ملالہ اور ہم۔۔اویس قرنی

چوہدری صاحب! او یار یہ ملالہ جھوٹی یہودیوں کی ایجنٹ پھر آگئی۔
میں! چوہدری صاحب۔۔ کیا ہوگیا، یہ کیسے یہودیوں کی ایجنٹ بن گئی۔

چوہدری صاحب! اوئے تمھیں نہیں پتا یہ ڈرامے باز عورت ہے۔ یہ  دیکھنے میں چھوٹی ہے،اندر سے پوری شیطان ہے۔
میں!(حیران ہوتے ہوئے) ہیں؟؟ وہ کیسے؟

چوہدری صاحب! اوئے تم نے اس گستاخ کے اسلام کے بارے میں برے کلمات نہیں پڑھے؟
میں! چوہدری۔ میں کافی دیر سے اس لڑکی کو فالو کر رہا ہوں میں نے تو کبھی نہیں پڑھا کہ اس نے اسلام کے بارے میں کوئی نازیبا بات کی ہو۔

چوہدری صاحب! اوئے تم جاہل ہو کیا؟ اس نے تو کہا تھا کہ داڑھی والے شیطان ہیں۔
میں! چوہدری اس نے داڑھی والوں کو شیطان کہاں کہا؟

چوہدری صاحب! اوئے جو یہ ڈائری لکھتی تھی۔
میں! اچھا اس کا مطلب آپ نے وہ ڈائری پڑھی ہے؟

چوہدری صاحب! اور کیا میں نے پڑھی ہے وہ جس میں اس نے اسلام کا مذاق اڑایا۔
میں! چوہدری صاحب آپ نے کہاں پڑھی اس کی   ڈائری ؟

چوہدری صاحب! یار یہ فیس بک استعمال نہیں کرتا تو؟ اتنے لوگوں نے تو وہ پوسٹر بنا بنا کر شئیر کیے تھے۔
میں! چوہدری صاحب مگر اس کی ڈائری بی بی سی پر پبلش ہوتی رہی ہے۔ کیا آپ نے وہاں جا کر تصدیق کی؟

چوہدری صاحب! وہ ایک پیج پر بھی اس کی ڈائری کا صفحہ تھا۔
میں ! چوہدری صاحب آپ پڑھنے لکھنے والے بندے ہیں کیا آپ نے بی بی سی پر جا کر خود پڑھی ڈائری؟

چوہدری صاحب! نہیں ،میں نے  بی بی سی پر جاکر نہیں  پڑھی’ مگر مجھے یقین ہے اس نے یہ کہا ہوگا۔
میں! چوہدری صاحب اگر آپ نے وہ ڈائری بی بی سی  کے بلاگز میں نہیں پڑھی تو آپ کو کیسے یقین ہوگیا کہ اس نے کہا ہوگا؟ لوگ تو بغیر تصدیق کچھ بھی کہہ دیتے ہیں۔

چوہدری صاحب! اوئے قرنی تو اسے نہیں جانتا۔ اب دیکھ نا کیسے گولی والا ڈرامہ کیا ہے۔
میں! چوہدری صاحب۔۔ ڈرامہ؟ وہ کیسے؟

چوہدری صاحب! اوئے نہیں لگی گولی اسے۔ تو نے وہ تصویر نہیں دیکھی کہ ایک تصویر  میں گولی کا زخم ایک طرف ہے اور دوسری تصویر میں دوسری طرف۔
میں! چوہدری صاحب وہ تصویر ایک ہی ہے۔ اور دوسری اس کی مرر امیج ہے۔

چوہدری صاحب! او تو پاگل ہوگیا ہے؟ اگر اسے گولی لگی تو بچ کیسے گئی؟
میں! چوہدری صاحب لگتا ہے آپ نے عدنان رشید کے بیان نہیں پڑھے۔

چوہدری صاحب! (جھنجھلاتے ہوئے)او یہ کون ہے اب عدنان رشید؟
میں! وہ جب مشرف پاکستان واپس آیا تھا تو طالبان کے کمانڈوز کی ایک ویڈیو آئی تھی جس میں وہ کہہ رہا تھا کہ مشرف تمہیں مار دیں گے۔

چوہدری صاحب! او ہاں یاد آیا۔۔۔ بہت وحشی بندہ لگتا ہے وہ۔ پر اس کا ملالہ سے کیا تعلق۔
میں! چوہدری صاحب ملالہ کو گولی اس نے مروائی تھی اور بیان بھی جاری کیا تھا۔

چوہدری صاحب! او نئی تمہیں کس نے کہا اس نے مروائی تھی؟ ایویں نہ پھینک یار۔۔
میں! چوہدری صاحب جب اس کو گولی لگی تھی تو فوراً  اس کا بیان آیا تھا۔

چوہدری صاحب! او ایویں کسی نے بیان چھاپ دیا ہوگا۔ نہیں لگی اس کو گولی۔
میں! چوہدری صاحب پھر آپ نے اس کا 2012  والا خط نہیں پڑھا؟

چوہدری صاحب! کون سا خط آگیا اب؟؟۔
میں! چوہدری صاحب اب نہیں 2012  کے ایک انگریزی اخبار میں چھپا تھا جس میں وہ کہہ رہ رہا تھا کہ ملالہ تم ہمارے خلاف لکھ رہی تھیں  اس لیے تمھیں   گولی ماری۔ جب واپس آئی اور ہمیں موقع ملا تو دوبارہ ماریں گے۔

چوہدری صاحب! اوہ نئی یار۔۔۔ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔
میں! چوہدری صاحب ابھی تو آپ اسے وحشی کہہ رہے تھے۔

چوہدری صاحب! تو معصوم ہے۔ تجھے نہیں پتا یہ اوپر کی گیمیں ہوتی ہیں۔
میں! اچھا پھر یہ بتائیں آپ کو پاکستان میں کس پر یقین ہے۔ میڈیا نے رپورٹ کیا تھا۔ صدر زرداری نے فوراً  ایکشن لیا تھا۔

چوہدری صاحب! اوئے یہ میڈیا تو ہے ہی۔۔۔۔اور سیاستدان ۔۔ ایک نمبر کے۔۔ ہیں۔ شکر ہے آرمی ہے ورنہ ان دونوں ۔۔ نے تو ملک بیچ کھانا تھا۔ ایک ہی تو ادارہ ہے اچھا جو ملک کے لیے مخلص ہے۔
میں!  چوہدری صاحب کیا آپ کو معلوم ہے ملالہ کو گولی لگنے کے بعد پہلا آپریشن آرمی کے ڈاکٹرز نے کیا تھا۔

چوہدری صاحب!اچھا یار لگی ہوگی گولی مگر یہ بھی اس پورے ڈرامے کا ایک ایکٹ تھا۔
میں! جناب ابھی تو آپ کہہ رہے تھے کہ گولی نہیں لگی اب آپ کہہ رہے ہیں کہ لگی ہوگی گولی مگر ایک ایکٹ کے تحت۔

چوہدری صاحب! اوئے قرنی تجھے کہا ہے نا۔ یہ بہت بڑی گیم ہے۔ ہمارے ملک کے خلاف،یہ سالے انگریز یہودی ہمارے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔
میں!( بےہوش ہوتے ہوئے )چوہدری صاحب۔ اس کو گولی مار کر وہ کیسے قبضہ کرنا چاہتے ہیں؟

چوہدری صاحب! اچھا یہ بتا اس کے ساتھ دو اور لڑکیوں کو بھی گولیاں لگی تھیں ۔ ان کو اتنی شہرت کیوں نہیں ملی؟
میں! چوہدری صاحب، شکر ہے آپ یہ تو مان گئے کہ اس کو گولی لگی تھی۔ اس کو شہرت ملنے کی وجہ یہ تھی کہ طالبان لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف تھے اور یہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھا رہی تھی۔ اور اسی وجہ سے یہ ٹارگٹ ہوئی۔ باقی دولڑکیاں تو اس کو ماری گئی گولیوں کی زد میں آئیں ۔ مگر اللہ کا شکر ہے ان کے زخم سیریس نہیں تھے۔ اس کے تو سر میں لگی تھی گولی۔

چوہدری صاحب! اوئے تو مان لے یہ انگریزوں کی ایجیٹ ہے۔ اسی لیے تو اسے فوراً  نوبل پرائز دے دیا۔ وہ ارفع کریم کو کیوں نہیں دیا؟؟
میں! چوہدری صاحب! چوہدری صاحب! ارفع کریم میرے ملک کی شہزادی تھی۔ بہت چھوٹی عمر میں اللہ کریم نے اپنے پاس بلا لیا مگر وہ بہتر منصوبہ ساز ہے۔ مگر ارفع کے کام کا اس کے کام سے کیا تعلق؟

چوہدری صاحب! مگر اسے کیوں نہیں دیا نوبل پرائز؟ اس کا زیادہ حق بنتا تھا۔
میں! چوہدری صاحب یہ تو بتائیں کہ ارفع کو کیوں ملنا چاہے تھا۔

چوہدری صاحب! اس نے کمپیوٹر کی فیلڈ میں کوئی اعلی کام کیا تھا؟
میں! چوہدری صاحب۔۔ ارفع نے مائکرو سوفٹ کی ایک سرٹیفیکشن کی تھی اور بہت چھوٹی عمر میں کی تھی۔ اور بہت سے لوگ چھوٹی عمر میں سرٹیفیکیشن کر لیتے ہیں۔ اگر آپ   سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نوبل پرائز چاہتے ہیں تو آپ کو کوئی نیا کام، نئی ایجاد کرنی پڑے گی ۔ پہلے سے کی گئی ایجادات کا امتحان پاس کرنے سے نوبل پرائز نہیں ملتا۔

چوہدری صاحب۔ تو اس نے ایسا کیا کرلیا گولی کھانے پر نوبل پرائز دے دیا؟؟
میں! نہیں چوہدری صاحب اسے تو لڑکیوں کی تعلیم پر کام کرنے کی وجہ سے انعام ملا!

چوہدری صاحب! امب۔۔۔ کیا کیا کام اس نے؟ اس کے پاس کہاں سے اتنے پیسے آگئے؟
میں! چوہدری صاحب! کیا آپ کو ملالہ فنڈ نامی اس کی تنظیم کا نہیں پتا؟

چوہدری صاحب! پتا نہیں کہاں کہاں سے نکال کے لے آتا ہے ایسی باتیں۔ ہم پاگل ہیں ہم بھی تو یہیں  رہتے ہیں۔ ہمیں کیوں نہیں پتا اس کی تنظیم کا؟
میں! چوہدری صاحب! میں  خود  سے یہ بات نہیں کہہ رہا آپ سرچ تو کریں اس کی آرگنائزیشن ہے جس کو پوری دنیا سے لوگ  فنڈ دییے ہیں اور یہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کرتی ہے۔ ان کے سکول بنواتی ہے۔

چوہدری صاحب! بناتی ہوگی انگریزوں کے ملک میں۔ کبھی غزہ میں بھی بنوائے نا پھر مانیں ہم۔
میں! چوہدری صاحب کیا آپ کو نہیں پتا کہ اس نے 2014  میں غزہ میں لڑکیوں کے سکول کے لیے پچاس ہزار امریکی ڈالر دیے تھے؟؟

چوہدری صاحب! اس کو اتنا ہی اگر تعلیم کا شوق ہے تو پاکستان کے لیے کیوں نہیں کیا؟
میں! چوہدری صاحب  وہ پاکستان  میں ریموٹ ایریاز میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے  2014  میں ستر لاکھ امریکی ڈالر دے چکی  ہے، اور اب پھر ایک تنظیم کے ساتھ مل  کر سات لاکھ امریکی ڈالر دے رہی ہے۔ جانتے ہیں کتنے پیسے ہوتے ہیں؟

چوہدری صاحب! اوئے یہ ساری  گیم ہے۔ بہت بڑی گیم، جو انٹرنیشنل لیول کی ہے۔ تو نے دیکھی نہیں اس کی ایک تصویر جس میں اس کا ابا اور یہ دو اسرائیلی ایجنٹوں کے ساتھ بیٹھے  ہیں ۔ وہ ایک نے ٹائی پہنی ہے اور ایک عورت ہے جو بظاہر دوپٹہ لے کر بیٹھی ہے مگر وہ ان کی خفیہ ایجنٹ ہے۔ اب یہ نہ  کہنا تم نے وہ تصویر نہیں دیکھی۔
میں! چوہدری صاحب وہ عورت ملالہ کی ماں ہے یار۔ اللہ کا  واسطہ ہے یار۔

چوہدری صاحب! اچھا ہوگی وہ ماں ۔ مگر وہ پینٹ کوٹ والا تو اسرائیلی ایجنٹ ہے۔
میں! چوہدری صاحب! وہ اسرائیلی ایجنٹ نہیں رچرڈ ہالبروک تھا۔ اور رچرڈ ہالبروک امریکی ہے اور وہ پاکستان اور افغانستان کے لیے سپیشل نمائندہ تھا امریکی حکومت کا۔

چوہدری صاحب!اوئے تو بچہ ہے ابھی۔ تجھے نہیں پتا۔۔ یہ بہت اوپر   کے لیول کی گیمیں ہیں۔ یہ اس کو تیار کر کے پاکستان پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔۔

میں!(کچھ کہنے کی کوشش کرتے ہوئے)۔۔۔۔۔۔لیکن چوہدری صاحب۔۔۔

اوئے قرنی بس تو چُپ کرجا ،تُو بچہ ہے  یار،تو  ان  یہودیوں کی  سازش کو نہیں سمجھ سکتا ،یہ ملالہ وطن کی غدار ہے۔۔

اور میں خشمگیں نگاہوں سے چوہدری صاحب کو دیکھتے ہوئے یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ ایسی سمجھداری جو کسی  پر بھی وطن غداری کے فتوے جڑے،اس سے بچپنا ہی بھلا!!

Avatar
اویس قرنی
طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *