ہزارہ قتل عام اور ریاست کی خاموشی۔۔نادر زادہ

آخر وہ کون سی ایسی نا معلوم طاقت  ہے جو 18 سال  سے مسلسل ایک کمیونٹی کو نشانہ بنارہی  ہے  جو   2000 لاشیں گرا چکے ہیں مگر آج تک کوئی مثال کے طور پر بھی ایک بھی قاتل نہیں پکڑا  گیا ، دنیا حیران ہے کہ آخر   ان کے چہروں سے کوئی نقاب کیوں نہیں اٹھاتا۔۔

گزشتہ سے پیوستہ کل ہی کی بات ہںے کہ ایک بار پھر یہ نامعلوم آسمان سے برس کر 2 راہگیروں  کو قتل کرکے پھر جنات کی طرح ہوا میں   غائب ہوگئے ۔ کل جس  جگہ ان دو راہگیروں کو قتل کیا گیا،  یہ کوئٹہ شہر کی  معروف اور مصروف ترین شارع ہے، میں شرطیہ  یہ دعویٰ کرسکتا ہوں کہ اگر کوئی اسی جائے حادثے سے اپنی گاڑی موٹر سائکل حتیٰ کہ  اگر کوئی پیدل جانے والے خود کو اس ہجوم سے آدھ  گھنٹے میں نکلوا سکے تو میں جرمانہ دینے کو تیار  ہوں مگر یہ نامعلوم  مصروف شاہراہ سے  نکل کر ان کے بقول فرارہوگئے دوسری بات کہ اس جائے حادثے سے دس قدم کے فاصلے میں شہر کی  قدیم  ترین کوئٹہ سٹی تھانہ اور چیک پوسٹس ہیں ۔

پرسوں کے حادثے کے بعد جوانوں کی ایک تعداد لاش اٹھانے کے بعد لواحقین کے ساتھ علمدار روڑ میں دھرنا  اور احتجاج کررہے  ہیں بڑی مظلومیت کے ساتھ یہ اپنے  گھروں کے سامنے بیٹھ کر احتجاج کررہے  ہیں  کیونکہ شہر کے تمام علاقے ان کے لیے نوگو ایریا بن چکے ہیں حتیٰ کہ  احتجاج کرنے کی اجازت بھی نہیں اس لیے مقامی شارع پر اپنی مظلومیت اور احتجاج ریکارڑ کروارہے ہیں ستم بالائے ستم کہ اس مجموعے میں آزاد صحافت اور آزاد میڈیا کا کوئی نام و نشان ہی نہیں شاید اس لیے کہ یہاں انسان کے  تحفظ کی بات ہورہی   ہے ، کسی لڑکی کی سگریٹ نوشی پر نہیں یا اگر یہاں کسی خان کی شادی یا سیاسی بیان بازی ہوتی  تو میڈیا بریکنگ نیوز سے آسمان سر پر اٹھا لیتے اگر دودھ کی قیمت کا معاملہ ہوتا  تو شاید انصاف کے پاسبان چیف جسٹس صاحب از خود نوٹس لیتے بد قسمتی سے یہاں انسانی حیات اور ایک پوری قوم کی نسل کشی کا معاملہ ہے اس  کے لیے چیف صاحب کے پاس  وقت نہیں۔

وطن دوستی کا ثبوت اس سے بڑھ کر  اور کیا ہوسکتا ہے   کہ لواحقین کے کاندھوں  پر لاش اور ہاتھ میں پاکستان کے قومی پرچم ہوں   مگر پھر بھی ماں کی حیثیت رکھنے والی ریاست بلخصوص پاک فوج کو خبر ہی نہیں دل جوئی تو دور کی   بات ہے۔

Save

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *