گرتا ہوا آسمانی محل ۔۔محمد شاہ زیب صدیقی

دس سال پہلے جب اس پروجیکٹ کا اعلان کیا گیا تو کسے معلوم تھا کہ تسخیرِ کائنات کی غرض سے اعلان کیا جانےوالا یہی پراجیکٹ دس سال بعد نسل انسانی کے لئےدردِ سر بن جائے گااور خلاء کے متعلق معلومات کا حصول کرتے کرتے زمین کا ہی رخ کرلے گا۔ اس کی شروعات ستمبر 2008ء سے ہوتی ہے جب چین نے اعلان کیا کہ وہ Tiangong-1 نامی Space Stationتقریباً 2010ء کے آخریا 2011ء کے اوائل میں لانچ کردے گا۔چینی زبان میں Tiangong آسمانی محل کو کہتے ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا چینی سپیس اسٹیشن تھا جس میں مختلف تجربات کی غرض سے لیبارٹریز بھی بنائی گئیں، لیکن شاید یہ مشہور کہاوت یہاں ٹھیک بیٹھتی ہے کہ چائنہ کی چیز دیر پا نہیں ہوتی۔لانچنگ سے پہلے ہی اس مشن کو دھچکا تب لگا جب اگست 2011ء میں ایک دوسرے مشن کی لانچنگ کے دوران راکٹس میں خرابی آگئی جس وجہ سے Tiagong-1کے لئے استعمال ہونے راکٹس کا دوبارہ معائنہ کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔

بالآخر معائنے کے بعد29 ستمبر 2011ء کو اسے لانچ کرکے زمین سے 362 کلومیٹر اونچائی پر اپنے مدار میں پہنچا دیا گیا۔اس کی لانچنگ تقریب کو چینی میڈیا کی جانب سے خصوصی کرویج دی گئی۔ اپنی لانچنگ کے گیارہ دن بعد اس نے خلاء سے پہلی تصویر بھی ارسال کی جس سے سائنسدانوں کو اطمینان ہوا کہ سپیس اسٹیشن ٹھیک کام کررہاہے، چونکہ سائنسی تجربات اس مشن کے اغراض و مقاصد تھےسوچین کی جانب سے 2ماہ بعد نومبر 2011ء میں ایک غیرانسانی مشن بھیجا گیا جو Tiagong-1 سپیس اسٹیشن کے ساتھ کچھ دن منسلک رہا اور اس کے آلات کی نگرانی کرتا رہا، اپنی تسلی کرلینے کے بعد دسمبر 2011ء میں اسپیس اسٹیشن کا دوبارہ جائزہ لیا گیا تاکہ دیکھا جائے اندر ماحول انسانوں کے رہنے کے لائق ہے یا نہیں۔

16جون 2012ء کو چین نے Shenzhou-9 نامی مشن لانچ کیا جس میں چین نے اپنے تین خلابازوں کو اس سپیس اسٹیشن کی جانب روانہ کیا جہاں انہوں نے کچھ دن گزارےجس دوران تجربات اور خلائی اسٹیشن کی مرمت کی گئی،29 جون 2012ء کو یہ تینوں خلاء باز بحفاظت واپس آگئے۔بعدازاں 11 جون 2013ء کو چین نے Shenzhou-10نامی دوسرا مشن لانچ کیا گیا جس میں دوبارہ 3 خلاءبازوں کو سپیس اسٹیشن کی جانب روانہ کیا گیا انہو ں نے Tiangong-1میں 15دن گزار ے اور اُس وقت چین کا سب سے طویل انسانی مشن ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا ۔ اس دوران خلاء بازاسپیس اسٹیشن کے مختلف حصوں کی مرمت ، تجربات اور اپنے احساسات شئیر کرتے رہے۔

26جون2013ء کو خلاء بازوں نے Tiangong-1 کو sleep mode پرکرکے واپسی کی راہ پکڑی۔ سپیس اسٹیشن کو sleep mode پر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اس دوران سپیس اسٹیشن ضروری ڈیٹا اکٹھا کرتا رہے مگر بجلی کم سے کم استعمال ہو۔Shenzhou-10 کے بعد کوئی انسان پھر اس Space Station نہ جاسکا۔اسی دوران چین نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ  اپنی سیٹلائیٹ کے ذریعے اس کے سپیس اسٹیشن کی جاسوسی میں مصروف ہے، جسے امریکہ  نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ ہماری سیٹلائیٹ اور اس سپیس اسٹیشن کے مداروں میں بہت فاصلہ ہے لہٰذا ایسا ممکن نہیں۔

وقت گزرتا گیا لیکن یہ سپیس اسٹیشن ایک بار پھر خبروں کی زینت اس وقت بنا جب مارچ 2016ء کو چین نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ چینی خلائی ایجنسی نے سپیس اسٹیشن پر اپنا کنٹرول کھو دیا ہے اور کبھی بھی یہ زمین پر گرسکتا لیکن چینی حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ وہ سپیس اسٹیشن پر مکمل نظر رکھے گی جب تک یہ زمین کی atmosphere میں جل کر راکھ نہیں ہوجاتا۔2 سالوں سے یہ سپیس اسٹیشن زمین کے گرد انتہائی برق رفتاری سے گھوم رہا ہے اور اپنا مدار چھوٹے سے چھوٹاکرتا جارہا ہے ۔اس کی رفتار کا یہ عالم ہے کہ زمین کے قریب ہونے کے باوجود ڈیڑھ گھنٹے میں زمین کاچکر مکمل کررہا ہے۔ سائنسدانوں کا اندازہ تھا کہ یہ مکمل طور پر جل کر راکھ ہوجائے گا مگر اب جا کر معلوم ہوا کہ اس سپیس اسٹیشن کے تقریباً سو کلو تک کے ٹکڑے زمین پر گِر سکتے ہیں اور ہزاروں کلومیٹر تک پھیل سکتے ہیں۔

مزید سنسنی تب پھیلی جب یہ پتہ چلا کہ 30 مارچ سے 2 اپریل 2018ء کے درمیان کسی بھی وقت یہ سپیس اسٹیشن 43ڈگری شمال سے 43ڈگری جنوب تک کے علاقوں میں گِر سکتا ہےیاد رہے کہ پاکستان، بھارت، چین ،امریکہ ، یورپ سمیت دنیا کی بہت بڑی آبادی اس پٹی میں موجود ہے لیکن اس کے باوجود سائنسدانوں کے نزدیک سپیس اسٹیشن کے آبادی کے علاقے میں گرنے کے امکانات بہت کم ہیں ، زیادہ امید یہی ہے کہ یہ سمندری علاقےمیں گرسکتا ہے۔ اس دوران رات کو جن علاقوں کے اوپر سے یہ سپیس اسٹیشن گزرے گا تو شہابِ ثاقب کی طرح آگ کی لکیر بناتا جائے گا۔ اس کی مانیٹرنگ میں چین، کوریا، بھارت، جرمنی، جاپان اور یورپ سمیت دنیا کی دیگر خلائی ایجنسیاں ہمہ وقت مصروف ہیں۔

29 مارچ 2018ء کو چین نے سرکاری طور پر اعلان کیا کہ مذکورہ سپس اسٹیشن زمین سے 196 کلومیٹر کی اونچائی پر گردش میں مصروف ہےاور اگلے 4 دنوں میں کسی وقت بھی زمین پر گرسکتا ہے۔یہ پہلی بار نہیں کہ کسی سپیس اسٹیشن کا ملبہ زمین پر گرا ہو، اس سے پہلے بھی ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں،1979ءمیں ناسا کاسپیس اسٹیشن سکائی لیب بھی ایسے ہی رابطہ منقطع ہونے کے باعث آسٹریلیا میں پرتھ کے مقام پر گرا، دنیا بھرمیں لوگوں کی بڑی تعداد نےاسے آسمان پر کسی شہابیے کی طرح جلتا ہوا دیکھا۔باوجود اس کے کہ چینی سپیس اسٹیشن کے گرنے سے کسی انسانی موت کا امکان لاکھ میں سے ایک یعنی بہت ہی کم ہے مگر پھر بھی یہ واقعات خلائی ایجنسیوں کے لئے لمحہ فکریہ ہیں کیونکہ سیٹلائیٹس لانچ کرنے کے بعد جب اپنی مدت پوری کرلیتی ہیں تو ان کو واپس لانے کے لئے کوئی طریقہ کار نہیں اپنایا جاتا اور یونہی خلاء میں تیرتا چھوڑ دیا جاتا ہے اور بعد میں یہ کباڑ کسی وقت زمین پر گرجاتا ہےجوکہ زمین پر ناگہانی صورت حال کا سبب بن سکتا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے ایسا ہی واقعہ روس میں رونما ہوچکا ہے۔یورپی خلائی ایجنسی کے مطابق اس وقت 17 کروڑ سیٹلائیٹس کے ناکارہ ٹکڑے گولی سے بھی تیز رفتار سے زمین کے گردگردش میں مصروف ہیں جن میں سے 29 ہزار ٹکڑے 4 انچ تک یا اس سے بھی زیادہ بڑے ہیں۔چھوٹے ٹکڑے زمین کی فضا سے رگڑ کھا کر ختم ہوجاتے ہیں مگر خطرناک صورتحال تب ہوتی ہے جب یہ ٹکڑے خلاء میں موجود سیٹلائیٹس سے ٹکرا کرانہیں ناکارہ کردیتے ہیں اور پوری کی پوری سیٹلائیٹ کباڑ کاڈھیر بن کر زمین کا رخ کرلیتی ہے۔

اس وقت تقریباً 50 ممالک اپنی سیٹلائیٹس خلاء میں پہنچا چکے ہیں سو آنے والے وقتوں میں چھوٹی سیٹلائیٹس بنانے سمیت خلاء میں موجود کباڑکو واپس لانے کا منصوبہ بھی بنایا جارہاہے۔اس منصوبے پر عمل درآمد اس خاطر بھی تاخیر کا شکار ہے کیونکہ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کو اپنی سیٹلائیٹس اور اسکے حصوں کو چھونے تک کی اجازت نہیں دیتاجس کے باعث قانونی معاملات کی وجہ سے بھی یہ معاملہ سنگین شکل اختیار کرتا جارہاہے۔بہرحال چین نے 2023ء میں ایک اور سپیس اسٹیشن لانچ کرنے کا اعلان کررکھاہے۔ امید کی جاسکتی ہے چین سمیت دنیا کی دیگر خلائی ایجنسیاں ان واقعات سے سبق حاصل کرتے ہوئے کم از کم ایسے اقدامات ضرور کریں گیں کہ آنے والے وقت میں یہ سیٹلائیٹس/سپیس اسٹیشنز عوام الناس کے سر پہ لٹکتی تلوار ثابت نہ ہوں۔

30 مارچ 2018ء کو رات3بجے یہ آرٹیکل لکھتے ہوئے مذکورہ اسپیس اسٹیشن جنوبی افریقہ کے اوپر 190 کلومیٹرکی اونچائی سے گزر رہاہے اگلے 2 گھنٹوں کے دوران یہ اسلام آباد(پاکستان)پر میرے گھر کے اوپر سے بھی گزرےگا۔اندازاً یہ اگلے 50 سے 60 گھنٹوں میں زمین کے کسی بھی حصے سے ٹکرا جائے گا سو اگر آپ بھی اس آسمانی محل پر نظر رکھنا چاہتے ہیں تو مندرجہ ذیل ویب سائٹ سے براہ راست نظر رکھ سکتے ہیں۔
http://www.satview.org/?sat_id=37820U

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *