پانی کا بحران ۔۔شاہانہ جاوید/حصہ دوم

 پاکستان کو جہاں  دہشت گردی، منشیات، اسمگلنگ  جیسے بڑے مسائل کا سامنا ہے،وہیں ایک بڑا مسئلہ منہ  کھولے کھڑا ہے وہ ہے پانی کا مسئلہ جی ہاں 2018 ء کے الیکشن کے بعد جس پارٹی کو بھی حکومت ملے اسے پانی کا بحران حل کرنا ہوگا ورنہ پانی کی قلت پاکستان کی زراعت، صنعت اور معیشت کو تباہ وبرباد کردے گی. پانی کی قلت ایک بہت بڑے عفریت کی طرح سب کچھ نگلنے کو تیار بیٹھی ہے اور ہمارے حکمراں ستو پی کر سو رہے ہیں. اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ ” ڈیولپمنٹ ایڈووکیٹ پاکستان ” میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اگر پاکستان نے پانی کے ذخائر محفوظ کرنے کے لیے ضروری اقدامات نہ کیے تو 2025 ء تک پاکستان پانی کے شدید بحران میں مبتلا ہو جائے گا اور دستیاب پانی پانچ سو کیوبک میٹر فی کس تک رہ جائے گا جو قحط زدہ افریقی ممالک سے بھی کم ہوگا.
بھارت کی آبی دہشتگردی۔۔ شاہانہ جاوید

اس بحران کی پہلی وجہ دستیاب  پانی کے وسائل کا بے دریغ استعمال اور بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پانی کے بے تحاشہ استعمال سے پانی کم سے کم ہوتا جارہا ہے . 1951 ء میں دستیاب پانی پانچ ہزار کیوبک میٹر فی کس تھا جو کم ہو کر اب ایک ہزار کیوبک میٹر سے بھی کم رہ گیا ہے. دوسری  وجہ  ہمارے ملک میں پانی کے لیے کوئی ٹھوس پالیسی ہی نہیں ہے. پاکستان میں اس وقت پانچ بڑے ڈیم ہیں جس میں تربیلا، منگلا، میرانی، وارسک اور سبک زئی ڈیم شامل ہیں ان میں سے زیادہ تر ڈیمز 1960 ء سے 1975 کے دوران بنائے گئے  لیکن  اس  کے بعد  سے کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں شروع کیا گیا، پاکستان میں کسی حکومت نے نئے ڈیم بنانے کے بارے میں سنجیدگی سے کام نہیں کیا، آج بھی سندھ طاس معاہدہ جس میں تین دریاؤں کا پانی بھارت کو دینا تھا کے فوراً بعد بننے والے منگلا اور تربیلا ہی قابل ذکر ڈیمز ہیں جو پانی ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے رہے، وقتاً فوقتاً ان کی گنجائش بڑھانے کے لیے کام ہوا لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت دونوں ڈیم ملکی ضروریات کے لیے صرف تین دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں. تیسری اہم وجہ چونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے جو زراعت کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن ان نہروں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے بھی پانی کی بہت بڑی مقدار ضائع ہوجاتی ہے۔

اس کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلیاں اور ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی ملک میں بحران کا سبب ہیں. پانی کے بحران کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ نے پاکستان کو پانی کے بحران میں مبتلا ہونے والے ممالک میں شمار کیا ہے اور ایک حد بھی بتادی ہے اگر پاکستان 2025 ء تک پانی ذخیرہ کرنے کے ذرائع کارآمد نہ کرسکا تو ایک بہت بڑی تباہی منہ کھولے کھڑی ہے جو دہشتگردی سے بھی بڑا عفریت ہے. بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم کے حوالے سے سندھ طاس معاہدہ کو کامیاب معاہدہ قرار دیا جاسکتا ہے جو دو جنگوں اور 2002 ء کے کشیدہ حالات کے باوجود بھی قائم رہا ہے لیکن بھارت اس معاہدے  سے ناجائز فائدہ اٹھا کر مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی ضرورت کا پانی روک لیتا ہے اور جب بارشوں کے موسم میں پانی زیادہ ہوجاتا ہے تو بھارت اسی پانی کو چھوڑ کر سیلاب کی صورتحال پیدا کر دیتا ہے یہ کام ایک چال کی طرح کامیاب ہے لیکن سر کاری سطح پر بھارت اس سے انحراف کرتا ہے کہ اس کے چھوڑ ے گئے پانی سے سیلاب آتے ہیں . بھارت اس پانی کو جمع کرنے کے لیے بگلیہار ڈیم بنا رہا ہے اور پاکستان اس کی تعمیر کا مخالف بھی ہے کیونکہ یہ سندھ طاس معاہدہ کے خلاف ہے،

جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان ضرورت سے زیادہ پانی ڈیمز میں محفوظ نہیں کرتا بلکہ سمندر میں بہا دیتا ہے، پاکستان نے کوئی قابل ذکر ڈیم نہیں بنائے جو اس اضافی پانی کو جمع کریں اس لیے بھارت اس پانی کو محفوظ کر رہا ہے یہ ایسی منطق ہے جس کا جواب اہل ِ اقتدار ہی دے سکتے ہیں کہ نئے ڈیم بنانے میں  کیا  قباحت ہے  ورنہ یہ چپقلش دونوں ملکوں کے درمیان نئے قضیہ کی بنیاد بن سکتی ہے اور ایٹمی جنگ کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے. پاکستان اپنے دستیاب پانی کو ذخیرہ نہ کرکے سالانہ تیس سے پینتیس ارب ڈالر  کا  نقصان اٹھارہا ہے جبکہ کالا باغ ڈیم، بھاشا اور اکھوڑی ڈیم  کی لاگت صرف پچیس ارب ڈالر ہے، ڈیم نہ بننے سے بجلی کا  بحران بھی ہے اور پاکستان فرنس آئل اور ایل این جی سے مہنگی بجلی  پیدا کر رہا ہے جبکہ ڈیم بننے سے پن بجلی بھی حاصل کی جاسکتی ہے.

بھارتی وزیراعظم مودی نے دھمکی دی کہ پاکستان کو بوند بوند پانی سے محروم کرکے صحرا بنادیں گے اب بھارت کے وزیر مملکت برائے ٹرانسپورٹ اور پانی نے ہرزہ سرائی کی ہے کہ وہ اتر کھنڈ کے دریاؤں  پر  تین  ڈیم بناکر پاکستان جانے والے پانی کو روک لیں گے تاکہ برسات نہ ہونے کی صورت میں پانی استعمال کرسکیں. پاکستان کو اب سخت اقدامات کرنے ہوں  گے اور ملکی مفاد میں بڑے ڈیم تیار کرنے ہوں گے، پانی کے زیاں کو ختم کرنا ہوگا. نہروں کی بھل صفائی پر زور دیا جائے  تاکہ پانی ضائع نہ ہو. اس کے علاوہ عوام میں شعور بیدار کرنا ہوگا کہ  قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے  بلاوجہ پانی ضائع نہ ہونے دیں کیونکہ پانی کا حساب بھی روز قیامت لیا جائے گا ۔ آخر میں صرف اتنا کہ  پانی ایک نعمت ہے اس کی حفاظت کریں اور بے جا خرچ نہ کریں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی پانی کی نعمت سے لطف اندوز ہو سکیں.

Avatar
شاہانہ جاوید
لفظوں سے کھیلتی ہوئی ایک مصنف

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *