شام کیوں زد پرہے ؟۔۔۔۔میثم اینگوتی

امریکہ کی قیادت میں ایک نام نہاداتحاد دنیا میں بدمعاشی پرتلاہواہے۔ یورپ میں اس کے اتحادیوں میں بوڑھے سامراج برطانیہ اور فرانس قابل ذکرہیں جبکہ مشرق میں آل سعود کی حرمین پر قابض ریاست اور اس کے خلیجی شہزادے۔ یہ جب چاہے اور جس وقت چاہے اپنی ہی ایجنسیوں، مفتیوں اور فتوؤں کے  ذریعے اقوام عالم پر بارود کی بارش کردیتے ہیں۔ انسانیت کے نام پر یہ انسانیت کو آگ اور خون میں دھکیل کر خود تماشہ دیکھتے ہیں۔ عراق، افغانستان، لیبیا اور شام امریکی میزائیلوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ سرد جنگ کے خاتمے پر جب امریکہ دنیاکاواحد تھانیدار بنا اور روس کی طاقت بکھر کر سمیٹ گئی تو انھوں نے نیوورلڈآرڈرجاری کیا۔ اس آرڈر میں پورے مشرقی وسطی کی بھاگ دوڑ اسرائیل کے ہاتھوں میں تھمادی گئی کہ وہ جیسے چاہے مسلم ممالک کے ساتھ سلوک کریں۔

انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی اور ایرانی عوام کی مزاحمت کی وجہ سے خطے میں اسرائیل کا خوف کافی حد تک کم ہوااور امریکہ کی بدمعاشی کوبھی چیلنچ کیاگیا۔ ایران نے عالمی استعمار کے خلاف نہ صرف ایران کے اندر لڑا بلکہ لبنان میں حزب اللہ کی تشکیل و تنظیم اورشام میں بشارالاسد کی تائید ومدد کے ذریعے امریکہ ، اسرائیل سمیت اس کے مشرقی کٹھ پتلیوں کابھی جیناحرام کردیا۔ امریکہ سے مخاصمت کی پرانی تاریخ کے بل بوتے پر روس نے بھی اپنا حصہ اس اتحاد میں ڈال دیا تو گویا دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہوئی۔ ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی دوسری طرف روس اور اس کے اتحادی۔ مسلمانوں کے اندر سے جذبہ جہاد کی روح کو ختم کرنے اور اسے فساد بالارض بنانے کے لئے امریکہ نے سعودی بادشاہت کے ذریعے دنیا بھر میں وہابی نظریات کو فروغ دیا اور القاعدہ، دعاش اور طالبان جیسی تنظمیں وجود میں آئیں۔ جنھوں نے خطے میں اسرائیل کو تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے کلیدی کردار اداکیا۔ ان فسادیوں کے زریعے مشرقی وسطی میں عراق اور شام میں صورت حال کو سنگین تر بنایاگیا۔

امریکہ، اسرائیل اور ان کی پیداکردہ تمام فسادی جہادی تنظمیوں نے شام کومیدان جنگ بنایا۔ اور شروع کے چند دنوں میں تو لگ رہاتھا کہ داعش کالشکر دمشق میں انسانی سروں سے فٹ بال کھیلنے لگے گا لیکن ایران، حزب اللہ اور روس کی کامیاب پالیسیوں اور مزاحمت نے داعشیوں سمیت تمام فسادیوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبورکیا۔ روس نے تین مرتبہ اقوام متحدہ میں امریکہ کو ذلیل کیا۔ شامی افواج نے ملک بھر سے باغیوں کو شکست فاش دے دی۔ حلب، رقہ اور دومہ سے دہشتگرد بشارالاسد سے جان کی امن لے کر بھاگ گئے۔ اب یہ شکست دہشتگردوں کی نہیں تھی بلکہ یہ اس کے سپانسر کرنے والے عالمی بدمعاشوں کی شکست تھی۔

آج شام پر ہونے والی جارحیت کمیائی حملوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ امریکہ کی بدمعاشی کو چیلنچ کرنے کی سزاہے۔ شامی حکومت بھلا ایسی بے وقوفانہ حرکت کیوں کرے گی کہ جیتی ہوئی  جنگ میں فراریوں پر کیمکل ہتھیاروں سے حملے کریں۔ اب دنیا پرواضح ہواہے کہ یہ حملے اور ان کی سازش بھی انہی طاقتوں نے اپنی جارحیت کوجواز دینے اور دنیا کو دھوکہ دینے کے لئے خود کی ہے۔ عالمی میڈیا میں یکطرفہ جھوٹ کو پھیلایاگیا اور دنیاکو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی اور یہ پہلے بھی ان کا طریقہ کاررہاہے۔ شام پر حملے میں دنیائے اسلام  منقسم ہوگی اور سعودی شہزاد اور مفتیان اسلام حضرت دونلد ترمپ کی کامیابی اور دارزی عمر کے  لیے دعاہوں گے

کامریڈ محمد عامر حسینی کے بقول۔۔۔شام نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا۔

نکی ہیلے نے پچاس بار یہ فقرہ کہا،فرانسیسی سفیر نے 25 بار اور برطانوی سفیر نے 24 بار یہ فقرہ دہرایا۔۔

اب آپ یہ مت سمجھیے گا کہ ٹیپ کے اس فقرے کی گردان کسی اضطرار کے سبب تھی۔ بلکہ جھوٹ اتنی بار بولو کہ سچ لگنےلگے والے مقولے پہ عمل کیا جارہا تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *