جنگل کہانی۔۔فخر اقبال خان بلوچ

تاریخ بتاتی ہے کہ کہیں ایک جنگل تھا، جو شیروں کا جنگل کہلاتا تھا-وہاں کچھ پرندے بھی تھے جو امن کے گیت گاتے تھے، خوش رہتے تھے مگر افسردہ افسردہ۔شیروں کے جنگل کی حدوں کے آس پاس دوسرے جنگل باسیوں کو دن رات شیروں کی غراہٹوں اور غصیلی آوازوں سے کوفت ہوتی لیکن وہ خاموش رہتے،

شیر وں کے جنگل کے باسی بظاہر ایک انتہائی خوبصورت جنگل کے مالک تھے، وہاں سریلی آواز والے پرندے تھے، خوبصورت ناچنے والے مور، لے میں گانے والی کوئل، خوبصورت امن پسند فاختہ اور مغرور چال چلتے کبوتر۔۔۔ابھی تک   بات ٹھیک تھی، اور سب کچھ اختلافات اور چھوٹے حادثات کے باوجود زندگی کافی خوبصورت تھی ۔

پھر ایک دن یوں ہوا کہ ایک انتہائی کرخت شکل والے مکار شیر نے سب کو مرکزی جھیل پر طلب فرمایا۔۔۔اور خطاب کیا کہ دیکھو میری بات غور سے سنو اور کان کھول کر سنو اور اسے اپنے دماغ کی ہارڈ ڈسک میں ایک علیحدہ فولڈر بنا کر اس میں محفوظ کر لو، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی ۔

اس شیر نے اپنے خطاب میں جنگل باسیوں کو بتایا کہ

میں نے خود کو تمہارا امیر، بادشاہ یا جنگل کا شہنشاہ مقرر کیا ہے اور تم میں سے کسی کو اس سے انکار ہے تو ابھی بتا دے، تاکہ اسکی شکایات پر غور کیا جاوے۔۔۔ہاں سب سے پہلا حکم نامہ جو میں جاری کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ، سب یاد رکھیں کہ یہ جنگل شیروں کے جنگل سے مشہور ہے، لہٰذا اس جنگل پر صرف اور صرف شیروں کا حق ہے، باقی ماندہ چرند پرند بھی یہاں رہ سکتے ہیں ( یہ بات کرتے ہوۓ بادشاہ نے پرندوں اور ہرنوں کے غول کو غور سے یوں دیکھا کہ جیسے احسان کیے جانے پر ستائش چاہتا ہو )

کافی دیر تک خاموشی رہی، پھر اچانک رٹو طوطے نے خاموشی توڑی اور زور سے چیخا، بادشاہ سلامت کا اقبال بلند ، ہم آپ کے مشکور ہیں ۔

عینک پہنے فاختہ بی نے ساتھ بیٹھی مینا بیگم کو کہنی مارتے ہوۓ کہا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے ؟ جنگل کسی ایک جانور کا کیسے ہو سکتا ہے ؟ جنگل تو جنگل ہے اور رہنے والے چرند پرند   اور درندوں کا ہے تو یہ کاہے کو اور کیوں فرما رہے ہیں ؟

مینا بیگم نے عینک کے پیچھے چھپی نظروں کے اشارے سے فاختہ بی کو چپ ہونے اور بات سننے کا اشارہ کیا –

اسی لمحے ایک بوڑھا شیر اونچے پہاڑ کی سب سے اونچی غار میں سے نکل کر سامنے آیا تو تمام جنگل اس کے احترام میں کھڑا ہوگیا، وہ شیر اس وسیع غار میں رہتا تھا جہاں وہ شیروں سے مراقبہ کرواتا اور انھیں ذہنی، جسمانی اور روحانی سکون حاصل کرنے کے طریقے بتاتا، کہ کس طرح مختصر وقت میں آپ بالکل ترو تازہ اور نوزائیدہ بچے جیسے پاک صاف ہو سکتے ہیں۔۔

بزرگ شیر نے بلند آواز میں کہا کہ رات  بابا ببر شیر بکروی خور   میرے  خواب میں آئے اور تمھارے بادشاہ کو کان پکڑ کر میرے حوالے کیا کہ یہ شیر شیروں کو لازوال طاقت اور قوت بخشے گا اسے اپنی شاگردی میں لو، لہٰذا میں شیروں کو خوشخبری سناتا ہوں کہ بادشاہ تم لوگوں پر رحمت بن کر آیا ہے، آج سے شیر اور صرف شیر دنیا پر حکومت کرے گا – یہ کہہ کر بزرگ شیر غار کے اندر چلا گیا اور اپنی بوڑھی شیرنی کو پنجہ مار کر کہا منحوس تو یہاں سوئی پڑی ہے اور مکھیاں تیری چمیاں لے رہی ہیں اٹھ اور مجھے بھنگ کے تازہ پتے منگوا دے میں نے چوسنے ہیں –

دوسری بات۔۔۔ بادشاہ سلامت نے غصیلی آواز میں کہا،

ہم نے بہت برداشت کیا، لیکن اب کان کھول کر سنو ، یہ جو کوئل اور اسکی جھار بیٹھی ہے  ۔۔ ہم شیر ہیں اور ہمیں ہماری کرخت سماعت میں تمہاری سریلی آواز چبھتی ہے لہٰذا بہت کوکنے کا شوق ہو تو ساتھ والے جنگل میں اپنے  رشتے داروں کے درختوں پر بیٹھ  کر مرا کرو – جب کوک لو واپس آ کر خاموشی سے اپنے گھونسلوں میں دبک کر بیٹھا کرو ۔۔

اور فاختہ بی اور ہمنوا یہ جو تم سارا دن سبز شاخ اٹھائے ادھر ادھر گھومتی اڑتی پھرتی رہتی ہو، ذرا خود کو لگام دو ورنہ ایک دن ان سارے درختوں کو گنجا کر دو گی سایہ نہ ہوا تو ہم گرمیوں میں کہاں جائیں گے ؟ آج سے یہ خیر سگالی کے دورے بند!

کبوتر صاحب آپ ہمیں اچھے لگے جب بھی ہماری خالہ کو بھوک سے بے حال اپنی طرف آتے دیکھا، آپ کی آنکھیں بند اور پھر چند لمحوں بعد آپکا دل بھی بند، ہماری خالہ آپ کی بہت تعریف کرتی ہیں ہمیں آپ سے کوئی شکایات نہیں لہٰذا گھومو پھرو عیش و عشرت کی زندگی گزارو اور محترمہ خالہ جان کی پیٹ پوجا کا سامان ہوتے رہو ۔

ہرنو ، بکریو ں،گائیں بھینسیں اور سارے چوپائے آج ہی ہمارے وزیر قانون کو ملیں اور اپنی اپنی زندگی گزارنے کے بنائے گئے ہمارے قوانین کی کاپی حاصل کریں اور جو کوئی بھی خلاف ورزی کرتے ہوۓ پایا گیا، اس کی سزا یہ تجویز کی گئی ہے کہ جنگل میں کہیں بھی کوئی خلاف قانون کام کرتے دیکھا گیا تو وہاں موجود شیروں کے جتھے کو اجازت ہوگی کہ اسکی تکہ بوٹی بنائیں اور باربی کیو پارٹی ارینج کریں اور شاہی کچھار میں بھی بھجوانے کا انتظام کریں – ہاں بار بی کیو پارٹی میں کوئل کو شیری قصیدے سنانے کی اجازت ہوگی ، ہر طرف سبز رنگ ہے اس میں لال رنگ جچے گا اور ہماری تسکین کا سامان ہوگا –

بلبل چہکے گی تو صرف چہکار میں اداسی اور غم کا امتزاج ہمارے وحشیانہ پن کو تسکین دینے کی حد تک ہو ۔۔

محفل برخاست ہوئی تو کچھ جنگل باسی تو بہت خوش تھے خاص طور پر شیر اور کبوتر لیکن اکثر جنگل باسی حیران پریشان وہیں ساکت بیٹھے تھے،اب جنگل کے باسی گھر پہنچے تو انھیں احساس ہوا کہ کچھ عجیب سا ہے، تمام چرند پرند چوپائے وغیرہ بھی ایک بات محسوس کر رہے تھے کہ کچھ عجیب سا ہے ۔۔

اچانک بلبل کی غمناک آواز نے خاموشی کا سینہ چیرا اور ایک المناک جنگلی گیت گانا شروع کر دیا – اچانک سب کو احساس ہوا کہ عجیب بات پرندوں کی چہکار اور کوئل کی کوک کے نہ ہونے سے جنگل میں موجود موت جیسی خاموشی تھی ۔

بلبل نوحہ پڑھ رہی تھی اور جنگل باسیوں کی آنکھوں میں جھڑی لگی تھی ۔۔

اگلی صبح ابھی اندھیرہ ہی تھا، کہ شیروں کا جنگل ایک خوفناک گرج سے جاگ گیا، بزرگ شیر غار سے نکلا کھڑا تھا اور غضبناک آواز میں کہہ رہا تھا، آج شیروں کا مقدس دن ہے ، اور آج شیروں کی شان میں قصیدے پڑھے جائیں گے مرکزی جھیل کے پاس آؤ اور سب مل کر شیروں کا قصیدہ یاد کرو، اور مل کر پڑھو، تا کہ تم محفوظ رہو۔۔۔ ورنہ تم جانتے ہی ہو میں مقدس شیر ہوں جسے ٹکا ٹک گردہ کلیجی بہت پسند ہے –

تین چار دن گزرے تو پانچ شیروں نے ایک بیل اور گائے کو ٹیلے کے نزدیک والے گھاس کے میدان میں چرتے ہوۓ گھیر کر مار ڈالا- الزام یہ تھا کہ دونوں جوان ہیں اور اکیلے صبح صبح گھاس کھانے کے بہانے عشق و محبت کی داستانیں سنا رہے تھے –

گاؤ قبیلے کے احتجاج کے بعد الو میاں نے عدالت لگائی اور قانونی کتاب کا صفحہ نمبر انیس سو سنتالیس کھولا تو گڑبڑا کر ورق الٹنے شروع کر دئیے، نئے ایڈیشن کی کاپی منگوائی اور اس میں انیس سو تہتر اور انیس سو  چوراسی صفحہ کے مندرجات پڑھے اسی طرح صفحے پر صفحہ الٹتا گیا اور الو میاں نے مطمئن ہو کر فیصلہ لکھوانا شروع کر دیا ۔۔

گاؤ قبیلہ، نیل گائے بچھڑے بھیڑیں بکریاں ابا بیل کوئل فاختہ حتیٰ کہ ریچھ اونٹ مچھلیاں تتلیاں جگنو وغیرہ اپنے وکیل فاختہ بیگم کے ساتھ مایوسی کی تصویر بنے بیٹھے تھے –

دوسری طرف شیروں کی طرف سے آنسو بہاتا مگر مچھ اور کبوتر باز با باز شیروں والے وکیل کے ساتھ بیٹھے مسکرا رہے تھے – اور آستین میں ٹھکانہ بنا کر رہنے والا اژدہا وکیل بن کر پھنکار رہا تھا

اچانک الو نے فیصلہ پڑھنا شروع کیا ، اور حکم دیا کہ نئے قوانین کے تحت شیروں نے بروقت اقدام کرکے شیروں کے جنگل کی یکجہتی اور عزت بچائی ہے لہٰذا با عزت بری کیا جاتا ہے ۔۔اور ساتھ ہی فیصلہ دیا کہ اکیلا جوڑا گھاس چرنے میدان میں نہیں آ سکتا، بھوک لگی ہے تو سارے اکٹھے ادھر آ مرو، اور چر مر کر واپس ہو جاؤ۔۔

فریق مخالف کی دلیل سنے بغیر جنگل میں دیا جانے والا فیصلہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا –

ایک دن ایک ننھی چڑیا پر ایک باز نے اسی قانون کے تحت حملہ کر دیا، وہ تو بھلا ہو جنگل کے کچھ بہادر اور خاندانی شیروں کا کہ انہوں نے فاختہ کی مدد کی اور اسے زخمی حالت میں ساتھ والے جنگل پر زیتون کی ٹہنی پر بٹھا کر پلٹ آئے -پھر ایک کلانچیں بھرتے ہرن کو ایک لگڑ بگھوں کے لشکر نے یہ کہہ کر مار ڈالا کہ یہ غیر قانونی حرکتیں کر رہا تھا، آس پاس چونکہ کوئی شیر نہیں تھا لہٰذا ہم نے شیروں کے جنگل کی حفاظت کے لیے اسے گلشن کے بیچوں بیچ چیر پھاڑ کر جشن منایا۔۔۔

مختصر یہ کہ جس صبح تتلیاں ساتھ والے جنگل ہجرت کرتے پکڑی گئیں اس دن ایک طوفان آیا – تیز ہوائیں چلیں اور بڑے بڑے اولے پڑے ،اتنے بڑے اولے کسی نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھے تھے ، جس کو ایک کلو کا اولہ لگتا تھا وہ وہیں ڈھے جاتا تھا اور بڑے جانوروں کی تو کھال ادھڑ جاتی۔۔دوسری صبح ہوئی تو خوف کا شکار جنگل کے باسی اپنے گھونسلوں اور غاروں سے باہر نکلے تو ایک عجیب قیامت کا سماں تھا –

درخت ٹنڈ منڈ تھے، فاختہ مر چکی تھی اور کوئل قبیلہ نڈھال اور زخموں سے چور، مور کی دم جھڑ چکی تھی اور گھاس کی جگہ چٹیل میدان منہ چڑا رہے تھے ۔

سب سے عجیب بات یہ تھی کہ بزرگ شیر کا اپنا ہی غار جگہ جگہ گر چکا تھا مراقبہ والے شیر جگہ جگہ بکھرے پڑے تھے ، ان کی کھال جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی لیکن ایک انتہائی حیران کردینے والی بات یہ تھی کہ وہ کھال ان کی اپنی نہیں تھی –

ان کٹی پھٹی کھالوں کے اندر مرے ہوۓ شیر نہیں تھے، بھیڑیے تھے – جو شیروں کے جنگل میں شیر بن کر قبضہ کرنا چاہتے تھے

کچھ شیروں کو اندازہ ہوگیا کہ یہ کیا کہانی تھی، انہوں نے ایسے بھیڑیوں کو چن چن کر جنگل نکالا دیا –

آج بھی جنگل کے اکثر شیروں کو یقین ہے کہ وہ نظر کا دھوکہ تھا وہ بھی ان کی نسل کے شیر تھے ۔۔۔بھیڑیے نہیں!

لیکن فاختہ جانتی تھی کہ کیا ہوا تھا۔۔۔ وہ شیر آج بھی فاختہ کو دشمنوں کے جنگل کی فاختہ سمجھتے ہیں لیکن کھلی آنکھوں سے شیر کی کھال پہنے بھیڑیوں کو شیر ہی سمجھتے ہیں!!

فخر اقبال خان بلوچ
فخر اقبال خان بلوچ
بی کام- ایل ایل بی لہو رستے قلم کا ہاتھ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”جنگل کہانی۔۔فخر اقبال خان بلوچ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *