• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ناصر زیدی کی سالگرہ کے موقع پر مسعود قریشی مرحو م کی یاد گار تحریر

ناصر زیدی کی سالگرہ کے موقع پر مسعود قریشی مرحو م کی یاد گار تحریر

( ریڈیو پاکستان کے سابق کنٹرولر مسعود قریشی مرحوم کی ایک یادگار تحریر)
ایک دفعہ مولوی محمد سعید مرحوم سابق ایڈیٹر ’’پاکستان ٹائمز‘‘ نے کہا ’’جب کوئی مصنف کتاب لکھہ کر رونمائی کی محفل میں موضوعِ گفتار بنتا ہے تو اسے نہ صرف اپنے بارے میں عجیب عجیب انکشافات سننے پڑتے ہیں بلکہ ایجاب و قبول کے طور پر ان کے اثبات میں ہنسنا یا کم از کم مسکرانا بھی پڑتا ہے آج ناصر زیدی پر بھی یہی بیت رہی ہے‘‘۔۔۔ٹیلی ویژن اور ریڈیو کا مقبول فی البدیہہ کمپیئر، محفلوں اور مشاعروں کا شگفتہ سٹیج سیکرٹری آج اپنے بارے میں بہت کچھ سن رہا ہے اور مسکرا رہا ہے اس کو مکافاتِ عمل کہتے ہیں۔

ادیبوں کے بارے میں میرا ایک نظریہ ہے وہ یہ کہ جو ادیب محفلوں کے رسیا اور خود محفل آرا ہوتے ہیں ان کی ادبی تخلیقات، ان کے تخلیقی امکانات کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہیں جیسے پطرس بخاری، زیڈ اے بخاری اور ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر وغیرہ اس کے برعکس کم آمیز کم گو ادیبوں کی ادبی تخلیقات زیادہ ہوتی ہیں جیسے میرزا ادیب اور عشرت رحمانی۔ وجہ یہ ہے کہ خوش گفتار، محفل آرا ادیبوں کی خلش اظہار زبانی گفتگو سے تسکین پا جاتی ہے اور طلب اظہار میں وہ شدت نہیں رہتی جو تخلیق ادب پر اکسائے۔ناصر زیدی کا شمار پہلی قسم کے ادیبوں میں ہوتا ہے۔ چودہ پندرہ سال تک ماہنامہ’’ادب لطیف‘‘ لاہور کا ایڈیٹر رہا تو اس کا دفتر ہمہ وقت حلفہ ارباب ذوق کی ادبی نشست بنا رہتا۔ شامیں احسان دانش کے ڈیرے پر شاعروں اور ادیبوں کے جھرمٹ میں گزرتیں۔ راولپنڈی آ گیا تو یہاں کی ادبی محفلوں میں جان پڑ گئی۔ ہر محفل میں موجود ہر محفل کی جان۔ محفل ختم ہوئی تو اپنی محفل جمالی بقول اس کے :
شعور بخشا ہمہ رنگ محفلوں نے مجھے
ناصر زیدی کی شخصیت میں اتنی کشش ہے کہ شاعر ادیب کھنچے چلے آتے تھے وہ حسبِ ضرورت سب کی دلجوئی کرتا ہے اور ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ کسی کو تحقیق میں نایاب حوالوں کی ضرورت ہے تو وہ ناصر اسے دیگا۔ کسی کو پبلشر نہیں ملتا تو اسے مہیا کرے گا۔ کسی کو کھانا کھلائے گا، ریڈیو، ٹی وی پر بکنگ دلوائے گا۔ان کاموں کے لئے اس کا ’’اڈہ‘‘ راولپنڈی میں ’’مرحبا ہوٹل‘‘ ہوتا تھا اب اسلام آباد ہوٹل عرف ہالیڈے ان ہے اللہ تعالیٰ خادمانِ خلق کے درجے ایسے ہی بلند کرتا ہے۔ناصر زیدی کی زندگی کتاب سے عبارت ہے۔ اسلام آباد ریڈیو سے اپنے ہفتہ وار پروگرام ’’کتاب نما‘‘ میں اپنی گفتار کا آغاز اس پیغام سے کرتا ہے:
اللہ شوق دے تو کتابیں پڑھا کرو

اس کے گھر جاؤ تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا گھر کتابوں کا مسکن ہے۔ گھر والے محض رکھوالے یا عارضی مہمان ہیں۔ جب کتابوں سے کمرے بھر جائیں گے تو یہ لوگ غیرت مند مہمانوں کی طرح خود ہی گھر سے چلے جائیں گے، یہ وقت آ چکا ہوتا لیکن خدا بھلا کرے اس چور کا جو کتابوں رسالوں کے انبار برآمدے میں سے ردی سمجھ کر اٹھا لے گیا اور گھر والوں کو رہائش کی مدت میں کچھ Extension مل گئی ہے ہمارے ساتھ ’’اسپیچ رائٹر‘‘تھا تو میز پر کتابیں، الماری میں کتابیں، ریک پر کتابیں۔ کمرے کا نیا متصرف پیغام پر پیغام بھیج رہا ہے کہ ناصر زیدی یہ کتابیں لے جاؤ مجھے ان سے وحشت ہو رہی ہے تقریر لکھنے میں توجہ بٹتی ہے لیکن ناصر اس امید پر کتابیں نہیں اٹھا رہا کہ شاید مجبوری میں وہ کچھ پڑھ لے۔طویل فعال ادبی زندگی کے باوجود اس کے صرف دو شعری مجموعے شائع ہوئے ہیں ذوقِ اظہار کی باقی خلش وہ محفل آرائی سے پوری کر لیتا ہے البتہ مختلف اصنافِ ادب سے انتخاب کے مرتب کردہ مجموعے بے شمار ہیں ان کے علاوہ ادبی مجلسی سرگرمیاں ہیں۔
ناصر کی ادبی زندگی کے بہت سے پہلو ہیں شاعر، محقق، مرتب، کالم نویس، مدیر مورخ اور ادبی جاسوس، جاسوسی کا پہلو یہ ہے کہ وہ یتیم مگر مشہور و آوارہ شعروں پر اصل خالق کی تحقیق کر کے انہیں حسب نسب عطا کرتا ہے کسی سے غلط طور پر منسوب شعر کو اپنے خالق سے ملاتا ہے۔تحقیق کے میدان میں وہ سنگدل بھی ہے اور بدلحاظ بھی اس کی ادبی تحقیق اندھے کی لاٹھی ہے اس کی زد میں جو آگیا وہ نہ بچا، چاہے اس کا کوئی نام اور مقام ہو ان تمام جہتوں کے باوجود ناصر زیدی کی اصل پہچان اس کی شاعری ہے۔کسی ادیب کے فن پر مَیں محفلوں میں تنقیدی مقالے پڑھنے یا سننے کا قائل نہیں۔ تنقیدی مقالے سننے سنانے کی نہیں لکھنے، پڑھنے کی چیزہیں اس لئے میں ناصر زیدی کی شاعری کے بارے میں محض چند اشارے کروں گا جو اس کی دو شعری کتابوں ’’ڈوبتے چاند کا منظر‘‘ اور ’’وصال ‘‘کے مطالعے کا حاصل ہیں۔ناصر زیدی بنیادی طور پر حسن و عشق کا شاعر ہے لیکن اس کا تصور اس کا اپنا ہے روایتی نہیں:
ہے خوب اپنی جگہ گفتہ فراق و حفیظ
میں بات کیوں نہ کروں اپنے ہی حوالے سے
ناصر زیدی محبت کے چمن میں چہل قدمی کر رہا ہے فرہاد کی طرح کسی کڑے امتحان میں نہیں پڑا۔ نہ رانجھے کی طرح ایسے سخت عذاب سے گزرا ہے جس کی تلخیاں اس کی ساری زندگی میں گھل جائیں۔ اس کا رویہ معقول، حقیقت پسندانہ اور انسانی ہے:
یوں خوش ہیں آج اس سے ملاقات پر کہ ہم
تسخیر جیسے ارض و سما کر کے آئے ہیں

انتخاب اپنا ہے سمجھہ اپنی
وہ برا بھی سہی ہے اچھا بھی

وہ جب ملا تو دلوں میں کوئی طلب ہی نہ تھی
بچھڑ گیا، تو ہماری ضرورتیں تھیں بہت

تری باتیں، تری یادیں، ترے رنگین خطوط
اپنے ہمراہ یہی زادِ سفر رکھتے ہیں

بہت دنوں سے مرا اس کا سامنا نہ ہوا
مجھے بھی عمر ہوئی ہے اسے بھلائے ہوئے

ناصر زیدی کی رومانوی شاعری کا ایک اور پہلو نرگسیت ہے یعنی خود جمال پرستی یہ خود جمال پرستی محبوبانہ نہیں عاشقانہ ہے عام طور پر اردو شاعری میں یہ رویہ وقارِ عشق کا مظہر ہوتا ہے لیکن ناصر کے ہاں یہ رویہ وقار سے زیادہ غرور عشق کا رنگ لئے ہوئے ہے جس پر توہینِ حسن کا الزام عائد ہو سکتا ہے:
جسے چاہوں اسے اپنا بنا کر چھوڑ دیتا ہوں
حسینوں کو بہت نزدیک لا کر چھوڑ دیتا ہوں

ملا بھی وہ تو کہاں اُس کا نام لکھیں گے
کتابِ زیست کا کوئی ورق بھی سادہ نہیں

مرے سوا تجھے پہچانتا بھی ہے کوئی
تری گلی میں ترا نام پوچھ کر دیکھوں

پرانی دوستیاں وہ نبھائیں اے ناصرؔ
کہ جن کے واسطے مشکل ہو دوستانہ نیا

عشق و محبت کے علاوہ بھی زندگی کا وسیع منظر ہے جو اتنا رنگین تو نہیں لیکن بہت اہم ہے۔ کشمکش اور واقعات و تجربات کی اس دنیا میں ناصر ابھی گھوم پھر رہا ہے اپنی منزل کا تعین نہیں کیا:
چلے چلو کہ سفر ہے ابھی طویل بہت
نشانِ منزلِ مقصود بے نشاں ہے ابھی
بہرحال۔ واضح منزل کا تعین نہ سہی لیکن اس کے سفر کے رخ کا تعین ضرور ہو چکا ہے یہ راستہ ہے انسان دوستی کا، ہمت اور حوصلے کا اور زیر دستوں سے ہمدردی کا:
ہمتِ کوہ شکن ہے مجھ میں
پھر بھی صدیوں کی تھکن ہے مجھ میں
سب کے غم میں ہوں برابر کا شریک
ساری دنیا کی دُکھن ہے مجھ میں
البتہ وہ کشمکشِ حیات میں کسی فریق کا مجاہد یا باغی نہیں۔ یہ فیصلہ ابھی اسے کرنا ہے۔ اس وابستگی کے بعد اس کی شاعری میں شگفتگی کم اور شدت زیادہ ہو جائے گی۔ عمومی طور پر اس کا رویّہ مثبت اور رجائی ہے:
دیکھ لیتی ہے جہاں عزم و یقیں کے پیکر
رُخ بدلتی ہے وہاں گردشِ دوراں اپنا

اس کے باوصف کہ ہر سمت اندھیرا ہے محیط
ہم ہیں وہ لوگ جو اُمیدِ سحر رکھتے ہیں

ویسے شاعر و ادیب کے لئے یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ زندگی میں کسی فریق کے ساتھ مستقل وابستگی ضروری ہے بھی کہ نہیں؟ کیونکہ اس وابستگی کے بعد ادیب اپنے حلیف پر تنقید و احتساب کا حق کھو بیٹھتا ہے البتہ اس قربانی سے اسے اپنے گروہ کے حمایتیوں کی تحسین و ستائش میسر آجاتی ہے چاہے اس کا معیارِ تخلیق کچھہ بھی ہو۔ بہر طور شاعر و ادیب کو یہ فیصلہ خود کرنا ہوتا ہے۔ ناصرؔ زیدی کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنا سفرِ ادب، آزاد قلم ادیب کی حیثیت سے جاری رکھنا چاہتا ہے یا کسی واضح گروہ کا حلیف بن کر کیونکہ ابھی تو عالم یہی ہے کہ :
ہر سُو چھایا ہوں ناصر

بشکریہ اسلم ملک!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *