میں کافی دیر تک وہی بیٹھا رہا اور پھر بوجھل قدموں کے ساتھ گھر کی طرف چل پڑا.
مجھے پرائمری اسکول جانے کی کوئی خوشی نہیں ہو رہی تھی.

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *