اک روز تم بھی مار دیئے جاؤ گے

اک روز تم بھی مار دئیے جاؤ گے!

کسی رات کی تاریکی میں،
دن کے کسی جاگتے پہر،
مسجد کا ہوگا صحن،
یا ہوگی درسگاہ کوئی۔۔
ہو گا اپنوں کا ساتھ
یا پھر غیروں کا ہجوم ہوگا،
دیکھنا غور سے تم
کچھ اپنوں کے ہاتھوں میں بھی
تمھاری زندگی کی بجھتی شمع ہوگی،
کہیں دور سے چند لوگ مل کر
تمھارے جسم کو فتح کرنے کیلئے
تم پر حملہ آور ہوں گے،
تم بھی میری مانند
سینہ سپر ہوگے،
ڈٹ جاؤں گے، لڑ جاؤ گے،
وہ پتھر اٹھا لائیں تو۔۔
اک کام کرنا،
میری طرح تم بھی
کتابیں اٹھا لانا،
وہ بندوق چلائیں گے،
تم اللہ کو پکار لینا،
پھر آخر وہ تم کو
گھیر ہی لیں گے،
مار ہی ڈالیں گے،
اور برہنہ کر کے تمھارے لاشے کو
گھسیٹیں گے تمھاری دھرتی پر۔۔
بعد تمھاری موت۔۔
الزاموں کی بوچھاڑ ہوگی،
کافر بتلائے جاؤ گے،
اور رسمِ دنیا کی خاطر
تم ہی قصور وار ٹھہرائے جاؤ گے،
پھر افسوس کے سارے کمنٹ،
سارے اسٹیٹس دیکھتے ہی دیکھتے
چپ چاپ ڈیلیٹ ہوجائیں گے،
میری موت کی مانند یہاں
تمھاری موت کو بھی
سب بھول جائیں گے۔۔
سنو….!!
تم اگر قابل ہو تو
یہاں مار دیئے جاؤ گے،
تم الگ سوچتے ہو تو
یہاں مار دیئے جاؤ گے،
تم نے بولا کچھ تو
یہاں مار دیئے جاؤ گے،
اک روز تم بھی مار دیئے جاؤ گے،
لکھ لو مار دیئے جاؤ گے،
برہنہ تم بھی ہوگے،
آج نہیں تو کل ہوگے،
میری طرح بالکل۔۔
مار دیئے جاؤ گے۔۔
مار دیئے جاؤ گے۔۔!!

Avatar
رضاشاہ جیلانی
پیشہ وکالت، سماجی کارکن، مصنف، بلاگر، افسانہ و کالم نگار، 13 دسمبر...!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *