• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اپُن کا کراچی:کراچی، مالوہ،پختون اور افیون ۔۔۔محمد اقبال دیوان/پہلی قسط

اپُن کا کراچی:کراچی، مالوہ،پختون اور افیون ۔۔۔محمد اقبال دیوان/پہلی قسط

شہر کراچی سے ہماری شعوری یادوں کا سفر سن ساٹھ کی دہائی سے شروع ہوتا ہے۔یہ سفر تاحال جاری ہے۔ سوچا ہے کہ کراچی کے بارے میں جو پڑھا،دیکھا اور سنا ان کو یک جا کرکے آپ کی خدمت میں خالصتاً نجی زاویے سے پیش کریں۔اسے کوئی تاریخی دستاویز نہ سمجھیں۔ممکن ہے اس میں کئی جگہ آپ ایسے نکات مذکور دیکھیں جو آپ کے لیے  سرا سر ناقابل یقین ہوں۔ ایسا کوئی  مرحلہ   اگر دوران مطالعہ آجائے اور آپ کے پاس اس کا بہتر جواز اور تحقیق ہے تو شیئر کرلیں۔ ہم سب کے علم میں اضافہ ہوگا۔یوں بھی ہم بہزاد لکھنوی کی طرح اکثر اپنے ہی محبوب سے پوچھ لیتے ہیں کہ۔۔

اس وقت مجھے کیا لازم ہے

جب تم پہ میرا دل آجائے!

ہماری کوشش ہے کہ  آپ اگر کراچی کی تاریخ کے سنجیدہ طالب علم ہیں تو اس  کاوش  پُرتقصیر سے   آپ کی  اپنی  بامعنی تحقیق میں   مزید   معاونت ہوجائے گی۔ہماری قارئین سے  درخواست ہے کہ ان کالموں کو  تحقیق و  تاریخ کی سنجیدہ  کوشش سمجھنے کی بجائے ایک قصہ ء پارینہ سمجھ کر پڑھیں۔

کراچی کے بارے میں لکھنے کا خیال ہمیں سنگاپور میں آیا۔۔ہم نے ویسے  تو کراچی کے بارے میں  خشونت سنگھ کے  ناول دہلی  کی طرح     کا سا پلان بنا رکھا ہے۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارے پاس  نہ   ان کا  سا سلیقہء تحریر ہے،  نہ وہ حلقہء احباب ،نہ ہی  وہ رفعت مقام۔ہمارے مربیان اور مشفقان  سلیم الرحمن اور ریاض چوہدری۔مدیران سویرا اور محرکان اداس نسلیں کا اصرار ہے کہ ہم ضلعی اور صوبائی انتظامیہ سے براہ راست تعلق اور کراچی کے قدیمی باشندے ہونے کے ناطے اداس نسلیں قسم کا ناول کراچی کو بطور لینڈ اسکیپ بنا کر لکھیں۔

عبداللہ حسین نے  ان دونوں بزرگان ادب کی معاونت اور سرپرستی میں ہی یہ شہر ہ آفاق ناول لکھا تھا۔ہم   سے جب  کوئی
ا  یسا رولا ڈالتا ہے تو اس کی   فرمائش پوری کرنے میں ناکامی اور  دھول چاٹنے کے مراحل کا سامنا کرتے وقت  ان کی اور اپنی تسلی کے لیے مصطفٰے زیدی کا یہ شعر پڑھتے ہیں کہ
تمہاری سنگ دلی سے خفا نہیں ہوتے
کہ ہم سے اپنے بھی وعدے وفا نہیں ہوتے!

_______________________

کوئی آپ سے پوچھ بیٹھے کہ کراچی کا  مالوے،پختونوں اور افیون اور اسماعیلیوں سے کیا تال میل ہے تو آپ بڑی دیر تک مسکراتے اور سوچتے رہیں گے۔
ٰیہ کراچی کم بخت شروع سے ایسا  ہی فتنہ پرور  ہے۔ جانے کہاں کہاں کے اینٹ، روڑے لا  لاکر اپنی بھان متی کا کنبہ جوڑتا ہے۔
آپ   اگر  اپنی حیات پاکیزہ میں کچھ نیک بیبیوں کے دامن دلفریب سے وابستہ رہے ہو ں اور  یہ عفت مآب خواتین کبھی گجراتی شادیوں میں شریک ہوئی ہوں تو وہ آپ کو بتائیں گی کہ یہ گجراتی خواتین  لہنگے، گھاگرے اور جھل مل  چولیاں پہن کر ہاتھ مار تالی دیتے  ہوئے جو راس   رمتی     ہیں،    اور بہت لہرا کر  تھرک تھرک کر گاتی اور ناچتی ہیں۔ ا س کو گربہ کہا جاتا ہے(رمنا فارسی میں تو ہرن کا مست ہوکر اٹھلانا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر گجراتی میں اس کے مطلب کھلواڑ کے ہیں اور راس  بمعنی  ناچ )۔۔

گربہ

ان گربوں میں گجراتیوں اور میمنوں کا مشہور گیت بجتا ہے یعنی مہندی  تو کاشت ہوئی مالوے میں   مگر اس کا رنگ    چٹک مٹک  کر گجرات  پہنچ گیا ۔  یہ گیت لتا منگیشکر جی کے مشہور  ترین گجراتی گیتوں میں شامل ہے۔کوئی گجراتی میمن مہندی اس  گیت پر گربے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ اب آپ مالوے کو پکڑ لیں ورنہ کراچی ہاتھ نہیں آئے گا۔باؤنڈری لائن سے ،ہماری یہ تھرو  جونٹی روڈز کی طرح  سیدھی وکٹوں کی طرف آئے گی۔

ممکن ہے آج کل آپ کی زندگی میں تھوڑی بہت جو رونق  دکھا ئی دیتی ہے،وہ ایشوریا رائے کو سلمان خان کے ساتھ”ہم دل دے چکے صنم“ نامی فلم میں آنکھوں کی گستاخیاں معاف ہوں  والے گانے پر گربہ کرتا دیکھ کر آئی ہو۔  دونوں کے  تعلقات  اس فلم  کے دوران  پروان چڑھ کر    جلد ہی بکھر گئے تھے۔ یہ سب دیکھ کر یقیناً امید کی  کوئی موہوم سی کرن آپ کے دل میں بھی  جاگی ہو گی      ورنہ  اللہ لگتی کہیں تو  آپ کے چاہنے والے تو  موئے  ایسے  ڈبل شاہ،فراڈیے  اور  نوسر باز تھے کہ آپ کو نہر والے پل پر بلا کر خود پتلی گلی سے پھوٹ لیتے تھے(ٹپوریوں کی زبان میں غائب ہوجانا)۔

اب آپ کو کون سمجھائے کہ صرف  مالوے کی مہندی ہی نہیں وہاں کی افیون کا نشہ بھی  سورت، گجرات اور کراچی  کے راستے چین پہنچا کرتا تھا۔مالوے کی افیون بنگال کی افیون سے بہتر ہوتی تھی۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی کے  چینی اس کے دھتی تھے۔

سندھ  برصغیر کے ان علاقوں میں تھا جس پر قبضہ کرنے کی انگریز کو سب سے آخر میں سوجھی۔کچھ محققین اس نکتے پر بضد ہیں کہ اس میں سر چارلس نئیپئر  نواب  بادشاہ  کا اپنا عمل دخل زیادہ تھا۔وہ دلیر تھا۔ مہم جو تھا،قابلیت سے بھرپور اور حکمرانی کے جذبے سے سرشار۔اس کے دامن سے فرئیر، جان جیکب اور ولیم میری ویدر جیسے قابل اور معاملہ فہم ایماندار افسر   وابستہ  تھے۔

چارلس جیمز

گجراتی بڑے بوڑھے یہ بھی  کہتے تھے کہ     یہ ساری آگ مالوے کی افیون نے لگائی۔سورت گجرات کی بندرگاہ پر سختی ہوئی تو  کراچی  کے  مسقطیا ،آگبوٹ  اور دیگر مشہور گجراتی گھرانے  اس کی  تجارت میں لگ گئے۔ وہ اس دھندے کو اسمگلنگ نہیں سمجھتے تھے۔۔  وہ خود ایسٹ انڈیا کمپنی  کو  پچھلے چار سو سال   سے جانتے پہچانتے تھے۔ان کا نقطہء  نظر بہت سیدھا سادھا تھا  ۔ ماں کہتی تھی کہ کوئی دھندہ چھوٹا نہیں ہوتا اور دھندے سے بڑا کوئی دھرم نہیں ہوتا۔وہ کام بھلا کیسے غیر قانونی ہوسکتا ہے جس کو خود ایسٹ انڈیا کمپنی بطور تجارت کرتی ہے ۔سقطیا  (   Maskatiya    یعنی مسقط والے  )آگ بوٹ   (پرانی اسٹیمر   کشتیاں جن کو  اسٹارٹ کرتے ہوئے شعلہ نکلتا تھا  اس لیے آگ بوٹ   تھے) ۔ان گھرانوں  کی دو خواتین بہت مشہور ہوئیں۔ان کے مرد تو ہمارے جیسے  Losers       اور گمنام  تھے۔ ان میں سے    ایک گھرانے کی بی بی   نے بڑا  فیشن ہاؤس قائم کیا  اور دوسرے کشتی والے گھرانے کی بی بی ڈاکٹر بنی۔بڑی نیک دل خاتون ہیں اور کار خیر کے حوالے سے بھی ان کی بڑی خدمات ہیں۔

یہ جو آپ کو میمنوں،گجراتی اور چنیوٹ والوں میں   تجارتی ہیراپھیری اور مال بنانے کی صلاحیت دکھائی دیتی ہے اس میں ان کا دیگر اقوام  کی نسبت انگریزوں سے اوائل سے سورت،کلکتہ اور بمبئی میں قائم ہونے والے تجارتی روابط کا بہت عمل دخل ہے۔چنیوٹ والے کلکتہ پہنچ گئے تھے اور وہاں قصاب اور کھالوں کا کام سنبھال لیا تھا۔

بنگا لی ہندوبہت  کلا پریمی   (آرٹسٹک ) تھا۔چھری بغدے اور گوشت کے کام سے کنی کتراتا تھا۔اس سے اس کا دھرم بھرشٹ ہوجاتا تھا۔سو چنیوٹ والے صد بسم اللہ کرتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی پاکستان میں ٹینری کے کاروبار پر ان کا قبضہ ہے۔
جاری ہے۔۔

Save

Save

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اپُن کا کراچی:کراچی، مالوہ،پختون اور افیون ۔۔۔محمد اقبال دیوان/پہلی قسط

  1. مجھے یقین ہے، کہ یہ سلسلہ، اقبال دیوان صاحب کی تحریروں کا ایک نادر نمونہ ثابت ہو گا، اور یقیناً، مکرر، یقیناً کراچی کی تاریخ کا حصہ بننے کے لائق ہو گا۔ اللہ کرے، زورِ قلم، دل و دماغ کی آفرینیاں، الفاظ کا جادو اِس سلسلے کو تمام الگ لکھاریوں (جنہوں نے کراچی کے بارے میں لکھا) سے بالکل منفرد بنائے گا.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *