• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اَپُّن کا کرانچی، نیم ذاتی اور نیم سرکاری یادیں۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط6

اَپُّن کا کرانچی، نیم ذاتی اور نیم سرکاری یادیں۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط6

سندھ کے اکثر قوم پرست بشمول شدید مہاجر دشمن سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے حیدرآباد کے کمشنر مسرور حسن خان سی ایس پی سے شدید نفرت کرتے تھے۔
جھرک جو ٹھٹھہ کا علاقہ ہے وہ قیام پاکستان تک کراچی کا حصہ تھا لیکن 1967 میں جب مسرور حسن کمشنر بنے تو  ان قوم پرستوں نے یہ جھوٹا الزام ان کے سر تھوپ دیا  کہ وہ جناح صاحب کا تمام ریکارڈ جو ان کی جھرک میں پیدائش سے متعلق تھا، اٹھا کر کہیں تلف کرنے کے لیے لے گئے۔جو لوگ مہاجر سی ایس پی افسران سے واقف ہیں وہ ان کی علمیت اور قابلیت کی داد دیں گے مگر ان کی اکثریت بہت بزدل اور مصلحت پسند ہوتی تھی۔یہ ہمارے جیسے افسر کے لیے باور کرنا بہت مشکل ہے کہ مسرور حسن خان یا ان کے جیسا خاندانی شخص اس طرح کا کام کرے گا جس کا اس سے براہ راست کوئی مفاد وابستہ نہ ہو۔جناح صاحب کی جھرک یا کسی اور شہر میں پیدائش کے ریکارڈ کی ان کے انتقال کے بیس برس بعد تلفی کا انہیں کیا فائدہ پہنچ سکتا تھا۔ دار الحکومت منتقلی کے بعد اس شہر کی حیثیت اس کے اپنے باسی   افسروں اور حاکمین اور دیگر سول اور ماضی کے فوجی قائدین کےنزدیک ایک ایسے گھر کی ہوگئی ہے جسے اس لئے جلد از جلد لوٹ کر بھاگ جانا اچھا ہے کہ اس میں آگ لگ چکی ہے یہ اب محض ایک Cash  cow ہے جس کا گوشت دودھ اور آخر میں کھال تک کھینچ لو۔

اب آجائیں جناح صاحب اور ان کے دادا دھرمس جی پونجا اور والد جناح پونجا کے نام پر۔دھرمس جی کا نام آپ کو پہلی دفعہ اس مقدمے میں ملوث افراد کی فہرست میں ملتا ہے۔ جو سن1866 میں بمبئی ہائی کورٹ میں حاضر امام آغا خان اول کے خلاف سر جوزف آرنلڈ کی عدالت میں سنا گیا تھا۔ اس کیس کی مکمل روداد جو بے حد دل چسپ ہے آپ کو ٹینا پروہت کی کتاب THE AGA KHAN CASE میں پڑھنے کو ملتی  ہے۔

آغا خان کیس(کتاب کا نام)

 

 

 

 

 

 

 

 

 

یہ کتاب پی ڈی ایف میں نیٹ پر دستیاب ہے ویسے اسے ہارورڈ یونی ورسٹی نے چھاپا ہے جہاں ہردل عزیز موجودہ  امام چہارم کریم آغا خان جو آغا خان سوئم کے پوتے ہیں زیر تعلیم رہے ہیں۔ان کے والد پرنس علی خان کو امامت کا منصب نہیں دیا گیا تھا گو کہ وہ اپنے والد سر سلطان محمد آغا خان کی وفات پر بقید حیات تھے۔

پرنس علی خان اپنی اسپورٹس کار کے حادثے میں وفات سے چند یوم قبل ۔۔

جس طرح آغا خان کی مخالفت پر بار بھائی اترے ہوئے تھے اس طرح , ایک جانثار اسماعیل خراج شریف گانجی بھی تھے ۔ان کی سربراہی میں آغا خان کے حمائیتی افراد کا ایک گروپ ایسا تھا جسے پنجے بھائی یعنی brother in arms کہتے تھے ۔ یہ پانچ افراد کا ٹولہ تھا اور اس میں مکھی اللہ رکھیا سومار، کامڑیا کھاکی پدماسی کا شمار ہوتا ہے محترم اسماعیل خراج شریف گانجی صدر الدین گانجی کے دادا تھے۔صدرو بھائی گانجی کراچی میں شیرٹن ہوٹل کی فرنچائز لانے والے پہلے شخص تھے، انہیں جرمنی میں ہیروئن کی اسمگلنگ کرتے ہوئے ضیا الحق کے دور میں گرفتار کیا گیا تھا۔اس گرفتاری کے بعد سے وہ گوشہء گمنامی میں چلے گئےاور بعد میں کہیں دکھائی نہ دیے، ( شئیرٹن ہوٹل کی جگہ آج کل موون پک ہوٹل نے لے لی ہے)

آپ اگر گجراتی Lexicon (لغت اور لسانیات) سے واقف ہوں تو لفظ جناح ان کی ذات بھی نہیں بلکہ میمن گجراتی کلچر میں یہ شناخت کا اپنا سسٹم ہے کہ وہ علاقے، پیشے،یا شخصیت کے نمایاں جسمانی پہلو کو نام کا حصہ بنا لیتے ہیں جیسے گیگا( بچہ ) پردیسی، غریب،تیلی، انجینئر، فینسی،ٹیسٹی، برطانیہ کے ایک بڑے مالدار شخص لارڈ نوینت ڈھولکیا، (بڑے ڈھولک بجاتے تھے ) مڈل ایسٹ  میں سونی کی ایجنسی کے مالک مانو لال چھابڑیا (چھابڑی لگانے والے) ہیں جن کے بزرگ حیدرآباد کے ہندو سندھی ہیں اور سب سے بڑھ کر تو ہمارے اپنے ہر دل عزیز ،فرشتہ صفت مولانا عبدالستار ایدھی تھے جو اتنے ہی مولانا تھے جتنے بہن دی سری والے مولانا خادم انسانیت ہیں ۔ۂمارے مشفق کو دن میں دیر تک سونے اور رات کو فلمیں دیکھنے کا بہت شوق تھا اس لئے والدہ طیش میں آکر انہیں ایدھی(بمعنی کام چور) پکارتی تھیں ۔ماں کا یہ تاؤ کھاکر انہیں ایدھی کہہ کر پکارنا اور دوسروں کا انہیں احتراما” مولانا کہنا دو تضادات جوڑ کر ان کے نام کا حصہ بن گیا  کہ مولانا عبدالستار ایدھی حالانکہ دین سے وہ بہت پرے تھے اور کام چور تو ہرگز نہ تھے ہماری سرکاری فرائض کی انجام میں دونوں میاں بیوی سے ملاقات ہوتی تو ہم میمنی زبان میں مسز بلقیس ایدھی کو چھیڑتے تھے کہ  کس فضول آدمی سے شادی کی ہے کہ بیگم ایدھی کہلانا پڑے گا  یعنی ساری عمر کام چور کہلانا پڑے گا  وہ ہنستے ہوۓ کاندھے پر ہات رکھ کر کہتیں پاکستان کے سارے آفی سر تیرے ماپھک (مافق) سچ بولیں تو ملک جنت بن جاۓ بول تو تیرے کو جیا۔۔ الحق (ضیا الحق) کی بائیڑی (بیوی )کو کہہ کے سندھ کا گورنر لگوادوں۔۔ واضح رہے کہ یہ مارشل لا کے ایام تھے اور صوبوں کے گورنر خرانٹ وہیل مچھلی کھاکر ڈکار نہ لینے والے جرنیل ہوتے تھے مگر ان میمنوؔ ں کو کون سمجھاۓ۔۔

ہمارے محبوب رہنما کے خاندان کے اکثر افراد چونکہ بہت دبلے پتلے ہوتے تھے لہذا جناح کا نام ان کے قد کاٹھ کے حوالے سے ہے۔لفظ جھیں ڑا(ن اور ڑ کو ملا کر بولا جاتا ہے) گجراتی میں نازک اور دبلے پتلے شخص کو جھیں ڑا کہتے ہیں ‎۔آسان اردو میں آپ اسے منحنی اور انگریزی میں اسے Pencil Thin یا Minuscule پکارلیں تو گجراتی آپ کو درست مان لیں گے۔ یہ لفظ جھیں ڑا انگریزی زبان کے ڈیٹر جینٹ سے دھل دھلا  کر   نرم و نازک اور سماعت کے لئے JINNAH بن کر قابل قبول بن گیا

۔۔یہ بہت اچھا ہوا۔ذرا سوچیے وہ ملی ترانہ ع ملت کا پاسباں۔۔ محمد علی جھیں ڑا اچھا لگے گا یا ملت کا پاسباں محمد علی جناح ہمارا۔۔

ہمارے سکول کے ایک استاد کا نام محمود گھانسلیٹ تھا۔گھانسلیٹ میمنی گجراتی میں مٹی کے تیل کو کہتے ہیں۔۔ اسی طرح کراچی میں فیڈرل بی ایریا کے ایک ٹھیکدار رفیق کو جس کے بڑوں کی بینائی کمزور تھی، اس کے پورے گھرانے کواندھا فیملی اور حضرت کو ان کے منہ  پر ہی رفیق اندھاکہا جاتا تھا۔

ان سب حضرات کو اور ان کے اہل خانہ کو اس طرح کی شناخت پر   کوئی اعتراض نہ تھا ۔پنجابیوں ،سندھیوں میں بھی یہ سسٹم رائج ہے اسی لیے آپ کو گجر،چوہدری، ملاح،ماچھی(مچھیرے)مل جاتے ہیں۔خود ہمارے بڑوں نے کبھی نواب جونا گڑھ کی ملازمت کی تھی۔پرنانا وزیر تجارت تھے اور دادا آئی جی، سو ہمارا گھرانہ اس سرکاری ملازمت کی تہمت کی وجہ سے دیوان اور ننھیال چونکہ  جاگیر دار تھا لہذا وہ پٹیل کہلاتے ہیں۔

جاری ہے۔۔

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *