محترم علمائے کرام سے ایک سوال

بے گناہ افراد کا قتل اسلام کی نظروں میں کتنا ناپسندیدہ فعل ہے بنو جزیمہ کے واقعہ پر بانی اسلام نے جس طرح گڑ گڑا کر اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ بلند کئے ہمارے محترم بزرگ اور جید علمائے کرام اس واقعہ سے بخوبی آگاہ ہیں ۔ہمارے بزرگ علماء خصوصا ًعلمائے مدرسہ سے درخواست ہے کہ وہ خدا کو حاضر ناظر جان کر اور یوم قیامت کو سامنے رکھ کر خود فیصلہ کریں کہ موجودہ قتل وغارت کو رکوانے کے سلسلے میں کیا خلوص نیت سے پوری کوشش کر چکے ہیں؟ اور کل جب اللہ کے دربار میں پیشی ہو گی تو کیا پیغمبر گرامی(ص) کی سنت کے مطابق اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھا کر اپنی بریت کا اظہار کر سکیں گے ؟اور دلوں کے بھید جاننے والے پروردگار کے حضور اپنی بے گناہی ثابت کر سکیں گے ؟
کہ ب یا اللہ ،ہم نے تحریر اور تقریر کے ذریعے بے گناہ انسانوں کے خون میں ہاتھ رنگنے والوں کو ہر طرح سمجھایا اور ان لوگوں کو پوری طرح سمجھایا جو ان خالی الذہن جوانوں کے دل و دماغ میں دوسرے مکاتب فکر کے متعلق زہر بھرنے کو کارثواب سمجھتے تھے۔ دوسرے مسلک کے مسلمانوں کو قتل کرنا جنت کے حصول کا ذریعہ سمجھتے تھے ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن نہ مال و دولت کام آئے گی اور نہ اولاد بلکہ اللہ کی بارگاہ میں فقط وہی شخص کامیاب ہو گا جس کا دل مطمئن ہو گا۔ مثلاً اگر کسی عالم نے دوسرے مسلک ومکتب کے خلاف لوگوں کو کچھ بتایا ہے تو بتانے سے پہلے اس کے مسلک کے عقائد کی مستند کتب کا پوری طرح مطالعہ کر لیا تھا اور دوسری بات یہ کہ دوسرے مسلک کے متعلق نفرت پھیلانے والے کی معلومات کا انحصار محض سنی سنائی ایسی باتوں پر تو نہ تھا جو نسل در نسل عوام میں مشہور چلی آ رہی تھیں لیکن حقائق سے دور کا بھی واسط نہ تھا۔

Avatar
رضوان چیمہ
لاحاصل سے حاصل کی طرف

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *