فقر سے ڈرنا۔۔۔مرزا مدثر نواز

ایک بہت ہی کنجوس شخص کا بیٹا انتہائی سخی تھا۔ اس نے باپ کے مرنے کے بعد ساری دولت کھلے ہاتھوں سے ضرورت مندوں‘ محتاجوں اور ناداروں میں تقسیم کر دی تھی۔ کوئی اس کے در سے خالی ہاتھ واپس نہ لوٹتا تھا اسے باپ کی دولت یوں دونوں ہاتھوں سے بانٹتے دیکھ کر ایک خیر خواہ نے مشورہ دیا۔ بر خوردار! برا نہ ماننا باپ کے چھوڑے ہوئے مال کو جس طرح تم خرچ کر رہے ہو وہ بالکل غلط طریقہ ہے اس طرح تم تو جلد کنگال ہو جاؤ گے۔ کیا تم نے ایک ماں کی اپنی بیٹی کو نصیحت نہیں سن رکھی۔ ایک عقلمند ماں نے اپنی بیٹی کو کہا تھا کہ آسودگی کے دنوں میں جو کچھ حاصل کیا ہے اس میں سے مشکل وقت کے لیے کچھ ضرور بچا کر رکھ لینا۔ اس کی مثال اس نہر کی سی ہے جس میں سال بھر پانی نہیں رہتااس لئے اپنا مشکیزہ اور گھڑے پانی سے بھر کر رکھنا۔اس نوجوان نے اس ناصح کی باتیں بڑے غور سے سنیں مگر اسے اچھا نہ لگا۔ اس نے اس نصیحت کرنے والے سے مخاطب ہو کر کہا۔ جس دولت کو بچا بچا کر رکھنے کی تلقین کر رہے ہو اس کے بارے میں میرے باپ نے مجھے بتایا تھا کہ اسے اس نے اپنے باپ سے یعنی میرے دادا سے حاصل کیا تھا میرے دادا نے یقیناََ پیسہ پیسہ جمع کر کے یہ دولت اکٹھی کی ہو گی جسے وہ اپنے بیٹے کے لیے چھوڑ کر مر گیا ہو گا۔ یہی معاملہ میرے ساتھ بھی پیش آ سکتا ہے کہ میں بھی اسے اپنے بچوں کے لیے چھوڑ کر مر جاؤں گا۔ جب صورت حال یہ ہو تو کیوں نہ اسے اپنے ہاتھوں سے خرچ کیا جائے اور مستحق لوگوں کو ان کا حصہ اپنے ہاتھ سے پہنچا دیا جائے۔ اس کا مجھے فائدہ یہ پہنچے گا کہ میری آخرت سنور جائے گی۔

اس حکایت میں کنجوسی اور فیاضی کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے سخاوت کو سراہا گیا ہے اور یہ سبق دیا گیا ہے کہ اپنے ہاتھ کو نہ تو گریبان سے باندھ لیا جائے اور نہ ایسا کشادہ دست بنا جائے کہ ایک دن دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے۔ (حکایتِ سعدیؒ )

سچائی کے بعد اسلام کی دوسری  بنیادی اخلاقی تعلیم سخاوت ہے‘ سخاوت کے حقیقی معانی اپنے کسی حق کو خوشی کے ساتھ دوسرے کے حوالہ کر دینے کے ہیں اور اس کی بہت سی صورتیں ہیں‘ اپنا حق کسی کو معاف کرنا‘ اپنا بچا ہوا مال کسی دوسرے کو دینا‘ اپنی ضرورت کا خیال کیے بغیر کسی دوسرے کو دینا‘ اپنی ضرورت کو روک کر کسی دوسرے کو دینا‘ دوسرے کے لیے اپنے جسم کی قوت کو خرچ کرنا‘ اپنے دماغ کی قوت کو خرچ کرنا‘ اپنی آبرو کو خطرہ میں ڈال دینا‘ اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دینا‘ دوسروں کو بچانے کے لیے یا حق کی حمایت میں اپنی جان دے دینا‘ یہ سب سخاوت کی ادنیٰ اور اعلیٰ قسمیں ہیں جن کے امتیاز کے لیے الگ الگ نام رکھے گئے ہیں۔ سخاوت اور فیاضی کی تعلیم وسیع معنوں کو گھیرے اور اخلاق کی بے شمار ضمنی تعلیموں پر محیط ہے اور ان سب کا منشاء یہ ہے کہ اپنی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچایا جائے۔اللہ کی راہ میں جو سخاوت کی جائے ضرور ی ہے کہ اس میں خلوص نیت ہو‘ اس سے مقصود نہ تو کسی کو ممنون احسان بنانا ہو اور نہ اس کا الاہنا دینا ہو۔

کفر اور نفاق کے بعد مال و دولت کی محبت ہی وہ کثیف غبار ہے جو دل کے آئینہ کو میلا کرتا اور حق کے قبول سے روکتا رہتا ہے‘ دنیا کی  اصلاحات کی پوری تاریخ اس واقعہ پر گواہ ہے‘ اسی لیے اسلام نے جب اپنی دعوت اور اصلاح کا کام شروع کیا تو سب سے پہلے دلوں کے اسی میل کو دھونا چاہا‘ اور جودو سخااور دادودہش کی برملاتعریف‘ اور جمع مال‘ حرص و طمع اور بخل کی بہت مذمت کی‘ اور اس بات کی کوشش کی کہ اس کی تعلیم کا یہ اثر ہو کہ اس کے پیروکاروں کے دلوں سے مال و دولت کی محبت ہمیشہ کے لیے جاتی رہے۔ مال و دولت کی بے پناہ محبت ‘ سچائی اور نیکی کے راستہ پر چلنے سے روکتی ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ اگر میں نے یہ راستہ اختیار کیا تو میری یہ دولت مجھ سے چھن جائے گی اور میرا مال خرچ ہو جائے گا‘

اسی وسوسۂ شیطانی کو اللہ نے سورہ بقرہ میں ان لفظوں میں بیان کیا ہے کہ’’ شیطان تم کو محتاجی کا خیال دلاتا ہے اور تمہیں بے حیائی کی بات (بخل) کرنے  کو کہتا ہے‘‘۔ ہر جاندار کی روزی اللہ کے ذمہ ہے‘ اس کا یقین انسان کو آ جائے تو سخاوت اور فیاضی کا ہر راستہ اس کے لیے آسان ہو جائے۔

احادیث میں مختلف انداز سے سخاوت کی تعریف کی گئی ہے سخاوت کی تعلیم کی تشریح اور تاکید کی ہے‘ فرمایا’’تم باندھو نہیں ‘ ورنہ تم پر باندھا جائے گا‘‘یعنی اگر تم اپنی تھیلی کا منہ بند کرو گے اور دوسروں کو نہ دو گے تو اللہ بھی اپنی تھیلی کا منہ تم سے بند کر لے گا اور تم کو نہیں دے گا۔ ایک دفعہ آپ نے قرآن پاک میں یہ آیت پڑھی ’’تم کو مال و دولت اور نازونعمت کی بڑھوتری نے غفلت میں ڈال دیا‘‘ پھر فرمایا آدم کے بیٹے کا یہ حال ہے ،کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال! اور تیرا مال تو وہی ہے جو تو نے صدقہ کیا اور آگے چلایا یا کھا لیاتو اس کو فنا کر چکا‘ اور پہن لیا تو اس کو پرانا کر چکا۔فرمایا’’ رشک دو ہی پر روا ہے‘ ایک اس پر جس کو اللہ نے دولت دی ہے تو وہ ہاتھوں سے اس کو صحیح مصرف (حق) میں لٹا رہا ہے‘ دوسرے اس پر جس کو اللہ نے علم دیا ہے تو وہ اس کے مطابق بتا رہا ہے اور سکھا رہا ہے‘‘۔ یہ بھی سخاوت نہیں کہ کوئی عمر بھر اپنی دولت کو اپنے کلیجے سے لگائے رکھے اور یقین ہو جائے کہ اب یہ عمر بھر کی ساتھی ساتھ چھوڑ رہی ہے تو ہتھیلی مل کر افسوس کرے کہ اب ذرا سابھی موقع مل جائے تو اس کو نیک کاموں میں لٹا جاؤں‘ اس لیے جو کچھ کرنا ہے وقت پر کرنا چاہیے‘

ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ کون سا صدقہ سب سے بڑا ہے؟ فرمایا’’ یہ کہ تم صدقہ کرو اور تم تندرست ہو‘ مال کی خواہش ہو اور جینے کی بھی امید ہو اور تم اس پر ڈھیل نہ دو کہ جب جان حلق تک آ جائے تو تم کہو کہ فلاں کو اتنا دو اور فلاں کو اتنا دو‘ حالانکہ وہ تو اب (تمہارے بعد) فلاں کا ہو ہی چکا‘‘۔ فرمایا’’ اے آدم کے بیٹے! تیرا دینا تیرے لیے بہتر اور تیرا رکھ چھوڑنا تیرے لیے برا ہے‘‘۔

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *