ایمنسٹی سکیم،قانون سازی یا واردات۔۔۔آصف محمود

جناب وزیر اعظم کی اس بات سے اختلاف نہیں کہ اپنی مدت اقتدار کے آخری لمحے تک وہ قانون سازی کرنے کا حق رکھتے ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ قانون سازی کسی بچے کی ضد نہیں جو اس کی دل جوئی کی خاطر مان لی جائے، یہ ایک سنجیدہ عمل ہے جو مضحکہ خیز ہو جائے تو اپنا اعتبار کھو دیتا ہے۔ ایمنسٹی سکیم کا اگر ایک دو چھٹانک بھرم قائم رکھنا ہے تو ضروری ہے چند سوالات کا جواب دیا جائے۔

پہلا سوال آئینی ہے۔ صدارتی آرڈی ننس کے اجراء کے بارے میں آرٹیکل 89 میں چند اصول طے کر دیے گئے ہیں ۔ صدارتی آرڈی ننس اس وقت جاری ہو سکتا ہے جب پارلیمان کا اجلاس نہ ہو رہا ہو ۔ لیکن محض اجلاس کا نہ ہو نا آرڈی ننس جاری کرنے کا جواز نہیں بن سکتا بلکہ صدر مملکت کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے فہم و شعور کو استعمال کر کے اس بات کی بھی تسلی کر لیں کہ کیا واقعی حالات اتنے سنگین ہو چکے ہیں کہ اب پارلیمان کے اجلاس کا انتظار نہیں کیا جا سکتا اور فوری طور پر آرڈی ننس جاری کرنا ضروری ہو چکاہے۔ کیا انہوں نے یہ تسلی کی؟ اتوار کو صدر محترم جاری فرما رہے ہیں اور جس وقت انہوں نے اس پر دستخط کیے اس وقت ان کے علم میں تھا کہ سوموار کو سینیٹ کا اجلاس بلایا جا چکا ہے ۔ کیا صدر محترم اس بات کی وضاحت فرما سکتے ہیں کہ حالات میں ایسی کیا سنگینی واقع ہو چکی تھی کہ وہ چند گھنٹوں کا انتظار بھی نہ فرما سکے اور آرڈی ننس جارہ کر دیا ؟ چند گھنٹے صبر کر لیا جاتا تو کون سی قیامت ٹوٹ پڑتی؟ صدر پاکستان کسی حکمران کے منیم جی نہیں ہوتے وہ ریاست کے سربراہ ہوتے ہیں اور ریاست کا سربراہ بھلا نواز شریف کا ممنون ہو لیکن وہ ان پابندیوں کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہے جو اس پر آئین پاکستان نے عائد کر رکھی ہیں؟ ویسے تو ممنون حسین اس قوم کو ا خلاقیات کے اقوال زریں سناتے رہتے ہیں ۔ کیا وہ اس قوم کو راز کی یہ بات بھی بتانا پسند فرمائیں گے کہ آئین نے ان پر جو ذمہ داری عائد کی تھی انہوں نے محض حکمرانوں کی خوشنودی کے لیے اسے نظر اندازکیوں کر دیا؟

دوسرے سوال کا تعلق حکمران لیگ کی سیاسی اخلاقیات سے ہے۔ کیا اتنی اہم پالیسی کا اعلان کیا اس طرح کیا جاتا ہے؟ اقتدار کی مدت کو عدت کے تقدس کے ساتھ مقصود بالذات سمجھ کر گزار دیا گیا ۔ اس سارے عرصے میں ایسی کوئی پالیسی لانے کا خیال نہیں آیا ۔ اب جب عدت ، معاف کیجیے ، مدت ختم ہونے کو ہے تو اچانک وزیر اعظم قوم کو بتاتے ہیں ہم یہ پالیسی نافذکرنے جا رہے ہیں ۔ کیا قانون سازی اس طرح ہوتی ہے؟ دن میں پانچ بار موذن اذان دیتا ہے اور پچاس بار اہل دربار منادی کرتے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو۔ لیکن حالت یہ ہے کہ آپ کی ایک اپنی جماعت ہے آپ نے اس کو اعتماد میں نہیں لیا ۔ ایک پارلیمان ہے جس کی بالادستی کی آزاد نظمیں آپ روز اس قوم کو سناتے ہیں ، آپ نے اس پارلیمان کو بھی اس قابل نہیں سمجھا کہ اس سے مشاورت کر لیتے۔ کسی سیاسی جماعت سے مشورہ کرنا بھی آپ کو گوارا نہیں ۔ توکیا اسی طرح ووٹ کو عزت دی جاتی ہے کہ منتخب پارلیمان کے اجلاس بلائے جا چکے ہوں اور ان اجلاسوں کے انعقاد سے چند گھنٹے پہلے آپ صدارتی آرڈی ننس کے ذریعے قانون سازی کر لیں؟ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ مشکوک قانون سازی سے وزیر اعظم اور صدر پاکستان کی عزت میں اضافہ ہو ا ہے ؟

تیسرے سوال کا تعلق حکمرانوں کے معاشی ویژن سے ہے ۔ سوال یہ ہے کہ آپ کی معاشی پالیسی کیا ہے ؟ ایک طرف تو ایمنسٹی سکیم لائی جا رہی ہے کیونکہ معاشی حالت بہت خراب ہے اور دوسری جانب گڈ گورننس کا عالم یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں کسی حکمران نے اتنے قرضے نہیں لیے جس اس دور حکومت میں لیے گئے۔ اس سے پہلے ایک دور میں حکومت ملی تو ’’ قرض اتارو ملک سنوارو‘ مہم چلائی گئی ۔ کیا تاریخ میں ایسی مضحکہ خیز طرز حکومت کی کوئی مثال مل سکتی ہے کہ ایک دور میں باقاعدہ مہم چلا دی جائے قرض اتارو ملک سنوارو اور اگلی بار حکومت ملے تو ملکی تاریخ کاسب سے زیادہ قرض حاصل کرنے کا ریکارڈ اپنے نام کر لیا جائے۔ کیا اس غیر سنجیدگی سے ملک کی معاشی پالیسیاں طے کی جا سکتی ہیں؟ ایک حکمران جب اقتدار میں آتا ہے تو اس کا ایک فلسفہ حکومت ہوتا ہے۔ ایک پوری فکر اور ایک مکمل منصوبہ اس کے پاس ہوتا ہے تب جا کر وہ مہاتیر محمد اور طیب اردگان کی طرح معاشی انقلاب برپا کر دیتا ہے۔ کیا یہی آپ کا ویژن ہے کہ کبھی کہا قرض اتارو ملک سنوارو اور پھر کشکول بھروانے کے ریکارڈ قائم کر دیے؟

چوتھا سوال یہ ہے کہ اگر معاشی حالات اتنے ہی خراب ہو چکے ہیں کہ آپ کوایسی ایمنسٹی پالیسی دینی پڑی ہے تاکہ کچھ پیسے ملک میں واپس آ جائیں تو پھر یہ نکتہ ملک کے اندر آپ کے فیصلوں میں کیوں ظہور نہیں کر پاتا ؟ مثال کے طور پر راولپنڈی اسلام آباد میڑو کا پراجیکٹ ہے۔ معاشی حالات اتنے ہی خراب تھے تو یہ سفید ہاتھی پالنے کی کیا ضرورت تھی ۔ ورکنگ ڈیز کے حساب سے معاملہ کیا جائے تو ہر روز قریبا ایک کروڑ روپیہ اس میٹرو کا خسارہ ہے ۔ کیا اس کا کوئی جوا ز ہے کہ ایسے منصوبے پر روزانہ ایک کروڑ کی سبسڈی دی جائے؟ معاشی مسائل کا شکار ملک اس طرح کی عیاشی کا متحمل کیسے ہو سکتا ہے؟ معاشی حالات اس قدر خراب ہوں تو کیا محض سیاسی مفادات کے لیے نیم خواندہ قوم کو دھوکہ دینے کے لیے ایسے پراجیکٹس بنائے جاتے ہیں؟ ایک طرف یہ کہہ کر اداروں کی نجکاری کا ماحول بنایا جا رہا ہے کہ پاکستان کی معاشی حالت اس قابل نہیں کہ ان اداروں کو مزید سبسڈی دے سکے اور دوسری جانب میٹرو جیسے پراجیکٹ قائم کر کے ملکی معیشت پر نیا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔اس کا کیا جواز ہے؟حکمران خاندان کی تصاویر کے ساتھ صرف وفاقی حکومت نے میڈیا کو جو اشتہارات جاری کیے ان کی مالیت گیارہ ارب سے زیادہ ہے۔ ملکی معاشی حالات واقعی خراب ہیں تو آپ کا طرز حکومت مغل شہنشاہوں جیسا کیوں ہے؟

پانچویں سوال کا تعلق اس ایمنسٹی سکیم کی شان نزول سے ہے۔ اس کا مقصد کیا ہے؟ سرمایہ واپس لانا یا چند لوگوں کے کالے دھن کو سفید کرکے انہیں قانون کی گرفت سے بچانا ؟ سرمائے کی اپنی نفسیات ہوتی ہے۔ جہاں اسے خوف محسوس ہو وہ وہاں سے بھاگ جاتا ہے ۔ یہ سکیم متنازعہ ہو چکی ۔ کل کو کسی اور جماعت کی حکومت بنتی ہے تو اس کا کیا مستقبل ہے؟ آئین کے مطابق اسمبلی ایک قرارداد اس کے خلاف لے آئے اور آرڈی ننس خود بخود منسوخ ہو جائے گا۔سینیٹ سے اس کے پاس ہونے کا ویسے ہی کوئی امکان نہیں۔یہ امکان ہوتا تو ٓارڈی ننس ہی نہ آتا۔پھر چیئر مین سینیٹ اگر اس کے خلاف رولنگ دے دیتے ہیں؟اگر اسے عدالت میں چیلنج کر دیا جاتا ہے؟ اس طرح کے بہت سارے سوالات ہیں۔کالے دھن والے ان سوالات کی موجودگی میں سرمایہ کیسے واپس لائیں گے جب کہ ان کے سر پر تلوار لٹک رہی ہو کہ آرڈی ننس منسوخ ہو گیا تو وہ دھر لیے جائیں گے؟ اس عالم میں سرمائے کی واپسی کا امکان کم ہے۔حکمرانوں کا مقصد اگر سرمائے کی واپسی ہے تو وہ اس پہلو سے کیسے بے نیاز ہو گئے؟

ایمنسٹی سکیم درد دل سے کی جانے والی قانون سازی ہے یا پوری تجربہ کاری سے ڈالی جانے والی واردات؟ اس کا تعین ان پانچ سوالات کے جواب سے ہو گا۔ کوئی ہے جو ان سوالات کا جواب دے؟

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *