اگر سمندر بھی روشنائی بن جاتے۔۔۔محمد اقبال دیوان

پچھلے برس قبل ایک کتاب ہاتھ لگ گئی اور پھر یوں ہوا کہ ۔۔۔
؎جانے یہ کون میری روح کو چھو کر گزرا
اک قیامت ہوئی بیدار خدا خیر کرے!

کچھ کتابیں آپ کو اپنے نام سے ہی گرفت میں لے لیتی ہیں سو یہاں بھی وہی معاملہ ہوا کہ ہمارے مطالعے میں IF OCEANS WERE INK نامی کتاب آگئی۔جانو کہ ایک حادثہ تھا جو پیار کا عنوان بن گیا۔

if ocean were ink,book title

کتاب کا نام دراصل اس علمی دلیل سے ہے جوسورۃ ال کہف کی آیات نمبر 109 میں ہمارے نبی محمد ﷺ کو کفار کو قائل کرنے کے لیے سکھائی گئی ہے کہ  “کہہ دیجیے کہ اگر میرے رب کے اوصاف بیان کرنے کے لیے سمند ر روشنائی بن جاتا تو اس سے پہلے کہ میرے رّب کے اوصاف کا بیان ختم ہوتا سمندر ختم ہوجاتااگرچہ ایک وہ اس میں ایک اور سمندر کا اضافہ کردیتے۔“

کارلا پاؤر کی اس کتاب کے بارے میں امریکہ کے مقتدر حلقوں کا ترجمان اخبار واشنگٹن پوسٹ اپنے ایک مضمون میں اصرار کرتا ہے کہ یہ امریکہ کی اس غالب اکثریت کے لیے لازمی کتاب ہے  جو اسلام سے قدرے ناواقف ہے۔امریکہ میں ہی ٹائم میگزین کی ایرانی نژاد رپورٹر آزادے معاونی جو ایرانی نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر شریں عبادی کی شریک قلم کار بھی رہی ہیں اور جن کی کتاب Lipstick  Jehad پچھلے دنوں خاصی مشہور بھی ہوئی۔

ڈاکٹر شیریں عبادی
لپ اسٹک جہاد

ان کی رائے ہے کہ جس   چاؤ، رکھ رکھاؤ سے یہ مکالمہ قرآن فہمی میں مدد کرتا ہے وہ اس کتاب کو مطالعے کے لیے ناگزیر بنادیتا ہے۔ انہی  کی مانند مشہور ہندوستانی صحافی فرید ذکریا کہتے ہیں کہ وہ تمام مغربی ا ذہان جو ہر وقت اسلام کو جنگ،امن،یہودی، غیر مسلم،عورت، مرد کے تناظر میں الجھاؤ کی نظر سے دیکھتے ہیں انہیں یہ دو خوش دل دوستوں کا مکالمہ دنیا میں ہونے والے واقعات کو سمجھنے کے لیے ذہانت، کشادہ دلی اور انکشافات سے لبریز دکھائی دے گا۔

یہ دو دوست کون ہیں؟
اس میں پہلا نام تو کتاب کی مصنفہ کارلا پاؤر کا ہے۔ ایک برطانوی شوہر کی بیوی، دو بچوں کی والدہ اور امریکی شہری ہیں۔ ان کی اپنی والدہ یہودی اور والد عیسائی تھے۔ پیشہ کے اعتبار سے سکہ بند صحافی ہیں۔ نیوزویک اور ٹائم میگزین جیسے رسائل سے وابستہ رہی ہیں اور افغانستان، ایران، ہندوستان،مصر میں تا دیر قیام  کے دوران  ایشیائی،مسلم اور افریقن معاشروں کے افراد اور سماج کا بڑا خصوصی فہم انہوں نے سمیٹا ہے ۔دیگر ممالک کی باخبر پیشہ ورانہ سیاحت نے انہیں ایک ایسی ذات باصفات بنا دیا ہے کہ وہ اپنے مضامین پر بڑی مضبوط اور مربوط گرفت رکھتی ہیں۔

آئیے آپ کو دوسرے دوست سے متعارف کراتے ہیں۔ یہ بھارتی نژاد مسلمان مولانا اکرم ندوی ہیں۔آپ کو یہ جان کر یقیناً  اس بات پر  حیرت ہوگی کہ آپ نے اب تک ان کا نام کیوں نہیں سنا جب کہ ان کے پائے کا کوئی عالم اس وقت دنیائے اسلام میں شاید کوئی اور موجود نہیں۔ مولانا ندوی کی شخصیت یوں بہت منفرد ہے کہ حضرت جون پور بھارت کے مدرسے سے پڑھ کر دار العلوم ندوۃ پہنچے۔یہ مدرسہ مولانا حضرت محمد علی منگیری نے سن 1894 نے لکھنو میں قائم کیا تھا۔وہاں سے اسلامی سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد لکھنوء یونی ورسٹی سے عربی میں پی۔ ایچ۔ ڈی کی، پھر جامعہ الازہر اور بالآخر آکسفورڈ کے اسلامی ریسرچ سینٹر جاپہنچے۔

کارلا پاؤر،مولانا اکرم ندوی

عالی مقام ندوی صاحب کو دنیا بھر میں مستند ترین محدث یعنی احادیث کا راوی مانا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ علم الرجال پر وہ ایک سند کا درجہ رکھتے ہیں۔ دینی علوم میں علم الرجال حدیث بیان کرنے والے افراد کا درست حوالہ دینے کا علم کہلاتاہے۔مولانا ندوی کی ذہانت، ذکاوت اور یاداشت کا یہ عالم ہے کہ وہ راوی کی شناخت حدیث کے آخری راوی تک کرسکتے ہیں اس معاملے میں سب سے چھوٹی اور مضبوط ترین سند جو امام اسمعیل بخاری تک پہنچتی ہے وہ بھی کم از کم 14 راویوں پر مشتمل ہے۔


وہ تقریباً 25 کتب کے مصنف ہیں۔ ان ہی کتب میں ان خواتین جلیلہ کی وہ شہرہ آفاق سوانح عمری بھی شامل ہے جو احادیث کو روایت کرتی رہی تھیں ۔یہ57 جلدوں پر مشتمل ہے ۔عربی زبان میں تحریر اس کتاب کا انگریزی میں ترجمہ”محدثات “ کے نام سے ہوا ہے۔

محدثات(کتاب کا نام)

ان کی اس تحقیق پر مغرب اور اسلام کے مشرقی حلقے سبھی  چونک کر رہ گئے۔ اس کتاب کی وجہ سے ان کے تعصبات پر کاری  ضرب  پڑی۔ ان سب کی یہ خام خیالی تھی کہ اسلام کی ترویج  میں خواتین کا کوئی قابل ذکر حصہ نہیں۔
کارلا پاؤر اور مولانا اکرم ندوی کی سی دو ہستیاں جنہیں آپ لیموں اور شہد سمجھ لیں۔ یہ دونوں ہستیاں کیسے اور کہاں ملیں کہ IF OCEANS WERE INK ایسی علم افروز کتاب دنیا کے سامنے آئی۔

ہوا یوں کہ میکسکو میں کارلا پاؤر کے والد کو جو وہاں یونی ورسٹی میں قانون کے پروفیسر تھے انہیں کچھ بدمعاشوں نے mistaken identity کی بنیاد پر سن 1993 میں قتل کردیا تھا۔کارلا کو اس کا بہت دکھ تھا۔دل گرفتہ کارلا کی ملاقات اپنے ایک رفیق کار مولانا محمد اکرم ندوی سے ہوئی۔ یہ ان کے ساتھ جنوبی ایشیا میں اسلام کے پھیلاؤ پر آکسفورڈ یونی ورسٹی میں ایک ریسرچ پروجیکٹ میں ان سے پہلے شرف ملاقات حاصل کرچکی تھیں۔تسلی و تشفی کے کلمات کے دوران ہی مولانا ندوی نے انہیں علامہ اقبال کی نظم والدہ مرحومہ کی یاد میں، کے کچھ حصے سنائے تو انہیں لگا کہ یہی جذبات ان کے اپنے دل کی آواز بھی ہیں۔ کارلا پاؤر کے دل ِ شکستہ کو مولانا کے اس نظم کے پڑھنے اور سمجھانے سے یک گونہ سکون ملا۔ دونوں میں ایک علمی تعلق تو قائم ہوا مگر اس میں دو دہائی یعنی پورے بیس سال کی خلیج تھی۔

مولانا ندوی بدستور آکسفورڈ میں قیام پذیر تھے اسی پرانے ادارے سے وابستہ۔اس دوران 9/11کا فتنہ بھی منظر عام پر آچکا تھا کارلا پاؤر کے دل میں اللہ نے یہ خیال ڈالا کہ سترہ سال سے وہ ایسے واقعات اور حادثات کی شہ سرخیاں بنارہی ہیں جن میں ہر بات کی تان قرآن اور اسلام پر ٹوٹتی ہے۔انہیں اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ یہ قرآن آخر کیوں ان سب واقعات اور جرائم میں مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔کیوں نہ وہ شہ سرخیوں سے دو قدم پیچھے ہٹ کر اس مقدس تحریر کا خود مطالعہ کریں، انہوں نے سوچا کہ وہ اگر اس طاقت ور اور مقدس پیغام کو نظر انداز کرتی ہیں تو یہ بالکل ایسا ہی ہوگا کہ جیسے مغربی لٹریچر کا پڑھنے والا ہومر اور ہیملیٹ کو نظر انداز کرے۔

کارلا پاؤر نے جن ابتدائی سوالات سے اس سلسلہ تعلم کا آغاز کیا ان میں ایک یہ بھی تھا  کہ کیا مدینہ اسلامی ریاست تھی؟۔۔۔ مولانا ندوی وہ واحد دلیر اور فہیم عالم دین تھے جو فرمانے لگے کہ ہرگز نہیں۔یہ انتہائی غلط تصور ہے جو عام ہوگیا ہے۔ نبی کریمﷺ نے مکہ بادل ناخواستہ اس لیے چھوڑا تھا کہ دشمن آپ کو دین کے کام سے روک رہے تھے۔وہ ایک علاقے اور ریاست کی  تلاش میں وہاں نہیں گئے تھے۔ندوی صاحب کا خیال ہے کہ دنیا میں ہمارا قیام عارضی ہے جب کہ اسلام اس سے بہت بڑا تقاضا ہے، اسے وقتی دنیاوی حصول میں گنوانا اس دین کی روحء اساس سے بغاوت ہے بلکہ اسے اخلاق، کردار، خود احتسابی اور ادنیٰ و اعلیٰ کی انسانی تقسیم سے بڑھ کر تقویٰ اور جد و جہد کے لیے مشعل راہ بنانا چاہیے۔

مولانا ندوی سے جب کتاب کی مصنفہ کی ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ حضرت نے نا  صرف ژان پال ساترے اور ارسطو جیسے جدید اور قدیم فلسفیوں کا دار العلوم ندوۃ میں اپنے نصاب میں مطالعہ کررکھا ہے بلکہ اردو، فارسی، کلاسیکی عربی، ہندی، اردو اور انگریزی کے بھی شناور ہیں۔

ایک اور بات جس نے انہیں مولانا اکرم ندوی کو اپنا شیخ اور درس قرآن کے لیے استاد بنانے کی جانب راغب کیا وہ ان کا خواتین کے بارے میں مختلف طرز عمل اور رائے تھی ۔چھ عدد صاحب زادیوں کے والد ہونے کے ناطے اور دین کی اس قدر سمجھ بوجھ رکھنے کے باوجود وہ عام طور پر مذہبی افراد اور علماء کی نسبت بہت کشادہ دل اور باعزت طرز عمل کے مالک تھے۔ اس کتاب میں اس کا اجمالی ذکر ان کے چند ابواب میں شامل ہے۔یہ ابواب ان اعلی کردار خواتین کی علمی اور دینی خدمات کے بارے میں ہیں جن سے نہ صرف مغرب ناواقف ہے بلکہ اپنی اس ناواقفیت کو اپنا تفاخر اور نقطہء تضحیک بنا کر اسلام کو ایک پس ماندہ اور طرز بود و باش کے جدید تقاضوں سے ناآشنا خواتین پر ظلم کرنے والا دین ظاہر کرتا ہے۔

مصنفہ کے علم میں یہ بات تھی کہ مولانا اکرم ندوی نے پندرہ سال پہلے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے بارے میں انہیں بتایا تھا کہ ان سے 2,210 احادیث کا تحفظ اور روایت منسوب ہے اور وہ اس کو سامنے رکھ کر ایک پمفلٹ لکھ رہے ہیں جو مسلم خواتین کی علم دوستی اور علم کے فروغ کا بیان ہوگا۔مولانا ندوی کو اس وقت یہ محدود سا گمان تھا کہ یہ سارا تذکرہ ایک پمفلٹ میں باآسانی سما جائے گا۔

تحقیق کا آغاز ہوا تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ پچھلے 1,400 سال میں 9,000 کے قریب ایسی خواتین موجود رہی ہیں جو نہ صرف احادیث کی ترویح اور فتاویٰ کے اجرا میں مصروف رہیں بلکہ وہ کئی مسلمان خلفاء کی مجالس شوریٰ کا بھی حصہ رہی ہیں ان میں چند جلیل القدر خواتین تو ایسی تھیں کہ مدینہ منورہ میں انہی میں سے ایک خاتون تو مسجد نبوی میں جو درس دیتی تھیں اس میں حج پر آنے والے علماء اور عمائدین بھی استفادہ حاصل کرنے کے لیے شریک ہوتے تھے۔
یہ نیک اور باعلم خواتین علم کے فروغ کے لیے دور دراز کا ان دشوار دنوں میں سفر بھی کرتی تھیں۔ مولانا ندوی ان احادیث اور فتاویٰ کی روایت کو خواتین کے حوالے سے اس لیے مستند مانتے ہیں کہ ان خواتین پر بیرونی دباؤ اور انتشار خیال کا غلبہ بہت کم ہوتا تھا اور یوں بھی روایت کی صحت یاداشت کی بنا پر خواتین کے ہاں بہتر تسلیم کی جاتی ہے ۔اب یہ Biographic Dictionary جسے” ال محدثات“کا نام دیا گیا ہے۔ان کی یہ تصنیف جسے آپ بلا شبہ magnum opus (کسی عالم یا فنکار کا وہ شہ پارہ جو اس کا بہترین کام تصور کیا جائے) کا درجہ دے سکتے ہیں۔یہ اب 57 جلدوں تک جاپہنچی ہے۔
زیر بحث کتاب IF OCEANS WERE INKکا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ دو ستوں کی ایک ایسی صبر آزما، انقلابی کاوش ہے جس میں دو مختلف مذاہب کے ماننے والے اپنے اپنے عقیدے کا ایک دوسرے کی نظر سے جائزہ لیتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ان تعصبات اور غلط فہمیوں کا بھی ادراک فراہم کرتے ہیں جو ایک عالم میں چند خاص واقعات اور شخصیات کی وجہ سے نفرت اور تشدد کی بنیاد بنیں۔اس پورے عمل میں وہ کھلے دل اور دماغ سے،نرم لہجے اور باعلم طریقے سے ان تعصبات کو ایک ایسی آپ بیتی میں بدل لیتے ہیں جو آپ کو نہ صرف دھیمے دھیمے نیند کی مانند اپنی آغوش میں سمیٹ لیتی ہے۔

ٍ ان کے پہلے درس کا آغاز بھی بہت دل چسپ اور معنی آفریں ہے۔Nosebag Resturant جو شیخ اکرم کے دفتر کے نزدیک تھا۔مولانا ندوی کی وہاں کارلا پاؤر کے ساتھ سال بھر لنچ کے وقفے میں یہ تدریسی نشستیں جاری رہیں۔مولانا نے اسے ناپسند کیا کہ آکسفورڈ یونی ورسٹی میں جہاں وہ تنخواہ دار ملازم تھے۔اس کے اوقات کو ایک غیر طالب علم شخصیت کے لیے وقف کریں۔ امانت منصب کی کسوٹی پر کردار کی اس عظمت کو کارلا بی بی نے عین اسوہ رسول اکرمﷺ کی پیروی سمجھا۔
اسی ملاقات میں کارلا پاؤر صاحبہ نے ڈرتے ڈرتے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ قرآن الکریم کے نسخے موجود ہوتے ہوئے بھی کبھی انہوں نے سنجیدگی سے اس کا مطالعہ نہیں کیا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ اعتراف شاید شیخ کو گراں گزرے گا مگر وہ مسکرا کر کہنے لگے ”یہ تو کوئی ایسی انوکھی بات نہیں مسلمانوں کی ایک غالب اکثریت بھی یہی کچھ کرتی ہے۔ اکثر مسلمان قرآن کو پڑھتے ضرور ہیں لیکن ان کی غالب اکثریت ایسی ہے کہ وہ اسے سمجھتی بہت کم ہے اور اس پر عمل کرنے والے تو نایاب ہیں۔ یہ ان کے لیے اجنبی صحیفہ ہے۔
اس انکشاف کو سن کر کارلا پاؤر کو لگا کہ یہ بہت ہی اچنبھے کی بات ہے ان کا خیال تھا کہ وہ جو بے شمار حفاظ ہیں۔جنہیں قرآن الکریم ایسے یاد ہے کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک کتاب کو آپ دن رات ازبر سناتے ہوں مگر اس کا بالکل فہم نہ رکھتے ہوں گے۔(ہم ایک ایسے حافظ دین دار اور خوش اطوار سے ملے جوان دنوں ہل ہل کر تراویح میں پڑھنے کے لیے ہمارے دفتر کے کونے میں بیٹھ کر قرآن دہراتے ہیں۔ہم نے پوچھا کہ اقرا کا کیا مطلب ہے، پہلی وحی کون سی تھی، کون سی سورۃ بغیر بسم اللہ کے شروع ہوتی ہے اور کیوں تو حضرت نے    اپنے   سالانہ فریضے کی مشق کے لیے ٹھکانہ بدل لیا)۔شیخ اکرم کہنے لگے جونپور کے مدرسے سے لے کر کسی بھی مدرسہ میں قرآن فہمی کا نصاب میں بہت ہی کم دخل ہے۔احادیث اور فقہہ پر بہت زور ہے۔اب فقہ کا معاملہ یہ ہے کہ یہ انسان کا بنایا ہوا مذہبی ڈھانچہ ہے(یاد رہے کہ مولانا ندوی دنیا بھر میں امام ابو حنیفہ پر سند مانے جاتے ہیں اور ان کی کتابAbu Hanifah: His Life, Legal Method & Legacy ان کی مستند ترین سوانح عمری سمجھی جاتی ہے۔وہ آپ کو یہ بھی حیرت کن انکشاف کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کو کل سترہ احادیث یاد تھیں۔فقہ کے یہ چار اسکول یعنی حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی جو نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد وجود میں آئے وہ نماز کی ادائیگی میں قیام و سجود سے لے کر جھینگا کھانے تک پر ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں۔یہ سب آئمہ اپنی سزاؤں میں قرآن کے بیان کردہ معیار سے زیادہ سخت رویہ رکھتے ہیں اور ان کا خواتین کے بارے میں رویہ بھی بہت ہی کڑا ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ اپنے ایام میں یونانی فلاسفہ بالخصوص ارسطو کے فلسفے سے بہت متاثر ہوچکے تھے جو عورت کو ایک لازمی گناہ مانتا تھا اور اسے ثانوی حیثیت دینے کا قائل تھا۔

کیا یہ لازم ہے کہ مسلمان کسی نہ کسی فقہ کی پیروی کریں کیوں نہ براہ راست قرآن سے استفادہ کیا جائے۔؟ کارلا پاؤر نے پوچھا
”عوام کی اکثریت ذہنی طور پر کاہل ہوتی ہے۔علماء کی تقلید آسان ہے بجائے اس کے کہ خود کھوج لگایا جائے۔دنیائے اسلام میں اب یہ چھوٹی باتیں غالب آگئی ہیں۔اس سے عقیدے کا توازن بگڑ گیا ہے۔قرآن الکریم اور نبی پاکﷺ تو ہر بار روح کی اصلاح ،قلب کی پاکیزگی اور کردار کی عملی بلندی کی بات کرتے ہیں۔اس کے برعکس چور کے ہاتھ کاٹنے کی سزا جو صرف ایک دفعہ بیان ہے وہ کچھ لوگوں کے لیے دین و ایمان کالازمی جزو  بن گئی ہے۔
ہر وہ طالب علم جو دین کو جدید روشنی میں دیکھنے اور پرکھنے کی جستجو رکھتا ہے اس کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔

Save

Save

Save

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اگر سمندر بھی روشنائی بن جاتے۔۔۔محمد اقبال دیوان

  1. اس شاندار کتاب کا خوبصورت تعارف لکھنے کا شکریہ. آپ کے اس تعارف سے بیت سے لوگ مستفید ہوں گے اور ان میں سے کچھ یہ کتاب بھی پڑھ یں گے.جزا ک اللہ.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *