بِگ بینگ سے بلیک ہولز تک۔۔۔قیصر نذیر خاور

(سٹیفن ہاکنگ کی آخری رسومات کے موقع  پر لکھی گئی تحریر)

۱۳ اور ۱۴ مارچ کی درمیانی شب ، مجھے اک خواب آیا ( میں خواب نہیں دیکھتا سوائے ایک کے کہ ساری دنیا میں کمیونزم چھا گیا ہے ۔ ) پر اِس خواب میں آئن سٹائن میرے روبرو تھا ۔ وہ بولا ؛
” تمہیں پتہ ہے ! صبح میرا جنم دن ہے ۔ ”
میں نے کہا ؛ ” ہاں ، مجھے پتہ ہے ۔ یہ دن مجھے کم از کم تین حوالوں سے تو ضرور یاد ہے ؛ اول تمہاری پیدائش ، دوم اپنی دولہن کی رخصتی اور تیسرے اپنے والد کی موت ، جس کے جنازے میں ، میں شریک نہیں ہو سکا تھا ۔ ”
” جنازے میں تو تم میرے بھی شریک نہ ہو سکے تھے کہ تم ابھی دو سال کے تھے اور پولیو کی وجہ سے چل نہیں سکتے تھے لیکن کیا تمہیں یہ پتہ ہے کہ جب تم میرے حوالے سے فیس بک پر اپنی وہ پوسٹ revive کرو گے ( جو تم نے اس وقت لگائی تھی جب تم او پی ایف بوائز کالج اسلام آباد کے پرنسپل تھے اور تم نے ایک بڑے پوسٹر میں مجھے اور میری انرجی کے بارے میں مساوات کو نیوکلیئر توانائی کے ساتھ دکھا کر آویزاں کروایا تھا ۔ ) تو اُس وقت دنیا سے میرے جیسا ایک اور بندہ رخصت ہو جائے گا ، جو اس روز پیدا ہوا تھا جب گلیلو کا 300 واں جنم دن تھا اور جو تھیوریٹیکل فزکس میں دیگر کام کے علاوہ ‘ وقت ‘ میں ‘ آگے پیچھے جانا ‘ جانتا ہے ۔ ۔ ۔ وقت ، جس کی Dimension میں نے دریافت کی تھی ۔ ”
میں نے پوچھا ؛ ” وہ کون ہے ؟ ”
آئن سٹائن بولا ؛
” لگتا ہے ، تم مارکس ، اینگلز ، فرائڈ اور مجھ میں ہی پھنسے رہے ہو ۔ صبح اٹھو گے تو خود ہی جان لو گے کہ میں کس کی بات کر رہا ہوں ۔”
یہ کہہ کر آئن سٹائن میرے خواب میں دھویں کا مرغولہ بنا اور ہوا میں یا شاید خواب میں ہی تحلیل ہو گیا ۔
میں صبح اٹھا تو میرے سر پر دو چیزیں سوار تھیں,ایک بیوی کو ‘ ہیپی اینی  ورسری ‘ کہنا اور دوسرے اپنے والد کی قبر پر جا کر تعظیم پیش کرنا ۔
جب میں ان دونوں سے فارغ ہوا تو مجھے اپنے فیس بک کی وال کو اَپ ڈیٹ کرنا یاد آیا ؛ ایسے میں مجھے آئن سٹائن یاد آیا کہ ۱۴ مارچ اس کا جنم دن تھا ۔  ۔ ۔ پھر مجھے رات والا خواب بھی یاد آیا جس میں اس نے مجھے کسی بندے کے مرنے کی خبر سنائی تھی ۔ میں نے نیوز اَپ ڈیٹس دیکھی۔۔
ان میں سٹیفن ہاکنگ  کے مرنے کی خبر بھی اہم خبروں میں شامل تھی ، وہ اک لمبے کشٹ کے بعد دنیا چھوڑ چکا تھا ، گو کہ اس کی دو بیویوں ‘ جین ‘ اور ‘ ایلین ‘ نے اس کو شانت رکھنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی گو جین سے اس کا ‘ مذہب ‘ پر پھڈا ساری عمر رہا ۔ اس کے ہم عصر سائنس دانوں نے اسے ہر نیا گیجٹ مہیا کیا جسے وہ استعمال کرنے سے ہمیشہ انکاری رہا ۔ آئن سٹائن کی طرح وہ بھی ۷۶ برس کا تھا ۔
مجھے اس کی کتاب ‘ A Brief History of Time: From the Big Bang to Black Holes ‘ یاد آئی اور ساتھ میں ایچ جی ویلز بھی یاد آیا جس نے سائنس فکشن کے علاوہ ‘ A Short History of the World ‘ بھی لکھی تھی اور جید تاریخ دانوں کے منہ پر ایک ایسا طمانچہ مارا تھا کہ رہتی دنیا تک یاد رہے گا ۔

کچھ ایسا ہی سٹیفن ہاکنگ  کے ساتھ ہے ۔ اس کا سائنسی کام اپنی جگہ لیکن اس کا فکشن میں کام بھی کچھ کم نہیں خاص طور پر بچوں کے لئے لکھی کہانیاں ، جو اس نے اپنی بیٹی ‘ لوسی’ اور ‘ کرسٹوفی ‘ کے ساتھ مل کر لکھیں اور جارج نامی فکشنل کردار تخلیق کیا ۔ یہ کردار پانچ کتابوں میں سامنے آیا ۔ اس کی اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ‘ My Brief History ‘ بھی اپنی جگہ اہم ہے ۔ یہ ۲۰۱۳ ء میں سامنے آئی اور مجھے ذرا sketchy سی لگی تھی ۔

ایچ جی ویلز کے مرنے کے وقت تو میں ابھی پیدا ہی نہ ہوا تھا ، آئن سٹائن کے مرنے کے وقت میں دو سال کا تھا ۔ باپ کے مرنے پر میں بدیس میں تھا اور اے پیارے سٹیفن ہاکنگ  ، تمہارے مرنے پر میں تمہارے دیس میں نہیں  ہوں  اور خود بھی کئی امراض کا مقابلہ کر رہا ہوں ۔
اس لئے معذرت کہ میں تمہاری آخری رسومات میں شریک نہ ہو سکوں گا ۔
میرے لئے ‘ اپنوں ‘ کی آخری رسومات میں شرکت خدا ( اگر وہ ہے تو ) نے ویسے ہی ممنوع قرار دے رکھی ہے ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *