کیا کافی سے کینسر ہوتا ہے؟

اگرچہ حالیہ چند سالوں میں کی جانے والی تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ کافی سے کوئی کینسر نہیں ہوتا، بلکہ یہ انسانی صحت کے لیے بہترین مشروب ہے۔

ایک تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ کافی پروسٹیٹ کینسر کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔

تاہم گزشتہ ایک ہفتے سے کافی سے کینسر ہوسکتا ہے یا نہیں کہ معاملے پر ایک بار پھر کئی دہائیاں پرانی بحث شروع ہوگئی ہے۔

دراصل کافی کے حوالے سے یہ بحث گزشتہ ہفتے امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ایک عدالت کی جانب سے دیے جانے والے فیصلے کے بعد شروع ہوئی۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق لاس اینجلس کی اعلیٰ عدالت کے ایک جج نے ریاست کی کافی کی معروف کمپنیوں اسٹاربکس اور سیون الیون سمیت کئی کمپنیوں کو حکم دیا کہ وہ کافی کے پیکٹ پر یہ انتباہ درج کریں کہ ’کافی سے کینسر ہوسکتا ہے‘۔

عدالت نے کافی کمپنیوں کو یہ حکم 2010 میں ایک نجی تنظیم ’کونسل فار ایجوکیشن اینڈ ریسرچ آن ٹاسکس‘ کی جانب سے دائر مقدمے کی سماعت کے دوران دیا۔

اس تنظیم نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ریاست کیلیفورنیا میں دستیاب کافی میں ’ایکرائل مائڈ‘ نامی کیمیکل موجود ہوتا ہے، جو کافی میں اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب اسے روسٹ کیا جاتا ہے، اور اسی کیمیکل سے کینسر پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

عدالت نے نجی تنظیم کی درخواست پر سماعت کے دوران کافی کمپنیوں اور لوکل دکانداروں کو حکم دیا کہ وہ کافی کے پیکٹ پر یہ انتباہ درج کریں کہ ’کافی پینے سے کینسر پیدا ہونے کے امکانات موجود ہیں‘۔

خبر رساں ادارے کے مطابق اگرچہ عدالت کی جانب سے یہ حتمی حکم نامہ نہیں ہے، تاہم عدالت نے کافی کمپنیوں کو یہ انتباہ درج کرنے کا حکم دیا ہے، جس کے بعد امریکہ سمیت دنیا بھر میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کافی سے کینسر پیدا ہوسکتا ہے یا نہیں؟۔

دوسری جانب امریکا کی نیشنل کافی ایسوسی ایشن (این سی اے) نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

خبر کے مطابق عدالت نے یہ حکم ریاست کیلیفورنیا کے 1986 کے ایکٹ کے تحت دیا ہے، جس کے تحت صارفین کو پانی یا لکویڈ صورت میں دی جانے والی تمام چیزوں سے متعلق واضح آگاہ کیا جانا لازمی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر 2002 میں اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ کافی میں پائے جانے والے ’ایکرائل مائڈ‘ کیمیکل اور کینسر کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کا محکمہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) بھی کافی کے حوالے سے مثبت رپورٹس دے چکا ہے، جب کہ کئی دیگر تحقیقات میں بھی کافی کو انسانی صحت کے لیے بہتر بتایا گیا ہے اور اس کا کینسر کے پیدا ہونے سے کوئی تعلق نہیں بتایا گیا۔

تاہم کیلیفورنیا کی عدالت کی جانب سے دیے گئے حکم نامے کے بعد یہ بحث زوروں پر ہے کہ کافی سے کینسر پیدا ہوسکتا ہے یا نہیں۔

کافی پر نئی بحث چھڑ جانے کے بعد کئی ہیلتھ جرنل نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ امریکی عدالتی فیصلے کا سائنس سے کوئی تعلق نہیں۔

رپورٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ کافی سے کینسر نہیں ہوتا، امریکی عدالت کا فیصلہ قانونی ہے، اسے سائنسی منطق سے نہ دیکھا جائے۔

امریکی اخبار نیو یارک پوسٹ سمیت دیگر بڑی اخباروں نے بھی اپنی رپورٹس میں بتایا کہ کافی پینے سے کوئی کینسر نہیں ہوتا، امریکی عدالت کا فیصلہ قانونی تھا، اسے سائنسی حوالے سے نہ دیکھا جائے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *