عالمِ برزخ میں آصفہ کی زینب سے ملاقات ۔۔۔محمد فیاض حسرت

عالم ِ برزخ میں میری ملاقات   پاکستان کی ننھی  زینب سے ہوئی ۔ زینب  کو دیکھتے ہی میں نے پہچان لیا ۔اس سے پہلے کہ میں زینب سے کچھ پوچھتی  زینب نے فوراً مجھ سے  پوچھا۔ کیوں آئی اتنی  جلدی آپ  یہاں ؟ کہیں میری طرح   آپ بھی تو۔۔۔ نہیں نہیں  میں ایسا نہیں کہتی  ۔مجھ پہ جو  دردناک واقعہ گزر چکا میں کسی اور کے لیے گماں بھی نہیں کر سکتی  لیکن  سوچتی ہوں   کہ کہیں وہ انسان کسی دوسری بچی کو میری  طرح نہ  دبوچ لے ۔سوچتی ہوں کہیں میری  طرح   پھر یہ قیامت  کسی  دوسری بچی پر نہ گزرے ۔

زینب کی یہ باتیں سنی  تو میں نے کہا ، آپ  پہ جو  گزری   خدا کرے وہ کسی پہ نہ گزرے  ۔ آپ پہ گزرنے والا درد ناک واقعہ   اکثر مجھے ڈرائے رکھتا ۔ میں اکثر تنہائی میں  رو رو کر  خدا سے دعا کرتی کہ  اے  خدا  یہ کیسے  انسان  ہیں   تیری اس پاک زمین  پر، تو  نے تو  ان انسانوں کو اشرف المخلوقات  کا درجہ دیا  ۔ پھر یہ انسانوں کے جانوروں  جیسے کام کیوں ؟ ؟  اے خدا تُو   تو سب دیکھتا اور جانتا ہے  کہ یہ انسان  تیری پاک زمین پر  کیسے کیسے گناہ کر رہے ہیں ۔اے خدا   تو  ان انسانوں کوختم کیوں نہیں کر دیتا   ۔ اے خدا مجھے  ایسے  انسانوں  سے محفوظ رکھنا  ۔ میری طرح کتنی  اور ننھی بچیاں ہیں انہیں بھی تو  محفوظ رکھنا ۔  میں  یہ دعا  ہر روز کیا کرتی تھی ۔ میں نہیں جانتی کہ  خدا نے  میری دعا قبول کیوں نہ کی ۔ لیکن آپ  پہ  گزرا درد ناک واقعہ  مجھے  اکثر پریشانی میں مبتلا کیے رکھتا پر پھر بھی مجھے تھوڑی امید ملتی کہ میرے ممی پاپا میرے ساتھ ہیں سو وہ مجھے محفوظ رکھیں گے ۔ میں ایسا سوچ  بھی نہیں سکتی تھی کہ میرے ساتھ ایسا کچھ ہونے والا ہے  جو آئندہ انسانوں  کو شرمسار کرتا رہے گا  ۔

زینب نے پھر  مجھ سے پوچھا آخر ہوا کیا آپ کے ساتھ ؟

میں نے شرم کے مارے سر جھکایا  اور اپنے پہ گزرا دردناک واقعہ  سنانا شروع کیا ۔

میرا تعلق مقبوضہ کشمیر کے ایک گاؤں سے  ہے ۔ میں اپنے جانوروں کو چرانے جنگل میں جاتی تھی ۔ایک دن میں جانوروں کو لے کر جنگل گئی پھر  میں واپس  اپنے گھر نہ آئی ۔کچھ انسان جنگل میں آئے مجھے زبردستی پکڑ کے لے گئے ۔ میں  بہت چیخی ،بہت چلائی پر وہاں  جانوروں کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ جو میری آواز سنتا اور  میری مدد کو پہنچتا ۔ آخر میری ننھی سی جان کر بھی  کیا سکتی تھی  ۔میں  سوچتی ہوں انہیں انسان کیوں کہتی ہو ں  وہ انسان نہیں جانور  ہیں   بھڑیے ہیں ، ان   انسان نما  جانوروں  نے زبردستی مجھے  ایسا کچھ کھلایا   کہ میں پھر ہوش میں نہ آئی اور انسانیت  بار بار مرتی رہی ۔ پھر مجھے  اسی جنگل   میں پھینک آئے ۔ میں چار روز مری ہوئی وہاں پڑی رہی ۔ کوئی انسان  تھا نہیں  جو  میری لاش کو دیکھتا اور مجھے لے جا کر   دفن کرتا ۔ جنگل میں تھے تو بس جانور تھے ۔ چار روز بعد میری خبر محلے والوں  لوگوں کو ملی ۔ پھر پولیس کو خبر ہوئی  وہ آ کر مجھے اٹھا کہ ہسپتا ل لے گئے  اور ان انسان نما جانوروں کو بھی  پکڑ کر قید کر دیا ۔

مجھے تب پتا چلا کہ میرے  گاؤں  میں ہی یہی انسان نما کتنے جانور ہیں  کیونکہ ایسے بھی انسان تھے جنہوں نے احتجاج   مجھ پر ظلم ہونے   کی وجہ سے کیا  ،   کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے احتجاج ان  انسان نما جانوروں کو قید سے رہا  کرنے کے لیے کیا اور  وہ  ہندومذہب  کے ماننے والے تھے ۔ ان انسانوں کو انسانوں میں بھی شمار کرنا  صحیح نہیں ۔

کیا ان کی بچیاں  نہیں ہوتیں ؟

کیا ان کی اپنی مائیں ،بہنیں  نہیں ہوتیں  ؟

اگر ہوتی  ہیں تو پھر انہیں احساس کیوں نہیں  ہوتا ؟

میں نہیں جانتی   جب یہ خبر میرے ممی پاپا کو ملی ہو گی ان  پر کیا گزری ہو گی ،؟وہ  جی کیسے رہے ہوں گے ؟ وہ تو ہر روز  مرتے ہوں گے ۔ میں اپنا دکھڑا زینب کو سنا رہی تھی  ۔میری  آنکھوں سے آنسو  جاری تھے، سر اٹھایا اور دیکھا  کہ زینب  بھی زارو قطار رو رہی ہے ۔ زینب نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما اور کہا   اٹھو  اب   ہم رب کے حضور پیش ہوتی   ہیں  اور وہاں   رب سے التجا کریں گی  کہ   وہ انسان تیری پاک زمین پر رہنے کے حقدار نہیں ہیں  ۔تو  انہیں وہا ں سے ہمیشہ کےلیے اٹھا دے  تاکہ آئندہ  ہماری طرح کسی دوسرے کے ساتھ  ایسا نہ ہو ، آئندہ  انسانیت کو شرمسار نہ ہونا پڑے، آئندہ کسی کو  جیتے جی مرنا نہ پڑے ۔

محمد فیاض حسرت
محمد فیاض حسرت
تحریر اور شاعری کے فن سے کچھ واقفیت۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *