ڈاکٹر معین قریشی ,مزاح نگار یا شگفتہ نگار ۔۔سید عارف مصطفی

جمعرات 12 اپریل کی شام کمپیئرنگ کرتے ہوئےاگر ڈاکٹر نزہت عباسی  نے کہا کہ ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کا مقام اردو مزاح نگاروں‌ میں مشتاق احمد یوسفی کے بعد آتا ہے تو یہ سمجھنا ذرا مشکل ہے کہ اس تبصرے سے انہوں نے یوسفی صاحب کی توہین کی ہے یا ڈاکٹر معین قریشی کی توقیر میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے بالکل ایسے جیسا کہ کوئی حب ندی کو دریائے سندھ کے بعد دوسرا مقام دیدے اور اسے حب ندی کی مقام شناسی کا نام دیا جائے اور دریائے چناب و جہلم منہ دیکھتے رہ جائیں ۔ یہ بات آج 12 اپریل کی شب ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کی 25 ویں کتاب ‘ کتنے آدمی تھے’ کی تقریب رونمائی میں کہی گئی ،جہاں آج میں بھی شریک بزم تھا ۔

میں عموماً ان کی کتب کی تقریب رونمائی میں کم ہی شرکت کرتا ہوں کیونکہ وہاں جس کتاب کےبارے میں جو بھی قصیدے پڑھے جاتے ہیں ان کی وہ کتاب اس تعریف کے دسویں حصے کے برابر بھی نہیں ہوتی البتہ چند روایتی مقررین کتاب سے ہٹ کے کچھ اینٹر ٹینمینٹ فراہم کرکے بارے تلافی کی کوشش کرتے ضرور دیکھے جاتے ہیں اور آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا بلکہ معین الدین حیدر کے آج کے خطاب نے توخطرے کی گھنٹیاں بجادیں کہ کوئی دن جاتا ہے وہ ظرافت کے میدان میں اتر پڑیں گے اور بہتیروں کے چھکے چھڑا دیں گے ۔

ڈاکٹر معین قریشی کے ادبی مزاح میں مقام کے تعین کے بارے میں نزہت بی بی کے اس فراخدلانہ بلکہ ‘ لٹ مچانے’ والے اس بیان سے ہمیں تو ‌دو ہی باتیں سمجھ آتی ہیں اؤلاً یہ کہ انہیں یا تو کوئی بڑی مجبوری درپیش ہے یا پھر انہیں گنتی ہی نہیں آتی ۔۔۔ اسی لئے  کمال ستائش پہ مبنی ان کا یہ فقرہ کہ اردو مزاح میں مشتاق احمد یوسفی کے بعد دوسرا بڑا  نام و مقام ڈاکٹر معین قریشی کا ہےدرحقیقت اس تقریب میں کہا جانے والا سب سے پُرمزاح جملہ تھا ۔ ویسے بھی اکثر ادبی تقریبات کا نظامت کار د راصل ادبی اردلی سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا جو خود کو ہر آن ادبی کرنیلوں اور جرنیلوں کو ایڑیاں بجاکے سیلوٹ کرنے اور بوقت ضرورت تولیہ و رومال پیش کرنے کا پابند ہوتا ہے ۔۔۔

لیکن ڈاکٹر نزہت عباسی تو مبینہ طور پہ پڑھی لکھی خاتون ہیں اور گمان غالب ہے کہ انکے نام کے ساتھ  جڑا لفظ ڈاکٹر یقیناً عامر لیاقت والی ڈاکٹری جیسا بے حقیقت و بے بنیاد نہیں ۔ ہماری دانست میں مزاح نگاری قطعی اور ہنر ہے اور شگفتہ نگاری بالکل الگ شے ہے ۔۔۔ بدقستی سے کئی لوگ انہیں گڈ مڈ کردیتے ہیں ، بس یوں سمجھ لیجیئے کہ مزاح نگار لکھتا نہیں بلکہ اپنا خون تھوکتا ہے جبکہ شگفتہ نگار پہاڑ کھود کر قہقہے کا جوئے شیر لانے کا ہرگز مکلف نہیں بس اپنی تبصراتی تحریر میں ایک دو بار ذرا سی مسکراہٹ پیدا کرسکا تو ٹھیک ، نہ لاسکا تب بھی اس کی ایسی کوئی ذمہ داری نہیں ۔۔۔ شاید اسی لیے آج کل کے زیادہ تر شگفتہ نگاری قاری سے خون تھکوارہے ہیں اسی لئے ان کا پورا مضمون پڑھ لیجئے  اور اگر ایک صفحے میں دوبار بھی کوئی قہقہہ آور جملہ پالیں تو خون تھوکنے سے بچ جائیں گے ۔۔۔

کسی بھی نوعیت کی ادبی مزاحیہ پرواز میں کوئی شگفتہ نگار پائیلٹ تو کیا ، کو پائیلٹ  بھی نہیں ، اس کی حیثیت زیادہ سے زیادہ اسٹیوارڈ تک محدود ہے ۔۔۔ ڈاکٹر معین قریشی ایک اچھے شگفتہ نگار ہیں لیکن 25 کتابوں کے مصنف ہونے کے باوجود مزاح نگار ہرگز نہیں ہیں اور ان کے مضامین کی نوعیت زیادہ تر تبصرے اوربات کا بتنگڑ بنانے کے فن کو آزمانے پہ مبنی ہوتی ہے اور پورے پورے مضمون میں کوئی مزاح کا چھینٹا بس اسی قدر ہوتا ہے کہ جتنا کہ صحرائے تھر میں بارش کا اوسط ہے ۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر معین قریشی صاحب کے مزاح نگار نہ ہونے کے تاثر پہ مبنی یہ رائے صرف میری نہیں ، کئیوں کی ہے حتیٰ کہ عطاء الحق قاسمی صاحب کی بھی ہے جو گو کہ فی الحقیقت مزاح نگاری کے جدید عہد میں یوسفی صاحب کے بعد دوسرے بڑے مقام کے حامل ہیں تاہم بڑے تاسف کا معاملہ یہ ہے کہ انہیں اس مقام پہ پہچانے جانے کی راہ میں انکی شاعری اور کالم نگاری اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سیاسی لوگوں سے قربت آڑے آئی ہے ، لیکن بہرطور نزہت بی بی کی مشکلات کوئی کیا سمجھے اور کوئی بھلا کیا جانے کہ نظامت کار کی برخورداری و مجبوری بھی کیا کیا کام کرواتی ہے ورنہ وہ ادبی مزاح کی دنیا میں ایسے فقرے کا کہرام ہرگز برپا نہ کرتیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *