• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اپُن کا کراچی:کراچی، مالوہ،پختون اور افیون ۔۔۔محمد اقبال دیوان/دوسری قسط

اپُن کا کراچی:کراچی، مالوہ،پختون اور افیون ۔۔۔محمد اقبال دیوان/دوسری قسط

آئیے اب آپ کو مالوہ اور افیون سے متعارف کرتے ہیں۔ مالوہ اس زرخیز خطہ ء اراضی کا پرانا نام ہے جو اس وقت چار بھارتی ریاستوں مدھیا پردیش، راجھستان،گجرات اور بنڈیل کھنڈ، یو۔پی کے درمیاں واقع ہے۔راجھستان کا مشہور   شہر الور  اسی خطے میں واقع ہے۔
ایک طویل عرصے تک تو  الور شہر  کی افیون اور برتن  بہت مشہور تھے  بعد میں سینما کے پوسٹر بنانے والے ، بوہری جماعت    سے تعلق رکھنے والے برہنہ پا  پینٹر مقبول فدا حسین نے بڑا نام نکالا۔اداکارہ مادھوری دکشٹ  کے یہ مشہور  عاشق ،  ایم ایف حسین  کے نام سے پکارے جاتے تھے ۔

ایف ایم حسین

کسی نے ان سے پوچھا کہ ایم ایف حسین کا کیا مطلب ہے کہنے لگے مادھوری کا فین حسین   ۔اس کی فلم’  ہم آپ کے ہیں کون ‘   میں  مادھوری ڈکشٹ نے ناچتے ہوئے  اپنے مشہور گانے

؎   دیدی تیرا دیور دیوانہ   ۔۔ میں ایک  اسٹیپ  کیاہے، جس میں وہ کولہے مٹکاتی،  ریورس سوئنگ کرتی ہوئی آتی ہے ۔   وسیم اکرم کو دھول چٹاتی   ریورس سوئنگ  والے اس  اسٹیپ  کو دیکھنے کی خاطر حضرت  نے ٹائمز آف انڈیا کی اطلاع کے مطابق  یہ فلم 85 دفعہ دیکھی تھی ۔ہمارے سمیت گجراتی اور میمن اکثر ایسے ہی گھیلے (سندھی سرائیکی زبان  میں چریا  ) ہوتے ہیں۔

مادھوری ڈکشٹ

افیون   ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے بھارت میں قومی  آمدنی کا تیسر ا بڑا ذریعہ تھی۔انگریز کے لیے  افیون کی اس برآمد  کی وہی مالی اہمیت تھی    جو آئر لینڈ کے لیے مالٹ وہسکی اور روس کے لیے ووڈکا  ،میکسکو   کے لیے  ٹکیلا اور فرانس کے لیے وائن  کی اہمیت ہے۔چین میں اس افیون کا بہت  استعمال تھا۔پہلے یہ اس بندرگاہ کے ذریعے برآمد ہوتی تھی جہاں کے ہمارے احمد دیدات اور   ان کے ماموں مرارجی ڈیسائی تھے یعنی سورت۔بعد میں یہ تجارت بمبئی منتقل ہوگئی۔یہاں ذرا رک جائیں۔

اپُن کا کراچی:کراچی، مالوہ،پختون اور افیون ۔۔۔محمد اقبال دیوان/پہلی قسط

سندھ کے کچھ دانشور اس پر بھی بضد ہیں کہ سندھ پنجاب،فرنٹئیر ریجن اور بلوچستان  سے زیادہ خوش حال تھا اس وجہ سے گورے کی نظر بد اس پر پڑ گئی۔کچھ سندھی دانشور یہ بھی کہتے ہیں کہ  سندھ  کے ٹالپر  جو قومیتاً بلوچ تھے۔ ان کے افغانستان سے اچھے تعلقات تھے۔1842 کی جنگ میں افغان پختونوں نے گوروں کو شکست دی تو انگریزوں نے سوچا کہ اس شکست کا داغ ان کے بلوچ  حامیوں کو سبق سکھا کر دھو نا بہتر ہوگا۔

اب یہ تیسرا کنکشن بن گیا یعنی پہلا مالوہ دوسری افیون، تیسرے پختون۔اب باقی رہ گئے اسمعیلیوں اور کراچی کا تال میل
بنگال میں پیدا ہونے والی افیون پر کمپنی بہادر کا مکمل قبضہ تھا لیکن مالوہ کی اعلی افیون چھپ چھپا کر مختلف چھوٹی بڑی بندرگاہوں سے اسمگل ہوتی تھی۔ سن 1803 میں گورنر جنرل Marquis Wellesley نے ایک انکوائری رپورٹ مانگی۔ ان کا پیٹر جاسوس اسلام آباد والے دفتر میں بیٹھ کر سپاہی اللہ دتا جیسی رپورٹ نہیں لکھتا تھا کہ جس کو پڑھ کر سپریم کورٹ کے جج یہ کہتے ہوئے سر پکڑ کے  بیٹھ جائیں”اوئے ایہہ کیہہ لکھ دتا اللہ دتے”۔۔اس نے اپنی انکوائری رپورٹ میں خم ٹھونک کر لکھا کہ، نی سسییئے،بے خبرے،تیرا لٹیا نی شہر بھنبور وے ۔۔ چوروں یعنی ایسٹ انڈیا کمپنی کو مور یعنی بھائی لوگ گجراتی، میمن پڑگئے ہیں۔اگر ہوش کے ناخن نہ لیے اور اس کا سدباب نہ کیا تو نانی تیری مورنی کو مور لے جائیں گے۔رپورٹ میں کراچی کو اس اسمگلنگ کی جڑ اور اس میں سورت،گجرات  اور وہاں کی فیملیوں کے نیٹ ورک کا ملوث ہونا بتایا۔

گورنر صاحب نے دو تیز تیز فیصلے کیے وہ ہماری نیب کی طرح پانامہ کے حلیم اور پائے پکانے کے عادی نہ تھے۔ سب سے پہلے تو آبی تجارت کا مرکز انہوں نے  سورت سے بمبئی کی بندرگاہ منتقل کردیا۔ وہاں گجراتیوں  کا پیچا مراٹھیوں یعنی بال ٹھاکرے والوں سے ڈال دیا جو آج بھی جاری ہے۔دوسرے ان کی نیوی اور انتظامی مشنری ممبئی میں زیادہ مستعد تھی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دو بڑے اقدام کیے۔پہلے تو سن1823 میں Malwa Opium Agency’ بنائی جس نے مالوہ سے تمام افیون اپنے مقرر کردہ داموں پر خرید کر اسے خود ایکس پورٹ کرنے کا فیصلہ کیا مگر اس کا واسطہ گجراتیوں اور میمنوں سے پڑا تھا۔ ان لوگوں نے جب اندازہ لگایا کہ دام چوکھے مل رہے ہیں تو پاس پڑوس کی ریاستوں کے کسانوں کو مالی ترغیب دی کہ دبا کر افیون کی پیداوار میں اضافہ کردیں۔جو گھاٹا انہیں بطور تاجر اسمگلنگ بند ہوجانے کی وجہ سے ہوا اس کا ازالہ انہوں نے حکومت کو مقررہ قیمت پر افیون کی زائد مقدار بیچ کر پورا کیا۔

اوپیم سموکنگ

1837-1842 کے پانچ برس ایران میں اسمعیلیوں پر بہت گراں گزرے۔انہیں قم سے نکالا گیا تو وہ محلات سے ہوتے ہوئے ہرات اور قندھار ۔افغانستان پہنچ گئے۔آغا خان کا لقب وہیں سے ان کے حاضر امام کے نام کا حصہ بنا۔اہلِ ایران اس امامت کا وجود  اپنی مملکت میں نہیں مانتے  اور اسے انگریز کا چمتکار مانتے ہیں ۔سرکار انگلیشیہ ان دنوں پختونوں سے جنگ میں مصروف تھی۔اس کا ارادہ روس کو افغانستان کے راستے  وسطی ایشیا کی ریاستوں پر قبضہ کرنے کے بعد کراچی اور گوادر کی گرم پانی کے بندر گاہوں تک رسائی سے روکنا تھا۔انگریزوں کی جو جنگ افغانستان میں جاری تھی اس جنگ  میں انگریزوں کی مدد حسن علی شاہ یعنی آغا خان اول نے کی۔ اس وقت ان کے پاس سو کے قریب بہترین گھوڑے تھے۔

آغا خان 1

انگریزوں نے اس امداد کو بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا۔یہ تعارف بڑا پائیدار ثابت ہوا اور آج بھی یورپ میں امام عالی مقام کابڑا اثر و رسوخ ہے ۔افغان جنگ میں شکست کی بنیاد پر انگریزوں کے ساتھ آغا خان اول کو بھی قندھار چھوڑنا پڑا۔وہ کوئٹہ پہنچے ان کے پاس سر چارلس نئیپئر کے نام ایک تعارفی خط تھا۔وہاں سے وہ کراچی کے قریب نو سو گھروں کے سونمیانی کے ساحلی قصبے آئے۔اس دوران چارلس نئپیئر کو گورنر جنرل نے آغا خان سے رابطہ کرکے انہیں سندھ کے ٹالپر حکمرانوں سے مذاکرات میں شامل کرنے کو کہا۔ان حکمرانوں کا صدر مقام حیدرآباد تھا۔

12 فروری1843 کو حیدرآباد میں ایک معاہدہ بھی ہوا، آغا خان نے میر ناصر خان کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ کراچی ان کے حوالے کردیں تاکہ انگریزوں سے وہ ان کے لیے رعائیتیں مانگ لیں۔

میر ناصر خان

ناصر خان نے جب انکار کیا تو ایک عجب واردات ہوئی۔سندھ کی افواج میں ایسے افراد کی کثرت تھی جو مناسب معاوضے کے عوض غداری پر آمادہ تھے۔ان سے رابطے کا کام کسی علی اکبر صاحب کو سونپا گیا۔ تحقیق اور شواہد کی کمی کے باعث تصدیق نہیں ہوپاتی کہ سندھ کے یہ میر صادق و میر جعفر اسمعیلی تھے یا نہیں مگر ان کے ایرانی النسل ہونے کا ذکر موجود ہے۔ انگریز انہیں اپنے گیزٹس اور کتب میں Mirza ‘Ali Akhbar, کہتے ہیں۔یہ حضرت پہلے تو میجر آوٹ رام کے منشی تھے اور بعد میں چارلس نئپیر کے سیکرٹری بن گئے۔

میجر آؤٹ رام کے نام سے موسوم سڑک آج بھی آئی آئی چندریگر روڈ (پرانا میکلوڈ روڈ) حقانی چوک سے ہوتی ہوئی ڈی جے سائنس کالج کے پاس جاکر ختم ہوجاتی ہے۔چارلس نئیپئر نے اپنے اس فواد حسن، توقیر شاہ اور احد چیمہ کے بارے میں مشہور مورخ سر رچرڈ برٹن کو بتایا تھا کہ سندھی مسلمانوں سے تنہا ان کی غداری کا فائدہ انگریز افواج کو ایک ہزار سپاہیوں کے برابر ہوا یہ ان کے الفاظ ہیں۔

Napier had remarked later to Burton that the mizra”did as much towards the conquest of Scinde as a thousand men,” for as a fellow Muslim he was able to enter the enemy camps and bribe some of their best forces to desert the battlefield.۔

جاری ہے۔۔

تیسری قسط میں مالوہ،افیون اور آغا خان اور  پختون  کے بارے میں پڑھیے!

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

Save

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اپُن کا کراچی:کراچی، مالوہ،پختون اور افیون ۔۔۔محمد اقبال دیوان/دوسری قسط

  1. یہ بات، کہ: “انگریز کے لیے افیون کی اس برآمد کی وہی مالی اہمیت تھی جو آئر لینڈ کے لیے مالٹ وہسکی اور روس کے لیے ووڈکا ،میکسکو کے لیے ٹکیلا اور فرانس کے لیے وائن کی اہمیت ہے” اِس جانب بھی نظر ہو کہ، تمام addictives یا نشہ آور چیزیں اپنی اپنی جگہ اتنی اہمیت رکھتی ہیں، کہ بعض وقت، پورے ملک کی معیشت کا دارومدار اِس ایک ہی آئٹم پر ہوتا ہے !

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *