• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اَپُّن کا کرانچی، نیم ذاتی اور نیم سرکاری یادیں۔۔۔محمد اقبال دیوان۔قسط5

اَپُّن کا کرانچی، نیم ذاتی اور نیم سرکاری یادیں۔۔۔محمد اقبال دیوان۔قسط5

کراچی کے پرانے باشندے!
اس نکتے کے او پر ذرا غور فرمائیں کہ کراچی کے انیسویں صدی کے وسط یعنی 1838 میں یہاں باہر سے آن کے آباد ہونے والے اہم باشندے کون تھے تو اس میں آپ کو کسی اہم سندھی گھرانے کی بجائے یہاں تین اہم گجراتی گھرانوں کا نام سننے میں آتا تھا ۔کراچی انگریزوں سے پہلے  اہل سندھ کے لیے ایک دور دراز کی بستی تھی۔ سندھ کے چند بڑے خاندان یہان سولجربازار اور گرومندر ،کلفٹن آباد تھے یا ملیر سے پرے چند سندھی گوٹھ میں اور لیاری میں چند سندھی گھرانے ضرور آباد تھے۔یہ فکر سن 1972 تک غالب رہی۔ میجر جنرل چارلس نئیپر کی سندھ کی فتح تک سندھ میں شہر حیدرآباد کو مرکزیت حاصل تھی۔ جب پہلی مرتبہ قیام پاکستان کے بعد یہاں اصلی سندھی حکومت پیپلز پارٹی کے دور اول میں ممتاز بھٹو چیف منسٹر اور رسول بخش ٹالپر گورنر سندھ نے اپنے عہدے سنبھالے۔ ایوب کھوڑو ایک ایک سال کے لیے تین دفعہ چیف منسٹر ضرور بنے مگر  طاقتور بیوروکریسی کے سامنے وہ بہت غیر موثر تھے، سندھ کی فتح کے بعد یہاں آنے والے اہم افراد کے گھرانے وہ تھے جو ابتدا میں آغا خان کے ساتھ ایران سے آنے والے اسماعیلی مذہب کے لوگ تھے ،لیکن ایک مقدمہ کے سلسلے میں اسماعیلی جماعت سے نکالے جانے کی وجہ سے سے دوبارہ شیعہ بارہ امامی مذہب پر لوٹ گئے تھے۔ ان میں حاجی غلام محمد ڈوسل اینڈ سنز،ایک فوجی ٹھیکیدار خاندان محمد علی بھائی، اور محمد علی  بھائی کریم جی ہوکنا جو ٹرانسپورٹر تھے ان کا نام سننے میں آتا ہے۔ ان کے علاوہ یک پارسی خاندان ٹی۔کوسر اینڈ کمپنی بھی یہاں آن پہنچا تھا۔ جن کا انجینئرنگ اور گوداموں کا بڑا کاروبار تھا۔

کراچی سے ڈیڑھ سو کلو میٹر دور جھرک کی بستی ہے ۔ یہ ٹھٹھہ کا ساحلی علاقہ ہے ۔اسمعیلی احتیاطاً  بلوچوں کے خوف سے اس علاقے میں آباد ہوۓ کہ حملے کی صورت میں بھاگ نکلنا آسان ہو،آغا خان اور ان کے اسماعیلی پیروکار جنگ میانی میں انگریزوں کا ساتھ دے کر بلوچوں اور مقامی آبادی کے انتقام کے اندیشوں سے خوف زدہ بھی تھے اور کراچی کی بحرین کے طرز پر عملداری نہ  ملنے پر شدید ناخوش بھی ۔جلد ہی انگریز انہیں مختلف مراعات سے لیس کرکے ممبئی لے گئے۔۔وہاں ان کی ایسی سرپرستی کی کہ ؤہ آج تک یورپ میں بھی جاری و ساری  ہے، ممبئی منتقلی کے بعد وہاں ایک پرانے گروپ نے حبیب رحمت اللہ کی سربراہی میں آغا خان کی مخالفت پر کمر کس لی۔ہر اسماعیلی لازماً اپنی آمدنی کا دس فیصد حاضر امام کی نذر کرتا ہے دل چسپی کی بات یہ ہے کہ یہ تحفے میں ملنے والی رقم پر بھی لاگو ہوتا ہے اور چھوٹے بچے بھی عقیدتاً  یہ رقم جسے دسوند (انگریزی میں tithe)کہتے ہیں۔ یہ رقم تحفہ  ملتے ہی مقرر کردہ اکاونٹ میں جمع کردیتے ہیں، یہ گروپ اس رقم کی ادائیگی سے انکاری تھا۔

اَپُّن کا کرانچی، نیم ذاتی اور نیم سرکاری یادیں۔۔۔محمد اقبال دیوان۔قسط4
انہی  میں محمد علی جناح کے دادا اور والد بھی شامل تھے۔حبیب فیملی اور مصطفے گوکل کا خاندان بھی شامل تھا۔ اس حزب اختلاف کے سربراہ ابراہیم حبیب تھے۔اس گروپ کو بار بھائی کی کھیتی (یعنی بارہ بھائی کا ٹولہ کہا جاتا ہے۔ گجراتی میں ساجھے کے کاروبار کو حقارتاً بارہ بھائی کی کھیتی کہتے ہیں۔ان کا مطالبہ تھا کہ جماعت خانے کی آمدنی پر آغا خان فیملی کا قبضہ نہیں ہونا چاہیے۔ہم نے کوشش کی کہ ان گھرانوں کی تصاویر کہیں سے مل جائیں مگر یہ دستیاب نہیں ہوپائیں۔اگر کوئی قاری نیٹ  یا  کسی کتاب سے  یہ تصاویر ڈھونڈ نکال کر بھیجیں تو یہ دل چسپی کا باعث ہوگا۔

عام قاری کے لیے یہ تین نکات یقیناً  دلچسپی کا باعث ہوں گے  کہ اسماعیلی، گجراتی اور سندھ کے قدیم گھرانے اس بات پر متفق ہیں کہ محمد علی جناح کراچی میں  نہیں بلکہ جھرک میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ بات الگ ہے کہ تعلیم کے سلسلے میں وہ کراچی میں وزیر مینش آگئے ہوں۔

وزیر منشن

ہمیں تحقیق پر ان کے اسکول کے ہم جماعتوں کا بھی کوئی حوالہ نہ ملا۔

Quaid-e-Azam Jinnah: The Story of a Nation. ایک دل چسپ کتاب ہے جو محمد علی جناح کے دیرینہ دوست غلام علی الانا نے لکھی تھی۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ رئیس امروہوی نے کیا۔ دونوں زبانوں   میں اسے فیروز سنز لاہور نے چھاپا تھا۔   اس کتاب کی روشنی میں جناح صاحب کی    تین مختلف تاریخ پیدائش  درج ہیں ۔وہ پہلی دفعہ اسکول میں داخل ہوئے تو
4, جولائی1887 کی تاریخ اور سن تھا۔ ان کی تعلیم چار جماعت گجراتی بتائی گئی عمر 14 برس اور داخلہ فیس ادا نہیں کی گئی تھی۔ تاریخ پیدائش درج نہیں۔اگلی مرتبہ سندھ مدرسے میں داخلے کے وقت ان کی تاریخ پیدائش 20th , اکتوبر1876, درج کی گئی۔ اسکول رجسٹر میں شمار نمبر 178 کے حوالے سے وہ چھ جماعت یعنی فرسٹ اسٹنیڈرڈ پاس ہیں لیکن یہ ساری تعلیم انجمن اسلام ممبئی کی ہے۔ تیسری مرتبہ اسکول میں یہی تاریخ پیدائش درج کی گئی ہے لیکن اب کی دفعہ انہیں چوتھی اسٹینڈرڈ پاس یعنی آٹھویں جماعت کا طالب علم بتایا گیا۔ایک اور کتاب
Mohammad Ali Jinnah an Ambassador of Unity: His Speeches & Writings 1912-1917, h جو مشہور ہندوستانی شخصیت اور جناح صاحب کی مداح سروجنی نائیڈو نے لکھی ہے اس میں یہ تاریخ 25 دسمبر ،سن 1875 درج ہے جو جناح صاحب کے پاسپورٹ پر بھی درج ہے  1875 یہ سندھ مدرستہ الاسلام کے داخلہ رجسٹر سے ایک سال پیچھے کا سال ہے۔جناح صاحب کی خدمات اپنی جگہ مسلم اور منفرد ہیں مگر تحقیق مزید ریکارڈ کی درستگی کے لئے لازم ہے.ایک عام قاری،پاکستان کی ابتدائی تارٖیخ میں دل چسپی رکھنے والے افراد کے لیے دو امور بہت کھوج کے طلب گار ہیں کہ ایک ہی اسکول میں وہ تین دفعہ کیوں داخل کئے گئے وہ بھی مختلف تعلیمی ریکارڈ کی بنیاد پر، دوسری اس مدت میں ان کے ہم مکتب کون تھے اس حوالے سے ڈوسل الانا اور کاوسجی گھرانوں کی اور سندھ آرکائیوز کی مدد لی جاسکتی ہے یعنی 1876۔ سندھی ادبی بورڈ نے 1950 کی دہائی میں ایک کتاب معاشرتی علوم میں رائج کر رکھی تھی جو چھٹی اور ساتویں جماعت کے بچوں کو پڑھائی جاتی تھی۔

اس کے مصنف ڈاکٹر عمر بن عبدالعزیز تھے۔اس میں جناح صاحب کی جائے پیدائش جھرک بتائی گئی ہے۔یہ کتاب ان کے  والد کا نام جناح بھائی پونجا بتاتی ہے۔ وہ میٹرک کے بعد ان کے  بیرسٹر بننے کے لیے برطانیہ جانے کا احوال بھی دیتی ہے۔ کتاب میں دو غیر معروف حقائق بھی درج  ہیں، یہ کہ وہ ایک غریب تاجر کے بیٹے تھے، دوسرے کسی سیٹھ نور محمد لالن سے ان کے گھرانے نے تین ہزار روپے ادھار لے کر انہیں انگلستان قانون کی تعلیم کے لیے بھیجا تھا

جاری ہے۔۔۔

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *