سہیل ٹیپو کو کس نے مارا؟۔۔عارف انیس

پاکستانی نظام حکومت میں، کسی ضلع کا ڈپٹی کمشنر یا ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ہونا شیر کی سواری کے برابر ہے. گوجرانوالہ کے ڈپٹی کمشنر، سول سروس کے انتیسویں کامن کے ہمراہی اور عزیز ازجاں دوست سہیل احمد ٹیپو کی مبینہ خودکشی اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ طاقتور سمجھے جانے والوں کے ہاں بھی سب اچھا نہیں ہے اور شیر کے اوپر سے گرنا کس قدر جان لیوا ہوسکتا ہے.

یہ آج سے سولہ برس پہلے کی بات تھی جب عارف والا سے تعلق رکھنے والے دھان پان سے سہیل ٹیپو سے پہلی بار ملاقات ہوئی تھی. اس کے مزاج میں عجیب اور پرکشش ملنگ پن سا تھا. بناوٹ نام کو نہیں تھی. نفسیات سے تعلق رکھنے کے سبب کبھی کبھار اس کے اندر بے سبب اداسی نظر میں آجاتی جسے وہ حلقہ یاراں میں گپ شپ کے  ذریعے دور کرنے کی کوشش کرتا تھا. ایک روز میرے نام کی مناسبت سے کہنے لگا کہ دیکھو ہم نے تو اپنے شہر کا نام ہی تمہارے نام پر رکھ دیا. سول سروس کے مزاج کے حساب سے ان دنوں وہ قدرے مسکین سمجھے جانے والے پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس کا حصہ تھا جو افسرانہ مزاج کے حامل افراد کے لئے کچھ زیادہ پرکشش نہ تھا. کبھی کبھی وہ اس بات پر بے چین نظر آتا کہ اسے ایک دفعہ پھر سی ایس ایس کے امتحان میں بیٹھنا پڑے گا کیونکہ اس کے والد محترم اسے میٹرک کے بعد سے ہی سی ایس ایس کے لیے تیار کررہے تھے اور اس کی کامیابی پر خوش تھے مگر وہ بات نہ تھی جو کہ نام کے ساتھ ڈپٹی کمشنر کے سابقے یا لاحقے سے لگتی تھی. چنانچہ ایک لاابالی پن کے ساتھ وہ دوبارہ امتحان دینے کا ارادہ کرتا، مگر اس کے اندر کی روحانیت اسے پھر ٹھنڈا کردیتی. تاہم تین سال بعد وہ سی ایس ایس کے امتحان کے  ذریعے ڈی ایم جی گروپ میں اترنے میں کامیاب ہوگیا اور اس طرح، اس کا افسروں کا افسر بننے کا شوق بھی پورا ہوگیا.

tripako tours pakistan

پاکستان کے اکثر بڑے ضلعوں میں ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کے گھر ہیبت ناک طور پر بڑے ہوتے ہیں. دسیوں کنالوں کے رقبے پر سرکاری گھر قائم ہوتا ہے، جس کی چھتیں عموماً ٹپکتی ہیں، رنگ اکھڑتا جاتا ہے اور ڈھیر سارے کمروں میں عجیب بے برکتی سی بستی ہے. عام طور پر سرکاری محل کا نصف سے بھی کم حصہ آباد ہوتا ہے اور اس میں رہنا اتنا پرکشش نہیں ہوتا، جتنا باہر سے نظر آتا ہے. کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ تاج پہننے والے کو کہاں کہاں چبھتا ہے اور اس میں پڑے ہوئے کیل کہاں کہاں سے سلطان کو مضروب اور مجروح کرتے ہیں. سیاسی دباؤ کے تنے ہوئے رسے پر کرتب ، زورآوروں کے کھابے اور ان کی رکھوالی، مزاجِ شاہاں کی مٹھی چانپی ، دوست احباب کے فرمائشی مساج، کئی عدد مجازی خداؤں کو بیک وقت راضی رکھنے کی کاوشیں، میڈیا کے قلم اور کیمرے کے سامنے سرکار کا مسلسل کارروائی پروگرام، غرض یہ کہ ایک نہ ختم ہونے والی نوٹنکی ہے جو کوفت کا سبب بنتے بنتے بندے کی جان بھی لے سکتی ہے.

سی ایس ایس کا امتحان بھی ایک عجیب سی واردات ہے. سادہ لفظوں میں یہ انگریزی لکھنے اور بولنے والوں میں ایک مقابلہ ہے جس میں ڈبے سے زیادہ باہر سوچنے کی ضرورت نہیں پڑتی، اگر یادداشت اچھی ہے، انگریزی اقوال اور مثالیں یاد ہیں اور دو چار درجن کتابوں کو ریفرینس کے طور پر بیان کرسکتے ہیں اور پے درپے امتحانات کے درمیان اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے اور انگلیوں کی مالش کرتے ہوئے بے پناہ صفحات کالے کرسکتے ہیں تو غالب امکان ہے کہ امتحان پاس ہو جائے گا. نامور ایرانی پہلوان رستم کا وہ واقعہ ضرب المثل ہے جس میں وہ ایک چور کو اندھیرے میں دعوت مبارزت دے بیٹھتا ہے اور چور اس کی خوب درگت بناتا ہے. تاہم جیسے ہی چور کو علم ہوتا ہے کہ وہ رستم کو پیٹ رہا ہے، وہ دہشت سے بے ہوش ہوجاتا ہے. سی ایس ایس کا امتحان نہیں، اس کی دہشت مار دیتی ہے. نصف سے زیادہ جانباز پہلے پرچے میں ہی کھیت رہتے ہیں اور آخری پرچے تک صفوں کی صفیں ویران ہو جاتی ہیں.

سی ایس ایس کے قلمی امتحان کے بعد انٹرویو اور نفسیاتی جانچ کی باری آتی ہے جو اپنی نوعیت کا بہت بڑا ڈھکوسلہ ہے جس میں ایک بے ضرر قسم کا ماہر نفسیات اپنی نیم وا آنکھوں سے جمائیاں لیتے ہوئے امیدواروں کے جوہر قابل کا سراغ لگا لیتا ہے. اس ضمن میں کوئی پچاس سالہ قدیم طریقے سے نفسیاتی جانچ کی کارروائی بھگتا دی جاتی ہے. انٹرویو میں انگریزی اور حاضردماغی کسی حد تک کام دے جاتی ہے، تاہم یہ جان کر بہت سے لوگوں کو صدمہ پہنچ سکتا ہے کہ سی ایس ایس کے امتحانات میں کامیابی کا اسی فیصد دارومدار لکھی گئی انگریزی پر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں امیدواروں کو ڈسٹرکٹ مینجمنٹ (موجودہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس)، پولیس، فارن سروس، کسٹمز، انکم ٹیکس، اکاؤنٹس، کامرس، ملٹری لینڈ اینڈ کینٹونمنٹ، آفس مینجمنٹ گروپ، انفارمیشن، پوسٹل اور ریلوے کے شعبے مختص کردیے جاتے ہیں جو کہ ظاہر ہے امیدواروں کی اپنی اولین ترجیح اور ان کے قلمی امتحان، اور انٹرویو کے مجموعی اعداد کے میرٹ پر مشتمل ہوتے ہیں. نتیجتاً ایک ڈاکٹر پولیس میں اے ایس پی آبنتا ہے، ایک انجینئر کسٹم یا انکم ٹیکس میں کود پڑتا ہے اور ایک ایم اے انگلش اسسٹنٹ کمشنر بن جاتا ہے. اس سارے معرکے میں امیدوار کے  ذاتی خصائل، اس کی ذہنی اپچ، اور دفتری دباؤ میں کام کرنے کی جانچ پرکھ نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے. بس ایک زبردستی کی شادی ہے، اگر دلہن پسند کی ہے تو موج کرو، اگر ارینج میرج کے حالات ہیں تو بس تیس، پینتیس سال برداشت کرو. چونکہ سی ایس ایس کرنے والے اسی فیصد امیدواروں کو اپنی پسند کی دلہن نہیں ملتی سو ان کی باقی ماندہ زندگی اپنے گروپ کے ساتھ گتھم گتھا ہوتے گزر جاتی ہے.

سی ایس ایس کے کچھ گروپس میں مرد میدان ہونا ہی کامیابی کا زینہ ہوتا ہے، جس میں لیڈرشپ، ذہنی استعداد کار، کمیونیکیشن کی مہارت، ایموشنل انٹیلی جنس کی جانکاری بہت بڑا لازمہ ہیں. ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اور پولیس خاص طور پر مسلسل بگولے کے اندر رقصاں رہتے ہیں. تقرری عموماً سیاسی پسند ناپسند پر ہوتی ہے سو سائیوں کو خوش رکھنا پڑتا ہے، خزانے کی چابی چونکہ ڈپٹی کمشنر کے پاس ہوتی ہے تو اسے اس پر سانپ بن کر بیٹھنا پڑتا ہے، اور اس میں سے اپنا حصہ بھی الگ کرنا ہوتا ہے، چوبیس گھنٹے ایک جنگ کا سماں رہتا ہے، صاحب کا خاندان اور یار بیلی مزے کرتے ہیں جبکہ صاحب خود ‘بھمیری’ بنا رہتا ہے. ذاتی زندگی اور خاندان کے ساتھ کوالٹی ٹائم ملنا ناممکن ہوجاتا ہے. آگ کا یہی وہ کڑاہ ہے جس میں کچھ لوگ احد چیمہ بن جاتے ہیں، کچھ سہیل ٹیپو بن جاتے ہیں اور باقی بین بین گزارہ کرجاتے ہیں. تاہم ایک حساس ذہن جب بےپناہ دباؤ برداشت نہیں کرپاتا تو پھر خودکشی کا انتہائی اقدام بھی معمولی دکھائی دیتا ہے.

بدقسمتی سے سول سروس آف پاکستان کے بے پناہ پھیلاؤ اور طاقت کے باوجود وہ پیسا کا ایک مینار ہے جس کی بنیاد ٹیڑھی رکھی گئی ہے. امتحان پاس کرنے والے وہ جوتا پہن لیتے ہیں جو پوری زندگی اندر سے کاٹ کاٹ کر انہیں لہو لہان کیے رکھتا ہے، سیاسی اور مالی دباؤ اور لوگوں کی توقعات کچوکے لگائے رکھتی ہیں، اکثر افسران بلڈ پریشر اور بے خوابی کے مریض بن جاتے ہیں، ماہرین نفسیات کی سہولت نہ ملنے کے برابر ہے اور خاص طور پر بیوروکریسی کے مسائل کو سمجھنے والے ماہرین بھی نہ ہونے کے برابر ہیں. تقریباً ہر تیسرا گھر بحران کا شکار ہوجاتا ہے اور عموماً اس بحران پر مٹی ڈال کر انٹ شنٹ سفر جاری رکھا جاتا ہے جو کبھی کبھار کریش کا سبب بن جاتا ہے.

سہیل ٹیپو کو کس نے مارا؟ اسی نظام نے جو پاکستان میں سب سے طاقتور سمجھا جاتا ہے مگر وہ گنے کی مشین کی طرح اچھے بھلے انسان کو پھوک میں تبدیل کردیتا ہے. یہ نظام رائٹ مین فار دی رائٹ جاب کی بجائے سنی سنائی اور دیکھی دکھائی اور ‘نیوسینس ویلیو، یعنی آپ کسی کا کیا بگاڑ سکتے ہیں کے تصور کے اوپر ایک کیرئیر استوار کردیتا ہے جو زندگی بھر کا گلے کا ڈھول ہوتا ہے. پچھلے دوسال میں سہیل ٹیپو ہی نہیں، دو اعلٰی پولیس افسران نے بھی مبینہ طور پر اپنے ہاتھوں اپنی جان لے لی، جبکہ سینکڑوں افسران ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور عوام اس کا خمیازہ بھگتتے رہتے ہیں. بدقسمتی سے ایسے افسران کی جانچ، ان کی سٹریس مینجمنٹ اور بحران سے بچاؤ کے لیے سپورٹ کا نظام نہ ہونے کے مترادف ہے. یہ غیر انسانی نظام افسران کو مرد اور شیر بننے کا چابک رسید کرتا ہے، مگر ان کی کراہوں اور چیخوں کا کوئی کھاتہ نہیں کھولتا، نتیجتاً سپر مین ہوا میں پرواز کرتے کرتے موت کا شکار ہوجاتا ہے. سہیل ٹیپو میں ذہنی دباؤ ایک مسلمہ امر تھا، اسے ایسی پوسٹ دی گئی تھی جہاں سے وہ بگٹٹ بھاگنا چاہتا تھا، وہ اپنے بقول بدترین لوگوں میں گھرا ہوا تھا، جہاں ہر کوچے سے ڈومور کی صدا بلند ہورہی تھی، اس کی چیخ و پکار پر کسی نے کان نہیں دھرا، ماہر نفسیات کی میڈیکل بورڈ کی تجویز کردہ پندرہ چھٹیاں بھی نہ دی گئیں، سیاسی آقاؤں سے لے کر، کمشنر سے لے کر چیف سیکرٹری تک گنے کی مشین سے رس نکالتے رہے. اس نظام نے ٹیپو کے ہاتھ باندھ کر، گلی میں رسے ڈال کر اسے اس میز کے اوپر کھڑا ہی نہیں کیا، بلکہ دھکا بھی دے دیا اور ہم سب اس کو بچانے میں ناکام ہوگئے.

Advertisements
merkit.pk

ٹیپو کی موت بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والے دوستوں کے لئے ایک انہونی تھی. مجھے پچھلے سال کی وہ مختصر سی ٹیلی فون کال یاد آئی  جب اس سے بات ہوئی اور اس نے خوش دلی سے کہا تھا،’ بچپن سے ڈپٹی کمشنر بننے کا خواب دیکھتا تھا، شکر ہے ڈی سی او کے دم چھلے سے جان چھوٹی، اب مزہ آئے گا’ . ایک ہنستا کھیلتا حساس مگر دل جوئی کرنے والا شخص، شہر کے سب سے حسد کیے جانے والے درجنوں کنال کے گھر میں رہنے والا ایسا کیوں کرگیا؟ یہی وہ سوال ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہم ذہنی امراض کی سنگین نوعیت کو سمجھنے میں ناکام ہوچکے ہیں، ہم دل کے دورے یا کینسر کو تو قبول کرلیتے ہیں، مگر ڈپریشن پر ہماری معلومات اور اس پر سپورٹ میکانزم نہ ہونے کے مترادف ہے. بدقسمتی سے ڈپریشن ایک تنگ و تاریک گلی ہے اور اس کی دوسری جانب کوئی راستہ نہیں ہے. اس کا علاج بھی دل کے دورے کی طرز پر کرنے کی ضرورت ہے. پاکستانی سول سروس کے پورے نظام کو اوورہال کرنا ہوگا، افسران کے لیے سٹریس مینجمنٹ کی تربیت اور ماہرین نفسیات کی موجودگی لازمی کرنی پڑے گی، ورنہ ہم گنے کے پھوک کے ساتھ ساتھ سہیل ٹیپو جیسی خوبصورت اور حساس روحوں کو بھی باہر پھینکتے رہیں گے.

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply