دلیل کا قتل،انا للہ وانا علیہ راجعون!

ابھی سکتے میں ہوں، کچھ بھی سمجھنے سے قاصر۔۔۔ یہ ہو کیا رہا ہے وطن عزیز میں، سنا ہےکہ دھرتی کا ایک اور بیٹا جہالت کی سولی پہ لٹک گیا ہےافسوس کہ نام اس ہستیﷺ کے جس کا فرمان ہے ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، جس نبی مکرم ﷺکے نزدیک مومن کی حرمت کعبہ کی حرمت سے بھی زیادہ ہے اور اس کتاب کے نام پرجہالت۔۔ جس کا آغاز اقراء سے ہوتا ہے اور اس مذہب کے نام لیواؤں کے ہاتھوں جس کا معنی سلامتی ہے۔ارے کچھ تو سوچا ہوتا کیا منہ لے کر جاؤ گےاس ہستی کے سامنے جوسراپا رحمت ہیں،ابھی کسی نے لکھا کہ مشعال گرا پڑا تھا، درد سے کراہتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔” مجھ سےبہتر نبی مکرمﷺ پر کون ایمان رکھتا ہوگا، میں اپنی ذات میں صوفی ہوں”۔ میرے کانوں میں وہ نعرہ مستانہ گونج رہا ہے” انا الحق، انالحق” نا جانے کتنے منصور ابھی سولی چڑھنا باقی ہیں ۔ افسوس یہ سب ہوا بھی تو اس دانش کدے میں جہاں سےلوگ دولت علم سے بہرہ ور ہوتے ہیں کہ آگےچل کروطن عزیز کی باگ دوڑ انہوں نے سنبھالنی ہے۔ارے ظالمو جب دلیل مرتی ہےنا تو پھر انتشار پھیلتا ہے، فسادپھیلتا ہے اور اس آگ میں سب جل کر راکھ ہو جاتا ہے ۔
ذیشان ہاشم کی یہ نظم پڑھیے!

شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے،
جس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتا ہے،
شکل بننے نہیں پاتی کہ بگڑ جاتی ہے،
نئی مٹی کو ابھی چاک سے خوف آتا ہے،
وقت نے ایسے گھمائے افق آفاق کہ بس۔۔
محورِ گردشِ سفاک سے خوف آتا ہے،
یہی لہجہ تھا کہ معیار سخن ٹھہرا تھا،
اب اسی لہجہء بے با ک سے خوف آتا ہے،
آگ جب آگ سے ملتی ہے تو لو دیتی ہے،
خاک کو خاک کی پوشاک سے خوف آتا ہے،
قامتِ جاں کو خوش آیا تھا کبھی خلعت ِ عشق۔۔
اب اسی جامہء صد چاک سے خوف آتا ہے،
کبھی افلاک سے نالوں کے جواب آتے تھے،
ان دنوں عالم ِ افلاک سے خوف آتا ہے،
رحمتِ سیدِ ﷺ لولاک پہ کامل ایمان۔۔
امت ِ سیدِ ﷺ لولاک سے خوف آتاہے۔۔۔!!!

tripako tours pakistan

Avatar
محمد رامش جاوىد
پڑھنے لکھنے کا شغف رکھنے والا درویش منش

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *