ادب اور ادیب کی سمت۔۔منیب

انسانی معا شرے کی حرکیات سمجھنا آ سا ن کام نہیں ۔دنیا کی معلوم تا ریخ میں کو ئی دانشور،تاریخ دان،فلسفی، یا ادیب یہ دعوی نہیں کر سکا کہ وہ سما ج کی کلی تفہیم کر چکا ہے ۔سما جی رویے دراصل معا شرے کے عکا س ہو تے ہیں اور اسی لئے ہر معا شرہ اپنی چند جملہ خصوصیات رکھتا ہے جو اسے دوسرے معا شروں سے ممتاز کر تی ہیں ۔ ہر معا شرے میں پیدا ہو نے والا ادب مختلف ہو تا ہے اور ادیبوں کی وابستگی سے لیکر انکا تخیل تک کسی صورت بھی یکساں نہیں ہو سکتا ۔دنیا کا عظیم ادب اٹھا کر دیکھ لیا جا ئے،وہ کسی بھی طر ح کی نظریا تی با لا دستی کی تبلیغ نہیں کر تا ،لیکن بدلتی دنیا کےتقا ضو ں نے ادب اور ادیب کی سمت کے تعین میں چند سوالات ضرور اٹھا ئے ہیں جن کا جواب دیے بغیر ادب کی اعلی اخلا قی اقدار کا پھیلا ؤ ممکن نہیں .

اگر گلگا میش،الف لیلی یا کلیلہ و دمنہ کو ادب کا آ غا ز مان لیا جا ئے توبلا شبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کو تر تیب دیتے وقت ادب اور ادیب کی سمت کا تعین ضروری نہیں رہا ہو گا مگر کیا کیا جا ئے کہ آ ج کاقا ری محض ادب نہیں پڑ ھنا چا ہتا اسی لئے اب نقادوں اور اد بی  تھیوری کا کردار بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔
اردو ادب میں مرحوم حسن عسکری نے ادب کی مو ت کا نعرہ لگا یا تھا ،پھر سلیم احمد اور بعد ازاں دیگر ہم خیا ل لو گو ں نے اس  مو ضو ع کی تفہیم کر تےکرتے        با قا عدہ ایک دبستان تشکیل دیدیا لیکن  اردو ادب کا قا ری آ ج بھی بے سمتی کے عذاب سے دو چا ر ہے ۔

انسانی آ فات ہوں یا زمینی،ادبا اکثر تخلیق کر دہ ادب میں کسی سمت کا تعین نہ کر نے کی وجہ سے ہی ایک مخصوص قسم کی بے سمتی کا شکا ر نظر آ تے ہیں ۔یہا ں سوال اس بات کا نہیں کہ کیا ،کب اور کیسے لکھا جا ئے،بلکہ ضرورت ہے کہ کیوں لکھا جا ئے؟ ترقی پسند ادب اس قسم کی ضروریات پوری کر نے میں معا ون ثا بت ہو سکتا تھا لیکن وہ نعرہ بازی اور مقدمہ سا زی کی نذر  ہو کر رہ گیا ۔حلقہ اربا ب ذوق کی دھڑے بندیوں نے نظریاتی ادب کے پھیلا ؤ کو نقصان پہنچا یا  ،لہذا    ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آ ج کا ادیب لکھنے کے بعد    نشریاتی معا ونین کی مد د سے قاری تک پہنچا تو دیتا ہے مگر اس میں کسی قسم کی سمت کا تعین نا ممکن نظر آ تا ہے ۔

یہاں محض اس دیگ سے چند دانے ہی اگر ملا حظہ کر لئے جا ئیں تو با ت کا مقصد وا ضح ہو جا ئے گا کہ ہما را ادب ،ادبی معیارات پر تو پو را اترتا ہے لیکن کیا آ فت  و ابتلا کے اس دور میں محض ادب ہمارے لئے کا ر آ مد ثا بت ہو گا یا اپنے قا ری کو کو ئی سمت فراہم کر نا یا خود اپنی سمت سے آ گا ہ کر نا ادیب کی ذمہ داریو ں میں شما ر ہو گا ؟

خصو صیت سے اگر پا ک و ہند کے ادب کی بات کی جا ئے تو ثقا فتی یلغا ر کو روکنے یا ایٹمی پھیلا ؤ کے سد باب کے لئے  ہما رے  ادب کا کیا کردار نظر آ تا ہے؟ چند انفرادی تخلیقات اس خطر ے کا مقا بلہ نہیں کر سکتیں جو روز بروز ہماری طر ف بڑ ھتا چلا آ رہا ہے ۔شا م کا بحران ہو یا مصر میں جمہوریت پسندوں کی نا کامی، خواتین کے حقوق کی بات ہو یا ترکی کے یو رپی یو نین سے اشتراک کا معا ملہ،اسمار ٹ فون سے لبریز نسل کی تربیت کا قصہ ہو یا وسا ئل کی کمی کا رو نا ،ادب اور ادیب اپنی سمت کا تعین کر نے سے قا صر ہے ۔ آ ج حسن عسکری، اور ٹی ایس ایلیٹ سمیت میتھیو آر نلڈ کی کمی محسوس ہو تی ہے  کیو نکہ ادب کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے  معا شرے میں اسکی مو جو دگی ضروری ہے وگر نہ دیگر فنون کی طر ح ادب بھی با لا آ خر دیس نکالا لیکربے گھری کا عذاب سہے گا  بقول سلیم احمد

در بدر ٹھوکریں کھائیں تو یہ معلوم ہوا

گھر کسے کہتے ہیں ،کیا چیز ہے بے گھر ہونا!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *