چورن

اللہ جنت نصیب کرے ہمارے دادا جان ایک چورن بنایا کرتے جسے ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے تھے جہاں کسی کو کوئی بھی طبعی مسئلہ درپیش ہوتا فوراً نکال کردے دیتے ۔ انکے چورن میں (بقول انکے) ہر مرض کا علاج تھا۔ جب کبھی وہ کسی سے ناراض ہوجاتے یا پریشان ہوتے تو ہم کہہ دیتے واہ دادا جان آپکا چورن بہت کمال ہے میں نے کھایا تو اب کبھی ڈاکٹر کے پاس جانے کی نوبت نہیں آئی وہ فوراً خوش ہوجاتے اور ایک پڑیا نکال کر دے دیتے ۔(جسے ہم باہر جاکر پھینک دیتے) ویسے انکا چورن تھا بہت کمال کا جس سے پیٹ کی تمام بیماریاں ختم ہوجاتیں بھوک پیاس بھی بڑھ جاتی جس سے صحت بھی شاندار رہتی تھی مگر افسوس ہم ان سے اس چورن کا مکمل فارمولا نہیں لے سکے اور وہ وفات پاگئے۔ انکی وفات کے بعد انکے چورن کی قدر ہوئی تو فارمولے کی تلاش شروع کردی کسی نے سوشل میڈیا کا بتایا کہ وہاں چلے جاؤ ۔ یہاں پہنچے تو یہ کیا؟ یہاں تو چورن منڈی لگی ہوئی ہے ہر کوئی اپنا اپنا چورن بیچ رہا ہے لبرلزم کاچورن ، اسلامسٹ کا چورن ، سیکولرازم کا چورن، فیمینزم کا چورن، سوشلزم کا چورن ۔ہر کسی کا دعویٰ ہے کہ ہمارے چورن میں ہر مرض کی شفاء ہے حیرت ہے یہاں تو سب اپنا چورن مفت میں اور زبردستی لوگوں میں بانٹ رہے ہیں ۔ ایک صاحب کا چورن نا بکے تو وہ دوسرے چورن فروش کی دکان(پوسٹ ) میں جاکر اسکے گاہکوں کو اپنا چورن بیچنا شروع کردیتا ہے ۔ گاہک کو چورن پسند آئے تو وہ لائیک کرکے اسکی تعریف کرتے ہیں اور شیئر کرکے دوسرے لوگوں کو بتاتے ہیں اور کمپنی کی مشہوری کرتے ہیں ایک صاحب تو ایسے ہیں جو انکا چورن نہیں لیتا اسکو کافر قرار دے دیتے ہیں ۔ پتا نہی وہ اپنے چورن میں ڈالتے کیا ہیں؟
ہمارے دادا مرحوم تو سونڈ، سونف، جوین،کالی مرچ، نشادر،کالا نمک، سفید نمک، سفید زیرہ، دانہ الائچی، ففل داراز، جو کمار وغیرہ سے چورن تیار کرتے تھے مگر یہاں تو صرف باتوں سے ہی چورن تیار کرکے زبردستی بیچا جاتا ہے ۔ یہاں سب سے مشہور مذہبی چورن ہے جسکی دکانیں آپ کو جابجا نظر آئیں گی ، جن میں نیم حکیم بیٹھے چورن اور معجونیں بناتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ دوسرا یہاں سیکولرزم کا چورن ہے جسے لبرل قسم کے لوگ پینٹ شرٹ پہن کر بڑے اچھے اور سلجھے ہوئے طریقے سے بیچتے ہیں ۔ ان دونوں کے آپس میں کاروباری جھگڑے ہرجگہ شروع ہوجاتے ہیں۔ انکے جھگڑے کو مٹانے کی بجائے وہاں موجود ہر شخص اپنا اپنا چورن بیچنا شروع کردیتا ہے ۔تیسرا مشہور چورن ادبی چورن ہے جسے بڑے پروفیشنل انداز میں صنف نازک کی تصویروں والی پڑیوں میں پیک کرکے بیچا جاتا ہے
اب سنا ہے یہاں اس منڈی میں بھی فراڈ بازی شروع ہوگئی ہے لوگ دونمبر چورن بنا کر ڈبیہ کے اوپر دوسرے چورن فروش کا لیبل چپکا دیتے ہیں جس سے اسکی دکانداری ناصرف ختم ہوجاتی ہے بلکہ لوگ اسکا بِکا ہوا چورن بھی واپس کرجاتے ہیں۔ کبھی کبھار تو اسکو قتل بھی کردیتے ہیں ۔یہاں آپکو امپورٹڈ چورن بھی مل جائےگا۔ کچھ دکانیں ایسی بھی ہیں جہاں غیرملکی چورن بھی بیچا جاتا ہے ۔ان میں ایرانی اور سعودی چورن سب سے زیادہ مشہور ہے ۔کچھ لوگوں کے پاس چورن بنانے کا فارمولہ تو نہیں ہے اس لیے وہ دوسرے کا چورن چوری کرکے اسکی ڈبیہ پہ اپنا نام لکھ کر بیچ دیتے ہیں۔ مجھے حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ یہاں جو ہرکوئی اپنا اپنا چورن بیچ رہا ہے سب حکیم بنے بیٹھے ہیں انکا چورن خریدتا کون ہے؟ یہاں گاہک تو کوئی نظر نہیں آتے بس چورن اے، چورن اے، کی صدائیں ہی آتی رہتی ہیں۔ میرے خیال سے مجھے بھی اجازت دیں اس سے پہلے مجھے بھی کوئی کہہ دے، تم یہاں بھی اپنا چورن بیچنے آگئے؟ تمہارا چورن یہاں نہیں بکے گا اپنا چورن کہیں اور جاکے بیچو! اور ہاں میرا چورن پسند آئے تو لائیک شیئر اور کمنٹ ضرور کرنا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *