برصغیر میں موجودہ سیاسی و نظریاتی بحران ۔۔اسد رحمان

جنوبی ایشیا بطور ایک خطہ کثیر تہذیبی، کثیر قومی و کثیر لسانی خطہ ہے۔ اس کی تاریخ جغرافیہ اور ثقافت اسے بقیہ ایشیا سے ممتاز کرتے ہیں۔ اس خطہ میں تین بڑی جدید ریاستیں بنگلہ دیش، ُپاکستان اور بھارت تینوں اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی گہرے نظریاتی ، سماجی اور سیاسی بحران میں دھنستی چلی جا رہی ہیں جو کہ اس پورے خطے کو ایک انسانی جوالہ مکھی بننے کی طرف دھکیل رہا ہے۔ آخر ایسا کیا معیاری واقعہ درپیش ہوا کہ جس کے باعث یہ تینوں ریاستیں اپنے اشرافیہ  کے طے کیے ہوئے ابتدائی نظریاتی اور سیاسی نکتہ نظر سے رفتہ رفتہ دور پھسلتی گئیں اور آج نہرو و جناح مکمل طور پہ اور مجیب کافی حد تک موجودہ بنگلہ سیاست سے غیر متعلق ہو چکے ہیں۔

یقیناً  کچھ لوگوں کا یہ اعتراض ہو گا کہ یہ دعویٰ  غلط ہے تاہم ریاستی سطح پہ حکومتوں کی جانب سے ہر آزادی کے دن پہ دی جانے والی سلامی ، تینوں ممالک کی لائف سٹائل لبرل اشرافیہ اور تینوں بڑی پارٹیوں (مسلم لیگ، کانگرس اور عوامی لیگ) کے موجود اور طاقتور حیثیت میں ہونے کے باوجود جن بنیادی نظریاتی اصولوں کے تحت ان تینوں ریاستوں کی تشکیل کی گئی تھی بعد کے واقعات نے ان کو کھوکھلا اور غیر متعلق کر دیا ہے۔ مجیب کا سونار بنگلہ اب شہری مڈل کلاس اور دیہی مزدور و کسان کے درمیان مذہبی تنازعہ کا میدان ہے، ہندوستان کا سیکولر خواب مودی کے چرنوں میں پاش پاش پڑا ہے اور پاکستان میں سوائے چند لاکھ فوجی و سویلین بیوروکریٹوں اور ان سے مستفید ہونے والے دانشوروں کے تخیل سے پرے کوئی مسلم قوم موجود نہیں ہے۔ جب مسئلے کی نوعیت اور سطح اس قدر کثیر جہتی و کثیر ریاستی ہو تو اس کا درست تناظر تاریخ کے بِنا بنانا نا ممکن ہے۔ تاریخ کو کنگھالنا اس لئے بھی سنجیدہ حیثیت اختیا کر لیتا ہے کیونکہ اس کے بنا کوئی مستقبل تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن تاریخ کو پھر کہاں سے شروع کیا جائے کیونکہ اس برصغیر کے اندر ہر خطے کی اپنی انتہائی پیچیدہ اور کئی حوالوں سے تابناک تارٰیخ موجود ہے۔

اسی طرح کیا تاریخ کا سیاسی پہلو زیادہ اہم ہے یا معاشی؟ کیا تاریخ ریاست کی تعمیر کو اہمیت دی جائے یا قومیت کو موضوع زیادہ توجہ کا طالب ہے۔ اسی طرح ثقافت، جغرافیہ اور ماحولیات کا بھی انسانی معاشروں، ریاست میں سیاست و معشیت سے نسبت توجہ کی طالب ہے۔ تاہم برصغیر کی اس موجودہ گنجلک اور غیر مستحکم سیاسی صورتحال کا بہتر تجزیہ کرنے کیلئے انگریز کی سامراجی ریاست کے یہاں قیام سے لے کر برصغیر کی تقسیم تک کا عرصہ مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ کالونیل طرزِ حکومت ( جسے فوکو govern mentality کہتا ہے) ریاست کی نوعیت و ڈھانچے، ریاست و شہری کی آپس میں نسبت ، سیاسی نظام اور نمائندہ اداروں کی بنیاد اور خاص کر استدلال حکومت (Governmental Rationality) کی ایسی بنیاد جو کہ اپنی نوع اور حقیقت دونوں میں ہی حاکمانہ و غاصبانہ تھا کے اتقا کو ان تینوں ریاستوں میں وقوع پذیر ہوتا دیکھ کر ہی ہم یہ آج کے تجزیے تک پہنچ سکتے ہیں۔

ان تینوں ممالک کی ریاستیں ، اپنی مخصوص جہات میں، اپنے کالونیل ماضی سے رشتہ نہیں توڑ پائیں بلکہ انکی ورکنگ لاجک آج بھی کالونیل گورننگ نظام کا ایک بگڑا ہوا چربہ ہی ہے۔ میں خاص طور پہ انڈیا کی بابت ایک بات کو آغاز میں ہی کلئیر کر دینا چاہتا ہوں۔ میری مراد بالی وڈ کا یا بنگلور اور نان ریڈینٹ انڈیا نہیں ہے بلکہ ۸۸ فیصد آبادی کو وہ بھارت ہے جو کہ چھوٹے دیہاتوں اور شہروں میں بستا ہے۔ جنوبی ایشیا بدقسمتی سے ایک ایسا خطہ ہے جہاں پہ پہلے تو ایک ریاست کے شہری دوسری ریاست میں رہنے والوں اور انکے حالات سے سراسر بے خبر ہیں اور دوسرا المیہ یہ ہے کہ جو تھوڑی بہت خبر آ بھی جاتی ہے اسکی حقیقت اور سچائی سے وہی نسبت ہوتی ہے جو شیر کی گھاس سے۔

اسی طرح سے اس مضمون کا پاکستان وہ پاکستان ہے جس میں آج بھی ریاست نے شہریوں کو یا تو قانونی حقوق دیے  نہیں یا پھر کبھی الف اور کبھی ب  کا بہانہ کر کے چھین لیے (اکیسویں ترمیم) جہاں پہ انسانی ترقی کے اعشارئیے افریقہ کے برابر ہیں اور جس کی ۹۳ فیصد معشیت غیر سرکاری اعدادو شمار پہ مشتمل ہے۔ ڈیفنس کالونیوں اور نجی ٹاؤنز  والے پاکستان کا اس پاکستان سے تعلق بالکل ویسا ہی ہے جیسے زمیندار کا اپنے مزارعے سے۔ اسی طرح ہماری کوشش ہو گی کہ اس بنگلہ دیش کی بات کی جائے جسے دنیا کی سب سے بڑی دیہاتی جھونپڑ  پٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور جس کے شہری پورے وسطی ایشیا اور یورپ میں سب سے زیادہ سخت محنت کا کام کرنے والوں میں سر فہرست ہیں۔تینوں ریاستوں اور اسکے ساتھ جڑی سیاست کی موجودہ متلون مزاجی کی جڑیں دراصل ان حقیقی پاکستانوں، ہندوستانوں اور بنگلہ دیشوں میں پیوست ہیں جو کہ انہی کی نمائندہ تشکیلیات جو کہ میڈیا کے  ذریعے ساری دنیا کے تخیل میں انڈیلی جاتی ہیں بالکل مختلف ہے۔

Avatar
اسد رحمان
سیاسیات اور سماجیات کا ایک طالبِ علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”برصغیر میں موجودہ سیاسی و نظریاتی بحران ۔۔اسد رحمان

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *