• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مادھوری ڈکشٹ سے ایم ایف حسین کے عشق کی داستان۔۔محمد اقبال دیوان

مادھوری ڈکشٹ سے ایم ایف حسین کے عشق کی داستان۔۔محمد اقبال دیوان

ہمارے دیوان صاحب کے آبا ؤ  اجداد کا تعلق ریاست جونا گڑھ سے تھا۔ان پروہان کے سماجی اثرات کی چھاپ بڑی گہری ہے۔خود نان کنفرمسٹ تھے تو علم اور سول سروس کی  طرف چلے گئے گو والد کا خیال تھا کہ پاکستان میں اقتدار دام کا محتاج ہے۔بھاؤ دکھاؤ کام نکالو۔خود کہتے ہیں کہ ہماری طرف میمن گجراتی لوگوں میں طوائفوں، فوج،اور سیاست دانوں کی طرح اعلی تعلیم کو راستے کا پتھر سمجھا جاتا ہے۔آج کل کراچی پر ایک سلسلہ مضامین دراز کیے بیٹھے ہیں جو آپ کے نظر نواز رہتا ہے۔ مگر ہم نے سوچا حضرت کے پاس ایک دل چسپ موضوع اور بھی ہے جو کم از کم اردو زبان میں اب تک بیان نہیں ہوا۔یہ ایک داستان دل ہے،دل چسپ مگر فطرتاً بڑی گجراتی ہے۔مادھوری ڈکشٹ سے ایم ایف حسین کے پیار کی داستان۔
اہل گجرات نے پاکستان میں ہی نہیں ہندوستان میں بھی بہت اودھم مچایا ہے۔ گاندھی جی،ولبھ بھائی پٹیل، ہمارے اپنے جناح صاحب،مودی جی، ایم ایف حسین،مرارجی ڈیسائی، ہندوستان کے خلائی پروگرام کے بانی وکرم سار ا بھائی ،سنجے لیلا بھنسالی،کلیان جی آنند جی، اسماعیل دربار،لکشمی کانت پیارے لال،الکا یاگنک، سلیم اور سلیمان مرچنٹ، عزیز پریم جی، داؤد ابراہیم،امبانی،آڈانی، حبیب، پردیسی،گیگا، آدمجی، داؤد ،باوانی،تیلی ٹاٹا،عزیز پریم جی،امیت شاہ، روبوٹکس کی دنیا میں بڑا نام بھار گو گجر،محمد برادران، جاوید میاں داد اور تمام پارسی رٗوسا، سب ہی کا تعلق گجرات سے ہے۔ان ہی میں وہ کروڑ پتی رقاصہ ملکہ سارہ بائی بھی شامل ہے جو اپنی ماں کی ارتھی کے آگے اسے اپنی کلا سے شردھا انجلی (اظہار عقیدت) پیش کرنے کے لیے ناچی تھی۔
سو لطف لیجے، مزے کیجئے!

چیف ایڈیٹر انعام رانا!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصطفے زیدی مرحوم جن کے سانحہء قتل کے بارے میں ہماری شنیدمعلومات کم از کم جوڈیشل انکوائری افسر کنور ادریس سے زیادہ تھیں۔ ان ہی مصطفے زیدی کاشعر ہے
؎داستانِ غم دل سب سے پرانی ہے مگر
کہنے والے کے لیے سب سے نئی رہتی ہے!

یہ سن 1970 کی بات ہے۔ ن دنوں نیپ کے سربراہ عبدالو لی خان نے کہا تھا جس وقت مشرقی پاکستان سیلاب کی تباہ کاریوں سے بدحال تھا،پاکستان کا اردو میڈیا شہناز گل کے جسم کے خطوط کی پیمائش میں مصروف تھا

شہناز گُل

 

 

 

 

 

 

 

عالم آج بھی کچھ مختلف نہیں، جس وقت نانی مریم صفدر اپنے سرکے بال نوچ رہی ہیں،مریم اورنگ زیب،فواد چوہدری کی آنکھوں میں انگلیا ں گھونپ رہی ہیں اور نواز شریف سینے پر دوہتڑ مار مار کر رو رو کر دہائی دیتے ہوئے سب سے پوچھتے پھررہے ہیں ” یہ کس کی  ہے آہٹ ،یہاں کون آیا او پانچ ظالمو، مجھے کیوں نکالا ۔۔اللہ مار ڈالا“، ہم اور رانا صاحب کا یہ ویب میگزین مادھوری ڈکشٹ اور ایم ایف حسین کی داستانِ  عشق سنا کر پنجابیوں کو،ایک زرداری سب پر بھاری کہتے ہوئےان کے مستقل حقِ اقتدار سے مھروم کیے جاتے ہیں ۔

فن کارکی محبوبہ (Muse) ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔امریکن پینٹر اینڈریو وائتھ نے ایک پوری سیریز ہیلگا کے نام سے بنائی۔آسٹروی پینٹر گستاؤ کلمٹ جن کے فن پر جاپانی آرٹ کا بہت اثر تھا۔ان کی محبوبہ ایملی فلوج کی کئی تصاویر بنائیں۔

ایمیلی فلوج

 

 

 

 

 

 

 

 

ہیلگا

دنیا کے مشہور ترین جدید مصور پکاسو کا حرم اس حوالے سے زیادہ آباد تھا۔ ایک نہیں چھ عدد میوز تھیں۔

پکاسو میوز

 

 

 

 

 

 

ایسا ہی عالم ہمارے ایم ایف حسین کا بھی تھا جنہیں ویسے بھی ہندوستان کا پکاسو کہا جاتا تھا۔

ایم ایف حسین

 

 

 

 

 

 

 

 

ہمارے  ملک کے ایک نسبتاً غیر معروف مگر بلا کے جدید مصور کولن ڈیوڈ نے اپنی اہلیہہ زارا حسین جو پنجاب یونی ورسٹی کی شعبہ فنون لطیفہ کی بانی صدر اینا ملکہ احمد کی صاحبزادی تھیں ان کی شادی سے پہلے کی کئی تصاویر بنائیں۔

کولن ڈیوڈ

 

 

 

 

 

 

اںجہانی کولن ڈیوڈ کی اہلیہ زارا احمد

جن میں نیوڈز بھی تھیں جن کی ایک بڑی تعداد کو اسلامی جمعیت طلبہ کے غنڈوں نے جنرل ضیاالحق کے دور میں ایک نمائش پرحملہ کرکے برباد کرڈالا۔ ہم نے کراچی میں عمر رفتہ کو آواز دیتی ہوئی دل نشین و خوش  خصال ایک ایرانی خاتون کے پاس صادقین کی نیوڈز دیکھیں وہ کلفٹن پر بار بی کیو ٹو نائیٹ کے قریب رہتی تھیں۔ ان عریاں بہتے بہتے شہ پاروں کے بارے میں ان کا اصرار تھا کہ وہ ان کی ہیں۔اس اصرار پر ہم نے انہیں زیادہ غور سے دیکھا۔۔ کئی بار دیکھا مگر پھر خیال کیا ہم بہت دیر گئے گھر آئے ہیں۔اب سجنی جو بھی کہے اس کو سنیں اور درست سمجھیں۔

ہم نے ایک واقف حال سے پوچھا کہ کیا یہ درست ہے تو وہ کہنے لگے یہ صادقین کے جن ایام ناآسودہ کی بات کرتی ہیں اس ٹائم پیریڈ میں صادقین گرم پانی کی ربر کی چینی بوتل کو بھی نیوڈ سمجھ کر پینٹ کرلیتے تھے۔ پاکستان میں صادقین اور اقبال مہدی کے بہت سے فن پارے جعلی ہیں۔سو خاتون مال بنانے کے چکر میں ہیں۔یہ بات البتہ درست ہے کہ جناح ہسپتال میں جن دنوں صادقین صاحب فراش تھے ایک جمعدارنی انہیں بہت اچھی لگتی تھی۔ وہ جمعدرانی گائنی وارڈ میں ملازم تھی مگر امیر آدمیوں کی جو بیگمات پرائیویٹ وارڈ میں زچگی کے لیے آتی تھیں۔ وہ بھی کم بخت ان کے ارد گرد ہی منڈلاتی رہتی تھی۔صادقین بھی وہاں زیر علاج تھے اور وہ اس کی تصاویربناتے رہتے اور پھر اپنے فن پارے یوں ہی اسے دے دیا کرتے تھے۔یہ بات ہمیں جناح ہسپتال کی ایک بہت اعلی مرتبت ڈاکٹر صاحبہ نے جو ہماری سسرالی عزیزہ ہیں، نے بتائی! جمعدارنی سے یہ تصاویر ایک صاحب نے ہزار روپے فی شاہکار خریدیں  اور اب  یہ تصاویر  وہ صاحب  لندن لے گئے ہیں اور اسے بیچ بیچ کر ٹھاٹھ سے گزارا کرتے ہیں۔

اسی طرح ایک سی ایس پی افسر ابو شمیم عارف صادقین کو بہانے بہانے سے گھر لے آتے تھے اور شراب پلا پلا کر ان کی پینٹنگز ہتھیا لیتے تھے۔ان کا اور ہمار اسرکاری  ڈرائیور ایک وقفے سے ایک ہی تھا۔اس کے پاس ان پرانے پیران تسمہ پا اور وہیل مچھلی کھاکر ڈکار نہ لینے والے سی ایس پی افسران کے بہت سے نجی قصے تھے۔

مشہور صحافی فرنٹیئر پوسٹ کے چیف ایڈیٹر ظفر صمدانی جن کی نورجہاں سے بہت دوستی تھی وہ ڈاکٹرظفر الطاف صاحب کی محفل میں بیٹھ کر اکثر بتاتے تھے کہ فیض صاحب نورجہاں پر قدرے فریفتہ تھے مگر دھیمے شائستہ مزاج کے آدمی تھے۔ان کا خیال تھا کہ فیض محض گفتار کے غازی۔اسی طرح احمد فراز کو بھی لاہور کی ایک گلوکارہ جو بعد میں ایک چیف منسٹر غلام مصطفے کھر اور ایک وزیر اعظم کی نگاہوں کا نگینہ بھی بنی بہت اچھی لگتی تھی۔ان کی وہ غزل کہ
؎یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے
وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے

اسی دلفریب خاتون کی چاہت بھری رفاقت میں لکھی اور گائی گئی ہے۔
پاکستان بہت سینسر زدہ معاشرہ ہے۔آملیٹ کھانے سے پہلے مرغی کا نکاح نامہ طلب کیا جاتا ہے۔یہاں نانی کے افئیر کا نواسی سے سوال ہوتا ہے۔یہاں طوائفیں بھی ماں باپ کی عزت کا خیال کرتی ہیں اور بدنام ہونے سے ڈرتی ہیں۔ افسوس اسی وجہ سے  بے شمار سخن ہائے گفتنی خوف فساد خلق سے ناگفتہ ہی رہ جاتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آیئے ایم ایف حسین اور مادھوری کا قصہ بیان کرتے ہیں۔

مادھوری   اب پچاس سے اوپر کی ہیں، ایم ایف حسین بھی دنیا میں  نہیں رہے اور ہم تو پیدائش سے مرنے کے بعد کیا ہوگا کے  خوف سے برگ خفیف کی طرح لرزتے رہتے ہیں۔
مقبول فدا حسین یعنی ایم ایف حسین المعروف بہ مادھوری کا فین حسین 1915 مدھیا پردیش کی بستی پندھار پور میں پیدا  ہوئے۔گھرانہ مذہباً سلیمانی بوہری تھا جو داؤدی بوہریوں سے جدا ایک چھوٹا سا فرقہ ہے۔مادری زبان گجراتی تھی۔ مصوری کا شوق مدرسے پروان چڑھا۔وہاں حضرت پڑھتے پڑھاتے نہیں تھے بلکہ خطاطی کرتے تھے اور ممبئی کے آرٹ  سکول میں طالب علمی کے دوران ہی فلموں کی ایسی چس پڑی کہ حضرت فلموں کے پوسٹر بنانے لگ گئے تھے۔اس سے پڑھائی کا اور رہن سہن کا خرچہ نکل آتا تھا۔

سن 1994 میں جب ان کی نگاہ مادھوری ڈکشٹ پر پڑی تو آپ خیر سے ایک سال کم اسی برس کے اور بی بی مادھوری کل 27 برس کی تھیں۔یہ کوئی پارٹی سین نہ تھا۔ ایم ایف حسین سے کسی نے تعریف کی تو وہ احمد آباد گجرات میں فلم ”ہم آپ کے ہیں کون؟“دیکھنے چلے گئے۔وہاں کیا ہوا یہ ان کے الفاظ میں سنیے
Cinematically Hum Aapke Hain Koun..! was no great shakes but she was wow. I was literally dancing in the aisles. Every evening in every town in every part of the world, I saw the film repeatedly
(سینما کے حساب سے ہم آپ کے ہیں کون کوئی دھماکہ فلم نہ تھی۔لیکن وہ (مادھوری) تو اللہ کی پناہ۔میں تو گویا راہداریوں میں ہی ناچ رہا تھا۔اس کے بعد یوں ہوا کہ جس شہر میں ،دنیا کے جس کونے میں یہ فلم دیکھنے کو ملی میں نے موقع ضائع نہیں کیا)۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق عالی مقام نے یہ فلم لگ بھگ نوے دفعہ دیکھی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ حضرت نے یہ فلم پہلی دفعہ مکمل نہ دیکھی تھی لیکن پھر جوانی کے کچھ ٹھرکی دوست مل گئے اور حضرت کو اگلے دن دوبارہ فلم دیکھنے گھسیٹ کر لے گئے۔فلم ادھوری چھوڑ کر آنے کی وجہ سے وہ پہلی باری میں ”دیدی تیرا دیور دیوانہ“ والے گانے پر مادھوری کا ڈانس دیکھے بغیر ہی اٹھ آئے تھے جس میں وسیم اکرم،وقار یونس کی ریورس سوئنگ کو دھول چٹاتی، کولہے مٹکاتی،نیلے کھڑکی والے بلاؤز میں ملبوس مادھوری ڈکشٹ پانچ قدم پیچھے آتی ہے۔

چاند پر قدم رکھنے والے نیل آرم اسٹرانگ نے کہا تھا چاند پرانسان کا یہ ننھا سا قدم دنیائے انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا سفر ہے“۔سو مادھوری کے پانچ الٹے قدم ایم ایف حسین کے جادہء عشق کے لیے منزل حسن و ناز کی جا نب ایک بہت بڑا سفر ثابت ہوئے اور اس کے بعد تو گویا ایک دروازہء خاور کھلا۔ تبو،ودیا بالن،ارمیلا ماتوندکر،امرتا راؤ اور پھر انوشکا شرما ان کے آستانہء عالیہ پر بڑی دور سے چل کے آتی تھیں۔

تبو،ایم ایف حسین

 

 

 

 

 

 

 

اس ایک دور افتادہ تعلق دید سے دنیائے فن میں ایک تاریخ رقم ہوگئی۔ایم ایف حسین ہمہ وقت برہنہ پا رہتے تھے اور ایک بڑا سا برش ان کے ہاتھ میں ہر وقت رہتا تھا۔وہ اسے کوئی منظر یا پیکر اچھا لگتا تو جس طرح جعلی عامل دھونی دیتے ہیں یا مورچھل کسی خوبصورت خاتون کے کاندھے پر دیر تک ہاتھ رکھ کر جھلتے رہتے ہیں وہ بھی اس برش کو لہراتے رہتے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مصوری کی یہ ایک لازمی مشق ہے کہ کلائی کو موقلم کے ساتھ مخصوص زاویوں پر گھومنے کی عادت پڑجائے۔فلم کے اختتام پر انہوں نے  یہ برش اعتراف پسندیددگی کے طور پر اسکرین کی جانب اچھال دیا جو اگلے دن مینجر ان کے گھر لے کر پہنچ گیا کہ سرکار اس کی زینت مادھوری کی گود ہے نہ کہ ہمارے سینما کا فرش۔

ایم ایف حسین برش ہاتھ میں تھامے ہوئے

 

 

 

 

 

 

پھر یوں ہوا کہ مادھوری نے انہیں ایک دن خود ہی اپنے ہاں جوہو والے اپارٹمنٹ پر چائے کے لیے بلایا اور گفتگو کے سلسلے سوز نہاں تک ایسے دراز ہوئے کہ اگلے دن ناشتے کے بعد ہی حضرت کو رخصت ہونے کی  اجازت مل پائی۔
برش پیش کیا تو کہنے لگی کہ ’اس برش کی وجہ سے میں بھی پینٹر بن گئی تو ؟‘ حضرت کہنے لگے ’
تو پھر آپ دنیا کی سب سے حسین پینٹر ہوں گی‘۔

کچھ دن بعد دونوں اتفاقاً اپنے اپنے پروگراموں کے سلسلے میں  نیویارک میں تھے۔ماہ ستمبر تھا،موسم سرما کا آغاز تھا، مادھوری کو علم ہوا کہ عالی مقام کی سالگرہ ہے۔بیسویں بائیسویں نہیں اسی برس والی سالگرہ جب کم بخت نوکر بھی وقت پر چائے لاکر نہیں دیتا۔ مادھوری نیویارک کے ٹھنڈے فرش پر ان کے پسندیدہ گانے دیدی تیرا میں پہنا گیا کھڑکی والا بلاؤز، نیلی ساڑھی پہن کر کیک لے کر آئی۔

 

 

 

 

ا یم ایف حسین نے ایک فلم گج گامنی بھی بنائی۔جس کو کامیابی نہ مل پائی۔ دونوں کے اشتراک سے ایک تجارتی کمپنی Madhuri-McBull Creations بھی وجود میں آئی۔کچھ حاسد لوگ جو ہم گجراتیوں کی ہر بات میں دو پیسے کا فائدہ ڈھونڈتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ایم ایف حسین نے مادھوری کی جو پینٹنگز بطور مانیکا،بطور رادھا بنائیں وہ کاروبار کا چکر تھا مگر حسین کی ایک پینٹنگ جی ہاں صرف ایک پینتنگ The Sprinkling Horses بارہ لاکھ ڈالر کی فروخت ہوئی تھی اور جو تیرہ تصاویر اس نمائش میں رکھی گئیں تھیں وہ بیالیس لاکھ ڈالر کی تھیں۔ یہ مادھوری سے پہلے کی پینٹنگز ہیں۔مادھوری کی کسی کمپنی سے حسین کو کوئی دولت نہ ملی مگر دونوں کے تعلقات خودان کے بیانیے کے مطابق ڈرامہ نویس ہنری ملر اور ادکارہ مارلن منرو والے تھے گو ہنری ملر مارلن کے شوہر تھے۔حسین کو مشہور ٹینس اسٹار کرس ایورٹ جو گبریلا سباٹینی اور مارٹینا ہنگزکی مانند حسین تھی۔ان کی رفاقت بھی میسر رہی اور اس کے علاوہ پانچ اور اداکارائیں ایسی تھیں جن سے ایم ایف حسین کے مراسم تھے جگر تھام کر نام سن لیں ،ارمیلا ماتوندکر، تبو،ودیابالن،امرتا راؤ اور انوشکا شرما۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق ایم ایف حسین کا پینٹنگز سے ہونے والی آمدنی کا تخمینہ فوبز میگزین کے مطابق سات سو کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے، جس میں کسی بھی ایشیائی فنکار کی فروخت ہونے والی سب سے مہنگی وہ پینٹنگ بھی شامل ہے یعنی The Sprinkling Horses جو دس لاکھ ڈالر کی فروخت ہوئی۔

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مادھوری ڈکشٹ سے ایم ایف حسین کے عشق کی داستان۔۔محمد اقبال دیوان

  1. چاند پر قدم رکھنے والے نیل آرم اسٹرانگ نے کہا تھا چاند پرانسان کا یہ ننھا سا قدم دنیائے انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا سفر ہے“۔سو مادھوری کے پانچ الٹے قدم ایم ایف حسین کے جادہء عشق کے لیے منزل حسن و ناز کی جا نب ایک بہت بڑا سفر ثابت ہوئے…….
    masterpiece of cross referencing

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *