• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اَپُّن کا کرانچی، نیم ذاتی اور نیم سرکاری یادیں۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط7

اَپُّن کا کرانچی، نیم ذاتی اور نیم سرکاری یادیں۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط7

جناح اسی جھیں ڑا کا Anglicized Version ہے۔گجراتی بوڑھے اس پر بھی صرار کرتے تھے کہ پونجا بھی ان کے والد کا نام نہ تھا۔یہ اصل لفظ پونجیا تھا بلکہ یہ بھی کام کے حوالے سے لقب تھا یعنی خزانچی جو ہندی لفظ پونجی سے نکلا ہے۔ان کے والد کا نام پاسپورٹ میں بھی درج نہیں اس لیے قطعی طور پر دستاویزی ثبوت کی فراہمی مشکل ہے۔

جناح کا پاسپورٹ

یہ گمان غالب ہے کہ ہمارے قائد کا گھرانہ کراچی اور ٹھٹھہ کے قیام میں آغاخان کے ساتھ جھرک ٹھٹھہ میں ہی مقیم رہا ہو اور وہاں سے وہ دیگر اسماعیلی گھرانوں کے ساتھ بہتر مواقع اور احساس عدم تحفظ کی وجہ سے بمبئی ہجرت کرگئے ہوں۔ آپ کو   یاد ہے نا کہ آغا خان اول نے جنگ میانی میں سندھیوں کے خلاف انگریزوں کی کھل کر امداد کی تھی جس کے عوض کراچی کا انتظام انہیں سونپے جانے کی قوی امید تھی۔اسی وجہ سے انگریزوں نے یہ دور اندیشی اور پیش بندی کی کہ انہوں نے کراچی پر قبضے کے خواہشمند آغا خان کو مزید کس طالع آزمائی سے باز رکھنے  کے لیے ان گھرانوں کو کراچی لاکر بسایا اور پھلنے پھولنے میں مدد کی جو ممبئی میں ان کی مخالفت میں پیش پیش   تھے۔ انہیں اسماعیلی مذہب اور جماعت سے خارج کردیا گیاتو یہ بے چارے واپس اسی اثنا عشری مذہب میں دوبارہ جا بسے جو قم ایران سے آغا  خان کی حمایت میں نکالے جانے کے وقت ہوا کرتا تھا۔ انگریزوں کا یہ طاقت کا توازن رکھنے کا دوررس انتظام تھا۔آپ کو  یہ جان کر بھی حیرت ہوگی کہ کراچی میں انگریزی طرز پر بننے والی مسلمانوں کی پہلی عمارت غلام محمد ڈوسل بلڈنگ تھی جو آج بھی زیب النسا  سٹریٹ پر موجود ہے اسی گھرانے کو انگریزوں نے حفظ ماتقدم کے طور پر اور بہت دور کی سوچ کر اسلحہ کی فروخت کا لائسنس بھی دیا تھا۔

غلام محمد ڈوسل بلڈنگ

حیرت ناک بات یہ ہے کہ آپ کو ان گھرانوں کا کراچی کی تاریخ اور سماجی زندگی اور نام و نمود کے حوالے سے بہت کم تذکرہ ملے گا۔ سن 1838 میں اس شہر کراچی کی آبادی صرف 14  ہزار نفوس پر مشتمل تھی جوپچاس برسوں کے دوران ان تجارتی گھرانوں کے پھیلتے ہوئے کاروبار کی وجہ سے ایک لاکھ پانچ ہزار تک جاپہنچی تھی۔1941 ء کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی قریباً تین لاکھ تھی۔ اس میں 51 فی صد ہندو اور43 فیصد مسلمان تھے۔سکھ، پارسی ، عیسائی  اور یہودی  اس کی باقی ماندہ آبادی تھے۔

یہ بات بہت دل چسپ اور سندھیوں کے لیے باعث مسرت ہوگی کہ 73 فی صد آبادی نے اس مردم شماری میں اپنی مادری زبان سندھی ظاہر کی تھی۔قیام پاکستان کے وقت بھارت کے بڑے شہروں دہلی،لکھنو،کلکتہ، جے پور ،حیدرآباد دکن بمبئی،بنگلور  کے مہاجرین نے کراچی میں آباد ہونا پسند کیا۔یہ مقامی آبادی سے تعلیم، ملازمتوں اور فن و ادب میں بہت آگے تھے اور ان میں یہ جذبہ بھی کوٹ کوٹ کر بھرا تھا کہ انہوں نے سندھ میں جن چیزوں  پر اپنا تسلط جمایا وہ پہلے بھی سندھ کے قدیم باشندوں کے  پاس نہ تھیں  ،یہ انہیں کلیم میں ملیں۔۔اس سے بھی بڑھ کر کمال لاہور کے برکیوں نے کیا یعنی عمران خان کے ننھیال والوں نے جن کے ایک جنرل صاحب ایوب خان کے مارشل لا میں بہت طاقتور پوزیشن پر تھے،  اپنی جالندھر کی زمینوں کا شہری  پراپرٹی ہونے کا نوٹفیکیشن لاہور کے بورڈ آف ریوینیو سے نکلوایا جب کہ زمینیں  اس وقت جالندھر بھارت کے دیہی علاقے میں شمار ہوتی تھیں۔۔۰(حوالہ عبدالحفیظ کاردار صاحب کی ڈنر ٹاک 1978 ڈاکٹر طفر الطاف کے گھر پر ایف/8 اسلام اباد) 1958 تک کراچی کے سب سے بڑے سندھی اسکول این جے وی ہائی اسکول میں کوئی ہیڈ ماسٹر سندھی مسلمان نہ تھا ۔1958 کے مارشل لا کے طفیل ایک پنجابی استاد بی کے شیخ جو بھٹو دور کے وزیر صحت نصیر شیخ کے والد تھے پہلی دفعہ یہاں کے مسلمان ہیڈ ماسٹر بنے، مگر ایک سال بعد یہاں جو ہندو  مسلم فسادات ہوئے تو بہت سے ہندو، سکھ گھرانے ہندوستان چلے گئے اور اسرائیل کے قیام کے بعد یہودی گھرانوں نے وہاں آباد ہونا بہتر جانا۔اس وقت کراچی میں ان کی آبادی پچیس سو افراد پر مشتمل تھی جو مراٹھی زبان بولتی تھی۔

بیسویں صدی کے آغاز پر ان لوگوں نے یہاں اپنا ایک معبد بھی بنایا تھا جس کا نامMagain Shalome Synagogue, تھا۔ یہ نشتر روڈ پر رامسوامی جنکشن کے سنگم پر واقع تھا۔کراچی کے نوجوان بیٹے جب بلدیہ پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہوگئے تو اس کی چائنا کٹنگ کرکے بعد میں اس کی تاریخی اہمیت کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا اور یہاں ایک کمرشل پلازہ کھڑا کردیا گیا۔ یہاں کی سٹی کونسل میں ان کا ایک نمائندہ بھی ہوتا تھا۔پاکستان میں ان کا دوسرا معبد پشاور میں   تھا۔پاکستان سے یہ یہودی پہلے بمبئی گئے جہاں انہیں Olim یعنی مہاجر کہا جاتا تھا۔مشہور صحافی اور تاجر اردشیر کاؤس جی کا کہنا تھا کہ کراچی میں اب بھی کچھ یہودی آباد ہیں وہ اپنی شناخت چھپاتے ہیں۔پاکستان کی ایک مشہور اور غیر معروف چینلوں پر اودھم مچانےبے باک اینکر خاتون کے بارے میں بھی زیر لب یہ افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں کہ اس معصومہ کی   والدہ میمن اور والد افریقہ سے تعلق رکھنے والے یہودی ہیں۔

کراچی کے یہودی

پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ جو مسلکاً  قادیانی اور قادیانیوں کے بہت بڑے سرپرست تھے۔کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں الجھانے کا الزام بھی انہی  کے سر دھرا جاتا ہے۔انہوں نے اپنے ذاتی اثر و رسوخ سے ایک قادیانی کلرک کو وزارت خارجہ سے پہلے گورنر جنرل سیکریٹریٹ میں پہنچادیا وہاں  وہ ترقی کرتے کرتے دفتری معاملا ت کے نگران بن گئے اور ساتھ ہی قائد اعظم مزار فنڈز کے سیاہ و سفید کا مالک اس عبدالوحید عبدالوحید سپر ان ٹینڈنٹ کو بنادیا۔اس عبدالوحید نے ایک اور شخص عبدالرحمن کو جو کٹر قادیانی تھا اسے ایک اہم قادیانی افسر کے توسط سے ایم ایم احمد آئی ۔سی ۔ ایس جو پلاننگ کمیشن کے سربراہ تھے مزار قائد کی تعمیر کا ٹھیکدار بنادیا۔ مزار کے ساتھ ہی نمائش کے علاقے میں انہوں نے شبینہ مارکیٹ بنوادی جسے بعد میں بدقت مسمار کرنا پڑا۔عبدالوحید کے قادیانیوں کے سربراہ مرزا ناصر احمد سے ایسے تعلقات تھے کہ حضرت ان کے پاس کراچی میں قیام کرتے تھے اور اس وجہ سے قادیانی فوجی افسر اور بیوروکریٹ عبدالوحید کا بہت احترام کرتے تھے اور شہاب صاحب بھی ایوان صدر کے سب سے اہم افسر ہونے کے باوجود مرزا عبدالوحید سے کنئ کتراتے تھے

دونوں نے مزار کی تعمیر کے وقت ایسی لوٹ مار مچائی کہ اورنج ٹرین اس کے آگے کھلونوں کی چھابڑی  لگے۔شاہ جہان کے تاج محل کی تعمیر کے بعد سب سے مہنگی بننے والی اس وقت کی عمارت مزار قائد ثابت ہوئی ۔ سول سروس کو بھٹو صاحب کے ساتھ مل کر برباد کرنے والے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ وقار احمد کو اسی قادیانی عبدالوحید نے جو وقار احمد کا سگا ماموں تھا اس وقت بھٹو صاحب کے حلقہ وفاداراں میں شامل کیا تھا جب ذوالفقار علی بھٹو گھنٹوں قدرت اللہ شہاب صاحب کے دفتر کے باہر کوئی چھوٹے موٹے وفد میں شامل ہونے کے بیٹھے رہا کرتے تھے۔۔ اس کا  ذکر آپ کو ایم بی خالد کی کتاب ایوان صدر میں سولہ سال میں ملتا ہے۔

سر ظفر اللہ خان سے اپنے مذاکرات کے بعد اسرائیل کے پہلے صدرChaim Weizmann نے حکومت پاکستان کو ان کی  ایما پر ایک خط لکھا تھا جس میں  درج تھا کہ ”آپ کا پاکستان اور ہماری چھوٹی سی ریاست اسرائیل دونوں کے مسائل تقریباً یکساں ہیں۔اس لحاظ سے ان دونوں کا  تعاون ایک دوسرے کے ممالک کے لیے بہت مددگار ثابت ہوگا“۔ سر ظفر اللہ خان  اس خط کے جواب میں ان سے نیویارک میں مل کر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بہت درپے تھے مگر ان کی یہ کوشش بار آور ثابت نہ ہوئی۔سرکاری سطح پر اسرائیل کی مخالفت وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں عروج پر تھی جس  کو بعد  میں  آنے والی حکومتوں نے بھی اپنی خارجہ پالیسی کا اہم نکتہ بنائے رکھا ،جس میں ایک دراڑ صدر مشر ف نے ڈالنے کی کوشش کی تھی جب انہوں نے اسرائیل کی مملکت کو تسلیم کرنے کا شوشہ چھوڑا تھا۔

جاری ہے۔

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 3 تبصرے برائے تحریر ”اَپُّن کا کرانچی، نیم ذاتی اور نیم سرکاری یادیں۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط7

  1. بہت پر از معلومات عوام الناس کی معلومات کیلئے ایک بہترین تحریر جیتے رھئے اکو بھائی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *