تربیت۔۔ مبشر علی زیدی

میں نے جرنلزم یا ماس کمیونی کیشن یا میڈیا سائنسز میں نہیں، ادب میں ماسٹرز کیا تھا۔ جرنلزم اٹکل پچو سیکھی۔ پہلی کہانی گیارہ سال کی عمر میں چھپ گئی۔ رسالے پڑھ پڑھ کر لکھنا آگیا تھا۔ لیکن صحافت میں اور بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ وہ یونیورسٹی سکھاتی ہے یا عمل کی دنیا۔

میں نے رسالوں میں لکھا۔ کہانیاں مسترد یا شامل اشاعت ہونے سے موضوعات کا انتخاب اور ایڈیٹنگ سیکھی۔ ڈائجسٹ میں کام کیا جہاں پروف ریڈنگ سیکھی۔ ترجمہ کیا۔ ہفت روزہ میں کام کیا جہاں انٹرویو کیے، فیچر لکھے اور اخبار کی پیسٹنگ سیکھی۔ کمپوزنگ کی، کورل ڈرا پر سرخیاں بنائیں اور فوٹوشاپ پر تصویریں ایڈٹ کیں۔ ایکسپریس اور جنگ میں کچھ عرصہ رپورٹنگ کی، خبریں بنانا سیکھیں اور انوکھی سرخیاں ترتیب دیں۔ ایکسپریس میں کالم نگاری کی اور سنڈے میگزین کے لیے مضامین لکھے۔ جنگ میگزین میں اپنے صفحات کی پیج میکنگ خود کی۔ ایڈ ایجنسی میں کام کیا اور پرنٹ، ریڈیو اور ٹی وی کے اشتہار لکھنا سیکھے۔ جیو میں ٹی وی رپورٹ لکھنا، کیمرا چلانا، وڈیو ایڈٹ کرنا اور پھر بلیٹن پروڈکشن، بہت کچھ سیکھا۔

اتنا کرنے کے باوجود احساس کمتری رہا کہ میں یونیورسٹی میں تعلیم حاصل نہیں کرسکا۔ گذشتہ سال بحریہ یونیورسٹی نے مجھے بطور وزیٹنگ فیکلٹی بلایا اور میں نے وہاں دو سیمسٹر پڑھائے۔ تب کچھ حوصلہ ہوا۔

میرے جیو کے دوست جانتے ہیں کہ پندرہ سولہ سال میں صرف دو مطالبات کرتا رہا ہوں۔ ایک تنخواہ وقت پر مانگی ہے۔ دوسرے، کارکنوں کی مسلسل تربیت کا تقاضا کیا ہے۔ جب تک مزدور بنا رہا، خود تربیت طلب کرتا رہا۔ چھوٹا افسر بنا تو باسز سے کہتا رہا کہ کارکنوں کے لیے تربیت کا بندوبست کرتے رہیں ورنہ غلطی پر ڈانٹنے کا حق نہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ میں نے جس طرح ایک کام دس بار غلط کرکے سیکھا، دوسرے بھی ویسے سیکھیں۔

جیو میں ابتدائی چند برسوں میں ضرور تربیت کا اہتمام ہوا لیکن پھر وہ سلسلہ برقرار نہیں ہوا۔ البتہ اس ادارے میں یہ خوبی ہے کہ آپ خود کچھ سیکھنا چاہیں تو مواقع دستیاب ہیں۔ کوئی روک ٹوک نہیں۔ بعض اداروں میں آپ لگے بندھے کام یا اسائن کی گئی ذمے داری کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔

میں امریکا میں بھی ایک میڈیا ادارے میں ملازم ہوں۔ یہاں ہر مہینے نہیں، ہر ہفتے نہیں، ہر روز کوئی نہ کوئی تربیتی کورس ہورہا ہے۔ میں ترسا ہوا آدمی ہوں۔ جس کورس کا پتا چلتا ہے، رجسٹریشن کروا لیتا ہوں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ کلاس میں یہ بندہ اکیلا تھا۔ سکھانے والا دو گھنٹے تک صرف ایک کوڑھ مغز طالب علم کے لیے لیکچر دیتا رہا۔ میں نے پہلے ایسی لگن والے استاد نہیں دیکھے۔

گزشتہ ہفتے میں نے ویب جرنلزم کی دو دو گھنٹے کی تین کلاسز لیں۔ ٹرینر نے آخری کلاس کے بعد کہا، یہ ٹیکنیکل کام ہے۔ آپ صحافی ہیں۔ آپ کا کام خبر کی اہمیت بتانا اور لکھنا ہے۔ میں نے آپ کو اس لیے سب بتایا کہ آپ یہ کام سمجھ جائیں۔ لیکن جب ویب پیج بنانا ہو تو مجھے بلالیں۔ سارا کام میں کر دوں گا۔ کونٹینٹ دینے والے پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔ میں حیرت سے اس کا منہ دیکھتا رہ گیا۔

پاکستان میں ہر طرح کے میڈیا ادارے میں کام کیا لیکن ریڈیو کا مزہ نہیں چکھ سکا تھا۔ ریڈیو پر صرف ایک بار میری آواز 1996 میں نشر ہوئی جب میں ایک کوئز جیتا تھا۔ امریکا میں ریڈیو رپورٹس بنانے کی ذمے داری ملی۔ میں نے جیو میں رہتے ہوئے پندرہ سولہ سال میں فقط چار چھ بار وائس اوور کیا ہوگا۔ یہاں پہلے ہی دن بھدی آواز میں ہکلا ہکلا کر رپورٹ ریکارڈ کی۔ شکر ہے کہ ایڈٹ کا آپشن ہے ورنہ سو لفظوں کی ریڈیائی رپورٹ میں دو سو فمبل آن ائیر جائیں۔

میرے لیے بڑا اعزاز ہے کہ پاکستان کے لیجنڈری نیوزکاسٹر خالد حمید کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ انھوں نے مجھے وائس اوور بہتر بنانے کے لیے مفید مشورے دیے ہیں۔ طالب علم نالائق سہی لیکن امید کرنی چاہیے کہ اچھے استاد کی صحبت میں کچھ نہ کچھ بہتری آئے گی۔

Avatar
مبشر علی زیدی
سنجیدہ چہرے اور شرارتی آنکھوں والے مبشر زیدی سو لفظوں میں کتاب کا علم سمو دینے کا ہنر جانتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *