الیکشن 2018 اور زرداری کی دھاڑ۔۔ حسام درانی

تم لوگ تین سال کے لیے آتے ہو ہم تو ہمیشہ تھے ،ہیں اور رہیں گے۔۔۔ اسکے بعد ایک طویل خاموشی اور پھر اچانک۔۔
1۔ ” ہم پر اتنا پریشر مت ڈالو کہ بعد میں پاوں پڑ کر معافی مانگنی پڑے”
س: کیا آپ یہ چیرمین نیب کو پیغام دے رہے ہیں؟
“چیرمین نیب کی اتنی اوقات کہاں ،یہ میں حکومت کو کہہ رہا ہوں”
2۔” ہم جب چاہیں جیسے چاہیں نون لیگ  کی حکومت گرا سکتے ہیں”
3۔ ” ہم امیدوار براۓ سینٹ چیرمین کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہیں”
4۔ ” ایک زرداری سب پر بھاری ( سینٹ الیکشن کے بعد ایوان میں نعرے)”
5۔ “جیسے میں نے ان کو سینٹ میں طاقت میں نہیں آنے دیا، اسی طرح ان سے پنجاب کی حکومت بھی چھین لوں گا ”

یہ تو تھیں چند جھلکیاں ان واقعات کی جو کہ  حالیہ دنوں میں پاکستان کی سیاست کے افق پر روشن تھیں اور خبروں کے چینلز پرخوب رونق لگاتی رہیں ۔ ان سب باتوں سے قطع  نظر ان بیانات کی طرف ایک نظر ڈالتے ہیں جو کہ حالیہ دنوں میں میڈیا کی رونق بنے ہوئے ہیں۔
بقول زرداری صاحب کے جیسے انہوں نے سینٹ کے الیکشن میں میدان مارا ہے اسی طرح اٹھارہ کے الیکشن میں بھی مرد میدان وہ ہی ہوں گے اور جنوبی پنجاب کی تمام سیٹوں کے ساتھ ساتھ پنجاب میں سے 70 کے قریب سیٹیں جیت کر ایک طاقتور پارٹی کی شکل میں سامنے آئیں گے اور سندھ و پنجاب کے ساتھ ساتھ مرکز کی حکومت بھی ان کی ہی ہو گی۔
زرداری صاحب کے اس بیان کو مہمیز بلاول زرداری اپنے جلسوں میں دھواں دھار تقاریر سے دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اگر ہم ایک نظر پاکستان میں ہونے والے حالیہ بلدیاتی الیکشنز پر ڈالتے ہیں جو کہ  2013 کے جنرل الیکشنز کے دو سال بعد ہوئے تھے تو ہمیں ایک الگ ہی قسم کی صورتحال نظر آتی ہے، کیونکہ انکے نتائج اس بیانیہ سے بالکل مختلف  ہیں جو کہ  زرداری صاحب کہہ رہے ہیں۔
ہم جنوبی پنجاب کی صرف پانچ ڈسٹرکٹس اور ان میں ہونے والے حالیہ بلدیاتی الیکشن کے نتائج کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لیتے ہیں۔
2015 میں ہونے والے   الیکشنز میں ان پانچوں علاقوں میں نون لیگ کامیاب ہوئی تھی، جبکہ مقابلے میں تقریبا ً تمام سیاسی جماعتیں بشمول پیپلز پارٹی بھی تھی۔ نون لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے امیدواروں نے ان پانچوں ڈسٹرکٹس کی 462 میں سے چیئر مینز کی 193 سیٹیں حاصل کیں جن کی اوسط 41.7 فیصد بنتی ہے، اب آئیے ذرا تفصیل سے ان کو دیکھتے ہیں۔۔۔۔
بہاولنگر:
یہاں  کل 81 امیدوار آمنے سامنے تھے جن میں سے 26 نون لیگ ، 15 مسلم لیگ ضیا گروپ ، 9 پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کا ایک امیدوار چیرمین کی سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
میونسپل کمیٹیوں میں چشتیاں تحصیل میں آزاد امیدواروں نے 35 نشستیں جیت کر میدان مار لیا، جبکہ پی ٹی آئی ایک سیٹ ہی حاصل کر سکی۔
منچن آباد تحصیل میں آزاد امیدوار تمام کی تمام 12 سیٹیں لے اڑے۔
تحصیل بہاولنگر کی کل 47 میں سے 15 آزاد ، 5 پی ٹی آئی اور 27 نون لیگ کے حصے میں آئیں۔
میونسپل کی 24 میں سے 12 پی ایم ایل ضیا، 11 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔

اوکاڑہ:
ڈسٹرکٹ اوکاڑہ میں چئیرمین کی 140 نشستوں میں سے 76 نون لیگ، 14 پی ٹی آئی ، 12 پی پی پی اور 38 پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ۔
میونسپل کمیٹی کے 140 وارڈز میں 68 کونسلر نون کے حمایت یافتہ ، 8 پی ٹی آئی ، 8 پی پی پی جبکہ 56 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔

وہاڑی:
میں چئیرمین کی 105 نشستوں میں سے 48 آزاد، 34 نون لیگ ، 18 پی ٹی آئی ، پاکستان کسان اتحاد 2، پی پی پی 2 اور 1 نشست  قاف لیگ ، بورے والا کے کل 36 وارڈز میں سے 22 پر نون لیگ ، 6 پی ٹی آئی ، 1 قاف لیگ اور باقی نشستیں آزاد امیدواروں نے جیت لیں۔میلسی میونسپل کمیٹی کی 12 کونسلرز میں سے 6 نون لیگ، 2 پی ٹی آئی ، 2 پی پی پی اور 2 نشستیں آزاد امیدوار جیت گئے ۔
وہاڑی سب ڈسٹرکٹ کے 24 میونسپل وارڈز کی تمام نشستیں آزاد امیدوار لے اڑے۔

بھکر :
کل 66 چئیرمین میں سے 23 نون لیگ ، 41 آزاد اور 2 نشستوں پر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب ہوئے ۔
میونسپل کمیٹی کے جنرل کونسلرز کی 26 ،نون لیگ اور 32 نشستیں آزاد امیدوار لے اڑے۔

لودھراں:
ڈسٹرکٹ کی 76 میں سے 41 نون لیگ، 17 آزاد، جبکہ پی ٹی آئی 9 نشستوں پر کامیاب ٹھہری، تین یو سیز 30،32، اور 62 میں الیکشن ملتوی کر دیا گیا تھا۔۔
لودھراں میونسپل کمیٹی میں آزاد 20، پی ٹی آئی 6 جبکہ نون لیگ 4 نشستیں حاصل کر سکی
کروڑ پکا میں نون لیگ 20، آزاد 7 اور پی ٹی آئی 1 نشست حاصل کر سکی۔۔
دنیا پور میں نون لیگ 7 آزاد 4 اور پی ٹی آئی 1 نشست حاصل کر سکی
( درج بالا تفصیلات 2015 کے بلدیاتی الیکشن کے فوراً بعد کی ہیں ان میں معمولی سی ردوبدل ہو سکتی ہے)

درج بالا نتائج اس بات کا بالکل الٹ ہیں کہ پنجاب اور خصوصاً جنوبی پنجاب جو کہ  ایک زمانے میں پی پی پی کا گڑھ ہوتا تھا ادھر 2018 میں بھی حالات ایسے ہی ہوں گے جو کہ  پی پی پی کو اس پوزیشن پر لے جائیں گے جہاں سے وہ پورے ملک کو کنٹرول کر سکے جو کہ  فی الحال سوائے ایمپائیر کی مدد کے بغیر دیوانے کا خواب ہی لگتی ہے۔
اس تحریر کے دوسرے حصے میں اب ہم 2013 کے الیکشن کے نتائج اور حالیہ مردم شماری کے بعد ہونے والی نئی حلقہ بندیوں کی سیاسی صورتحال دیکھنے کی کوشش کریں گے۔۔
جنوبی پنجاب میں نئی حلقہ بندیوں کے بعد قومی اسمبلی کی سیٹوں کی تعداد 43 سے بڑھ کر 46 ہو چکی ہے اب دیکھتے ہیں کہ  ماضی میں اس علاقہ میں کون کامیاب رہا۔
2002 کے الیکشن میں ان 43 نشستوں میں سے ق لیگ 20، پی پی پی 7 ، پی پی پیٹریاٹ 6 ، نیشنل آلائینس 5 ، نون لیگ 2، آزاد 2 جبکہ ایک نشست مسلم لیگ ضیا ء کے حصے میں آئی تھی،

اب اگر ہم بی بی کی شہادت کے بعد 2008 میں ہونے والے الیکشن پر نظر ڈالیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ، پیپلزپارٹی 22، ن لیگ 9، ق لیگ 11، اور فنکشنل لیگ ایک سیٹ پر کامیاب ہوئی۔
2013 کے الیکشن میں صورتحال کچھ اس طرح سے ہو گئی نون لیگ 35 ، پیپلزپارٹی 3، پی ٹی آئی 1، ق لیگ و مسلم لیگ ضیاء 1، 1 جبکہ 2 آزاد امیدوار جنوبی پنجاب سے قومی اسمبلی کے ممبر بنے۔
ان کی تفصیل نئی حلقہ بندیوں اور پے در پے سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی کے بعد کچھ ایسی ہو سکتی ہے۔۔۔
چند حلقوں کا احاطہ کرتے ہیں کیونکہ تمام کی تفصیل طوالت کے ساتھ ساتھ بوریت کا بھی شکار ہو سکتی ہے۔

این اے 150 خانیوال 1
سابقہ 156 سے محمد رضا حیات ہراج نے 2013 میں آزاد حیثیت سے سیٹ جیتی اور نون لیگ میں شامل ہو گئے لیکن 2018 کے الیکشن کے لیے وہ پہلے ہی پی ٹی آئی میں جا چکے ہیں۔ 2013 میں اس حلقے سے پیپلز پارٹی کا کوئی امیدوار نہ تھا اور ابھی تک 2018 کے لیے بھی کسی امیدوار نے کوشش نہیں کی۔۔

این اے 151 خانیوال 2
سابقہ 157 سے محمد خان ڈاھا نے نون لیگ کی ٹکٹ پر یہ سیٹ جیتی تھی ، ق لیگ دوسرے نمبر پر جبکہ پیپلز پارٹی کا کوئی امیدوار مقابلے پر نا تھا اور اب تلک (تا دم تحریر) کسی نے بھی پیپلز پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے کی آمادگی ظاہر نہیں کی۔

این اے 152 خانیوال 3
سابقہ 158 سے اسلم بودلہ نون کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے اور ممکن ہے کہ  2018 کا الیکشن وہ پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر لڑیں، پیر ظہور حسین قریشی جو کہ  2013 میں پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن میں دوسرے نمبر پر رہے تھے وہ پی ٹی آئی کی طرف سے صوبائی سیٹ کے امیدوار ہو سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اس حلقہ میں پیر حیدر زمان قریشی کو اتارنے کی تیاری کر رہی ہے۔

این اے 153 خانیوال 4
سابقہ 159 سے چوہدری افتخار ، نون لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوے تھے، جبکہ 2018 میں پیر پگاڑہ کے داماد سہیل شاہ کھگہ پی ٹی آئی جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے ان کے سابقہ امیدوار کیپٹن (ر) اسد گل متوقع امیدوار ہو سکتے ہیں۔

این اے 154 ملتان 1
سابقہ 148 سے نون لیگ کی ٹکٹ پر عبدالغفار ڈوگر کامیاب رہے تھے، یہ حلقہ ماضی میں شاہ محمود قریشی اور مخدوم جاوید ہاشمی کی سیاسی لڑائی میں میدان جنگ کا کام دیتا رہا ہے۔ مخدوم جاوید ہاشمی اس حلقے سے 2018 میں نون کی حمایت سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑتے نظر آ سکتے ہیں، جبکہ عبدالغفار ڈوگر نون کے مضبوط امیدوار ہیں۔ 2018 میں شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین پی ٹی آئی اور سابقہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے سید علی موسی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے۔۔ یاد رہے یہ دونوں 2013 کے الیکشن میں عبدالغفار ڈوگر سے ہار گئے تھے۔

اگر اس وقت دیکھا جائے تو آزاد حیثیت سے جیت کر ممبر قومی اسمبلی بننے والے ممبران کے حلقے زیادہ توجہ حاصل کئے ہوئے ہیں بشمول اول الذکر حلقوں کے، این 164 وہاڑی 3 ، این اے 166 بہاولنگر 1 اور این اے 164 سے جیتنے والے طاہر اقبال نے نون لیگ میں شمولیت اختیار کر لی تھی لیکن تا دم تحریر انہوں نے اپنی سیاسی وابستگی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

دیگر حلقوں کی طرح این اے 160 لودھراں 1 سابقہ 154 نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس حلقے میں 2013 سے لے کر ابتک یکے بعد دیگرے الیکشنز ہوئے ، 2018 میں جہانگیر ترین کے بیٹے جو   حالیہ ضمنی الیکشن ہار چکے ہیں پی ٹی آئی کی جانب سے میدان میں ہوں گے اور جہانگیر ترین اس سیٹ کو واپس لینے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

این اے 169 بہاولنگر 4 سے اعجاز الحق کامیاب ہوئے تھے اور اب 2018 کے الیکشن کے لیے ماسوائے ان کے تمام سابقہ امیدوار اپنی اپنی سیاسی وابستگیاں بدل چکے ہیں۔

این اے 186 مظفر گڑھ 6 نئی حلقہ بندیوں کے بعد وجود میں آیا ہے اس لیے تمام سیاسی جماعتیں اپنی پوری کواشش کر رہی ہیں کے ان کا امیدوار اس حلقے کامرد میدان ٹھہرے، نون لیگ کی طرف سے سردار عاشق حسین گوپانگ، اور سردار عامر طلال گوپانگ ، پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر رحم علی شاہ اور سید قائم علی شمسی جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے سردار عبدالقیوم خان جتوئی اور سردار رسول بخش خان جتوئی متوقع امیدواروں میں شامل ہیں۔

اسی طرح این اے 192 ڈیرہ غازی خان 4 اور این اے 195 راجن پور بھی نئی حلقہ بندیوں کے بعد بننے والے حلقے ہیں اور شدت سے اپنے فاتح کا انتطار کر رہے ہیں۔
جنوبی پنجاب کے سابقہ 43 حلقوں میں سے پیپلز پارٹی تین حلقوں این اے 175 رحیم یار خان 1، این اے 178 رحیم یار خان 4 اور این اے 162 مظفر گڑھ سے فتحیاب ہوئی تھی، اب جبکہ موجودہ حکومت اپنی مدت ختم کرنے کے قریب اور الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہے تا دم تحریر کم و بیش 12 حلقوں میں پیپلز پارٹی نے کسی امیدوار کا نا تو اعلان کیا ہے اور نہ ہی ٹکٹ کے لیے کوئی ٹکٹ کے لیے بھاگ دوڑ کرتا نظر آ رہا ہے۔
یہ تو تھا 2002 سے 2013 تک ہونے والے جنرل الیکشنز کا ایک مختصر جائزہ:

اب ہم دوبارہ زرداری صاحب کے اس بیان پر آتے ہیں جو کہ  2018 میں ان تین ڈویثزن میں تمام کی تمام سیٹیں جیتنے کا ہے تو الحال ان کی پارٹی دوسری جماعتوں کے خرید کنندہ ووٹوں کی فتح منانے میں مصروف ہے، لیکن ان کے بیان اور زمینی حقائق ایک دوسرے سے بالکل برعکس ہیں، لیکن یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ  پچھلے چند ماہ میں زرداری صاحب پر بڑے بھیا کی کافی نظر کرم رہی ہے، تبھی تو کلاس کے ایک بھگوڑے کو واپس بلا کر مانیٹر کے عہدے پر فائز کر دیا گیا ہے، لیکن زرداری صاحب کی اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بڑے بھیا کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں وہ وقت آنے پر ہی پتہ چلے گا۔

(اس تحریر کو مکمل کرنے کے لیے، گوگل،الیکشن کمیشن آف پاکستان کے علاوہ پاکستان کی معروف اخبارات کی ویب  سائیٹس ، سیاسی تجزیہ نگاروں کے کالم اور سیرائیکی بیلٹ کے دوستوں کے ساتھ گفتگو سے مدد لی گئی ہے)

حسام دُرانی
حسام دُرانی
A Frozen Flame

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *