امت مسلمہ کا فکری جمود، اسباب واثرات ۔۔۔محمد طفیل ہاشمی

عصر حاضر میں امت مسلمہ کا فکری جمود ایک ایسا موضوع ہے جس پہ گفتگو کے کئی ایک زاویے ہیں ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ بہت سے حضرات کے لیے شاید یہ باور کرنا بھی مشکل ہو کہ امت کسی فکری جمود کا شکار ہے؛تاہم شاید اس میں کوئی دو رئے نہ ہو کہ امت کو اس وقت درپیش فکری تحدیات کے مشمولات کی ایک طویل فہرست مرتب کی جا سکتی ہے،مثلاً الحاد کا چیلنج،دہشت گردی، فرقہ واریت اور انتہا پسندی کا چیلنج، فکری جمود،فہمِ دین اور تعبیرِدین میں انحرافات، اخلاقی انحطاط اور سیاسی و تمدنی افکار کاتشتت،قیادت کا بحران اور ترقی کے سفر میں اقوام عالم سے پیچھے رہ جانے کا چیلنج، ذرائع ابلاغ اور میڈیا کی پیدا کردہ فکری، سماجی اور اخلاقی تحدیات، تشکیک یا استشراق کی تحدیات، تہذیبی مرعوبیت، خاندانی نظام کی شکست وریخت اور خواتین کی سماجی حیثیت کا تعین۔ الغرض مسلم معاشروں میں فکری تحدیات کا ایک سیلاب رستاخیز ہے جس میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ سب سے بڑا چیلنج کون سا ہے؟ظاہر ہے کہ یہ صورت حال فکری جمود کا ہی نتیجہ ہے۔

بالعموم اگر کوئی شخص زفرق تا بقدم مجموعہِ امراض ہو تو ماہر معالج کا فرض ہے کہ وہ تلاش کرے کہ ان میں سے ام الامراض کون سا مرض ہے؛ جس کے علاج سے باقی بیماریاں خود بخود ٹھیک ہونے لگتی ہیں۔کانفرنس نے بجا طور پر امت مسلمہ کے فکری جمود کو ام الامراض کے طور پر تشخیص کیا ہے۔
اگر امت کے فکری جمود کو اسی معالجاتی فارمولے کے تحت دیکھیں تو میری راے میں اس کے درج ذیل چند اسباب ہوسکتے ہیں:

الف۔ علم و تحقیق سے بے توجہی
فطرت کا اصول ہے کہ فرد، اداروں اور نظام زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے تازہ خون شامل کیا جانا ضروری ہے۔انسان کے پرانے خلیے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور ان کی جگہ نئے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح پرانے افکار میں نئی زندگی اور توانائی پیدا کرنے کے لیے غورو فکر ، کاٹ چھانٹ اور نئے افکار سے آگاہی ضروری ہے۔ ادارے اپنے آپ کو زندہ رکھنے اور ترقی دینے کے لیے ہمیشہ توانائی کے نئے ذرائع کی تلاش میں رہتے ہیں جس کے لیے نئے افراد اورنئے افکاروخیالات کے تحت سسٹم اور سٹرکچر کو ترقی دینے کا کام جاری رہتا ہے۔ ہر شے کی ایک طبعی عمر ہوتی ہے اور اس کے بعد اس کا خاتمہ فطرت کا تقاضا ہے۔افراد کی طرح ادارے، تحریکیں ، ریاستیں اور سماج بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔
گوناگوں اور متنوع تحدیات اس بات کی علامت ہیں کہ ہمارے افکار میں یبوست، خیالات میں پراگندگی اور اعمال میں تشتت و افتراق در آیا ہے۔ بقول اقبال:
حیاتِ تازہ کی افکار تازہ سے ہےنمود
یہ سنگ وخشت نہیں جو تری نگاہ میں ہے

اسے معمولی نہ سمجھیں کہ قرآن ــ  جو پوری انسانیت کی تمام خرابیاں دور کرنے کے لیے آخری اور مکمل نسخہ شفاء ہےـــ اپنا تنزیلی آغاز اقرأ سے کرتا ہے اور عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (انسان کو وہ باتیں سکھائیں جس کا اس کو علم نہ تھا) کے الفاظ سے تحقیق کے سمندر کی شناوری کی دعوت دیتا ہے اور عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا) سے اپنے نتائجِ فکر محفوظ کر کے اگلی نسل کے حوالے کر دیتا ہےکہ اس پر مزید تحقیق کی جائے۔

اس نے اپنے پیغام کا آغاز اسی لیے ایمان اور ہدایت کی دعوت سے نہیں کیا کہ ایسا ایمان اور ایسی ہدایت جس کی اساس علم وتحقیق اور تفکر و تدبر پر نہ ہو مجموعہ توہمات ورسوم ہو سکتے ہیں،حیات و انقلاب آفریں نہیں۔
امت مسلمہ پر طاری صدیوں کے فکری جمود کے اسباب پر اہل علم نے اپنے اپنے تخصصات کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔
فقہ و اجتہاد کے ماہرین کی راے یہ ہے کہ جب اجتہاد کا عمل تمدن کے مسائل سے آگے نکل گیا اور عراقی فقہ نے فقہ تقدیری میں نادرالوقوع مسائل کے حل بھی تیار شکل میں دے دیے تو فطری طور پر انسانی رویے تقلید کی طرف مائل ہو گئے۔کچھ خارجی اسباب نے مہمیز کا کام دیا۔رفتہ رفتہ اجتہاد کا دروازہ عملاً بند ہو گیا اور علم، اسلاف کے اقوال وروایات کے حفظ وبیان کے دائرے تک محدود ہو گیا نتیجتًا غوروفکر اور نئے تحدیات سے عہدہ برآ ہونے کاملکہ روٹھ گیا اور فکرو دانش کے سوتے خشک ہوگئے۔

ایک دوسری رائے یہ ہے کہ تاتاری یلغارنے مسلمانوں کو ان کے علمی ذخیروں اور اہل علم شخصیات سے محروم کردیا جس کے باعث امت مسلمہ کو اپنے وجود و بقا کا اندیشہ لاحق ہوگیا۔ایسے میں فکری تگ وتاز کے لیے ساز گار فضا ہی کہاں رہتی ہے کہ کوئی تخلیقی کارنامہ سر انجام دیا جائے۔ یہی تاریخ سقوط غرناطہ اور مشرقی اسلامی ممالک کے غیر ملکی انتداب میں آنے پر دہرائی گئی۔
تیسری رائے یہ ہے کہ دور انحطاط میں مسلمانوں کے نابغہ افراد نے تصوف کی وادی میں گوشہ نشینی اختیار کر لی جس نے ان سے علمی، فکری اور سماجی تحدیات سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت چھین لی اور
‘‘کنجے گرفت و ترس خدا را بہانہ ساخت’’
کی کارفرمائی ہی تعبیر دین قرار پائی۔

ایک اور رائے یہ ہے کہ مسلم فکر میں جب تصور علم تبدیل ہوگیا اور علم کے حصے بخرے کر کے اس میں سے صرف دینیات کو علم کا عنوان دیا گیا اور دینیات کی اساس غوروفکر کی بجائے نقل و روایت قرار پائی تو فکری طور پر غورو فکر کے سوتے خشک ہوگئے اور فکری جمود طاری ہوگیا۔

میری رائے میں مسلم معاشروں میں علم کی دینی اور دنیوی شعبوں میں تقسیم نے سماج کو علم کے حقیقی تصور سے دور کر دیا۔تخصیصات کا الگ الگ ہونا ایک قابل فہم بات ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی شے جب تک وہ کسی دوسری یک گونہ متخالف شے سے وابستہ نہ ہو نئی اشیایا نئے افکار کی تخلیق کا باعث نہیں بن سکتی۔ دینی تعلیم اپنے تمام تر تقدس اور عظمت کے باوجود ایسے ہے جیسے ایک طرف سمندر پر بارش برس رہی ہو اور دوسری طرف خشک زمین ایک ایک قطرے کو ترس رہی ہو۔

مزید ظلم یہ ہوا کہ دینی تعلیمــ  جو دراصل مکاتب فکر کی تعلیم ہے  کی تمام تر اٹھان اپنے بزرگوں سے عقیدے کی حد تک عقیدت اور دوسروں سے نفرت یا کم از کم اختلاف راے کی شدت پر ہوئی ۔ عقیدت و نفرت کے جذبات انسانی فکرو تحقیق کے لیےسم قاتل ہیں۔ عقیدت یا نفرت کی فضا میں علم وتحقیق کا شجرہ طیبہ کبھی زندہ نہیں رہ سکتا۔قرآن نے اہل علم کے لیے بطور خاص یہ لائحہ عمل دیا ہے کہ وہ عقیدت کی فراوانی سے دور رہیں۔ارشاد ربانی ہے:
مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِي مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَكِنْ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُونَ
(کسی انسان کا یہ کام نہیں کہ اللہ اس کو کتاب ،حکمت اور نبوت دے اور وہ لوگوں سے یہ کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ، اس واسطے کہ تم دوسروں کو کتاب کی تعلیم دیتے ہو اور خود بھی اس کو پڑھتے ہو)

جہاں تک رسمی تعلیم کا تعلق ہے تو ہماری جدید علوم کی درس گاہیں محض انسان کی معاشی کفالت اور مادی ترقی کے ہدف کے حصول کے لیے کام کر رہی ہیں۔ یہ تعلیمی ادارے درحقیقت ایجوکیشن انڈسٹری کا حصہ ہیں جس میں مزید دولت پیدا کرنے کی انسانی مشینیں تیار کی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انسانی اور سماجی علوم،ادبیات، فلسفہ اور فکرو شعور کو جلا بخشنے والے یا سماجی مسائل کا ادراک حاصل کرنے کا ذریعہ، جتنے علوم ہیں ان کو اکثر جامعات سے کلیۃًبے دخل کر دیا گیا ہے۔

ب۔ ترکِ قرآن!
انسانی تاریخ کا سب سے بڑا فکری انقلاب قرآن حکیم کا رہین مِنت ہے۔ قرآن کے عقیدہ توحید نے انسانوں کو ذہنی غلامی سے مکمل طور پر آزاد کر کے تسخیر کائنات کی طرف متوجہ کر دیا جس سے انسانی فکر و خیال اور علم و جستجو کی آبیاری ہوئی۔قرآن عربی زبان میں نازل ہوا اور عربوں کے لیے اس کا فہم آسان تھا لیکن جوں جوں قرآن عجم میں متعارف ہوتا گیا، فہم کتاب کی بجائے تلاوت کتاب پر ارتکاز ہوتا گیا۔قرآن اپنے بیان کے مطابق روئے زمین پر کامیاب زندگی گزارنے کا الوہی لائحہ عمل ہےجبکہ قرآن کو اس منصب سے معزول کر کے الفاظ کے ذریعے آخرت کی نیکیاں ذخیرہ کرنے کا ذریعہ قرار دیا گیا۔قرآن جس علم کی دعوت دیتا ہے اور جس عقل ودانش کے استعمال کی تاکید کرتا ہے اسے پس پشت ڈالنے کے لیے ایک جدید فلسفہ قرآنی متعارف کروایا گیا۔

حفظ و تلاوتِ قرآن صرف اس وجہ سے باعث اجروثواب رکھے گئے تاکہ متن قرآن کی حفاظت ہوتی رہے اور ہر دور،ہر زمانے کے لوگ فہم متن کے لیے اصل ماخذ کی طرف مراجعت کر سکیں؛ جبکہ ہمارے دور میں قرآن پڑھا ہوا ہونے کا مطلب بلا استثناء یہ لیا جاتا ہے کہ بے سمجھے ناظرہ قرآن پڑھا ہوا ہے۔
ایک کتاب جو انسانوں کی زندگی کے لیے راہ ہدایت ہے، قوموں کے عروج و زوال کے اسباب کی تاریخ ہے، زندگی کے ہر چیلنج کا جواب ہے، تسخیر کائنات کے لیے تیار کرتی ہے،زندگی کے ہر شعبے میں اعلیٰ درجے کی قیادت تیار کرنے کی ضامن ہے، محض اس کی تلاوت کافی سمجھ کر مطلوبہ نتائج کی توقع رکھنا کہاں کی دانش مندی ہے؟

پھر اس تلاوت کو جب ہماری دنیوی رہنمائی کے لیے نہیں بلکہ آخرت کے درجات کی بلندی کا ضامن بنا دیا گیا ہے تو اسے ایک ایسی شکل دے دی گئی ہے کہ کوئی بھی شخص خواہ کتنی ہی ظلم و جور اور فسق و فجور کی زندگی گزارے اس کے مرنے کے بعد قرآن خوانی کے ایصال ثواب کے ذریعے اسے آخرت کی باز پرس سے بھی بچایا جاسکتا ہے۔

سومیری ناقص راے میں ترک قرآن، فکری جمود اور تحدیات کے جواب دینے کے اہل نہ ہونے کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ڈریپرنے Conflict Between Science & Religion میں قرون وسطیٰ کے پادریوں کی علم دشمنی اور کتب سوزی کی تاریخ بیان کرنے کے بعد مسلمانوں کی علمی، فکری اور سائنسی ترقی کا تجزیہ کرتے ہوے یہی راے قائم کی کہ “مسلمانوں کی فکری بیداری کے پس منظر میں تسخیر کائنات اور ساری دنیا سے حصول علم کی خواہش کا بے پناہ جذبہ،سائنسی اور دیگر علوم میں محیرالعقول کارنامے قرآن کے پیغامِ علم اور قرآنی تصورِعلم کا ثمرہ ہیں”۔یہ علم وتحقیق میں مسلمانوں کی تشنہ لبی کی بے پناہی تھی کہ بقول علامہ شبلی یونان، اٹلی، سسلی، اسکندریہ اور برصغیر کا کوئی علمی سرمایہ ایسا نہ تھا جو دارالسلام بغداد منتقل نہ ہو گیا ہو اور ہر کتاب کے ایک سے زائد تراجم کر کے علمی کام کو یہاں تک آگے بڑھایا کہ مغرب آج جس علمی مقام پر کھڑا ہے اس کے بارے میں اقبال نے بجا طور پر کہا:
حکمت اشیاء فرنگی زاد نیست
اصل اوجز لذت ایجاد نیست
نیک اگر بینی مسلماں زادہ است
ایں گہر از دست ما افتادہ است
چوں عرب اندر اوروباپر کشاد
علم وحکمت رابنا دیگر نہاد
دانہ ایں صحرا نشیناں کاشتند
حاصلش افرنگیاں برداشتند
ایں پری از شیشہ اسلاف ماست
باز صیدش کن کہ او ازقاف ماست

تحدیات کی ایک خوبی ہے کہ وہ اپنے اندر اس کا حل رکھتی ہیں۔ صرف ارباب دانش ہی کسی چیلنج کو کامیابی کے موقع کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں،تاہم قرآن حکیم نے انَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (ے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے)کی تاكید کے ساتھ ایک سے زائد مواقع کی راہ دکھائی ہے۔
اگرچہ ہمارے دور میں گوناگوں تحدیات درپیش ہیں لیکن ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم ایک معجزاتی دور میں رہتے ہیں جہاں ہر شعبہ علم اور ہر موضوع پر معلومات کا ایک سیلاب انسانی فکروشعور میں تلاطم برپا کر رہا ہے۔اب کوئی بھی حدیث تلاش کرنے کے لیے امام مسلم کی طرح جان کی بازی لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ ہر نوع کی معلومات کا تمام تر خزانہ ہماری انگشتِ شہادت کے اشارے سے اپنی تمام تر تفصیلات کے ساتھ حاضر ہو جاتا ہے۔

غور کیجیے،قرآن کے اولین مخاطب کسی تاریخی علمی سرمائے کے وارث نہیں تھے لیکن جب وہ عرب کے صحرا سے باہر نکلے تو ان کا سابقہ دنیا کی دو بڑی اور ترقی یافتہ تہذیبوں سے پڑا جو اپنے شاندار ماضی، علمی و فکری تحقیقات اور وسیع تر سرزمین پرتسلط واقتدار کے نشے سے سرشار تھیں۔اسلام نے ان کے عقائد ،افکار،عبادات اور اخلاقی فلسفے کی تصحیح کی لیکن ان کے سائنسی اور علمی ذخیروں کو نہ صرف قدر کی نگاہ سے دیکھا بلکہ ان سے آگاہی کو اپنا عمومی مقصد بنا لیا؛ ہمیں بھی اپنی سوچ میں ذرا سی تبدیلی لانی ہے کہ اقوام عالم کی تمام تر تحقیقات و تخلیقات بنی نوع انسان کا مشترک سرمایہ ہیں اور کلمہ حکمت تو مؤمن کی متاع گم گشتہ ہے۔ کوئی بھی تحقیق یا تخلیق اگر معروضی پہلو کی حامل ہے یا انسانیت کے لیے نفع بخش اور فیض رساں ہے، خواہ کسی بھی ملک وقوم یا مکتب فکر کے حاملین کی کاوش ہو قدرت کی طرف سے ہمارے لیے عطیہ ہے اور اگر موضوعی پہلو ہے تو ہمارے لیے سامان تفکر و تدبر ہے۔

اب الحاد کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ملحدین کے ممکنہ دلائل وضع کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ تمام تر دلائل موجود ملیں گے اور ہمارا کام آدھا رہ گیا ہے کہ ہم نے اس سے ایک درجہ بلند علم ودانش اور حسن استدلال کے ساتھ اس سے نمٹنا ہے۔
جو تحقیقی مقالے چند سال قبل پانچ سے سات سال میں مکمل کیے جاتے تھے اب دنوں اور ہفتوں کی بات رہ گئے ہیں۔
اس خوف سے کہ سماج میں گندگی پھیلے گی یو ٹیوب اور انٹرنیٹ بند کرنا کوئی مداوا نہیں بلکہ نوجوانوں کو زندگی کی مقصدیت سے وابستہ کرنے کی ضرورت ہے اور بس۔ایک نوجوان کو سالہا سال کی مشقت میں مبتلا کرنے کی بجاے دو ہفتے کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مناسب تربیت دے کراس نوع کے میدان ِ تحقیق میں اتارا جا سکتا ہے۔

ج۔ قیادت کا فقدان!
فکری جمود کا ایک سبب امت مسلمہ میں “قیادت کا فقدان” ہے ۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ خلافتِ راشدہ کے بعد امت قیادت کے اس تصور سے محروم ہو گئی جو تصورِ قیادت کتاب و سنت نے دیا تھا۔
ہر چند کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف علاقوں یا مسلم ممالک میں نامور قیادتیں وقناً فوقتاً طلوع ہوتی رہیں لیکن ان کی اساس خاندانی اقتدار پر تھی۔ایسی قیادتوں کا المیہ یہ رہا ہےکہ کچھ قیادتیں اس خیال سے رعایا کی فلاح کے کام کرتی رہیں کہ اگر رعایا خوش اور خوش حال ہوگی تو ہماری خاندانی قیادت کے لیے کوئی چیلنج درپیش نہیں ہوگا،اور کچھ دوسری قیادتیں رعایا کو علمی اور معاشی طور پر نچلے درجے پر رکھنے کی پالیسی پر گامزن رہیں تا کہ کسی میں اتنا حوصلہ پیدا نہ ہو کہ ہماری قیادت کو چیلنج کر سکے۔

ہم اپنی تاریخ میں بڑے بڑے ہیروز پاتے ہیں اور ان کی ذاتی خوبیاں، کمالات، بہادری، عدل گستری اور فلاحِ عامہ کے کاموں کی کہکشاں سجی ہوتی ہے لیکن وہی مستحکم ریاستیں آگے چل کر اولادوں میں تقسیم ہو کر اور باہم برسرِپیکار ہونے کے نتیجے میں خس و خاشاک کی طرح بہہ گئیں۔
مدت تک مسلم ریاست ایک سے زائد وارثانِ ریاست کو تہہ تیغ کر دینے کےجواز کی سند نص قرآنی سے حاصل کرتی رہی؛ لیکن جس ریاست کا مطمح نظر انسانیت کی فلاح اور خدمت کی بجائے ذاتی اور خاندانی اقتدار ہو اس کے لیے کتاب اللہ نے جو فطری اصول دیا ہے وہ ہے :
فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مادی اور علمی طور پر بالا دست طبقات عوام کے مفادات کے خلاف باہمی اتحاد کر لیں تو سماج کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

اسلامی تاریخ کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ریاستی نظم میں باقاعدہ حزب اختلاف کا وجود کبھی نہیں رہا لیکن اقتدار کا یہ لازمہ ہے کہ جب بھی خوفِ خدا اور آخرت کی جواب دہی کے احساس سے چوک ہوجائے تو طاقت و اقتدارکے استعمال میں توازن کادامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ ایسے حالات میں ہمیشہ اربابِ علم و تقویٰ نے اسلامی سماج اور مسلم ریاستوں میں حزب اختلاف کا کردار ادا کیا؛لیکن تاریخِ دعوت و عزیمت کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ شاید بعض حالات میں اختلاف میں بھی توازن برقرار نہیں رکھا گیا ؛تاہم اختلاف کرنے والوں کی علمی اور سماجی وجاہت، عوامی قبولیت اور بے خوفی اس درجے کی تھی کہ حکمران ممکنہ تنقیدو مزاحمت سے بچنے کے لیےاپنی اصلاح اور خلق خدا کی رفاہ کے لیے فکر مند رہتے اوراس امر کا امکان نہیں ہوتا تھا کہ اہلِ علم و تقویٰ اربابِ دولت و ثروت یا برسراقتدار طبقہ کےمفادات کے تحفظ کے لیے دستیاب ہو سکتے ہیں۔

تاہم یہ غیر روایتی حزب اختلاف زیادہ دیر باقی نہ رہی اور دنیا بھر میں شراکتِ اقتدارکے فارمولے کے تحت ارباب ثروت اور مذہبی طبقے نے عامۃ الناس کے خلاف گٹھ جوڑ کر لیا۔مغرب میں اس کے خلاف شدید ردعمل ہوا جس کے نتیجے میں بہت مدت پہلے چرچ اور ریاست کے تعلق کو ختم کر کے ریاست کو رفاہِ عامہ کے رخ پر ڈال دیا گیا لیکن شرق اوسط، برصغیر اور مسلم ممالک کے عوام صدیوں سے مقتدر اور مذہبی طبقوں کی ملی بھگت کی وجہ سے استحصال کا شکار رہے۔مذہبی طبقہ عوام کے حسن ظن سے فائدہ اٹھاتے ہوے اکتسابی مشاغل سے الگ تھلگ رہ کر عوام کی خون پسینے کی کمائی کو جن فرضی ڈھکوسلوں،فقہی اور نفسیاتی حیلوں کے ذریعے سمیٹتاہے، اس کی تاریخ یہودیت کی حیلہ سازیوں ، مسیحیت کی رہبانیت، ہندو دھرم کے جوگیوں، سادھؤں اور برہمنوں سے ہوتے ہوئے مسلم مذہبی طبقوں تک پھیلی ہوئی ہے۔

دوسری طرف زائد از ضرورت مال جمع کر کے رکھنے، اسے ترقیاتی کاموں میں لگانے کی بجائے سود اور دوسرے حرام ذرائع سے غریبوں کو غریب تر کرنے والا طبقہ خواہ زراعت پر قابض ہو یا صنعت و حرفت پر ان کے محلات میں محنت کش کے خون سے چراغاں ہوتا ہے ۔
یہ دونوں طبقے پاکستان سمیت مسلم ریاستوں میں ایک دوسرے کے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل رہے ہیں۔اس ملی بھگت کو توڑنے کی جب اور جہاں کوئی کوشش کی گئی اسے فتووں کےذریعے سنگ سار کر دیا گیا۔قرآن نے اسی انسانیت دشمن ملی بھگت کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے:
إِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۗ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ([اہل کتاب کے] بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) راہ خدا سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے رستے میں خرچ نہیں کرتے۔ ان کو اس دن عذاب الیم کی خبر سنادو)

اس ملی بھگت کو توڑنے کے لیے قدرت نے اگرچہ غیروں کا تیار کردہ نسخہ یعنی جمہوریت کی صورت میں ہمیں ایک ایسا ہتھیار دیا جس کے حسنِ استعمال سے سارے نظام کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ لائق صد تبریک ہیں وہ اذہان جنہوں نے مغرب کی مادر پدر آزاد جمہوریت کو پاکستان کے لیے اللہ کے اقتدارِ اعلیٰ سےوابستہ کر کے ایک نئی راہ کھولی ہے۔
جمہوریت ایک ایسی شے ہے جس کے ذریعے دہشت گردی، فرقہ واریت، انتہا پسندی کو ہی نہیں بلکہ استحصالی طبقے کی درازدستیوں کو بھی روکا جا سکتا ہے۔یہ جمہوریت کی برکت ہے کہ اب آپ نہ صرف ساری دنیا میں ہر جگہ بے خوف و خطر اسلام کی اور علم وامن کی دعوت پہنچا سکتے ہیں بلکہ اپنے ملک میں بھی استحصالی طبقوں کا گٹھ جوڑ توڑ سکتے ہیں۔

د۔ تقدیر کا غیر قرآنی مفہوم!
فکری جمود کا ایک اہم اور تاریخی تسلسل کا حامل سبب ‘‘مسئلہ تقدیر کی غیر قرآنی تعبیر’’ ہے۔مسئلہ تقدیر بجا طور پر ایسےمسائل میں سے ہے جس کا آ خری سرا صفاتِ الہٰی سے جا ملتا ہے اور اس کا مکمل ادراک شاید انسانی فہم سے ماورا ہے لیکن اس مسئلہ کےتطبیقی پہلو نے فکری جمود کی تشکیل و امتداد میں مؤثر کردار ادا کیا ۔مسئلہ تقدیر پر عہد صحابہ سے ہی مختلف آرا کا اظہار شروع ہو گیا تھا۔ محدثین کا طبقہ جو فکری ، عقلی اور فلسفیانہ مباحث سے بالعموم گریزاں رہا ان کی بعض تعبیرات جبر سے قریب تر ہیں۔ جبریت کا نظریہ بالعموم حکمران طبقے کو اپنے اقتدار کو طول دینے کےلیے معاون نظر آیا۔

غلامی، غربت ، پسماندگی اور جہالت پر راضی کرنے کے لیے نا معلوم کن زمانوں سے انسانوں کے بالا تر طبقات نے نوشتہ تقدیر کا فلسفہ تراش کر غلاموں کو غلامی پر رضا مند رہنے کا درس دینا شروع کیا، جو ہر دور میں جاری رہا۔ اسلامی تاریخ میں آغاز ملوکیت سے امت مسلمہ کے عقائد میں جو پہلی دراندازی ہوئی وہ اسی فلسفہ تقدیر کی تھی، جس کا درس یہ تھا کہ اللہ نے جس کی قسمت میں حکمرانی، بادشاہی،وسائل کی فراوانی اور اقتدارو اختیار کی بے پناہی لکھ دی ہے اسے نہ چیلنج کیا جا سکتا ہے نہ تبدیل۔ یہ فلسفہ جبراً مسلط ہو جانے والے حکمران خاندانوں کو تحفظ فراہم کرتا تھا، اس لیے اسے مذہبی روایات سےمبرہن کیا گیا۔

جس قوم کو لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ (انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے)اور انَّ اللَّهَ لا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ ( خدا اس کو جو کسی قوم کو ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے۔)کےدائمی قواعد کلیہ دیے گئے تھے اور جن کے نبی نے کبھی تقدیر پربھروسہ کر کے عمل میں کوتاہی نہیں کی اور کبھی کسی ناکامی کو نوشتہ تقدیر کہہ کر ذمہ داری قبول کرنے سے گریز نہیں کیا اسی کے ماننے والوں نے ایک مکمل فلسفہ تقدیر وضع کر کے اسے کتاب و سنت کے عنوان سے مارکیٹ کر دیا۔ يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ ۖ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ ( خدا جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے) کو مرکز نگاہ بنانے کی بجائے قسمت اور تقدیر کی جکڑبندیوں کوزوال کا ذمہ دار قرار دیا ۔ اقبال نے یہی تو کہا تھا:
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مؤمن کو غلامی کے طریق

تقدیر درحقیقت ایک سانچے کا نام ہے۔ اس سانچے کے اندر انسانی تگ وتاز کا وسیع میدان ہے اور یہی انسان کا دائرہ اختیار ہے۔ ہمیں باور کرایا گیا کہ تقدیر جبر کا نام ہے جب کہ امر واقعہ یہ ہے کہ تقدیر ایک مکمل پیکج ہے جس میں جبرو اختیار دونوں کا امتزاج ہے۔جن پہلووں سے انسان مجبور ہے اور انہیں کسی کوشش سے تبدیل نہیں کر سکتا ، ان کے بارے میں وہ ذمہ دار ہے، نہ جواب دہ۔مثلاً کوئی شخص کس زمانے میں کن ماں باپ کے گھر پیدا ہوگا۔رشتہ دار اور بہن بھائی کون ہوں گے، یہ تقدیری جبر کا پہلو ہے جسے کسی سعی و کاوش سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا، لیکن کسی شخص کی تعلیم کیا ہو گی، ذرئع معاش کیا ہوں گے، رزق کا کتنا حصہ ملے گا، عمر کتنی ہو گی،تندرستی اور بیماری سے کتناسابقہ پڑے گا۔ کوئی قوم باعزت،آزاد اور خوش حال ہوگی یا کمتر، غلام اورملامت زدہ ، یہ سب فرد اور قوم کے اختیارات کے پہلو ہیں جنھیں محنت سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔تاہم ہر چیز کی ایک انتہائی حد ہوتی ہے جس سے ماورا جانا ممکن نہیں، ان دونوں یعنی جبرو اختیار کے مجموعے کو تقدیر کہتے ہیں۔

چند سال قبل پاکستان میں ایک سیلاب آنے پر اس وقت کے صدر جو ایک بڑے سردار اور جاگیردار بھی تھے جابجا متاثرین کو قسمت پر قناعت اور حالات پر صبرو رضا کی تلقین کرتے نظر آئے۔ اسی طرح 2005 کے خوف ناک زلزلے کے بعد ہمیں یہ باور کروایا گیا کہ یہ ہماری تقدیر تھی جسے کوئی نہیں ٹال سکتا۔ کسی فرد نے یہ سوال نہیں کیا کہ اس سے زیادہ بری تقدیر جاپان کی ہے لیکن انہوں نے اپنی عقل و دانش اور علم و تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے زلزلوں کی تباہ کاری کے آگے بند باندھ دیا۔
قسمت اور تقدیر کا یہ مفہوم جس میں جہد و تغیر کا کوئی پیغام نہیں فکری جمود کا ایک بڑا اور اہم سبب ہے ؛اس پر علامہ اقبال نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا :
تقدیر کے پابند نباتات وجمادات
مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند

آخر میں میری تجویز یہ ہے کہ پاکستان کی تمام جامعات میں شعبہ فکر اسلامی کے قیام کے لیے کوشش کی جائے ؛اور ایسا نصاب تیار کیا جائے جو امت مسلمہ کو درپیش مختلف تحدیات پر علمی اور فکری تحقیقات کی راہ ہموار کرے اور ان تحقیقات کی سماجی تطبیق کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔ اگر گفٹ یونیورسٹی اس کانفرنس کے اختتام پر اہل علم ودانش اور فکر اسلامی سے وابستہ نامور شخصیات پر مشتمل ایک فورم سے اس کی تشکیل کا آغاز کرے تو اس نوعیت کی کانفرنسز کے نتیجہ خیز ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

ان الفاظ کے ساتھ میں گفٹ یونیورسٹی کی انتظامیہ، شعبہ فکروثقافت اسلامی کے صدر اور فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز کے ڈائریکٹر اور فیکلٹی کو مبارک باد دیتا ہوں کہ انھوں نے اس اہم موضوع پر دوروزہ کانفرنس کی اپنی روایت کو جاری رکھتے ہوئے ملک بھر سے ارباب علم ودانش کو موضوع کے مختلف پہلووں پر اظہار خیال کی دعوت دی جن سے ہم ان شاء اللہ بھرپور استفادہ کریں گے۔ اس موقع پر گفٹ یونیورسٹی اور متعلقہ شعبوں کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرنا میرا خوش گوار فریضہ ہے جن کی دعوت پر مجھے اس علمی کانفرنس میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔

ڈاکٹرطفیل ہاشمی
ڈاکٹرطفیل ہاشمی
استاد، ماہر علوم اسلامی، محبتوںکا امین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *