آمنہ مسعود جنجوعہ کا خط بنام چیف جسٹس۔۔۔منصور ندیم

پشاور میں ہونے والے منظور پشین کے جلسے میں جبری لا پتہ  افراد  کے حوالے سے جدوجہد  کرنے والی آمنہ مسعود جنجوعہ بھی موجود تھیں،کل کے جلسے کے حوالے سے آمنہ مسعود جنجوعہ کا کہنا ہے کہ ” بے شک ماؤں ، بہنوں کے آنسوؤں میں بڑی طاقت ہے ،  یہ آنسو وقت اور تاریخ کے دھارے کو تبدیل کریں گے!  انشاءاللہ  ۔”

پاکستان میں جب بھی جبری لاپتہ افراد کے حوالے سے بات کی جائے گی ، آمنہ مسعود جنجوعہ کا نام  اور ان کی انتھک محنت اور کوششوں کو تاریخ  میں ہمیشہ یاد  رکھا جائے گا۔تحصیل کہوٹہ تھوہاخالصہ کے نواحی گاؤں چھنی بندوال سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ کرنل (ر) راجہ علی محمد مرحوم کی بہو اور مسعود جنجوعہ کی بیوی جن کانام آمنہ مسعود جنجوعہ ہے ، ۲۸ اپریل ۱۹۶۴ء کو پیدا ہوئیں تعلیم ایف جی اسکول اور روالپنڈی کالج سے حاصل کی اور اسکے بعد  پنجاب یونیورسٹی  سے  فائن اور آرٹس  میں ماسٹرز کیا اور چاندی کا تمغہ حاصل کیا. آپ ایک پینٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھی شاعرہ بھی ہیں. تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ کی شادی راجہ مسعود سے ہوئی آپ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے. راجہ مسعود ایک کامیاب بزنس مین تھے اور اسی سلسلے میں ایک میٹنگ کے لئیے اپنے دوست فیصل فراز کے ساتھ۳۰  جولائی ۲۰۰۵ ءکو پشاور روانہ ہوئے لیکن ان کو اغواء کرلیا گیا آج ۱۲ برس  گزرنے کے باوجود ابھی تک کوئی پتہ نہیں چل سکا.

اپنے شوہر کے اغواء کے بعد پولیس کی غیر سنجیدگی سے تنگ آکرانہوں  نے اس وقت کے پریزیڈینٹ جنرل پرویز مشرف صاحب کو بھی خط لکھا کہ انکی مدد کی جائے مگر کوئی مدد نہ ملی. لیکن  آپ نے ہمت نہ ہاری اور اس تلاش کے سفر کی کوشش میں  ایک تنظیم ( ڈیفنس آف ہیومن رائٹس) DHR کے نام سے بنائی آپ اس تنظیم کی چئیر پرسن ہیں .اس تنظیم کی مدد سے نہ صرف اپنے شوہر کے لئے  بلکہ پورے ملک سے اغواء یا جبری لاپتہ  ہونے والے سینکڑوں لوگوں کی آواز بن رہی ہیں.ان ۱۳ برسوں میں ریاستی ظلم ، جبر کی داستانیں  ہیں جن کا انہوں نے سامنا کیا، لیکن مسلسل آہنی حوصلوں کے ساتھ برسر پیکار رہیں، اس جدوجہد میں ہر طرح کے خطرات کے سامنا کیا۔ قید و بند کی صعوبتوں سے لیے کر سخت نتائج کی دھمکیوں تک، ہر طریقے سے ڈرایا گیا ۔ مگر اللہ نے ان کو ہمت دی اور یہ ہر محاذ پر ڈٹی رہی۔اپنے شریک سفر کو تو تلاش نہ کرسکیں لیکن ۸۵۰ لاپتہ افراد کو ان کے پیاروں سے ملوا دیا۔

گزشتہ ۱۳ برسوں میں آنے والی دونوں جمہوری حکومتوں میں ان سے وعدے تو کئے گئے لیکن کسی بھی سیاسی جماعت نے ان کا عملی ساتھ نہ دیا،سابقہ چیف جسٹس  افتخار چوہدری کی تحریک کا حصہ بھی بنی لیکن کوئی خاطر خواہ  فائدہ نہ ہوا، اب موجودہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی  جانب سے بیان کردہ موجودہ  ملکی حالات کی خرابی  میں دلچسپی اور عدالتی اصلاحات کے ضمن میں انہوں نے  ایک بار پھر چیف جسٹس کو ایک امید بھرا  خط لکھا ہے ، اس خط کےمتن  کااردو  ترجمہ  یہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قابل احترام چیف جسٹس صاحب!

میں لا پتہ افراد کے حقوق اور ان کی بازیابی کی لئے کام کرنے والے ایک ادارے ”  ڈیفنس  ہیومن رائٹس”   کی چیئرپرسن ہوں ، جو اپنے وسائل پر ان لا پتہ ہونے والے افراد کی قانونی اور آئینی حیثیت  میں رہتے ہوئے بحیثیت ملک کے شہری ان کے بنیادی حقوق کے لئے کام کررہی ہوں۔ میری گزارشات  ، حالیہ دنوں میں جبری طور پر لاپتہ ہونے والےافراد، ماورائے قانون پولیس مقابلے ،  ہلاکتوں، غیر قانونی گرفتاریوں، قانونی اور غیر قانونی ٹارچر سیلز ، کی  طرف آپ کی توجہ دلانا ہے جو آج کل انسداد دہشت گردی کی بنیاد پر یا اس کی آڑ میں ہورہی ہیں۔

اس میں کوئی شبہ نہیں  کہ  حکومتی انسداد دہشتگردی  کا یہ عمل  قابل ستائش ہے اور ان آپریشنز کے کافی مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ بلوچستان اور کراچی جیسے حساس   علاقوں میں بھی خاصے نتیجہ خیز نتائج نظر آئے، ۔  ان آپریشنز  نے ملک دشمن عناصر اور دہشتگردوں کو   ایک واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

ایک انگریزی محاورہ ہے ” One   can   catch   fish    by angles    or   by   net ”   . ان تمام آپریشنز کی تکنیک کی بنیاد ایک ہی جال میں سب کو پھانسنا ہے ، نتیجتاً  ان آپریشنز کی لپیٹ میں کافی  بے گناہ  اور معصوم شہری بھی آجاتے ہیں ۔ ان آپریشنز کے دو منفی نتائج بھی سامنے آتے ہیں ۔ ایک تو وہ لوگ جو حقیقی دہشتگرد ہیں وہ  ہمارے موجودہ  عدالتی نظام کے سقم کا فائدہ اٹھا کر بچ جاتے ہیں اور دوسرے وہ لوگ جو حقیقتاً  معصوم یا بے گناہ  ہیں وہ اس دہشتگردی کے الزام کی لپیٹ میں مختلف وجوہات کی وجہ سے  آجاتے ہیں ۔ان  وجوہات میں اکثر ایسا ہوتا ہے کئی بے گناہ لوگ ایسے کسی موقع پر پائے جاتے ہیں یا پھر وہ ریاستی اداروں کی طرف سے پیسوں یاکسی تعلق یا رشتے داری کی  وجہ  سے بلیک میل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں ملزمان کو صحیح اور موثر  پیروی کے بجائے، نہایت معمولی الزام یا محدود ثبوتوں کی بنیاد پربھی   جلد از جلد مجرم طے کر دیا جاتا ہے۔جب تک انصاف کے تمام تقاضے بروئے کار نہ لائے جائیں گے اور  شفافیت  کو برقرار نہ رکھا گیا تو حالیہ عدالتی اور قانونی  نظام اس دہشتگردی کو مزید فروغ دینے کا  باعث بنے گا ۔اور یہ آپریشنز مکمل طور پر دہشتگردی کے خلاف موثر نہیں ہوسکتے، اور جاری رہنے والے یہ آپریشنز کبھی ختم نہیں ہوں گے۔

ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشتگردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ  ان پہلوؤں  کو بھی مد نظر رکھے کہ پولیس کا  شفاف احتسابی نظام ، عدالتی کارروائی  اور فیصلوں سے انصاف کی امید  یقینی بنائے جائے۔ اس کی ایک بڑی مثال کراچی کے ایک پولیس آفیسر  ایس پی راو انوار کی صورت میں ہے ،  جس پر ۴۵۰ سے زیادہ ماورائے قانون جعلی پولیس مقابلوں کا الزام ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق  ہزاروں بے گناہ اور معصوم شہری پولیس کی طرف سے    جھوٹے مقدمات اور جعلی پولیس مقابلوں کا  شکار ہوچکے ہیں۔اس طرح کے واقعات سے عام شہری، پولیس کی طرف سے   خوف و اذیت  کا شکار ہیں ۔کیا کوئی اندازہ لگا سکتا ہے کہ ریاست میں  قانون کے رکھوالے  خود قانون کو ایک تماشابنا رہے ہیں اور سوال  کرتے ہیں کہ کیا ہم ان بد عنوان افسران سے انصاف کی امید رکھ سکتے ہیں ؟ اور  ان بے گناہ مرنے والوں کے  کتنے لواحقین  انتقام کا ارادہ رکھیں گے؟یا بدلے یا انتقام کی طرف پیش قدمی کریں گے  اور  وہ قانون یا پولیس کا احترام کریں گے؟

ڈیفینس ہیومن رائٹس کے مطابق  ملک  بھر میں  لاپتہ  ہونے والے افراد، ماورائے قانون ہلاکتوں ، بازیاب اور مختلف  نجی ٹارچر سیلز میں پائے جانے والے اعدادو شمار یہ ہیں۔

آزاد جموں کشمیر :  مجموعی طور پر ۲۹ افراد کے لاپتہ ہونے کے اعداد و شمار موجود ہیں ،  ۲۰ افراد تا حال لاپتہ  ہیں، ۸ افراد بازیاب ہوئے ہیں ، ۱ فرد قید میں ہے، ہلاکت کوئی نہیں ہے ۔

بلوچستان  :  مجموعی طور پر ۶۵  افراد کےلا پتہ ہونے کے  اعداد و شمار موجود ہیں ،  ۵۸ افراد تا حال لاپتہ  ہیں، ۴ افراد بازیاب ہوئے ہیں ،  ۲ افراد قید میں ہے،۱ فرد کی  لاش   گمشدگی کےبعد ملی  ہے ۔

اسلام آباد  :  مجموعی طور پر ۷۲   افراد کےلا پتہ ہونے کے  اعداد و شمار موجود ہیں ،  ۵۳   افراد تا حال لاپتہ  ہیں، ۱۴   افراد بازیاب ہوئے ہیں ، ۴  افراد قید میں ہے،۱ فرد کی  لاش   گمشدگی کےبعد ملی  ہے ۔

خیبر پختونخوا :  بدقسمتی سے سب سے زیادہ لا پتہ ہونے والے افراد کا تعلق  خیبر پختونخوا  سے ہے ، مجموعی طور پر ۸۹۱    افراد کےلا پتہ ہونے کے  اعداد و شمار موجود ہیں ،  ۷۲۹    افراد تا حال لاپتہ  ہیں جو کہ یقیناً  ایک تکلیف دہ بات ہے ، ۵۵   افراد بازیاب ہوئے ہیں ، ۸۶ افراد قید میں ہے،۲۱  افراد کی  لاشیں   گمشدگی کےبعد ملی  ہیں ۔

پنجاب   :  مجموعی طور پر ۶۵۸   افراد کےلا پتہ ہونے کے  اعداد و شمار موجود ہیں ،  ۳۵۵  افراد تا حال لاپتہ  ہیں، ۲۱۵    افراد بازیاب ہوئے ہیں ، ۶۱ افراد قید میں ہے،۲۷ افراد کی  لاشیں   گمشدگی کےبعد ملی  ہیں۔

سندھ:  مجموعی طور پر ۱۶۸    افراد کےلا پتہ ہونے کے  اعداد و شمار موجود ہیں ،  ۱۱۲    افراد تا حال لاپتہ  ہیں، ۳۹    افراد بازیاب ہوئے ہیں ، ۴  افراد قید میں ہے، ۵ ا فراد کی  لاشیں   گمشدگی کےبعد ملی  ہیں۔

مجموعی طور پر ملک بھر سے  لا پتہ ہونے والے افراد  کے  اعداد و شمار  جو ڈیفنس ہیومن رائٹس کے پاس رجسٹرڈ ہیں ان کی تعداد  ۲۵۲۵ ہے  ،  جن میں سے ۱۳۲۷     افراد تا حال لاپتہ  ہیں اور کوئی بھی ریاستی ادارہ اس کی ذمہ داری نہیں لے رہا ہے،صرف  ۳۳۵   افراد بازیاب ہوئے ہیں ، ۱۵۸   افراد قید میں ہے یہاں قید سے مراد جو لا پتہ ہونے کے کافی عرصے بعد منظر عام پر لائے گئے اور انہیں ابھی مزید الزامات اور کیسز میں رکھا گیا ہے ، جب کہ ۵۵  ا فراد کی  لاشیں   لا پتہ ہونے  کےبعد ملی  ہیں، گذشتہ ۱۰ سالوں میں ۶۵۰ افراد بازیاب کئے گئے ہیں اور تقریبا ۱۰۰۰ افراد کو جعلی پولیس مقابلوں میں مارا گیا ہے ۔

ان تمام دئیے گئے اعدادو شمار کی روشنی میں چیف جسٹس سے چند گزارشات  ہیں۔

۱-   مجھے یعنی آمنہ مسعود جنجوعہ ( اور میری تنظیم کی ٹیم کو قانونی طور پر) کو انسانی حقوق کے  نمائندوں / مبصر / کنسلٹنٹ  کی حیثیت سے انکوائری کمیشن کےکام  اور ان کی کامیابی کا جائزہ  لینے کے لئے، کمیٹی کے امور، کمیشن کی سفارشات ، ان کے کام کے قواعد و ضوابط، اور کام کے طریقہ کار میں مزید اصلاحات کی تجاویز میں رکھا جائے ۔

۲- مجھےانسانی حقوق کے نمائندے کی حیثیت سے سپریم کورٹ کی طرف سے اجازت دی جائے کہ تمام لاپتہ افراد اور ان کی فیملیز  کے  مسائل کے  تدارک، اور انسانی حقوق کی صورتحال کی بہتری کے عمل اور اس کی سفارشات کے لئے ، اور جب اور جہاں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو، ملک بھر سے ٹیلی فون کالز کے ذریعے موصول ہونے  والی شکایات اور تجاویز  سے ان کی رہنمائی کروں۔ اور لا پتہ ہونے والے غریب اور بے بس خاندانوں کی کفالت کے معاملات کی دیکھ بھال کرسکوں۔

۳-  میں سپریم کورٹ کے ساتھ ساتھ، دیگر وزارتوں، پارلیمانی کمیٹیوں ، مقدمات کی سماعت ، عدالتوں اور بیوروکریسی کو فوری طور پر نافذ کرنے کے لئے سپریم کورٹ کی ذریعے فعال اور  نتائج پر مبنی سفارشات پیش کروں گی۔

۴- جب اور جہاں ملک بھر میں انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے  دورہ ضروری ہوا، وہاں جا کر  خلاف ورزیوں کا جائزہ لینا، جیسے قصور کی سات سالہ بچی زینب کے واقعے میں جیل کا دورہ کیا اور جیل کی انتظامیہ کو باور کروانا کہ  بے جا تشدد کو روکا جائے۔

۵- خیبر پختونخوا  ، فاٹا اور قبائلی علاقہ جات  کے انسانی حقوق کی اصل حقیقت اور اعداد و شمار  کا پتہ لگانا۔

۶- جعلی پولیس مقابلوں کی اعدادو شمار اور ان کی حقیقت   کا پتہ لگانا۔

۷- بلوچستان اور سندھ کے دور دراز اور دیہی علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کی حقیقت اور اعداد و شمار  کا پتہ لگانا۔

کوئی بھی ذمہ داری جیسے رپورٹ کا تشکیل دینا، اور دہشتگردی کے خلاف ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینا جو ملکی مفادات کے حق میں ہو، ایسا بیانیہ نہ تشکیل دیا جائے دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں کے منفی اثرات سے پیدا شدہ بیانیہ ہو۔ یہ میرے لئے باعث عزت بھئ ہوگا  اور انصاف کی حقیقی امید بھی۔

یہ انسانی حقوق کی نمائندگی کا عہدہ  آج کے موجودہ حالات کے تحت دہشتگردی اور دہشتگردی کے اقدامات کے خلاف ہمارے وطن پاکستان کو پیش آنے والےلا متناہی چیلنجز کے لئے لازمی ہے۔ خاص طور پر اگر ہم اس وطن عزیز کو مزید بد انتظامی ، جعلی پولیس مقابلوں میں ہونے والے معصوم افراد کے قتل، بچوں کے ساتھ جبری  زنا، اور نوجوان نسل کو اس بربادی اور خرابی کا ایندھن  بننے سے روکنا چاہتے ہیں۔

اسی لئے بحیثیت ڈیفنس ہیومن رائٹس کے چیئرپرسن میں نے اپنی خدمات اور صلاحیتوں کو پیش کیا ہے، مجھے یقیناً  پاکستان کی خدمت کا ایک موقع ملے گا اور مجھے لگتا ہے  کہ چیف جسٹس نے  پاکستان کے شہریوں کو امداد اور حقوق فراہم کرنے  لئے انقلابی اقدامات میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے ، آپ کے کئے گئے عدالتی اصلاحات کے فیصلے اور اقدامات  آنے والے دنوں میں اخلاقی ترقی  اور انصاف کی فراہمی کے لئے نظام کا قیام  قومی اور بین الاقوامی سطح پر زیر بحث ہے۔جہاں سیاسی معاملات میں معزز سپریم کورٹ کے بے مثال اور جراتمندانہ فیصلے نظر آئے ، وہیں ہم امید کرتے ہیں کہ انسانی حقوق کے حوالے سے جو مسائل ہیں ان پر بھی آپ ایسے ہی جرات مندانہ فیصلے کریں گے۔

بہت زیادہ امیدوں اور مثبت رد عمل کی منتظر۔

آمنہ مسعود جنجوعہ

(چیئر پرسن ) ڈیفینس آف ہیومن رائیٹس پاکستان
دفتر نمبر 24، مجید پلازہ، بینک روڈ صدر راولپنڈی پاکستان۔

( آمنہ مسعود جنجوعہ آپا کے لئے شکریہ ، جنہوں نے خط کی کاپی ارسال کی)۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”آمنہ مسعود جنجوعہ کا خط بنام چیف جسٹس۔۔۔منصور ندیم

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *