مشعال خان آوٹ آف ٹرینڈ موضوع

مشعال خان قتل کیس میں پولیس کے ہاتھ ایک نئی وڈیو لگی ہے جس میں کچھ لوگ ا ن کو قتل کرنے کے بعد قرآن پر حلف لے رہے ہیں کہ پولیس کو کسی کا بھی نام نہیں بتایا جائے گا۔ پولیس کے مطابق ان افراد کی شناخت کی جارہی ہے جبکہ پہلے سے موجود وڈیوز کی بناء پر مزید پانچ افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جس کے بعد گرفتار ہونے والے افراد کی تعداد 29 ہوگئی ہے ۔ انسپکٹرجنرل آف پولیس خیبر پختونخوا صلاح الدین خان محسود کا کہنا تھا کہ اب تک ہر پہلو سے تفتیش کی جارہی ہے مگر مشعال خان اور ان کے دوستو پر لگائے جانے والے الزامات بالکل بےبنیاد ثابت ہوئے ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ صرف اور صرف یونیورسٹی انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے حالات خراب ہوئے جنہوں نے بنا تفتیش اور تصدیق کیے مشعال خان، زبیر اور عبداللہ کو دو سٹوڈنٹس کی شکایت پر نوٹیفکیشن جاری کردیے جس سے باقی سٹوڈنٹس میں بات پھیلی اور کچھ لوگوں کی جانب سے ان نوٹیفکیشنز کی بنیاد پر اشتعال انگیز تقاریر کی گئیں جن میں مشعال اور ان کے دوستو کو گستاخ رسول ڈکلیئر کردیا گیا ۔یونیورسٹی انتظامیہ کی جناب سے انکوائری کمیٹی بنادی گئی۔یہ انکوائری مشعال خان کے قتل سے چند گھنٹے قبل شروع ہوئی ،یونیورسٹی انتظامیہ کی دوسری بڑی غلطی پولیس اور دیگر افسران کو مطلع نہ کرنا تھا۔۔۔۔
یونیورسٹی اپنے طور سے سب کچھ کررہی تھی۔ عبداللہ نے اپنے سمیت اپنے دیگر دوساتھیوں پر بھی الزام کا انکار کیا مگر عبداللہ کو مکمل صفائی کا موقع نہ مل سکا کیونکہ ہنگامہ آرائی شروع ہوچکی تھی اور معاملہ یونیورسٹی کے کنٹرول سے نکل چکا تھا۔میری ذاتی رائے میں پولیس کا اس کیس میں کردار انتہائی شاندار رہا ہے اورہر گزرتے دن کیساتھ درست سمت میں پیشرفت ہو رہی ہے اور اچھی اطلاعات آرہی ہیں مگر افسوس سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کی اب اس کیس میں دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے تمام لکھنے والوں نے قتل کے دوسرے تیسرے دن اپنے قلم کا لوہا منوایا ،واہ واہ سمیٹی، لائیکس اور شیئرز اکٹھے کیے ، اپنے لکھنے والے ساتھوں سے مباکبادیں وصول کیں اور اپنی پرانی ڈگر پہ واپس چلے گئے ۔ کیونکہ اب مشعال کیس آوٹ آف ٹرینڈ ہوگیا ہے اب کسی اور نئے موضوع پہ لکھنا ہے ۔۔۔۔۔ نہیں صاحب ہم تو لکھیں گے اور لکھتے چلے جائیں گے جب تک انصاف نہیں مل جاتا ورنہ مشعال کیس واقعی ایک ٹرینڈ ہی بن کر رہ جائے گاجو شروع ہوا تھا اور چند دن بعد ختم ہوگیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *