ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن۔۔۔مرزا شہباز حسنین

تغافل اک معمولی سا لفظ ہے ۔مگر اپنے اندر بے پناہ وسعتوں کا حامل ۔ ۔بظاہر یہ بہت چھوٹا سا لفظ اک کیفیت کا اظہار ہے ۔مگر اس کیفیت کی ہلاکت خیزیاں انتہائی طویل ہیں۔تغافل کے بد اثرات اس قدر شدید ہیں کہ اک لمحے کا تغافل سالوں پر محیط پچھتاوا اپنے پیچھے چھوڑ جاتاہے۔غفلت سے کشید کیا گیا رویہ تغافل کہلاتا ہے۔انسان کوئی کام یا عمل کرنا چاہتا ہے مگر اپنی سستی کی بدولت غفلت سے کام لے کر دیر کر دیتاہے۔یہی دیر عمر بھر کا پچھتاوا بن جاتی ہے۔اور انسان تاسف سے سوچتا ہے کاش میں بروقت   کچھ کر لیتا   تو خسارے سے بچ جاتا۔اک عمل انسان کرنا ہی نہیں چاہتا تو ایسے عمل کا انسانی زندگی پر کوئی تاثر قائم نہیں رہتا۔مگر ایسا عمل جو انسان کرنے کی خواہش رکھتا ہے مگر بروقت نہیں کرپاتا اپنی غفلت کی بنا پر جب اس کے اثرات سامنے آتے ہیں ۔تب سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنے والا معاملہ درپیش ہوتا ہے ۔انسان تاسف کے مارے ہاتھ ملتا رہ جاتاہے۔

یہی تغافل ہمارے معاشرے کا عمومی مزاج بن چکا۔آپ اپنے گھر میں ہی اس رویے کے مظاہرے  روز دیکھتے  ہیں مگر کبھی غور نہیں کرتے ۔ہمارے گھر میں کوئی بیمار ہوجائے۔ہم کبھی بروقت مریض کو معالج کے پاس نہیں لے کر جاتے ۔معالج کے پاس لے جانے میں زیادہ دیر نہیں لگتی ۔بس ہماری غفلت آڑے آ جاتی ہے ۔جس کو شاعر نے تغافل کا نام دے دیا۔جب مریض کی حالت انتہائی بگڑ چکی ہوتی ہے تب ہم معالج کے پاس بھاگتے ہیں ۔یہی رویہ ہمارا زندگی کے تمام معاملات میں ہے ۔چاہے معاشرت ہو یا ریاست ہم ہر جگہ بروقت ایکشن لینے میں تغافل سے کام لیتےہیں۔نتیجے کے طور پر ناکامی اور پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

افسوس اس بات کا ہے کہ ہم مشاہدے کے باوجود سبق نہیں سیکھتے ۔ہر مسئلے  کو دیر تک نظرانداز کرنا ہماری سرشت میں شامل ہو چکا ہے۔معاشرے کی حد تک تو جیسے تیسے یہ تغافل برداشت ہو جاتاہے ۔مگر جب یہی تغافل معاشرت سے ہوتا ہوا سیاست اور پھر ریاست کے معاملات میں دخیل ہوتا ہے ۔تب اس کے انتہائی مہلک اثرات سامنے آتے ہیں ۔پاکستانی ریاست کی تاریخ دیکھ لیں۔ہمیشہ ہر رہنما نے دیر کی تغافل سے کام لیا۔نقصان پوری قوم نے بھگتا۔ذوالفقار علی بھٹو روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر میدان میں آئے ۔مگر اپنے منشور کی تکمیل بروقت نہ کر سکے ۔یہی تغافل آج تک قوم کو روٹی کپڑا اور مکان نہ دلا سکا۔ہم نے بروقت نہ زرعی اصلاحات کیں ۔نہ آج تک ہماری معیشت درست راستے پر گامزن ہوئی۔ریاست نے ہمیشہ دیر کی ۔جنرل ضیاءالحق نے معاشرے میں شدت پسندی اور جذباتیت کو بروقت روکنے میں دیر کی ۔نتیجے کے طور پر بے گناہوں کا خون بہتا رہا۔نوازشریف اور بے نظیر بھٹو اپنے پہلے ادوار میں بروقت جمہوریت اور جمہوری اقدار کے فروغ میں تغافل سے کام لیتے رہے۔ان دونوں کے تغافل نے پرویزمشرف کو قوم پر مسلط کر دیا۔نہ کسی نے لسانیات کے سنپولیے پر بروقت ایکشن لیا ۔نہ فرقہ واریت کے پجاریوں کو روکنے کے لیے سنجیدہ کوشش کی ۔

نت نئے فتنہ گر یہاں جنم لیتے ہیں  مگر آغاز میں ان فتنہ گروں کو کوئی نہیں روکتا۔جب یہ فتنے عفریت بن چکے ہوتے ہیں تو  ریاست کے بزرجمہروں کی آنکھ کھلتی ہے  مگر تب تک تباہی وقوع پذیر ہو چکی ہوتی ہے۔اب کوئی ریاست کے حکمرانوں سے سوال کرے کہ کب تک آپ کا مسائل سے تغافل جاری رہے گا۔ممتاز قادری کے جنازے سے اک جسمانی معذور لیڈر بن کر منظرعام پر ابھرتاہے۔جو جسمانی کے ساتھ ساتھ ذہنی عارضے میں بھی مبتلا ہے ۔جب چاہے جہاں چاہے گالی گلوچ کرے۔راستے بند کر دے۔مریض سڑک پر راستہ بند ہونے کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر جان دے دے ۔مگر کوئی بروقت اس کے خلاف ایکشن نہیں لیتا۔اب اس تغافل کا انجام نجانے کب تک قوم کو بھگتنا پڑے۔منظور پشتین کراچی کے اک نوجوان کے  ماورائے عدالت قتل کے بعد احتجاجی تحریک چلاتا ہے ۔ملک کے دارالحکومت میں پرامن احتجاج کے ذریعے حکمرانوں کو غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کا آغاز کرتا ہے ۔مگر ان بے حس حکمرانوں کا تغافل ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔یہی منظور پشتین اچانک عالمی منظرنامہ پر ابھر رہا ہے ۔دنیا اس کی آواز کو سن رہی ہے۔مگر ہمارے حکمرانوں کا تغافل ہمیشہ کی طرح  ہر بات پر حاوی  ہے۔ایسا نہ ہو کہ منظور پشتین بھی مستقبل کا خون  آشام درندہ بن جائے ابھی بھی وقت ہے منظور پشتین اور خادم رضوی جیسوں کو روک لو ۔قوم لاشوں کا بوجھ اٹھا کر تھک چکی۔

ہم نے مانا کہ  تغافل نہ کرو گے لیکن!
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک!

خدا کے لیے بروقت فیصلے کر کے قوم کا مستقبل محفوظ کر لیں۔تغافل کو اپنے خود احتسابی سے ختم کریں۔ہر شخص اپنی ذات کا محاسبہ کرے۔ہر کام بروقت کرنے کی عادت ہمیں پچھتاوے سے نجات دلا سکتی ہے!

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *