• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • نواز شریف کے متعلق چند اھم خبریں اور تجزیہ۔۔طارق ا حمد

نواز شریف کے متعلق چند اھم خبریں اور تجزیہ۔۔طارق ا حمد

1- نواز شریف اور شریف خاندان کو باھر بھجوانے کے لیے کیے گئے این آر او کی مزاحمت اور مخالفت کی جائے گی۔ تحریک انصاف
2- وزیر اعظم خاقان عباسی کی چیف جسٹس ثاقب نثار سے دو گھنٹے ملاقات
3- وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات کی ٹائمنگ
درست نہیں تھی۔ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ
4- میمو گیٹ میں عدالت میں پیش ھونا میری غلطی تھی۔ نواز شریف
5- میں اب نظریاتی ہو گیا ہوں۔ نواز شریف

پہلی خبر میں تحریک انصاف کا مبینہ این آر او کے خلاف بیان یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کہ جیسے نواز شریف کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کوئی سمجھوتا ہو گیا ہے۔ جس کے تحت نواز شریف کو خاندان سمیت باھر بھجوایا جا رہا ہے۔ پہلی بات یہ ہے۔ یہ محض عمران خان کا بیان نہیں ۔ پوری تحریک انصاف نے ایک پر فکر بیٹھک کے بعد یہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ چناچہ اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اگر یہ بات درست مان لیا جائے تو پھر یہ خبر ادھوری ہے۔ اس لیے کہ کوئی بھی سمجھوتہ کسی ایک شق پر مشتمل نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ ایک مکمل پیکج ہوتا ہے۔ جیسے نواز شریف کا جنرل مشرف کے ساتھ سعودی عرب جانے کا سمجھوتا ہوا تھا۔ کہ نواز شریف پانچ سال تک واپس ملک نہیں آ سکیں گے۔ جیسے بے نظیر بھٹو کا ملک واپسی کے لیے جنرل مشرف سے سمجھوتا ہوا تھا۔ اور بقول جنرل مشرف بے نظیر بھٹو نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی۔ اور شاید  انہیں اس کی سزا بھی مل گئی ۔ اسی سمجھوتے میں نواز شریف بھی جلا وطنی سے واپس آ گئے۔

یاد رہے۔ ایسے سیاسی سمجھوتوں سے ایک خاص وقت کی اسٹیبلشمنٹ اور اس کی لیڈر شپ کچھ دیر کے لیے ان سیاستدانوں سے جان چھڑواتی ہے۔ جو ان کے لیے پریشانی کا موجب بنتے ہیں ۔ تاکہ وہ اپنے اہداف حاصل کر سکیں جبکہ سیاسی رہنما اسٹیبلشمنٹ کو نہ صرف یہ ٹائم دے دیتے ہیں۔ اپنے آپ کو بھی زیادہ آزمائش میں نہیں ڈالتے اور جیسے ہی انہیں موقع ملتا ہے۔ حساب چکتا کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ جنرل مشرف کو اقتدار اور ملک سے نکال کر یہ حساب پورا کیا گیا۔ دھوکہ ، اعتماد اور شک اور مفاد کسی بھی پاور سٹرکچر اور پاور پالیٹکس کا حصہ ہوتا ہے یاد رہے۔ عمومی طور پر ایک عسکری چیف کے بدلنے سے عسکری ڈاکٹرائن بھی بدل جاتی ھے۔ جس کی مثال کیانی اور مشرف کی پالیسیوں میں فرق سے ظاہر ہے۔ چناچہ کوئی بھی این آر او ایک مکمل پیکج ہوتا ہے۔ دونوں پارٹیوں کو ایک دوسرے سے تنگی بھی ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ اور ٹائم حاصل کرنے کی ایک سعی بھی ہوتی ہے۔

چناچہ اگر نواز شریف اور موجودہ اسٹیبلشمنٹ میں کوئی سمجھوتہ ہو رہا ہے۔ تو دیکھنے والی بات یہ ہے۔ کون کس سے کیا حاصل کر رہا ہے۔ اور کیا دے رہا ہے۔ یہ سمجھوتے یک طرفہ نہیں ہوتے۔ یا ایک پارٹی فاتح اور دوسری پارٹی مفتوح نہیں ہوتی۔ اگر نواز شریف باہر جا رہےہیں ۔ تو کیا بدلے میں اگلی حکومت شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کی آ رہی ہے۔ اگر ایسا ہے۔ تو تحریک انصاف اور خورشید شاہ کی پریشانی سمجھ میں آتی ہے۔ یہ پارٹیاں اپنے تئیں اسٹیبلشمنٹ سے سمجھوتہ کرکے اگلی حکومت بنا رہی تھیں ۔ اور سیاست کھیل رہی تھیں ۔ جبکہ نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ سے لڑتا دیکھ کر خوش تھیں۔ کہ اس چکر میں ان کا کام بن رہا تھا۔ مسلم لیگ ن اور اسٹیبلشمنٹ میں ایسے عناصر ہیں جن کا خیال تھا۔ نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کی مستقل لڑائی ملک اور اداروں کو کمزور کرے گی۔

چند دن قبل نواز شریف نے یہ آفر کی تھی۔ کہ تمام ادارے ملک کر بیٹھیں ۔ آپس میں بات چیت کریں ۔ اور کسی نئے سمجھوتے پر پہنچا جائے۔ میں نے بھی لکھا تھا۔ کہ یہ سوچنا اب نوازشریف کا کام ہے۔ کہ لڑائی بڑھائی  جائے اور یا پھر اسے ٹھنڈا کیا جائے۔ یاد رہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے سکرپٹ میں نوازشریف کے ساتھ ایسا کوئی سمجھوتا نہیں تھا ۔ اگر اسٹیبلشمنٹ ایسا کوئی سمجھوتہ کرتی ہے  تو یہ اس کی پسپائی ہے جس کی وجہ نواز شریف کی عوامی پذیرائی اور نواز شریف کے بیانیے کی مقبولیت ہے۔ اگر اسٹیبلشمنٹ مسلم لیگ ن کی اگلی حکومت قبول کرنے کو تیار ہے۔ تو نواز شریف کی ویسی واپسی پھر سے ممکن ہے۔ یہ واپسی اقتدار میں ہو گی۔ میں نواز شریف کے ملک سے باہر جانے کی بات نہیں کر رہا۔ جیسے مشرف دور میں ہوئی  تھی۔ ورنہ کوئی بھی یک طرفہ سمجھوتہ بے معنی ہے۔ میں نے لکھا تھا۔ جو جمہوریت پسند پلک جھپکتے میں کسی انقلاب کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ کی شکست دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ایسا ممکن نہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ کی جڑیں ستر سال میں بہت مضبوط ہو چکی ہیں ۔ ان جڑوں کو باہر نکلنا ہے لیکن ایسے کہ ملک کا دم ہی نہ نکل جائے۔ اور وقت اور تاریخ نے ثابت کیا ہے۔ یہ احساس اور یہ قربانی صرف سیاستدانوں سے ہی متوقع ہے۔

وزیراعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات اسی ڈائیلاگ کے تناظر میں دیکھی جا سکتی ہے۔ جس کا ذکر نوازشریف نے کیا تھا۔ ممکن ہے وزیراعظم نے دل و دماغ کی کچھ باتیں کھل کر بیان کر دی ہوں ۔ بالکل ویسے جیسے ابھی حال ہی میں وزیراعظم نے نئے سینٹ چئیرمین کے متعلق اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ اور متفقہ نیا چیئرمین لانے کی آفر کی ہے۔ شہباز شریف کی آرمی چیف سے ملاقاتیں بھی خبروں میں آ چکی ہیں۔ اگر نواز شریف کے مخالفین یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی معافی تلافی مانگی جا رہی ہے۔ تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ کمزور حریف کو طاقتور حریف معاف نہیں کیا کرتا۔ اور نہ ہی وزیراعظم چیف جسٹس سے ملاقات کرتا ھے۔ جس سے اس کی کمزوری عیاں ہو۔
نواز شریف کا یہ اقرار کہ میمو گیٹ میں عدالت جانا ان کی غلطی تھی۔ اس بات کو ثابت کرتا ہے۔ کہ نواز شریف کمزور بن کر بات یا کوئی سمجھوتہ نہیں کر رہے۔ یاد رہے۔ میمو گیٹ اسٹیبلشمنٹ کا برین چائلد تھا۔ نواز شریف کا اپنی غلطی تسلیم کرنا ان کے پچھتاوے کو ظاہر کرتا ہے۔ چناچہ یہ کیسے ممکن ہے۔ اپنے ماضی کے ایک فیصلے پر پچھتاوے کا اظہار کرنے والا دوبارہ اسٹیبلشمنٹ سے سمجھوتہ کرنے کی تیاری کر رہا ہو۔ اور وہ بھی کمزوری کے مقام سے۔ جبکہ وہ نظریاتی ہونے کا دعوی بھی کر رہا ہو۔ نواز شریف کا میمو گیٹ پر بیان زرداری صاحب کو نرم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یوں سمجھ لیں   ایک طرف وہ اپنے بیانیے سے عوامی دباؤ بڑھا رہے ہیں ۔ دوسری جانب اداروں سے ڈائیلاگ کا آغاز کر رہے ہیں اور تیسری جانب زرداری کے ذریعے پارلیمنٹ میں ریفارمز لانے کا سوچ رہے ہیں ۔ ہمارا خیال یہ ہے۔ جو بھی نتیجہ برآمد ہو۔ سول سپریمیسی ہی آخر میں فاتح ثابت ہو گی۔

طارق احمد
طارق احمد
طارق احمد ماہر تعلیم اور سینیئر کالم نویس ہیں۔ آپ آجکل برطانیہ میں مقیم ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *