• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • احب ابرہیم حسن : مصری نژاد امریکی ادبی اور تنقیدی نقاد۔۔احمد سہیل

احب ابرہیم حسن : مصری نژاد امریکی ادبی اور تنقیدی نقاد۔۔احمد سہیل

امریکہ کے ادبی نظریہ دان، بشری ثقافتی نقاد، دانشور اور استاد ہیں۔ ١٩٢٥ میں قاہرہ (مصر) میں پیدا ہوئے۔ قاہرہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد ١٩٤٦ میں امریکہ نقل مکانی کی۔ ١٩٤٨ میں پنسلوانیہ یونیورسٹی سے الیکڑیکل انجنیرنگ میں ماسٹر کی سند حاصل کرنے کے بعد اپنا میدان تبدیل کرلیا۔ انگریزی میں ایم اے کرنے کے بعد انگریزی ادبیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ کچھ عرصےایسلر پولی ٹیکنیک انسیی ٹیوٹ میں پڑھانے کے بعد١٨٥٤ سے ١٩٧٠ تک وسیلین یونیورسٹی میں صیغیہ درس و تدریس سے  متعلق رہے۔پھر وہ ١٩٩٩ تک یونیورستی آف وسکانسن مین تقابلی ادب کے پروفیسر رہنے کے بعد اسی جامعہ سے ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ وہ ٢٩ سال ادب کے آستاد اور محقق رہے۔ احب حسن سویڈن، جاپان، جرمنی،  آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، فرانس اور آسڑیا میں بھی مہمان پروفیسر رہے۔ آج کل وہ یونیورسٹی آف وزکانسن میں اعزازی تحقیقی پروفیسر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔

ان کی کتاب “ریڈیکل انوسنٹ“ ( Radical Innocence ) ١٩٦١ میں چھپی۔ یہ امریکی ناولز کے نظریاتی اور تنقیدی مطالعوں کی معتبر کتاب جانی  جاتی ہے۔احب حسن نےہنری ملر، سیموئیل بیکٹ، جدیدیت، ما بعد جدیدیت، پیکریت اور ثقافتی تبدیلی پر جم کر لکھا۔ انھوں نے سب سے پہلے “ مابعد انسان دوستی“ کی اصلاح وضع کی جس میں اسطوری رموز پوشیدہ ہیں۔ احب حسن کا کہنا ہے“ کلاسیکی انسان دوستی مابعدجدیدیت سے علیحدہ تصور ہے۔ کیونکہ انسان بہت سی مخلوقات کو تحفظ دیتا ہے اور انسان کو کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ فطرت کو تباہ کرے یہ اخلاقیات سے بلند ہوتی ہے۔جو انسان کی ذہانت کی تحدیدات ہیں۔ یہ انسان کی عقلی روایت ہے۔“ وہ مابعد جدیدیت کو “ ٹیکنالوجی کی آئیڈلوجی“ کہتے ہیں۔ جو ماؤرائی انسانیت کے مستقبل میں ‘ مابعدبشر“ کا عندیہ بھی ہے۔

یہ ایک ارتقائی صورتحال ہےجو روشن خیالی کا سبب بنتی ہے جو اصل میں “ کلاسیکل لبرل ازم “ ہے۔ انھوں نے ادب کو سیڈ سے لے کر بیکٹکی ادب کی خاموش زبان کی پیچیدگیوں سے تفہیم اورتشریح کی۔ ان کے خیال میں ثقافت اور لاشعور   ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں۔ اس میں موسیقی بھی اثر انداز ہوتی ہے اور یہی چیز”مابعد جدیدیت” کی تعریف کو بیاں کردیتی ہے۔ احب حسن   کی  کتاب میں  شاید ہی کبھی اس پر بحث کی گئی ہو  مگر ناولوں میں کسی بھی نئے تنقیدی بصیرت سے پتہ چلتا ہے ، یہ مجھے لگتا ہے غلطی  بنیادی طور پر یہ ہے کہ ان کا مطالعہ معاصر امریکی ناول کا تعین کرتا ہے جس میں نظریاتی فریم ورک ہےاور اس کا   تعین کرنے کے لیے مصنف نے اس موضوع پر ایک “نقطہ نظر” قائم کرنے کے لیے  اپنی کتاب کے  لیے ایک تہائی سے زیادہ   وقت وقف کردیا، لیکن منصوبہ بندی تو laboriously کی تھی ۔ جو اصل اور ناولوں کے متن کے ساتھ نمٹنے کے لئے ایک اہم پیمانے کے طور پر بہت مفید ہے جو ناولز کےباہر کی دنیا ہے .

احب حسن کا کہنا ہے کہ “پیچھے ہٹنا میں جدید خود” میں جدید یورپی فکشن میں اینٹی ہیرو کے ظہور کے پچیس صفحوں کو غور سے پڑھنے کے ساتھ شروع ہوتا ہے. پھر انھوں نے ہیمنگوے اور تھامس وولف کو اس کے آغاز سے امریکی ناول میں ہیرو کی مخصوص نوعیت کی جانچ اور تجزیے کرنے کی حمایت کی۔ احب حسن نے  اب وقت کی روح اور اس بات کا تعین کرنے کے لئے جنگ کے بعد امریکہ کے ایک معاشرتی نقطہ نظر  کو پیش کیا ہے. خود اس طرح کے ایک بڑے ناممکن کام کا تعین کرنے کے بعد، احب حسن شاید دوستوفسکی، نطشے، کافکا، کامیو ، مارک ٹوین، اور ہینری جیمز، ہیروشیما کے اثرات کے بارے میں بہت کچھ نیا نہیں کہنے پر مورد الزام ٹھہرایا، اور جس میں سلیقہ مند فرد کا تعین کیا جا سکتا ہے – جس میں انہوں نے ایک پیراگراف یا دو کی جگہ میں ان نظریاتی مسائل سے نمٹنے کے لئے مجبور ہوجاتے ہیں ۔ اور محسوس ہوتا ہے وہ عمومی افتراقات کو ذہانیت  اور احتیاط سے پیش کر رہے ہیں، لیکن ان کے فکری کلیات کے دائرے میں ڈھیلے سروں پر پھنسے ہوئے لگ رہے ہیں جو جدید ادب کے بارے میں ہماری  فہم بندی میں بہت مدد گار ثابت نہیں ہوتے ہیں .

ان کے ادبی اور تنقیدی نظریات سے اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے۔ احب حسن ادب کی آفاقی  قدروں کو سمجھتے ہیں اور اہمیت کو اجاگر بھی کرتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے  کہ  ادب کا عمیق مطالعہ ناقدین کی تحریروں کو وسیع اور عمیق افق فراہم کرتا ہے۔ اگر مقامی بیڑیوں میں  جکڑا ہوا پسماندہ ادب اسے بڑا ادب دکھائی دے گا اور اس کے ردعمل میں آراء  اور تجزیے سے جو ادب سامنے آئے گا۔ وہ پھیکا ادب ہوگا۔ اس پر نظر ثانی کرنے پڑے گی۔ اور مگر ادب کے ادبا ، ناقدوں اور شعرا کو فیشن زدہ  کہنا درست نہیں ہے۔ جو احساس محرومی بھی ہے۔ وہ ادب کو پروپیگنڈہ  تصور  نہیں کرتے۔ اور نہ وہ اسے سیاسی نظریے کا داعی تصور کرتے ہیں۔

وہ معاشیات کو برا نہیں تصور کرتے لیکن احب حسن ادب معیشت کے مسائل کو نہیں سلجھا سکتا۔ نہ ہی جنسی معاملات کے مسائل کو حل کرسکتی ہے ادب کی بس ایک ہی منطق ہوتی ہے جس کو ہم جمالیات کہتے ہیں۔ کسی ادب میں سکوت و جمود انحطاط کا سبب ہوتا ہے۔ نئے ادبی تحریکات اور رجحانات سے اغماض برتنا یا اسے مسترد کردینا کوئی مثبت بات نہیں۔کچھ نئی تحریکیں اور رجحانات ناکام ہوجاتے ہیں جو کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہ معاشرے کا ایندھن اور قوت ہوتی ہے۔ مابعد جدیدیت ” ثقافت” میں رچی بسی ہے  کیونکہ کسی معاشرےاور ملک وقوم کی عادات اطور، رسوم  اور زندگی کی حرکیات تمدن سے ہی جنم لیتی ہے۔

احب حسن نے  300 سے زائد ادبی نظریات اورثقافتی موضوعات پرمقالات لکھے ہیں۔ 9 کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان دنوں وہ فکشن نگاری کی طرف بھی متوجہ ہوئے ہیں۔ ان کی کہانیاں ادبی جرائد میں شائع ہوتی رہتی  ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے ایک ناول The Changeling   کے نام سے لکھا ہے۔ ان کی کتابوں اور مقالات مختلف    زبانوں میں ترجمہ ہوچکے ہیں۔احب حسن نے جدیدیت اور مابعدجدیدیت کا تقابل کرتے ہوئے یہ جدول پیش کیا ہے۔

Modernism

Postmodernism

Romanticism/Symbolism Pataphysics/Dadaism
Form (conjunctive, closed) Antiform (disjunctive, open)
Purpose Play
Design Chance
Hierarchy Anarchy
Mastery/Logos Exhaustion/Silence
Art Object / Finished Work Process/Performance/Happening
Distance Participation
Creation/Totalization Decreation/Deconstruction
Synthesis Antithesis
Presence Absence
Centering Dispersal
Genre/Boundary Text/Intertext
Semantics Rhetoric
Paradigm Syntagm
Hypotaxis Parataxis
Metaphor Metonymy
Selection Combination
Root/Depth Rhizome/Surface
Interpretation/Reading Against Interpretation / Misreading
Signified Signifier
Lisible (Readerly) Scriptable (Writerly)
Narrative / Grande Histoire Anti-narrative / Petite Histoire
Master Code Idiolect
Symptom Desire
Type Mutant
Genital/Phallic Polymorphous/Androgynous
Paranoia Schizophrenia
Origin / Cause Difference-Differance / Trace
God the Father The Holy Ghost
Metaphysics Irony
Determinacy Indeterminacy
Transcendence Immanence
احب ابراہیم حسن کی تصانیف کی فہرست یوں بنتی ہے۔

Bertens, Hans. The Idea of the Postmodern: A History. London and New York: Routledge, 1995.

Cage, John. A Year From Monday. Middletown, CT: Wesleyan University Press, 1967.

Canetti, Elias. Auto-d-Fé. Tr. C. V. Wedgwood. New York: Seabury Press, 1979.

Deleuze, Gilles, and Félix Guattari. Rhizome. Paris: Les Éditions de Minuit, 1976.

Eliot, T. S. Notes Toward the Definition of Culture. London: Faber and Faber, 1948.

Foucault, Michel. Michel Foucault: Beyond Structuralism and Hermeneutics. Ed. Hubert L. Dreyfus and Paul Rabinow. Chicago: University of Chicago Press, 1982.

Hassan, Ihab. Paracriticisms: Seven Speculations of the Times. Urbana, IL: University of Illinois Press, 1975.

Hassan, Ihab. The Postmodern Turn: Essays in Postmodern Theory and Culture. Columbus, OH: Ohio State University Press, 1987.

Huyssen, Andreas. After the Great Divide: Modernism, Mass Culture, Postmodernism. Bloominton, IN: Indiana University Press, 1986.

James, William. The Will to Believe and Other Essays. New York: Dover, 1956.

James, William. Pragmatism. New York: Meridian Books, 1955.

Jencks, Charles. What Is Postmodernism? Fourth Edition. London: Academy Editions, 1996.

Kant, Immanuel.“Was Ist Aufklärung?” Berlinische Monatschrift, November 1784.

Keats, John. The Selected Letters of John Keats. Ed. Lionel Trilling. New York: Farrar, Straus, and Young, 1951.

Lyotard, Jean-François. La Condition postmoderne. Paris: Editions de Minuit, 1979.

Nietzsche, Friedrich. The Will to Power. Ed. Walter Kaufmann, tr. Walter Kaufmann and R. J. Hollingdale. New York: Random House, 1967.

Rose, Margaret. The Post-Modern and the Post-Industrial. Cambridge: Cambridge University Press, 1991.

Smith, Bernard. Modernism’s History. New Haven, CT: Yale University Press, 1998.

Wilson, E. O. Consilience: the Unity of Knowledge. New York: Random House, 1998

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *