• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ملالہ یوسفزئی – ملک دوست یا امریکی ایجنٹ؟۔۔عظیم الرحمٰن عثمانی

ملالہ یوسفزئی – ملک دوست یا امریکی ایجنٹ؟۔۔عظیم الرحمٰن عثمانی

کسی کو پسند ہو یا ناپسند ہو – ملالہ یوسفزئی آج ایک ایسا نام ہے جو دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت بنا نظر آتا ہے. میں جانتا ہوں کہ حملے کے بعد مغرب میں اس کی غیر معمولی پذیرائی، نوبل پرائز برائے امن اور فنڈز کے نام پر ملنے والی غیرمعمولی مراعات – ایک عام پاکستانی کو اس شبہ میں مبتلا کردیتی ہے کہ شائد ملالہ مغرب کی کسی ممکنہ سازش کا کردار ہے. مگر اس حقیقت کا بھی انکار ممکن نہیں کہ اس پر دہشت گردوں کی جانب سے فی الواقع شدید جان لیوا حملہ ہوا تھا اور یہ بھی کہ تب سے لے کر آج تک اس نے ہمیشہ دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر پاکستان کا ایک مثبت سافٹ امیج پیش کیا ہے. یہ کہنا کہ فلاں فلاں بچوں پر بھی تو حملہ ہوا تھا ، انہیں کیوں نہ بین الاقوامی پزیرائی ملی؟ – یہ ایک بچکانہ اعتراض ہے. ملالہ میں فطری طور پر اظہار کی ایسی صلاحیتں موجود نظر آتی ہیں جو اسے اپنے ہم عمر بچوں سے ممتاز کردیتی ہیں. پھر اسے حالات و واقعات میسر آئے جس سے دنیا کی توجہ اس کی جانب زیادہ مبذول ہوگئی. مغربی حکومتوں نے یقیناً اس صورتحال سے فائدہ اٹھایا اور ملالہ کے کیس کو سامنے رکھ کر طالبان جنگجوؤں سے نفرت کو فروغ دیا. یہ مغرب کی ‘وار اگینسٹ ٹیرر رزم’ کے پروپیگنڈے میں معاون تھا. لیکن اس شاطرانہ چال کو بنیاد بناکر ملالہ کو غدار یا ملک دشمن سمجھنا شائد درست نہیں. ملالہ کے کردار سے کبھی ہمیں پاکستان دشمنی محسوس نہیں ہوتی. پاکستان کے نام پر گرتے اسکے بے ساختہ آنسو اسے ملک سے والہانہ لگاؤ کی خبر دیتے ہیں. انہیں ڈرامہ کہہ کر سازش کی بو محسوس کرتے رہنا عقلمندی نہیں. دانشمندی یہ ہے کہ ہم ملالہ پر لعنت ملامت کرنے کی بجائے، اس کی آواز کو عالمی سطح پر پاکستان کے حق میں استعمال کریں. میرا کہنا یہ نہیں ہے کہ اسے وزیر اعظم کی کرسی پر بٹھا دیں لیکن اسے ایک ‘ایمبیسڈر’ کے طور پر دنیا میں پیش کرکے ہم پاکستان کا بہتر امیج قائم کرسکتے ہیں.

ملالہ پر دوسرا بڑا شک اس کے مذہبی رجحان پر ہے. اس کے چند بیانات جو اس نے برقع اور داڑھی کے متعلق دیئے ہیں قابل اعتراض ہیں. مگر اگر اتنا کہنا ہی آپ کو مذہب بیزار قرار دیتا ہے تو آدھی فیس بک پر یہی فرد جرم عائد کرنی ہوگی. یہاں دانشوری کی آڑ میں برقعے اور داڑھی دونوں پر آئے دن اعتراضات کئے جاتے ہیں. یہاں دو باتیں اور قابل غور ہے. پہلی بات یہ کہ خود ملالہ کا اپنا رہن سہن ایک سادہ مسلم لڑکی کا ہے جو نماز پڑھتی ہے، روزہ کا اہتمام کرتی ہے، دوپٹہ سر پر رکھتی ہے وغیرہ. دوسری بات یہ کہ وہ اب جا کر صرف بیس سال کی ہوئی ہے. جس وقت اس نے یہ بیان دیئے اس وقت اسکی عمر اور کئی سال کم ہوگی. اتنی کم عمری میں اس کے کسی بیان کو متنازعہ بنا کر گرفت کرنا شائد ٹھیک نہیں. ہم اسے پارسا سمجھنے کو نہیں کہہ رہے مگر اتنا تو کیجیئے کہ اسے ایک پاکستانی، ایک مسلم کی صورت میں قبول کرلیں؟ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہم نے دو نوبل پرائز حاصل کیئے ہیں. پہلا ڈاکٹر عبدالسلام اور دوسرا ملالہ یوسفزئی. ڈاکٹر عبدالسلام کو قادیانی کہہ کر ہم نے آج تک قبول نہ کیا حالانکہ وہ ایک پاکستانی تو تھے. دوسرا آج ملالہ سامنے ہے، جسے ہماری اکثریت ایجنٹ کہہ کر دھتکار رہی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *