یادِرفتگان

یادِرفتگان
تحریر: نعیم الدین جمالی

انسان کی زندگی رشتوں اور تعلقات کامجموعہ ہے، رشتہ اور تعلق اخلاص اور احساس کا نام ہے، کبھی یہ تعلق اور رشتے، رشتہ داری کی نسبت سے ہوتے ہیں، تو کبھی استاد وشاگرد کا تعلق بھی ایک رشتہ ہوتا ہے، رشتے کا لفظ محبت احساس اور اپنائیت کا نام ہے.
سبھی رشتے اپنی جگہ مقدس ومحترم! لیکن مجھے کتاب کا رشتہ بہت پسند ہے، کتاب پڑہنے اور لکھنے والوں کا، ان رشتوں میں بھی کچھ خاص رشتے ہوتے ہیں، میرے ان خاص رشتوں میں ایک مختار مسعود رح کا نام بھی ہے، مجھے یاد نہیں آرہا میرا تعلق مختار مسعود مرحوم سے کب ہوا، ان کی لوح ایام اور آواز دوست کا نام کہاں سے سنا؟ کس نے مجھے سفر نصیب پڑہنے کی تاکید کی.؟
البتہ ایک زمانے میں مجھے موبائل پر کتابیں پڑہنے کا بہت شوق تھا، چلتے پھرتے، سفر وحضر میں میں موبائل کی اسکرین پر سر جھکائے کچھ نہ کچھ پڑہتا رہتا تھا،قدرت اللہ شھاب مرحوم کی مایہ ناز کتاب “شہاب نامہ ” اور محترمہ بانوقدسیہ مرحومہ کی “راجہ گدھ “اور تارڑ صاحب کی “اندلس میں اجنبی “جیسے ضخیم کتابیں موبائل پر پڑھ ڈالیں، انہی دنوں مرحوم مختار مسعود کی لوح ایام کا بھی لنک کہیں سے ہاتھ لگ گیا اور یاد پڑتا ہے کہ میں لوح ایام شاید پوری نہیں پڑہ پایا، لیکن جتنا پڑھ سکا اس سے مسعود صاحب کی نثر نے مجھے اس وقت سے ہی گرویدہ بنا لیا.
پچھلے دنون ایک دیرینہ دوست نے لوح ایام دوبارہ پڑھنے کو دی، پڑھ کر اپنی سمجھ تک مختصر تبصرہ بھی لکھا.
تبصرہ ملاحظہ فرمائیں:

لوح ایام
مصنف: مختار مسعود

صفحات: 494
مختار مسعود آر سی ڈی کے جنرل سکریٹری تھے، ان دنوں مختار صاحب تہران میں رہائش پذیر تھے، جب ایران ایک بڑے انقلاب سے گذر رہا تھا، لوح ایام ایرانی انقلاب کی آنکھوں دیکھی کہانی ہے، بلکہ میں دوستوں سے کہتا ہوں آج بھی انقلاب کی لائیو کوریج دیکھنی ہے تو لوح ایام پڑھیں. انقلاب کیا ہوتا ہے؟ مختار مسعود صاحب لکھتے ہیں کہ: “انقلاب خواہ کتنا ہی پرانا کیوں نہ ہوجائے اس کی داستان ہمیشہ تازہ رہتی ہے. امید اور عمل، بیداری اور خود شناسی، جنون اور لہو کی داستان بھی کبھی پرانی ہوسکتی ہے.زمانہ اس کو بار بار دہراتا ہے. فرق صرف نام، مقام اور وقت کا ہوتا ہے. ” مختار صاحب کی نثر میں ایسی برجستگی، لطافت وظرافت پائی جاتی ہے کہ کتاب بار بار پڑھنے کو جی چاہتا .
لوح ایام پڑہنے کے بعد شوق کی چنگاری دوبارہ سلگنے لگی کہ مختار صاحب کی بقیہ کتب بھی جلدی پڑھنی چاہیے، بڑی بے قدری ہوگی کہ اپنے آپ کو اردو ادب کا قاری کہنے والا اب تک مختار مسعود صاحب کو نہ پڑھ سکا!
فوری اپنی متعلقہ نثار لائبریری سے رابطہ کیا لیکن وہاں آواز دوست اور سفر نصیب میسر نہ تھیں، محترم ابراھیم جمالی صاحب نے وعدہ کیا کہ وہ دو دن کے اندر اردو بازار سے یہ کتابیں منگا کر دیں گے، حسب وعدہ دو دن بعد یہ کتابیں مل گئیں، میں نے پہلے آواز دوست اور اس کے بعد سفر نصیب پڑہنا شروع کی، قسمت! جیسے ہی میں سفر نصیب کے آخری صفحات پر پہنچا اور فیس بک مبشر زیدی صاحب نے اسٹیٹس لگایا کہ:
“آواز دوست خاموش ہوگئی ”
مجھے یہ خبر پڑھ اتنا صدمہ پہچا جتنا کسی کو حقیقی والد کے انتقال کے وقت پہنچتا ہے، مختار مسعود صاحب میرے روحانی والد تھے، ان کی کتابوں کی نسبت میرا ان سے خاص روحانی رشتہ تھا.
ایک خواہش تھی کہ مختار مسعود صاحب سے ملاقات کروں گا لیکن وہ بھی نہ ہوسکی، شاید خدا کو یہ قلبی اور بن ملاقات اور محبتوں کا رشتہ زیادہ پسند تھا، مختار صاحب دنیا سے تو رحلت فرماگئے لیکن دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، مختار صاحب کی یہ کتب ان کی حیات ہیں وہ ہمیشہ بعد والوں میں انہیں تابندہ رکھیں گی،
کہاں میں اور کہاں علم وادب کا ایک وسیع درخشندہ ستارہ مختار مسعود صاحب!

میں کون ہوں کہ مختار مسعود صاحب پر کچھ لکھ سکوں؟

مجھے اب تک جن قلم کاروں سے محبت ہے ان میں سے مختارمسعود صاحب کا نام نمایاں اور سرفہرست ہے .
مختار صاحب کی کتب پر میں کیا تبصرہ کر سکتا ہوں، بس سفر نصیب کے ٹائٹل پر پشت کی جانب کچھ تحسینی الفاظ رقم ہیں وہی لکھ دیتا ہوں.
تحسین سخن شناس

آواز دوست: لفظ لفظ قابل داد، بعض فقرے لاجواب اور بعض صفحات داد سے بالاتر.

سفر نصیب:
چشم بینا کا سفر جو زادِ حیات سمیٹے تلاش حق میں سرگرداں ہے.اس میں شامل دو خاکے اردو کے بہترین خاکے شمار کیے جاسکتے ہیں.

لوح ایام: موضوع ایران کا انقلاب، مخاطب اہل پاکستان، لکھنے والا انقلاب کا چشم دید گواہ، واقعات حیران کن، بیان مسحور، نتیجہ ایک منفرد ادبی شاہکار.
افسوس کہ دیگر علم ودانش اور علم کے بحر ذخار شخصیات کی طرح مسعود سے ہم سے جدا ہوگئے لیکن ہم ان کے کارناموں پر کچھ نہ لکھ سکے، نہ ہی ان کے متعلق اور یوم وفات پر ان کے لیے خصوصی پروگرام کر سکے، سوشل میڈیا کے چند تعزیتی اسٹیٹس سے ان زندگی اور کارنامے ماوراء تھے.
کاش ہم علم وادب اور علمی وادبی شخصیات کے قدر داں ہوتے!!
کاش ہم مسعود صاحب پر ڈاکومینٹریاں بناتے!!
مسعود! آپ تو سعید اور نیک بخت ہوئے، ہم آپ کی قدر نہ کر سکے، ہمیں معاف کیجئیے!!
ہم سے جتنا ہوسکا ہم آپ کو یاد رکھیں گے، آپ تو دلوں میں بسانے کے مستحق ہو.

مختار مسعود آپ ہمیشہ یاد رہو گے.
اللہ آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائے.
آمین ثم آمین

Avatar
نعیم الدین
لکھنے پڑہنے والا ایک ادنی طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *