دھندلے سے کچھ نشان ہیں !

تحریر ایک فن ہے اور کوئی بھی فن ’’اہلِ فن ‘‘ کی صحبت کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔کافی عرصے سے لکھنے کا داعیہ ہورہاتھا ۔بیسیوںواقعات و حالات رونما ہوکر لکھنے کی راہ بھی ہموار کردیتےلیکن اس داعیہ کو عملی جامہ پہنانے کی گھڑی ہردفعہ آکر رخصت ہوجاتی ۔پھر وہی حسرت و یاس کہ کیوں نہ لکھا!!لیکن جب بھی لکھنے کا ارادہ کیا تو مذکورہ بالا اصول رکاوٹ بن جاتا اورنفس کو عجیب وغریب کشمکش میں مبتلا کردیتاکہ لکھنے سے پہلے اہلِ فن کی صحبت ضروری ہے ورنہ لکھنے میں غلطی کر بیٹھو گے۔نتیجتاً کسی کی طرف سے حوصلہ شکنی کی بات آگئی تو لکھنے کا داعی ہمیشہ کیلئے’’ الوداعی‘‘بن جائے گا لیکن اسے اتفاق کہیے یا ’’کوئی بھی قاعدہ کلیہ نہیں ہوتا‘‘کی عملی تفسیر کانام دیں کہ عالمِ اسلام کی حالتِ زار کے کچھ ایسےمناظر سامنے آئے کہ جنہیں دیکھ کر دل ودماغ مفلوج ہوکررہ گیا ۔جب قدرے افاقہ ہوا تو مجبوراً لکھنے کی ٹھان لی اور کمر کس کراپنے فیصلےپر ڈٹ گیا کہ اب تو لکھنا ہی ہے تو یقین جانیں کہ اب نہ توکوئی اصول رکاوٹ بنا اور نہ ہی کسی کی حوصلہ شکنی کا خوف سوار ہوا کیونکہ یوسف کے خریداروں میں اپنا نام شامل کروانے کا عزم جوکر چکا تھا،لیکن اگلے ہی مرحلے میں ایک جھٹکا سا لگا اور فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا کہ کہاں سے شروع کروں ؟ کس پر لکھوں؟
حلب کے بعد ادلیب میں انبیائے کرام کی اولاد پر جاری ہولناک مظالم کی تصویرکشی کروں یا قبلہ اول کے خلاف ہولناک عزائم اوراسکے گردونواح کے مکینوں کی داستانِ الم تحریر کروں۔برما میں بے سہارا مسلمانوں کی حالتِ زار بیان کروں یا صومالیہ کے غربت کے مارے انسانوں کی قحط سالی کا تذکرہ کروں ۔اپنے پڑوس ہی میں نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط، ظلم وستم برداشت کرنے والے عزم و استقلال کے پہاڑ، حریت پسند کشمیری بھائیوں کی قربانیوں کی لازوال داستان زیبِ قرطاس کروں یا مملکتِ خداداد کے نظریاتی سرحدوں کو کھوکھلا کرنےوالے دہشتگرد عناصر کی سرگرمیوں سے آگاہ کروں ۔سوشل میڈیا پر محسنِ انسانیت ﷺ (فدہ ابی وامی) کی شانِ ارفع کو نیچا دکھانے کی ناکام کوشش کرنے والوں کی ازلی بدبختی کا تذکرہ کروں یا پھر مشال خان کے واقعہ کی آڑ میں توہینِ رسالت کےقانون کو ختم کرنے یا ’’ترمیم‘‘کے نام سے چھڑ چھاڑ کرنے والوں کا رونا روؤں۔یہ وہ خوفناک مسائل ہیں جن کا سامنا آج کی امتِ مرحومہ کر رہی ہے اور واقعۃً یہ امت آج قابل ِرحم واقع ہوئی ہے کیونکہ ایک طرف تو کفریہ طاقتیں ایک ہی’’ دستر خوان‘‘ پر جمع ہوکرباری باری مسلم ممالک کی بنیادیں کھوکھلی کرتی جا رہی ہے چنانچہ افغانستان کی اسلامی حکومت کا تختہ الٹ کر اس کے امن کو تباہ کیا گیا۔اس کے فوراً بعد عراق میں خون کی ہولی کھیلنے کے بعد صرف ایک ’’سوری‘‘ کہہ کر اپنا دامن صاف کرلیا گیا۔مصر کے منتخب جمہوری صدر کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل کر ملک کی باگ دوڑ ایک ڈکٹیٹر کے حوالے کردی گئی ۔انبیاء کی سرزمین کوننھے منے معصوم بچوں کے پاکیزہ خون سے رنگین کرنےکا سلسلہ تا حال جاری ہے۔یہاں تک کہ حرمین شریفین بھی ان طاغوتی سازشوں سے محفوظ دکھائی نہیں دے رہا۔
ان حالات میں شدت سےاس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ تمام مسلمان یکجا ہو کر ’’جسد واحد‘‘کی پیغمبرانہ نصیحت پر عمل کرتے ہوئے،علاقائی اورجغرافیائی سرحدوں کی حدود و قیود سے بالاتر ہوکر ہر مسلمان کے درد کو اپنا درد سمجھتے ۔ طاغوتی طاقتوں کے خلاف اپنے حقوق کی نا صرف آواز بلند کرتے بلکہ ہر قیمت پر ان کا تحفظ کرنے کی صلاحیت بھی ان کے پاس ہوتی لیکن بدقسمتی سے آج اس کی کوئی واضح عملی تصویر نظر نہیں آرہی ۔جس کی وجہ یہ ہے کہ اولاً تواس قسم کی سنجیدہ کوششیں نہیں ہوئیں اور جہاں کسی درجے میں پیشِ رفت ہوئی تو اسے مزید آگے بڑھنے نہیں دیا گیا۔ البتہ پچھلے چند دنوں سے ایک’’ دھندلی سی تصویر ‘‘ضروردکھائی دے ہی ہے جو اس اس مایوس کن صورتحال میں امید کی کرن کی حیثیت رکھتی ہے ۔اس دھندلی تصویر کے تین خاکے ہیں ۔ایک: ترکی کا حالیہ کامیاب صدارتی ریفرنڈم، جس نے2029 تک ترکی کی بھاگ دوڑ امتِ مسلمہ کا درد رکھنے والے اور ’’ شیطانی آنکھ‘‘ سے آنکھیں ملاکر بات کرنے والےعظیم راہنما جناب اردوگان کے ہاتھوں میں رہنے کی راہ ہموار کردی ہے ۔دوسرا خاکہ پچھلے دنوں ایک عالمی اجتماع میں دینی قوتوں کے اتحاد کے حوالے سےدیا گیا وہ ’’عندیہ‘‘ ہےجس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اب کوششیں بھی شروع کردی گئی ہیں۔تیسرا خاکہ سعودیہ کے زیرِانتظام مسلم ممالک کا فوجی اتحاد ہے،(اگرچہ راقم الحروف کو ذاتی طور پر اس سے امتِ مسلمہ کی دادرسی کے حوالے سے کوئی خاص امید وابستہ نہیں ہے لیکن چونکہ کچھ لوگوں نے اس سے امیدیں لگائے رکھی ہیں توان کی رائےکے احترام کے پیشِ نظر اسے بھی شامل کرلیاجاتا ہے) اگر واقعۃً یہ اتحاد ان امنگوں پر پورا اترے اور دینی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر اپنی منتشر قوت کو مجتمع کرنے میں کامیاب ہوجائیں اور اگلے عام انتخابات میں کوئی تبدیلی رونما ہوجائے اور پھر عالمی سطح پر ترکی کے ساتھ ملکر کوئی حکمت عملی مرتب کی جائے تو امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ’’دھندلی سی تصویر‘‘ایک واضح عملی تصویر میں بدل جائے۔
لیکن ظاہر ہے کہ ایسی باتیں طاغوتی قوتوں کو ہضم نہیں ہوتیں ۔اسی کی طرف جناب اردوگان نے صدراتی ریفرنڈم کی کامیابی کے بعد اپنے ایک خطاب میں اشارہ کیا تھا کہ’’ ایک شیطانی آنکھ مجھے تنگ کر رہی ہے‘‘۔اسی طرح دینی جماعتوں کے اتحاد میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں ہورہی ہیں تو دوسری طرف پاکستان کے سابق آرمی چیف کو مسلم فوجی اتحاد کا سربراہ بننے کی اجازت دینے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں ۔اس ساری صورتحال کو دیکھ کر جناب حالی کا ایک شعر دماغ میں گردش کر رہا ہے کہ:
دھندلے سے کچھ نشان ہیں ڈر ہے کہ مٹ نہ جائیں!

Avatar
تنویر احمد
سچامسلمان بننے کی کوشش کررہا ہوں اسلئےسچائی کا ساتھ دینا پسند ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *