معیشت کے گورکھ دھندے اور حکومتی کارکردگی! (قسط چہارم)

گذشتہ قسط میں ہم نے ان وجوہات کا تفصیلاً ذکر کیا تھا جن کی بنیاد پر حکومتیں قرض لیتی ہیں۔ حکومتوں کا قرض لے کر بجٹ خسارہ پورا کرنا کوئی انہونی بات نہیں۔ کئی ترقی یافتہ معیشتیں بھی بجٹ خسارے کا شکار ہیں، خصوصاً وہ جن کی چین کے ساتھ تجارت زیادہ ہے، اور اس کو پورا کرنے کےلئے وہ یا تو سیکوریٹیز کا اجرا کرتی ہیں یا پھر قرض لیتی ہیں۔ کئی لوگوں کو شاید یہ جان کر حیرت ہو کہ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ مقروض امریکی حکومت ہے جس کے بیرونی قرضوں کی مجموعی مالیت 2016 میں 17ہزار 910 ارب ڈالر تھی جو اس کے جی ڈی پی کا 96فیصد بنتا ہے! بھارت کے مجموعی قرضوں کی مالیت 2016 میں 485 ارب ڈالر تھی جو اس کے جی ڈی پی کا تقریباً 22 فیصد بنتے ہیں۔ بنگلہ دیش کا کل بیرونی قرضہ گذشتہ سال 36 ارب ڈالر تھا جو اس کے جی ڈی پی کا تقریباً 18 فیصد بنتا ہے۔
ان اعداد وشمار کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حکومتوں کا خسارہ پورا کرنے کے لیے قرضوں پر انحصار کوئی انہونی بات نہیں۔ اصل بات ان قرضوں کا استعمال ہے جو اگر درست نہ ہو تو اقتصادی اشاریے خود ہی بول پڑتے ہیں ، جس کی تفصیل ہم آگے چل کربیان کریں گے۔ فی الوقت اگر وطن عزیز کی بات کریں تو گذشتہ سال ہمارے بیرونی قرضوں کی کل مالیت تقریباً 74.5 ارب ڈالر تھی جو ہمارے جی ڈی پی کا تقریباً22 فیصد بنتے ہیں۔ سو اگر دیکھا جائے تو ہماری حالت اپنے علاقائی حریفوں سے زیادہ خراب نہیں۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ بجٹ خسارہ یا تو قرض (ملکی و غیر ملکی دونوں)، یا پھر بیرونی امداد سے ہی پورا کیا جاسکتا ہے۔ ظاہر ہے دنیا میں کوئی ملک یا ادارہ اتنا سخی نہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک کا مکمل بجٹ خسارہ امداد دے کر پورا کروادے۔ بیرونی امداد ایک حد تک ہی میسر ہوتی ہے، اس کے بعد حکومتوں کو قرض کا آپشن استعمال کرنا ہی پڑتا ہے۔ اب اگر کوئی یہ سوال کرے کہ بنگلہ دیش بھی تو ہے، اس کا قرضہ کیوں ہم سے کم ہے؟ تو اس کا جواب یہ کہ قرضے کی مطلق مالیت کے بجائے اس کا جی ڈی پی کے ساتھ تناسب دیکھیں تو ہم میں اور ان میں زیادہ فرق نہیں۔ پھر ایک اہم فیکٹر جو عموماً نظرانداز کر دیا جاتا ہے وہ بیرونی امداد کی مالیت میں قابل ذکر فرق ہے۔ 2016 میں بنگلہ دیش کو کل 3.5 ارب ڈالر کی بیرونی امداد حاصل ہوئی جو اس کے بجٹ خسارے کا 32فیصد ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کو تقریباً 240ملین ڈالر ہی بیرونی امداد کی مد میں حاصل ہوئے جو ہمارے بجٹ خسارے کا دو فیصد بھی نہیں بنتے! پھر ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے پچھلے 16 سال سے جن دیو ہیکل اضافی اخراجات کا سامنا ہے، بنگلہ دیش اور بھارت کو ان کا عشرعشیر بھی نہیں بھگتنا پڑا۔ ظاہر ہے، ایسے میں ہمارے حکومت کا قرضوں پر انحصار بڑھ جاتا ہے اسی لئے ہمارا بیرونی قرضہ بنگلہ دیش سے زیادہ ہے۔ اہم بات نوٹ کرنے والی مگر یہ ہے کہ بنگلہ دیش کو حاصل ہونے والی بیرونی امداد ہمارے مقابلے میں 15گنا زیادہ ہے لیکن ہمارا بیرونی قرضہ ان سے محض 2 گنا زیادہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ بجٹ خسارے کی فنانسنگ کے حوالے سے ہماری داخلی صلاحیت بنگلہ دیش سے بہتر ہے۔
دی گئی تفصیل سے یہ واضح ہوگیا کہ قرض کی پینے کے معاملے میں ہمارا حال علاقائی اور عالمی معیشتوں سے زیادہ خراب نہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے قرض خوری کے معاملے میں پیپلز پارٹی کے مقابلے میں کیا گل کھلائے ہیں۔ سب سے پہلی بات دیکھنے والی یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے اب تک کتنا بیرونی قرضہ لیا اور اس کا کیسے استعمال کیا، اور یہ کہ گزشتہ حکومت نے اپنے پہلے 3.5 سال میں کتنا بیرونی قرضہ لیا تھا اور اس کو کس طرح استعمال کیا تھا۔ موجودہ حکومت جب برسر اقتدار آئی تو بیرونی قرضوں کی کل مالیت تقریباً 61 ارب ڈالر تھی جو دسمبر 2016 تک بڑھتے بڑھتے 74.5 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔ یوں موجودہ حکومت نے اپنےپہلے 3.5 سالوں میں بیرونی قرضوں میں 13.5 ارب ڈالر کا اضافہ کیا جو اوسطاً 3.8 ارب ڈالر سالانہ بنتا ہے ۔ پچھلی قسط میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ ہمارا سالانہ بجٹ خسارہ ہی 13ا رب ڈالر ہے ۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ حکومت نے اب تک کل بجٹ خسارے کا محض 30 فیصد بیرونی قرضوں سے فنانس کیا ہے، جبکہ باقی تمویل داخلی قرضوں اورنئی سیکوریٹیز کے اجرا کے ذریعے کی گئی ہے جن کا بیرونی ادائیگیوں پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔ اس کے مقابلے میں اگر پیپلز پارٹی کے دور حکومت کا جائزہ لیا جائے تو جس وقت ان کی حکومت برسر اقتدار آئی تو بیرونی قرضوں کی کل مالیت 46 ارب ڈالر تھی جو ان کے پہلے 3.5 سال کے اختتام تک بڑھ کر 65 ارب ڈالر ہوگئے تھے، یوں پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت کے پہلے 3 سال میں بیرونی قرضوں میں 19 ارب ڈالر کا اضافہ کیا۔ یعنی موجودہ حکومت نے پیپلز پارٹی کے مقابلے میں یکساں مدت میں 29 فیصد کم بیرونی قرضہ لیا ہے جبکہ اس کا ترقیاتی بجٹ 1300 ارب سالانہ ہے جو پیپلز پارٹی کے مقابلے میں 5 گنا زائد ہے۔ اس سے قرضوں کے استعمال کی سمت کا بھی اندازہ ہو تا ہے جس میں بہتری دیگر اقتصادی اشاریوں سے بھی واضح ہے۔ سب سے پہلے جی ڈی پی میں اضافے کو ہی دیکھ لیجئے۔ موجودہ حکومت نے برسر اقتدار آنے کے بعد جی ڈی پی میں 44.7 ارب ڈالر کا خالص اضافہ کیا ہے (انفلیشن ایڈجسٹمنٹ کے بعد) جو 231 ارب ڈالر سے بڑھ کر گزشتہ سال 285 ارب ڈالر کی سطح عبور کر چکا تھا اور رواں سال 298 ارب ڈالر تک پہنچنے کی امید ہے۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ حکومت نے اس زیادہ مقدار میں قرض لےکر جی ڈی پی میں محض 26.6 ارب ڈالر کا ہی اضافہ کیا تھا یعنی موجودہ حکومت نے بیرونی قرضے کے فی ڈالر کے عوض 3.3 ڈالر کا اضافہ جی ڈی پی میں کیا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی بیرونی قرضے کے فی ڈالر کے عوض جی ڈی پی میں صرف 1.4 ڈالر کا ہی اضافہ کر سکی تھی جس سے موجودہ حکومت کی بہتر فنانشل مینجمنٹ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
(جاری ہے)

محمد احسن سمیع
محمد احسن سمیع
جانتے تو ہو تم احسنؔ کو، مگر۔۔۔۔یارو راحلؔ کی کہانی اور ہے! https://facebook.com/dayaarerahil

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *