• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اَپُّن کا کرانچی، نیم ذاتی اور نیم سرکاری یادیں۔۔۔محمد اقبال دیوان۔قسط4

اَپُّن کا کرانچی، نیم ذاتی اور نیم سرکاری یادیں۔۔۔محمد اقبال دیوان۔قسط4

شہر کراچی سے میری شعوری یادوں کا سفر سن ساٹھ کی دہائی سے شروع ہوتا ہے۔یہ سفر تا حال جاری ہے۔
میرؔ کے    شہر، دہلی کی مانند، شہر کراچی عالم میں انتخاب تو کبھی بھی نہ تھا پر جیسا بے لطف،بد شکلا ،اور کٹھور یہ اب ہو چلا ہے پہلے کبھی ایسا تو نہ تھا۔سال بھر قبل ہمارے ایک دوست کی جاپانی دوست ٹوکیو سے یہاں آئی تھی۔جاپانی یوں تو اپنے اظہار رائے میں دیگر مہذب لوگوں سے بھی زیادہ محتاط ہوتے ہیں مگر بہت   اصرار پرلجاتے ہوئے کہنے لگی کہ ”اس سے زیادہ جمالیاتی نقطہء نظر سے دنیا میں کوئی اور شہر بدصورت نہیں۔یہاں تعمیراتی ہم آہنگی،ٹریفک اور Spacingکا شدید بحران ہے“۔جن قارئین کو ملک سے باہر دوسرے شہر دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے وہ اس کی رائے کو جھٹلانے میں بہت دقت محسوس کریں گے۔

1970 سے 1990 کی دہائی نے کراچی پر بڑا غضب ڈھایا ہے  سقوط ڈھاکہ اور افغان جنگ کی وجہ سے بالائی علاقوں سے اتنی کثرت سے اس شہر کی جانب انبوہ آوارگاں و بے خانماں ہجرت کر کہ یہاں آگیا ہے کہ یہ شہر دنیا کے سو بڑے ملکوں سے بڑا اور آبادی کے لحا ط سے چوتھے نمبر کا شہر بن گیا ہے۔اس ہجرت کا نقصان یہ ہوا کہ گاؤں سے آنے والے افراد صرف فکر معاش میں ایسے الجھ گئے کہ ان کی تعلیم اور تربیت کا خاطر خواہ بندوبست نہیں ہوپایا۔ہر شہر حتی کہ  ممبئی، کلکتہ،دہلی بیجنگ، تہر ان،ڈھاکہ اور منیلا  پر بھی ایسی ہی افتاد پڑی کہ وہاں گاؤں سے آنے والے افراد تعداد میں مقامی آبادی سے بڑھ گئے۔کراچی میں سن ساٹھ کے بعد سے جب دار الحکومت اسلام آباد منتقل ہوا مقامی حکومت کے ادارے متواتر  کمزور ہوتے  چلے گئے ۔ان اداروں سے وابستہ افراد کی اکثریت مقامی نہ تھی اس لیے ان کے ہاں قوانین کے نفاذ کے حوالے سے وہ تواتر اور سختی موجود نہ تھی جو شہر کو ایک مذبح خانہ بننے سے بچاتی۔حکومت کی مرکزیت نے قیام پاکستان کے پہلے پندرہ برسوں  اور بعد میں صوبائی حکومت کے وسائل پر قبضے کے شوق نے  ایک ایسا میونسپل کلچر کراچی میں پنپنے نہ دیا جو آپ کو ممبئی،دہلی،کلکتہ،چنائے (مدراس) میں دکھائی دیتا ہے۔یہاں دیہاتوں سے آنے والوں کے رویے ایسے تھے کہ وہ تمام عمر کراچی کو کالا ڈھاکہ، لودھراں ،گھوٹکی ،پشین اور کولہو بنانے پر مصر رہے بجاۓ اس کے کہ وہ خود urbane اور ماڈرن بن جاتے۔ان افراد کی اکثریت رفتار، توازن اور spaceکواپنی ٹرانسپورٹ، معا ش اور بود باش کا حصہ بنانے سے بے حسی کی حد تک بیگانہ رہی۔  اس کمزوری کے باعث کراچی میں سرکاری سرپرستی اور غیر مقامی پولیس کی معاونت سے پانی چوری کرنے کے لیے ہائیڈرینٹ،بجلی چوری کے لیے کنڈے، اور زمینوں پر قبضے کے حوالے سے جرائم پیشہ افراد کو مختلف روپ بہروپ دھار کر بے دریغ دولت لوٹنے، من مانی کرنے اور مافیا در مافیا بنانے کا موقع مل گیا۔

سالانہ 1800کروڑ روپے کے پانی کی چوری

کراچی میں سن1992 میں ہمیں ایک ایسے اجلاس میں طلب کیا گیا۔ جہاں فوجی افسران کاغذ پنسل تھامے نوٹس لے رہے تھے ہم سے پوچھا گیا کہ کیا کراچی میں کوئی جناح پور کا تصور ہے؟۔ہم نے بتایا کہ سیاسی طور پر تو شاید نہیں مگر مالی طور پر کراچی کی میونسپل کارپوریشن اور اس کے ذیلی ادارے واٹر بورڈ جس کے سربراہ باقی صدیقی انجینئر کرپشن میں لتھڑے ہوئے ہیں ۔اصل میں کے ایم سی ہی وہ جناح پور   ہے۔اس کی بیوروکریسی کا سائز حکومت بلوچستان جتنا بڑا ہے۔ اس کا سالانہ بجٹ ان دنوں پانچ ہزار کروڑ روپے تھا آج کل یہ بجٹ بدحالی کے باوجود 145 بلین ہے۔یعنی پہلے سے کم مگر پھر بھی نو صفر کے ساتھ خاصا بڑا ہے۔بات کو سمجھنا ہو اور رقوم کے حجم کا اندازہ جسے انگریزی میں Economy of Volume کہتے ہیں۔اس میں صرف ایک سہولت یعنی پانی کی سپلائی پر غور فرمائیں۔اس وقت کراچی میں پانی کے دس ہزار ٹینکر ز رجسٹرڈ ہیں ،فی ٹینکر ہزار روپے لگالیں ہر ٹینکر کے پانچ ٹرپ کرتا ہے یوں ہر ماہ 190 کروڑ روپے کی آمدنی اور اس وقت سالانہ آمدنی 1800 کروڑ روپے ہے۔ان دنوں آئی جے آئی نئی بنی تھی اور نواز شریف کی جانب سے بے نظیر کی حکومت کی تبدیلی کا بھاؤ 190 کروڑ روپے لگ رہا تھا۔ فرشتے یونس حبیب سے پیسے لے  کر جاتے تھے ۔اس کا ملازم خاص ستار یہ رقم مختلف بنگلوں پر پہنچا کر آتا تھا۔ ذرا سوچیں کہ اگر اس رقم کی آدھی آمدنی ٹینکر والوں اور باقی ماندہ بیوروکریسی اور سیاسی جماعت کو ملتی ہو تو یہ رقم نو سو کروڑ روپے سالانہ بنتی ہے۔

کراچی اس لحاظ سے ذرا مختلف ہے کہ ایشیا کے دیگر شہروں میں گاؤں چھوڑ کر شہر کی جانب نقل مکانی کرنے والے رفتہ رفتہ آئے۔ کراچی میں ہر دس سال کے وقفے سے تین بڑی نقل مکانیاں ہوئیں ۔ قیام پاکستان، سقوط ڈھاکہ اور افغان مہاجرین ۔پہلی بڑی ہجرت یعنی قیام پاکستان کی وجہ سے آنے والوں کا معاملہ ذرا مختلف اور تکلیف دہ تھا ۔ اس میں صرف ایک استثناء ہے کہ   قیام پاکستان کی وجہ سے کراچی آنے والے مہاجر باخبر تھے  وہ بمبئی کلتہ لکھنو اور حیدرآباد  دکن جیسے شہر چھوڑ کر آئے  تھے جہاں شہری سہولیات تعلیم اور ثقافت سن 1947 میں کراچی سے بہت آگے تھی اور ایسے ہی موقع پرست اور باہنر تھے جیسے ہر پختون دبئی جاکر اور سندھی مہاجر امریکہ اور کینیڈا جاکر بن جاتے ہیں ۔ان کی آمد چونکہ قدرے بے ہنگم طریقے سے مگر ا یک معاہدے کے تحت ہوئی تھی۔وہ جلد ہی شہر پر چھا گئے ۔انہیں بیوروکریسی میں ایک طرح کا سپورٹ بھی تھا۔ یہ سب کاروبار کے اسرا رورموز سے بھی واقف تھے، میڈیا پر بھی کنٹرول تھا ۔ ان عوامل کی وجہ سے ان میں ایک ایسا  تفاخر پیدا ہوگیا جس کے اظہار میں  وہ کبھی بھی نہیں ہچکچاتے تھے۔ یہ احساس برتری سارے پاکستان کے دیہاتی پس منظر رکھنے والے افراد کو بہت کھلتا تھا۔ ۔

یہاں آتے ہی وہ ا پنے لیے نئی بستیاں بسانے میں ملازمتوں کے حصول کارخانوں میں ہنر مند لیبر کی کھپت پوری کرنے میں بہت کامیاب رہے۔ قیام پاکستان کے پہلے تیس برسوں میں ان کی آباد کردہ بستیاں جن میں پی ای سی ایچ ایس سوسائیٹی۔فیڈرل بی ایریا،ناظم آباد، بہادر آباد اور گردو نواح کی سوسائٹیاں،نارتھ ناظم آباد پاکستان کی ہر ڈیفنس سوسائیٹی سے بہتر شہری منصوبہ بندی کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔نارتھ ناظم آباد اور فیڈرل بی ایریا میں سڑکوں کا انتظام شہری سہولتوں کا انتظام آج بھی کراچی میں سن 1960 میں قائم ہونے والی پاکستان کی پہلی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائیٹی (جہاں پانچ سو گز کا پلاٹ ابتدا میں تین سے پانچ ہزار روپے میں مل جاتا تھا۔اب یہ ہی پلاٹ سات سے نو کروڑ کا ملتا ہے) سے بدرجہا بہتر تھا۔حتی کہ  بعد میں آباد ہونے والے نئی کراچی کی ہر گلی ڈیفنس کراچی کی دوسری اہم شاہراہ زمزمہ بلے وارڈ سے زیادہ کشادہ اور ہری بھری ہے۔

کراچی میں سب سے بڑا بگاڑ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جام صادق علی   نے جو وزیر بلدیات   ان کے دست حریص نے کیا۔یہاں تک کہ وزیر اعظم بھٹو کو انہیں تنبیہ کرتے ہوۓ کہنا پڑا کہ کہیں قائد اعظم کا مزار نہ بیچ دینا  ۔کراچی کی زمین پر اٹھارہ سرکاری اداروں  کا کنٹرول ہے جہاں ایک سے بڑھ کر ایک لوٹ مار کے ہلاکو خان تعیناتی پکڑ لیتے ہیں ۔پلاٹ رشتوں اور سیاسی وابستگیوں کو بنیاد بنا کر بانٹے گئے۔کراچی کی قیمتی زمین کو والدہ کا جہیز سمجھ کر ایسے لوٹا اور بانٹا گیا کہ  Vertical Construction کا ہر جگہ جنگل آباد کردیا گیا ۔ جن میں ٹاؤن پلاننگ، ماحولیات عوامی سہولیات، پارکوں اور کھیل کے میدانوں کا کوئی بندوبست نہ تھا ،اس میں اہل سیاست کی معاونت کے۔ ڈی۔اے اور کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سربراہان زیڈ اے نظامی اور محمد حسین نے اور بطور سیکرٹری ہاؤسنگ مرکزی ملازمتوں میں شامل کسٹمز گروپ کے سلمان فاروقی نے کی جو ایک گلوکارہ کی والدہ کا سہارا لے کر لیٹرل انٹری (سول سروس میں اصل بگاڑ کا ذمہ دار بھرتی کا وہ طریقہ جس میں ایک نام نہاد امتحان کے ذریعے ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے من پسند افراد کو ملازمتوں میں گھسیڑ کر اونچے عہدوں پر فائز کردیا) کے ذریعے گریڈ اٹھارہ سے گریڈ بیس میں سندھ میں بطور سیکرٹری ٹاؤن پلاننگ تعینات ہوگئے تھے۔جنرل  ضیا کا مارشل لاء لگا تو انہوں نے فوجی افسروں کو بھی ایسا شیشے میں  اتارا کہ جنرل عباسی جو سندھ میں مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے ان سے زیڈ اے نظامی ہمیشہ چیمبر میں ملا کرتے تھے۔جب جنرل رحیم الدین یہاں سن 1987 کے اوائل میں سب مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن کر آئے تو  زیڈ اے نظامی اور سلمان فاروقی کو انہوں نے آتے ہی فارغ کردیا زیڈ اے نظامی نے کفارے کے طور پر سرسید انجئنیرنگ یونی ورسٹی قائم کی اور خود ہی اس کے چانسلر بن گئے سلمان فاروقی نے البتہ سرکاری ملازمت کا پیچھا بطور وفاقی محتسب کے عہدے سے مراعات لوٹ لوٹ کر کیا۔

بوڑھی مچھیرن مائی کولاچی کے نام سے موسوم یہ شہر اپنے قیام کے ابتدائی دنوں میں ایک چھوٹی سی مچھیروں کی بستی تھی جو’کولاچی جو کُن‘کہلاتی تھی۔آبادی میں ذرا سا اضافہ ہوا اور مسقط کی کشتیاں بھی یہاں آنے لگیں تو اسے کولاچی جو گوٹھ کہا جانے لگا۔گوٹھ سندھی زبان میں گاؤں کو کہتے ہیں۔پہلے یہ علاقہ سندھ کے حکمرانوں کلہوڑا خاندان کی مملکت میں تھا،بعد میں اسے خان آف قلات اور اس کے بعد سندھ کے حکمران ٹالپر خاندان نے اپنی مملکت میں شامل کرلیا۔جنہوں نے   اس کے جزیرے منوڑا پر ایک چھوٹا سا  قلعہ بنالیا اور وہاں مسقط سے لاکر کچھ توپیں بھی نصب کردیں۔ 1839, میں یہاں ایک برطانوی بحری جہاز ویلزلے آن کر لنگر انداز ہوا اور تین دن بعد بغیر کسی جنگ و جدال کے کراچی کی حکمرانی کے مالک راج برطانیہ کے کرتا دھرتا بن گئے۔ یہ سندھ کی فتح سے چار برس پہلے کی بات ہے۔

جاری ہے

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اَپُّن کا کرانچی، نیم ذاتی اور نیم سرکاری یادیں۔۔۔محمد اقبال دیوان۔قسط4

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *