• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اپُن کا کراچی:کراچی، مالوہ،پختون اور افیون ۔۔۔محمد اقبال دیوان/تیسری قسط

اپُن کا کراچی:کراچی، مالوہ،پختون اور افیون ۔۔۔محمد اقبال دیوان/تیسری قسط

اس جنگ کا باقاعدہ آغاز نو بجے صبح 15 فروری 1843 کو پھلیلی ، حیدرآباد کے مقام پر اس وقت ہوا جب آٹھ ہزار سندھی سپاہیوں نے جن کی اکثریت بلوچ تھی ،انگریز چھاؤنی پر حملہ کیا۔دو دن بعد انگریزوں نے اپنے بڑے پڑاؤ ،جو ہالا کے نزدیک تھا وہاں سے حملوں کا آغاز کیا۔ میانی کے جنگل میں چارلس نئیپیر نے ان سپاہیوں کو گھیر لیا۔جنگ میانی میں سندھیوں کو بہت بری طرح سے شکست ہوئی۔سندھ میں شجاعت کی علامت سمجھے جانے والے ہوش محمد شیدی کا تعلق حبشی غلاموں کی نسل سے تھا۔ وہ میر شیر محمد خان ٹالپر کی فوج والے دستے کے سپہ سالار تھے۔ایک طویل عرصے تک سندھ کے جاگیردار گھرانوں میں یہ حبشی غلام کثرت سے پائے جاتے تھے۔ہوش محمد شیدی کا ذکر جنگ میانی میں دلیر ی کے حوالے سے بہت نمایاں ہے، سندھی قوم پرستوں کا مشہور نعرہ کہ”مرجائیں گے مگر تمہیں سندھ پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے“ انہی  سے موسوم ہے۔یہ نعرہ عام طور پر اس وقت بلند کیا جاتا ہے جب پنجابی  کالا باغ ڈیم کی بات کریں ، یا مہاجر کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کا کھڑاک کھڑا کریں۔

حیدرآباد سے دس میل دور ڈبی گاؤں میں ان کی قبر موجود ہے۔ جس کا برا حال ہے ،گو  ان کی قوم کے افراد نے اس احاطے کو کچرا کونڈی بننے سے بچانے کے لیے اپنے طور پر ایک دیوار بنادی ہے۔یہ د لچسپ بات ہے کہ یہ کل پانچ امیر تھے جنہیں میر کہا جاتا تھا ہر  میر کا اپنا علاقہ تھا۔خیر پور اور حیدرآباد کے میر تو جنگ میں مغلوب ہوگئے۔بالائی اور زیریں سندھ کے امیر وں نے ہتھیار ڈال کر خیر منائی مگر آخر تک بہادری سے لڑنے والے میر شیر محمد ٹالپر تھے جن کا تعلق میرپور سے تھا۔

24 مارچ 1843 کو ڈبہ ہالا کے نزدیک جنگ میانی میں مقامی افواج کی شکست سے سندھ پر انگریزوں کا مکمل تسلط قائم ہوگیا۔ آپ کو سندھ کی بیوروکریسی، اس کے پڑھے لکھے طبقے اور اشرافیہ سے گفتگو میں یک قدر بڑی مشترک ملے گی۔یہ سب اردو بولنے والے مہاجرین کو غاصب سمجھتے ہیں ۔ سندھ میں جتنی شکایات اور تعصب اردو بولنے والے مہاجروں سے پایا  جاتا ہے ، اس کے برعکس سندھی ہندو ، جو اِن کا ہمیشہ معاشی استحصال کرتے رہے اور اسماعیلیوں کے خلاف جن کی وجہ سے انہیں جنگ میانی میں عبرت ناک شکست ہوئی،ان کے خزانے لٹ گئے، ان کے خلاف نہیں پایا  جاتا۔ان دونوں طبقات کے اہل سندھ کے ہاں معتوب نہ ہونے کی واحد وجہ یہ ہے کہ مہاجر قیام پاکستان پر اپنی آمد کے بعد بڑے شہروں میں رہے اسی لیے وہ سندھی زبان نہیں بولتے تھے جب کہ ہندو اور اسماعیلی دیہی سندھ کی حد تک سندھی بولتے تھے۔کراچی میں ہندوؤں  اور اسمعیلی دونوں کی اکثریت کی مادری زبان گجراتی ہے۔گجرااتی بولنے والے ہندوؤں  کا تعلق زیادہ تر دلت ذات سے ہے، صفائی ستھرائی کے کاموں سے متعلق یہ گھرانے نرائین پورہ نزد لیاری کراچی میں رہتے ہیں۔

آغا خان پختونوں کے انتقام کے ڈر سے قندھار چھوڑ کر پہلے تو ٹھٹھہ کے پاس ساحلی علاقے جھرک میں بس گئے ۔سندھ کے بلوچ امیروں کے حربی منصوبے جب انہوں نے انگریزوں کے حوالے کردیے تو انہیں خوف ہوا کہ اب بلوچ بھی ان کی جان کے دشمن ہوجائیں گے۔ان کا پلان تو تھا کہ انگریز انہیں بحرین کی طرز پر کراچی کی عملداری سونپ دیں گے، غیر منقسم ہند میں اس وقت بھی 565 راجواڑے موجود تھے۔انگریز چالاک تھا اس لیے اسے انہیں ایک آزاد مگر طفیلی ریاست قائم کرنے کے لیے کراچی کا قبضہ دینے میں تامل ہوا۔اس وقت تک روس ان کے لیے بڑا خطرہ تھا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ جس طرح سندھ کے بلوچ امیر دو سال پہلے اٖفغانستان کی جنگ میں پختونوں کی حمایت پر اتر آئے تھے،تاریخ ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کو دہرائے اور بلو چستان کا درہ ء بولان پھر ان کے جنگی عزائم کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ سرکار انگلیشیہ نے کراچی  ان کے حوالے   کرنے کی تجویز کو تو سنی ان سنی کردیا االبتہ ان کی پہلے اٖفغانستان اور بعد میں سندھ میں اس خدمت عالیہ کے عوض تین بہت بڑے انعامات سے انہیں نوازا گیا۔

ایک تو انہیں سالانہ دو ہزار پاؤنڈ کا سرکار ی وظیفہ ملنے لگا۔

دو سرے انہیں ہنزہ اور گلگت میں جماعتی دعوت کا حق (Free Preaching Rights)دے دیا۔انہی  علاقوں میں  ایک ایسا خطہ بھی موجود ہے جسے واخان کی پٹی کہتے ہیں ،یہ پاکستان،روس اور افغانستان تینوں مملکتوں کے سنگم پر واقع ہے۔اس کی جملہ آبادی جو گیارہ ہزار نفوس پر مشتمل ہے، یہاں کی اکثریت مذہباً اسماعیلی ہے۔اس کا مقصد روس کی نقل و حرکت اور فوجی عزائم پر کڑی نظر رکھنا تھا۔

تیسرا بڑا انعام جو انہیں دیا گیا تھا وہ Order of British Empire (OBE) کا طرہ امتیاز تھا۔وہ پہلے مسلمان تھے جن پر یہ عنایت پیہم ہوئی ۔انہیں اس بات کا مجاز گردانا گیا کہ ان کا ہر حاضر امام اپنے نام کے ساتھ ہز ہائی نیس کا ٹائیٹل استعمال کرنے کا مجاز ہوگا ۔

آغا خان کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے سر ولیم لی وارنرنے اپنی سنء 1894 ” میں شائع ہونے والی کتاب The Protected Princes of India میں لکھا ہے کہ اگر سندھ پر کمپنی بہادر قبضہ نہ کرتی تو اس کا قوی امکان موجود تھا کہ اسے یا تو پختون ہڑپ کرجاتے یا رنجیت سنگھ پنجاب کی سرحدوں کو کھینچ کر سندھ کے ساحلوں تک لے آتا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

ہمارے  ایک سندھی دوست کا خیال ہے کہ یہ بات اگرجاتی امراء  امرتسر کے پنجاب کے شریف خاندان نے پڑھ لی ہوتی تو وہ انگریزوں کے خلاف رنجیت سنگھ کی افواج کا ساتھ دیتے۔وہ اس بات پر اللہ کا بہت شکر ادا کرتے ہیں کہ شریف خاندان کتابوں سے ایسے ہی پرے رہتا ہے جیسا شیطان لاحول سے۔
ہم آپ کو یہاں تک نہ لاتے تو آپ کی کراچی آمد بھی بڑی اڑچن کا شکار رہتی ،لہذا اس طویل بصری اور ذہنی سفر کی تھکاوٹ کی معذرت!!

Save

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اپُن کا کراچی:کراچی، مالوہ،پختون اور افیون ۔۔۔محمد اقبال دیوان/تیسری قسط

  1. بہترین سیریز (یا، سیریل)؛ اقبال دیوان صاحب کی اپنی ہی ایک انفرادی طرزِ تحریر ہے۔۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *